Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10667

10667 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عفان نا حماد بن سلمة نا ثابت عن أنس بن مالك قال : كنا في سفر فقال أبو موسى : تعال يا أنس فلنذكر ربنا ساعة قال : و كان الناس يتكلمون فإن هؤلاء يكاد أحدهم يفري الأديم بلسانه فريا ثم قال : يا أنس ما نسي الناس مثل مظاهر قال : عجلت الدنيا و شهواتها و الشيطان قال أبو موسى لا و الله و لكن عجلت الدنيا و غيبت الآخرة أما و الله لو عاينوها ما عدلوا ( ) ميلوا

ہمیں خبر دی احمد بن حسن قاضی نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحق صنعانی نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سفر میں تھے حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا اے انس آئیے ہم ایک لحظہ اپنے رب کا ذکر کریں اور دوسرے لوگ (دنیا کی )باتیں کر رہے تھے۔ وہ لوگ اس طرح باتیں کر رہے تھے کہ جیسے ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان و کلام سے کھال اتار دے (یا کھال کو رنگ کر درست کر دے گا ) پھر ابو موسیٰ نے فرمایا اے انس نہیں بھولے ہیں لوگ مثل مظاہر کی۔ اس نے کہا کہ دنیا نے اور اس کی شہوات نے اور شیطان نے عجلت کی ہے ابو موسیٰ نے کہا نہیں ( یوں بات نہیں ہے کہ )دنیا نے عجلت کی ہے اور آخرت کو غائب کر دیا ہے۔ خبردار اللہ کی قسم! اگر لوگ آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ( تو حق سے ) عدول نہ کرتے اور نہ رہتے ۔

ربنا ساعة ← أبو موسى تعال يا أنس فلن ← کُنَّا فِي سَفَرٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10667

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10668

10668 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا محمد بن إسماعيل البصري نا محمد بن كثير الثقفي نا أبو علي البيروني عن يونس بن حابس عن أبي إدريس قال : صام أبو موسى حتى عاد كأنه خلال فقيل له لو أجممت نفسك ؟ فقال : هيهات إنما يسبق من الخيل الطمر قال : و ربما خرج من منزله شري رجلك فليس على جسر جهنم معير

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن اسماعیل بصری نے ان کو محمد بن کثیر ثقفی نے ان کو ابوعلی بیرونی نے ان کو یونس بن حابس نے ان کو ابو ادریس نے وہ کہتے ہیں کہ (حضرت ابو موسی ٰنے روزے رکھے اس قدر کہ سوکھ کر تنکا ہو گئے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ حضرت اگر آپ اپنے نفس کو آرام دیتے تو بہتر ہوتا؟ انہوں نے فرمایا کہ بہت مشکل ہے بہت دور ہے (یعنی میں ایسا نہیں کروں گا ) اس لئے کہ صحت مند اور طاقتور گھوڑا (مقابلہ دوڑ میں ) ہار جاتا ہے اور فرمایا کہ۔ بسا اوقات ( انسان صحیح سلامت ) اپنے گھر سے نکلتا ہے (مگر) آپ کا پیر ( پھسل جاتا ہے ) اور جہنم والے پل پر تو گذرنے کا راستہ بھی نہیں ہے۔

هيهات إنما يسبق من الخيل الطمر ← صام أبو موسى حتى عاد كأنه خلال فقيل له لو أجممت نفسك ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← يونس بن حابس ← أبو علي البيروني ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10668

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10669

10669 - قال : و أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا زيد بن الحباب نا صالح بن موسى الطلحي عن أبيه قال : اجتهد الأشعري قبل موته اجتهادا شديدا فقيل له لو أمسكت و رفقت بنفسك بعض الرفق قال : إن الخيل إذا أرسلت فقاربت رأس مجراها أخرجت جميع ما عندها و الذي بقي من أجلي أقل من ذلك قال : فلم يزل على ذلك حتى مات

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو زید بن حباب نے ان کو صالح بن موسی ٰطحلی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں اشعری نے اپنی موت سے قبل شدید محنت اور جہدو جہد کی تھی۔ ان سے کسی نے کہا کہ کاش کہ آپ اس قدر محنت کرنے سے رک جاتے اور کچھ اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرتے۔ انہوں نے فرمایا کہ گھوڑ دوڑ کے میدان میں جب کوئی گھوڑا چھوڑا جاتا ہے تو وہ اپنے ہدف اور انتہاء کو پہنچ کر ہی رکتا ہے۔ٍاور اس کے پاس جس قدر طاقت ہوتی ہے وہ پوری پوری لگا دیتا ہے۔ میری عمر کی مہلت جس قدر باقی رہ گئی ہے وہ باقی بہت کم ہے۔ وہ ہمیشہ اسی حالت پر قائم رہے حتی ٰ کہ انتقال کر گئے ۔

