شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10667
10667 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عفان نا حماد بن سلمة نا ثابت عن أنس بن مالك قال : كنا في سفر فقال أبو موسى : تعال يا أنس فلنذكر ربنا ساعة قال : و كان الناس يتكلمون فإن هؤلاء يكاد أحدهم يفري الأديم بلسانه فريا ثم قال : يا أنس ما نسي الناس مثل مظاهر قال : عجلت الدنيا و شهواتها و الشيطان قال أبو موسى لا و الله و لكن عجلت الدنيا و غيبت الآخرة أما و الله لو عاينوها ما عدلوا ( ) ميلوا
ہمیں خبر دی احمد بن حسن قاضی نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحق صنعانی نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سفر میں تھے حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا اے انس آئیے ہم ایک لحظہ اپنے رب کا ذکر کریں اور دوسرے لوگ (دنیا کی )باتیں کر رہے تھے۔ وہ لوگ اس طرح باتیں کر رہے تھے کہ جیسے ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان و کلام سے کھال اتار دے (یا کھال کو رنگ کر درست کر دے گا ) پھر ابو موسیٰ نے فرمایا اے انس نہیں بھولے ہیں لوگ مثل مظاہر کی۔ اس نے کہا کہ دنیا نے اور اس کی شہوات نے اور شیطان نے عجلت کی ہے ابو موسیٰ نے کہا نہیں ( یوں بات نہیں ہے کہ )دنیا نے عجلت کی ہے اور آخرت کو غائب کر دیا ہے۔ خبردار اللہ کی قسم! اگر لوگ آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ( تو حق سے ) عدول نہ کرتے اور نہ رہتے ۔
ربنا ساعة ← أبو موسى تعال يا أنس فلن ← کُنَّا فِي سَفَرٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10667
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10668
10668 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا محمد بن إسماعيل البصري نا محمد بن كثير الثقفي نا أبو علي البيروني عن يونس بن حابس عن أبي إدريس قال : صام أبو موسى حتى عاد كأنه خلال فقيل له لو أجممت نفسك ؟ فقال : هيهات إنما يسبق من الخيل الطمر قال : و ربما خرج من منزله شري رجلك فليس على جسر جهنم معير
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن اسماعیل بصری نے ان کو محمد بن کثیر ثقفی نے ان کو ابوعلی بیرونی نے ان کو یونس بن حابس نے ان کو ابو ادریس نے وہ کہتے ہیں کہ (حضرت ابو موسی ٰنے روزے رکھے اس قدر کہ سوکھ کر تنکا ہو گئے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ حضرت اگر آپ اپنے نفس کو آرام دیتے تو بہتر ہوتا؟ انہوں نے فرمایا کہ بہت مشکل ہے بہت دور ہے (یعنی میں ایسا نہیں کروں گا ) اس لئے کہ صحت مند اور طاقتور گھوڑا (مقابلہ دوڑ میں ) ہار جاتا ہے اور فرمایا کہ۔ بسا اوقات ( انسان صحیح سلامت ) اپنے گھر سے نکلتا ہے (مگر) آپ کا پیر ( پھسل جاتا ہے ) اور جہنم والے پل پر تو گذرنے کا راستہ بھی نہیں ہے۔
هيهات إنما يسبق من الخيل الطمر ← صام أبو موسى حتى عاد كأنه خلال فقيل له لو أجممت نفسك ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← يونس بن حابس ← أبو علي البيروني ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10668
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10669
10669 - قال : و أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا زيد بن الحباب نا صالح بن موسى الطلحي عن أبيه قال : اجتهد الأشعري قبل موته اجتهادا شديدا فقيل له لو أمسكت و رفقت بنفسك بعض الرفق قال : إن الخيل إذا أرسلت فقاربت رأس مجراها أخرجت جميع ما عندها و الذي بقي من أجلي أقل من ذلك قال : فلم يزل على ذلك حتى مات
فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو زید بن حباب نے ان کو صالح بن موسی ٰطحلی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں اشعری نے اپنی موت سے قبل شدید محنت اور جہدو جہد کی تھی۔ ان سے کسی نے کہا کہ کاش کہ آپ اس قدر محنت کرنے سے رک جاتے اور کچھ اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرتے۔ انہوں نے فرمایا کہ گھوڑ دوڑ کے میدان میں جب کوئی گھوڑا چھوڑا جاتا ہے تو وہ اپنے ہدف اور انتہاء کو پہنچ کر ہی رکتا ہے۔ٍاور اس کے پاس جس قدر طاقت ہوتی ہے وہ پوری پوری لگا دیتا ہے۔ میری عمر کی مہلت جس قدر باقی رہ گئی ہے وہ باقی بہت کم ہے۔ وہ ہمیشہ اسی حالت پر قائم رہے حتی ٰ کہ انتقال کر گئے ۔
أَبِيهِ ← صالح بن موسى الطلحي ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10669
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10670
10670 - قال : و نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق أنا وكيع نا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الطفيل قال : قال حذيفة : ـ ( ليس من مات فاستراح بميت إنما الميت ميت الأحياء )
و قيل له : يا أبا عبد الله و ما ميت الأحياء قال : الذي لا يعرف المعروف بقلبه و لا ينكر المنكر بقلبه
فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو اسحاق نے ان کو وکیع نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب بن ثابت نے ان کو ابو الطفیل نے وہ کہتے ہیں حذیفہ نے فرمایا۔ليس من مات فاستراح بميت .....انما الميت ميت الاحياء. جوشخص مرکر راحت اور چھٹکارا پا گیا وہ میت نہیں ہے۔ در حقیقت میت وہ ہے جو جیتے جی مردہ ہو (یعنی بے کا ربے ہمت ہو ) ۔ ان سے کہا گیا اے ابو عبد اللہ زندوں میں میت کون ہوتا ہے۔ فرمایا وہ ہوتا ہے جو نہ تو اپنے دل سے معروف کو جانے نہ منکر کو اپنے دل سے جانے ۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10670
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10671
10671 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا ح
و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا نا محمد بن علي بن شقيق نا أبو إسحاق إبراهيم بن الأشعث قال : سمعت الفضيل بن عياض قال : قال ابن عباس : يؤتى بالدنيا يوم القيامة في صورة عجوز شمطاء زرقاء أنيابها بادية مشوه خلقها فتشرف على الخلائق فيقال : هل تعرفون بهذه فيقولون : نعوذ بالله من معرفة هذه فيقال : هذه الدنيا التي تناحرتم عليها بها تقاطعتم الأرحام و بها تحاسدتم و تباغضتم و اغتررتم ثم تقذف في جهنم فتنادي أي رب أين أتباعي و أشياعي فيقول الله تعالى : ألحقوا بها أتباعها و أشياعها
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن علی بن شقیق نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن اشعث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا قیامت کے دن دنیا کو ایک بڑھیا کی صورت میں لایا جائے گا ادھیڑ عمر سیاہ وسفید بالوں والی نیلی آنکھوں والی اس کے دانت سامنے ظاہر ہوں گے منہ کھلا ہوا ہوگا وہ مخلوقات کو نگا ہیں اٹھا کر دیکھے گی۔ پس کہا جائے گا کیا تم لوگ اس کو پہچانتے ہو۔ لوگ کہیں گے اللہ کی پناہ اس سے کہ ہم اس کو پہچانیں ۔ پھر کہا جائے گا کہ یہ وہی دنیا ہے جس پر تم قربان ہوتے رہتے تھے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے تھے اور جس کے لئے تم ایک دوسرے سے قطع رحمی کرتے تھے اور ایک دوسرے سے حسد کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھتے تھے اور دھو کہ کھاتے تھے۔ پھر وہ جہنم میں ڈال دی جائے گی۔ پھر وہ بڑھیا چیخے گی اے میرے رب میرے پیرو کار کہاں ہیں اور میرے گروہ والے کہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے تابعداروں کو اور اس کے گروہ والوں کو اسی کے ساتھ لاحق کر دو ۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10671
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10672
10672 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا سعيد ابن الأعرابي نا ابن أبي الدنيا : فذكره
ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابوالد نیا نے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔
ابن أبي الدنيا فذكره ← سعيد ابن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10672
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10673
10673 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن قدامة نا محمد بن إسماعيل عن أبي وكيع عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : بل يرتد الإنسان ليفخر أمامه قال : يقدم الذنب و يؤخر التوبة
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن قدامہ نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو ابو وکیع نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو سعید بن حبیب نے کو ابن عباس نے کہ یہ آیت ۔ بل يريد الانسان ليفجر امامه بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے گناہ بھیجے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ گناہ مقدم اور تو بہ مؤخر کرے۔
يقدم الذنب و يؤخر التوبة ← ابن عباس بل يرتد الإنسان ليفخر أمامه ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبي وكيع ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10673
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10674
10674 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني نا أبو سعيد ابن الأعرابي نا أبو جعفر القزاز نا حسين بن محمد المروزي قال ابن المبارك عن مسعر عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال : عاد خبابا نعايا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : أبشر يا أبا عبد الله إخوانك تقدم عليهم غدا فبكى فقالوا : عليها من الحال فقال : إنه ليس ذو جزع و لكنكم ذكرتموني أقواما و سميتموهم إخوانا فإن أولئك قد مضوا بأجورهم و أني أخاف أن يكون ثوابي مما يذكرون من تلك الأعمال ما أصبنا بعدهم
ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابو جعفر قزاز نے ان کو حسین بن محمد مروزی نے ابن مبارک نے فرمایا کہ مسعر سے مروی ہے اس نے قیس بن مسلم سے اس نے طارق بن شہاب سے وہ کہتے ہیں کہ خباب کی عیادت کی اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موت کی خبر دینے والے انہوں نے کہا اے ابو عبد اللہ آپ کے بھائی ہیں ( اصحاب رسول ) کل آپ ان کے پاس ہوں گے اس بات پر آپ کو بشارت ہو وہ رو پڑے لوگوں نے کہا کہ ان پر خاص حالت طاری ہوگئی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں کسی گھبراہٹ اور بے صبری میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ تم لوگوں نے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کر ڈالا ہے اور ان کو تم نے میرا بھائی کہہ دیا ہے۔ بے شک وہ لوگ تھے جو اپنے اپنے اجر و ثواب لے کر جاچکے ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میر اثواب ان اموال کا نہ ہو جن کا انکار کر دیا جائے ۔ بوجہ اس کے جو ہمیں پہنچا ہے ان لوگوں کے بعد ۔ ( یعنی ہم نے جن اعمال کا بعد میں ارتکاب کیا ہے۔)
عليها من الحال ← أبشر يا أبا عبد الله إخوانك تقدم عليهم غدا فبكى ← عاد خبابا نعايا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مِسْعَرٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أبو جعفر القزاز ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10674
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10675
10675 - قال : و نا أبو سعيد نا أبو داود نا محمد بن العلاء نا محمد بن إدريس عن مسعر : مثله
فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوسعید نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن علاء نے ان کو محمد بن ادریس نے ان کو مسعر نے بیان کی مذکور کی مثل ۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10675
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10676
10676 - قال : و أنا أبو سعيد نا محمد بن علي و هو ابن زيد الصائغ نا سعيد بن منصور نا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن ابن عمر قال : ما يصيب عبد من الدنيا شيئا إلا انتقص من درجاته عند الله عز و جل و إن كان عليه كريما
فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو محمد بن علی نے وہ ابن زید صائغ ہیں ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے وہ فرماتے ہیں کہ جس بندے کو دنیا سے کچھ پہنچتا ہے (یعنی وہ دنیا میں سے کچھ کو حاصل کرتا ہے ) تو اللہ کے نزدیک اس کے درجات میں کمی ہو جاتی ہے اگر چہ وہ اس پر مہربان ہوتا ہے۔
ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن علي و هو ابن زيد الصائغ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10676
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10677
10677 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي أنا أبو بكر محمد بن أحمد الأزدي حدثني عبد الصمد الصائغ مردويه قال : سمعت الفضيل يقول : لا يعطى أحد من الدنيا إلا و يقال له : هاك مثليه من الحرص مثليه من الشغل و مثليه من الهم و لا يعطى شيئا من الدنيا إلا و نقص من آخرته فلا و الله ما تأخذ إلا من كيسك فإن شئت فاقلل و إن شئت فأكثر
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی علی بن محمد مروزی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد رازی نے ان کو عبد الصمد صائغ مردو یہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل سے وہ کہتے ہیں نہیں دیا جاتا کوئی شخص کچھ دنیا میں سے مگر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ لیجئے اس سے ڈبل حرص اور اس سے دو گنا شغل و مصروفیت اور اس سے دو گنا غم و فکر ۔ اور نہیں دیا جاتا کوئی شئی دنیا میں سے مگر اس کی آخرت کے حصے میں سے کم کر دیا جاتا ہے پس قسم ہے اللہ کی نہیں جاتا کچھ بھی مگر تیری ہی جیب سے لہٰذا اگر آپ چاہیں تو اس کو کم کریں چاہیں تو زیادہ کریں۔
الْفُضَيْلُ ← عبد الصمد الصائغ مردويه ← أبو بكر محمد بن أحمد الأزدي ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10677
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10678
10678 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد ابن الأعرابي نا الدقيقي نا يزيد بن هارون أنا عمرو بن ميمون عن أبيه قال : جاء رجل إلى ابن عمر قال : توفي زيد بن حارثة و ترك مائة ألف قال : لكن هي لا تتركه
ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عمرو بن میمون نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی آیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اور اس نے آکر بتایا کہ حضرت زید بن حارثہ فوت ہو گئے ہیں اور ایک لاکھ ترکہ چھوڑ گئے ہیں (حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ وہ تو چھوڑ گئے ہیں مگر یہ ایک لاکھ) اس کو نہیں چھوڑے گا (مطلب ہے کہ ان کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ )
لكن هي لا تتركه ← توفي زيد بن حارثة و ترك مائة ألف ← جاء رجل إلى ابن عمر ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الدَّقِيقِيُّ، ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10678