أَبِيهِ ← صالح بن موسى الطلحي ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10669

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10670

10670 - قال : و نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق أنا وكيع نا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الطفيل قال : قال حذيفة : ـ ( ليس من مات فاستراح بميت إنما الميت ميت الأحياء ) و قيل له : يا أبا عبد الله و ما ميت الأحياء قال : الذي لا يعرف المعروف بقلبه و لا ينكر المنكر بقلبه

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو اسحاق نے ان کو وکیع نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب بن ثابت نے ان کو ابو الطفیل نے وہ کہتے ہیں حذیفہ نے فرمایا۔ليس من مات فاستراح بميت .....انما الميت ميت الاحياء. جوشخص مرکر راحت اور چھٹکارا پا گیا وہ میت نہیں ہے۔ در حقیقت میت وہ ہے جو جیتے جی مردہ ہو (یعنی بے کا ربے ہمت ہو ) ۔ ان سے کہا گیا اے ابو عبد اللہ زندوں میں میت کون ہوتا ہے۔ فرمایا وہ ہوتا ہے جو نہ تو اپنے دل سے معروف کو جانے نہ منکر کو اپنے دل سے جانے ۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10670

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10671

10671 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا نا محمد بن علي بن شقيق نا أبو إسحاق إبراهيم بن الأشعث قال : سمعت الفضيل بن عياض قال : قال ابن عباس : يؤتى بالدنيا يوم القيامة في صورة عجوز شمطاء زرقاء أنيابها بادية مشوه خلقها فتشرف على الخلائق فيقال : هل تعرفون بهذه فيقولون : نعوذ بالله من معرفة هذه فيقال : هذه الدنيا التي تناحرتم عليها بها تقاطعتم الأرحام و بها تحاسدتم و تباغضتم و اغتررتم ثم تقذف في جهنم فتنادي أي رب أين أتباعي و أشياعي فيقول الله تعالى : ألحقوا بها أتباعها و أشياعها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن علی بن شقیق نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن اشعث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا قیامت کے دن دنیا کو ایک بڑھیا کی صورت میں لایا جائے گا ادھیڑ عمر سیاہ وسفید بالوں والی نیلی آنکھوں والی اس کے دانت سامنے ظاہر ہوں گے منہ کھلا ہوا ہوگا وہ مخلوقات کو نگا ہیں اٹھا کر دیکھے گی۔ پس کہا جائے گا کیا تم لوگ اس کو پہچانتے ہو۔ لوگ کہیں گے اللہ کی پناہ اس سے کہ ہم اس کو پہچانیں ۔ پھر کہا جائے گا کہ یہ وہی دنیا ہے جس پر تم قربان ہوتے رہتے تھے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے تھے اور جس کے لئے تم ایک دوسرے سے قطع رحمی کرتے تھے اور ایک دوسرے سے حسد کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھتے تھے اور دھو کہ کھاتے تھے۔ پھر وہ جہنم میں ڈال دی جائے گی۔ پھر وہ بڑھیا چیخے گی اے میرے رب میرے پیرو کار کہاں ہیں اور میرے گروہ والے کہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے تابعداروں کو اور اس کے گروہ والوں کو اسی کے ساتھ لاحق کر دو ۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثِ ← محمد بن علي بن شقيق ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10671

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10672

10672 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا سعيد ابن الأعرابي نا ابن أبي الدنيا : فذكره

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابوالد نیا نے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔

ابن أبي الدنيا فذكره ← سعيد ابن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10672

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10673

10673 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن قدامة نا محمد بن إسماعيل عن أبي وكيع عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : بل يرتد الإنسان ليفخر أمامه قال : يقدم الذنب و يؤخر التوبة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن قدامہ نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو ابو وکیع نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو سعید بن حبیب نے کو ابن عباس نے کہ یہ آیت ۔ بل يريد الانسان ليفجر امامه بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے گناہ بھیجے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ گناہ مقدم اور تو بہ مؤخر کرے۔

يقدم الذنب و يؤخر التوبة ← ابن عباس بل يرتد الإنسان ليفخر أمامه ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبي وكيع ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10673

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10674

10674 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني نا أبو سعيد ابن الأعرابي نا أبو جعفر القزاز نا حسين بن محمد المروزي قال ابن المبارك عن مسعر عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال : عاد خبابا نعايا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : أبشر يا أبا عبد الله إخوانك تقدم عليهم غدا فبكى فقالوا : عليها من الحال فقال : إنه ليس ذو جزع و لكنكم ذكرتموني أقواما و سميتموهم إخوانا فإن أولئك قد مضوا بأجورهم و أني أخاف أن يكون ثوابي مما يذكرون من تلك الأعمال ما أصبنا بعدهم

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابو جعفر قزاز نے ان کو حسین بن محمد مروزی نے ابن مبارک نے فرمایا کہ مسعر سے مروی ہے اس نے قیس بن مسلم سے اس نے طارق بن شہاب سے وہ کہتے ہیں کہ خباب کی عیادت کی اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موت کی خبر دینے والے انہوں نے کہا اے ابو عبد اللہ آپ کے بھائی ہیں ( اصحاب رسول ) کل آپ ان کے پاس ہوں گے اس بات پر آپ کو بشارت ہو وہ رو پڑے لوگوں نے کہا کہ ان پر خاص حالت طاری ہوگئی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں کسی گھبراہٹ اور بے صبری میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ تم لوگوں نے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کر ڈالا ہے اور ان کو تم نے میرا بھائی کہہ دیا ہے۔ بے شک وہ لوگ تھے جو اپنے اپنے اجر و ثواب لے کر جاچکے ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میر اثواب ان اموال کا نہ ہو جن کا انکار کر دیا جائے ۔ بوجہ اس کے جو ہمیں پہنچا ہے ان لوگوں کے بعد ۔ ( یعنی ہم نے جن اعمال کا بعد میں ارتکاب کیا ہے۔)

عليها من الحال ← أبشر يا أبا عبد الله إخوانك تقدم عليهم غدا فبكى ← عاد خبابا نعايا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مِسْعَرٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أبو جعفر القزاز ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10674

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10675

10675 - قال : و نا أبو سعيد نا أبو داود نا محمد بن العلاء نا محمد بن إدريس عن مسعر : مثله

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوسعید نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن علاء نے ان کو محمد بن ادریس نے ان کو مسعر نے بیان کی مذکور کی مثل ۔

مسعر مثله ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10675

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10676

10676 - قال : و أنا أبو سعيد نا محمد بن علي و هو ابن زيد الصائغ نا سعيد بن منصور نا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن ابن عمر قال : ما يصيب عبد من الدنيا شيئا إلا انتقص من درجاته عند الله عز و جل و إن كان عليه كريما

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو محمد بن علی نے وہ ابن زید صائغ ہیں ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے وہ فرماتے ہیں کہ جس بندے کو دنیا سے کچھ پہنچتا ہے (یعنی وہ دنیا میں سے کچھ کو حاصل کرتا ہے ) تو اللہ کے نزدیک اس کے درجات میں کمی ہو جاتی ہے اگر چہ وہ اس پر مہربان ہوتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن علي و هو ابن زيد الصائغ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10676

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10677

10677 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي أنا أبو بكر محمد بن أحمد الأزدي حدثني عبد الصمد الصائغ مردويه قال : سمعت الفضيل يقول : لا يعطى أحد من الدنيا إلا و يقال له : هاك مثليه من الحرص مثليه من الشغل و مثليه من الهم و لا يعطى شيئا من الدنيا إلا و نقص من آخرته فلا و الله ما تأخذ إلا من كيسك فإن شئت فاقلل و إن شئت فأكثر

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی علی بن محمد مروزی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد رازی نے ان کو عبد الصمد صائغ مردو یہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل سے وہ کہتے ہیں نہیں دیا جاتا کوئی شخص کچھ دنیا میں سے مگر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ لیجئے اس سے ڈبل حرص اور اس سے دو گنا شغل و مصروفیت اور اس سے دو گنا غم و فکر ۔ اور نہیں دیا جاتا کوئی شئی دنیا میں سے مگر اس کی آخرت کے حصے میں سے کم کر دیا جاتا ہے پس قسم ہے اللہ کی نہیں جاتا کچھ بھی مگر تیری ہی جیب سے لہٰذا اگر آپ چاہیں تو اس کو کم کریں چاہیں تو زیادہ کریں۔

الْفُضَيْلُ ← عبد الصمد الصائغ مردويه ← أبو بكر محمد بن أحمد الأزدي ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10677

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10678

10678 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد ابن الأعرابي نا الدقيقي نا يزيد بن هارون أنا عمرو بن ميمون عن أبيه قال : جاء رجل إلى ابن عمر قال : توفي زيد بن حارثة و ترك مائة ألف قال : لكن هي لا تتركه

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عمرو بن میمون نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی آیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اور اس نے آکر بتایا کہ حضرت زید بن حارثہ فوت ہو گئے ہیں اور ایک لاکھ ترکہ چھوڑ گئے ہیں (حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ وہ تو چھوڑ گئے ہیں مگر یہ ایک لاکھ) اس کو نہیں چھوڑے گا (مطلب ہے کہ ان کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ )

لكن هي لا تتركه ← توفي زيد بن حارثة و ترك مائة ألف ← جاء رجل إلى ابن عمر ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الدَّقِيقِيُّ، ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10678

chevron_left Previous
1…363738…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood