Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10655

10655 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن عبد الملك نا يزيد بن هارون نا سليمان ح و أخبرنا أبو الحسين نا إسماعيل نا بشر بن موسى نا الحميدي عن سفيان قال : قال لنا التيمي : عن أبي عثمان عن سلمان : لا تكن أول أهل السوق دخولا و آخرهم خروجا فإن فيها باض الشيطان و فرخ و في رواية يزيد : لا تكن أول داخل السوق و لا آخر خارج منها فإن بها فرخ الشيطان و مركز رايته

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کومحمد بن عبد الملک نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان نے ’’ح‘‘اور ہمیں خبر دی ہے ابو لحسین نے ان کو اسماعیل نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا تھا تمیمی نے ابو عثمان سے اس نے سلمان سے کہ اہل بازار میں تم پہلا داخل ہونے والا اور آخری نکلنے والا نہ بننا بے شک اس میں شیطان کے انڈے بھی ہوتے ہیں اور اس کے بچے بھی۔ اور یزید کی ایک روایت میں ہے۔ کہ تم بازار میں پہلا داخل ہونے والا اور آخری نکلنے والا نہ ہونا بے شک اس میں شیطان کے چوزے بھی ہوتے ہیں۔ اور اس کے جھنڈے کا مرکز بھی۔( مراد ہے کہ بازار میں بقدر ضرورت جائیں اور جلدی وہاں سے واپس نکل آئیں کیونکہ وہ خالص دنیا کمانے کی جگہ ہے اور اللہ سے غافل رہنے کی جگہ ہے ) جارودی۔

أَبِي عُثْمَانَ ← لنا التيمي ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو الْحَسَينِ ← و، ← سُلَیْمَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10655

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10656

10656 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن ثور بن يزد عن سليم بن عامر قال : قال أبو الدرداء : نعم صومعة المسلم بيته يكف بصره و فرجه و إياكم و الأسواق فإنها تلغي وتلهي

اور ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ثور بن یزید سے اس نے سلیم بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا کہ مسلمان کا بہترین گرجا اور معبد و خلوت خانہ اس کا اپنا گھر ہے اسی میں رہ کر وہ اپنی نظر اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے۔ اور تم لوگ بچاؤ اپنے آپ کو بازاروں سے بے شک و بالغو اور بے کار کام کرواتی ہیں اور غافل کر دیتی ہیں۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ثور بن يزد ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10656

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10657

10657 - أخبرنا أبو نصر بن عبد العزيز بن قتادة نا أبو الفضل بن حمرويه نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن عياش حدثني محمد بن مقدام الصغاني عن محمد بن واسع قال : كتب أبو الدرداء إلى سلمان أما بعد يا أخي اغتنم صحتك و فراغك من قبل أن ينزل بك من البلاء ما لا يستطيع أحد من الناس رده يا أخي اغتنم دعوة المؤمن المبتلي و يا أخي ليكن المسجد بيتك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المسجد بيت كل تقي و قد ضمن الله لمن كانت المساجد بيوتهم بالروح و الراحة و الجواز على الصراط إلى رضوان الرب و يا أخي أدن اليتيم منك و امسح برأسه و الطف به و أطعمه من طعامك فإن ذلك يلين قلبك و تدرك حاجتك و يا أخي إياك أن تجمع من الدنيا ما لا يؤدي شكره فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يؤتى بصاحب المال الذي أطاع الله فيه و ماله بين يديه كلما تكفأ به الصراط فقال له ماله : امض فقد أديت حق الله في ثم يجاء بصاحب المال الذي لم يطع الله فيه و ماله بين كتفيه كلما تكفأ به الصراط قال له ماله : ويلك ألا أديت حق الله في فما يزال كذلك حتى يدعو بالويل و الثبور و يا أخي إني أنبئت أنك ابتعت خادما و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : العبد من الله و هو منه ما لم يخدم فإذا خدم وقع عليه الحساب و إن أم الدرداء سألتني أن أشتري لها خادما و كنت بذلك موسرا و إني خفت الحساب و يا أخي آن لي و لك أن نتقي الله غدا و لا حساب علينا و إنا عشنا بعد نبينا صلى الله عليه و سلم دهرا طويلا و الله أعلم بما أحدثنا و السلام

ہمیں خبر دی ابو نصر بن عبد العزیز بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمرویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو محمد بن مقدام صنعانی نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان کی طرف لکھا۔ اما بعد ۔ آپ غنیمت سمجھئے اپنی صحت کو اور اپنی فرصت کو اس وقت سے پہلے کہ آپ کے ساتھ کوئی مصیبت آن پڑے جس کو بٹنے اور واپس کرنے کی لوگوں میں سے کسی کو استطاعت نہ ہو۔ اے بھائی ۔ مصیبت زدہ مؤمن کی دعا کو ۔ اور اے میرے بھائی چاہئے کہ آپ کا گھر آپ کی مسجد ہونا چاہئے۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرمارہے تھے۔ مسجد ہر متقی انسان کا گھر ہے (یعنی اس کے رات گذارنے کی جگہ ہے۔ ) بے شک اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے اس شخص کے لئے مساجد جن کے گھر ہوا کرتے ہیں ۔ روح کی اور راحت کی ضمانت اور پل صراط پر سلامتی کے ساتھ عبور کی ضمانت سے رب کی رضامندی تک ۔ اور اے میرے بھائی یتیم کو اپنے سے قریب تر کیجئے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرئیے اور اس کے ساتھ شفقت اور نرمی کیجئے۔ اپنے کھانے میں سے اس کو کھلائیے اس بات سے آپ کا دل نرم ہو گا اور آپ کی حاجت پوری ہوگی۔ اے میرے بھائی اپنے آپ کو دنیا کا مال جمع کرنے سے بچاؤ جس کا شکر ادا نہ کیا جائے بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ فرما رہے تھے ۔ قیامت کے دن اس مالدار کو لایا جائے گا جس نے اپنے مال کے بارے میں اللہ کا حکم مانا تھا۔ اور اس کا مال اس کے سامنے ہوگا ۔ جب بھی وہ پل صراط پر ٹھو کر کھانے لگے گا اس کا مال اس کو کہے گا آپ چلتے رہئے آپ نے میرے بارے میں اللہ کا حق ادا کیا تھا۔ اس کے بعد اس مالدار کو لایا جائے گا جس نے مال کے معاملہ میں اللہ کی اطاعت نہیں کی تھی جب کہ مال اس کے کندھوں کے اوپر لدا ہوا ہو گا جب بھی وہ پل صراط کے اوپر ٹھو کر کھانے لگے گا۔ اس کا مال اس سے کہے گا تیرے لئے ہلاکت ہو تم نے میرے بارے میں اللہ کا حق کیوں نہ ادا تھا۔ بس وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ وہ ہلاکت اور تباہی کو آواز دے گا اور بلائے گا۔ اور اے میرے بھائی مجھے یہ بھی خبر ملی ہے کہ آپ نے اپنے لئے ایک نوکر خرید لیا ہے۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرمارہے تھے کہ بندہ اللہ سے توقع رکھتا ہے اور اللہ بندے کا خیال رکھتا ہے جب تک وہ خادم مقرر نہیں کرتا جب وہ خادم رکھ لیتا ہے اس کے ذمہ حساب و کتاب لگ جاتا ہے۔ بے شک ام درداء نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں اس کے لئے ایک خادم خرید کرلوں اور مجھے اس کی استطاعت بھی تھی۔ مگر میں قیامت کے حساب سے ڈر گیا۔ اے میرے بھائی اور آپ کے لئے لازم ہے کہ ہم آنے والے کل کے بارے میں اللہ سے ڈریں کہ ہمارے ذمے کوئی حساب نہ ر ہے اور بے شک ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طویل زمانے تک زندہ رہیں گے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ زمانہ ہمارے ساتھ کیا کیا گل کھلائے گا۔

مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← محمد بن مقدام الصغاني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حمرويه ← أبو نصر بن عبد العزيز بن قتادة

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10657

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10658

10658 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر عن صاحب له : أن أبا الدرداء كتب إلى سلمان فذكره بمعناه و في آخره : يا أخي لا تغتدن بصحابة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنا عشنا بعده دهرا طويلا و الله اعلم بالذي أصبنا بعده

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ان کے ایک دوست نے یہ کہ حضرت ابو دردا ءرضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی کی طرف خط لکھا۔ پھر معمر نے اس کو مذکورہ مفہوم میں ذکر کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ اے میرے بھائی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ نرمی کر کے ڈھیلا نہ چھوڑیں بے شک ہم لوگوں نے رسول اللہ کے بعد طویل زمانے تک زندور بنا ہے ہمیں اللہ بہتر جانے کہ ہمیں کیا کچھ پہنچے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ۔

صَاحِبٍ، لَهُ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10658

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10659

10659 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن علي الوراق نا موسى بن داود نا نافع بن عمر صبحي عن ابن أبي مليكة قال : قال يزيد بن معاوية : قال أبو الدرداء : و كان من العلماء تأملون و تجمعون فلا ما تأملون تدركون و لا ما تجمعون تأكلون

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو موسیٰ بن داؤد نے ان کو نافع بن عمر صجی نے ان کو ابن ابو ملیکہ نے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ نے کہا کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا اور وہ علماء میں سے تھے۔ آپ لوگ آرزوئیں کرتے ہو اور مال جمع کرتے ہو۔ اور جس چیز کی آرزو کرتے ہو اس کو تم حاصل نہیں کر سکتے ہو ۔ اور جس مال کو جمع کرتے ہو اس کو کھا نہیں پاتے ہو ۔ )

يَزِيدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نافع بن عمر صبحي ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10659

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10660

10660 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن ابان نا سيار نا جعفر بن ثلبت قال : خطب يزيد بن معاوية إلى أبي الدرداء ابنته الدرداء فرده و انكحها غيره فقيل لأبي الدرداء أترد يزيد و تنكح فلانا ؟ فقال أبو الدرداء : ما ظنكم بابنة أبي الدرداء إذا قام رأسها الخصيان و نظرت في بيوت تلمع منها بصرها أين دينها يومئذ ؟

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابومحمد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ خلیفتہ المسلمین یزید بن معاویہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو ان کی بیٹی درداء کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے اس کو منع کر کے درداء کا نکاح کسی اور سے کر دیا۔ حضرت ابو درداء سے کسی نے پوچھا کہ آپ یزید کو منع کر کے فلاں سے نکاح کر رہے ہیں لہٰذا حضرت ابو درداء نے فرمایا : ابو درداء کی بیٹی کے بارے میں آپ لوگوں کا خیال ہے جب اس کے سر کے اوپر ( دوحفی خادم ) خواجہ سرا کھڑے ہوں گے اور وہ ایسے گھروں میں نگا میں اٹھا کر دیکھے گی جس سے اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اس دن اس کا دین کہاں رہے گا ؟ (فائدہ) اس روایت میں اہل علم کے لئے بہت سی عبرتیں اور نصائح موجود ہیں خصوصا ًیہ کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو ابن معاویہ کے مال پر اعتراض تھا کردار پر نہیں ) مترجم ۔

جعفر بن ثلبت ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10660

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10661

10661 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن إدريس الحنظلي نا المعلي بن أسد العمي نا عبد العزيز بن المختار عن موسى بن عقبة حدثني بلال بن سعد التيمي عن أبيه : أن أبا الدرداء ذكر الدنيا فقال : إنها ملعونة ملعون ما فيها إلا كان لله أو ما ابتغي به وجهه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن ادریس حنظلی نے ان کو معلی ٰبن اسد عمی نے ان کو عبد العزیز بن مختار نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو بلال بن سعد تمیمی نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ حضرت ابو درداء نے دنیا کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایاد نیا ملعون ہے اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے مگر جو کچھ اللہ کے لئے ہے یا جس کے ساتھ اس کی رضا ڈھونڈی جائے۔

الدُّنْيَا ← أبيه أن أبا الدرداء ← بلال بن سعد التيمي ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10661

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10662

10662 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو الفضل بن حمرويه نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن حدثني موسى بن عقبة قال : كتب أبو الدرداء إلى بعض إخوانه أما بعد فإني أوصيك بتقوى الله و الزهد في الدنيا و الرغبة فيما عند الله فإنك إذا فعلت ذلك أحبك الله لرغبتك فيما عنده و أحبك الناس لتركك لهم دنياهم و السلام

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبد الرحمٰن نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے اپنے کچھ احباب کی طرف خط لکھا اما بعد بے شک میں آپ کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور دنیا میں بے رغبتی کرنے کی اور اس میں رغبت کرنے کی جو اللہ کے پاس ہے۔ بے شک آپ نے اگر ایسا کر لیا تو اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کریں گے آپ کے اس چیز میں رغبت کرنے کی وجہ سے جو اللہ کے پاس ہے۔ اور لوگ آپ سے محبت کریں گے ان کی دنیا کو آپ کے ان کے لئے چھوڑنے کی وجہ سے۔ والسلام

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حمرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10662

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10663

10663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عمر بن سعيد بن سليمان القرشي نا سعيد بن بشير عن قتادة قال : قال أبو الدرداء : ابن آدم طأ الأرض بقدمك فإنها عن قليل تكون قبرك ابن آدم إنما أنت أيام فكلما ذهب يوم ذهب بعضك ابن آدم إنك لم تزل في هرم عمرك منذ يوم ولدتك أمك

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو عمر بن سعید بن سلیمان قریشی نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا اے ابن آدم آپ اپنے قدموں تلے زمین کو روندتے رہتے ہیں پھر تھوڑے عرصے کے بعد وہی تیری قبر ہو گی اے ابن آدم آپ ایام یعنی دنوں کی طرح ہیں۔ جب بھی ایک دن گذر جاتا ہے۔ تو تیرا کچھ حصہ چلا جاتا ہے۔ اے ابن آدم بے شک آپ ہمیشہ سے اپنے بڑھاپے کی عمر میں ہیں جب سے آپ کو آپ کی ماں نے جنم دیا ہے۔ (یعنی اس وقت سے بوڑھے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔)

أبو الدرداء ابن آدم طأ الأرض بقدمك فإنها ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← عمر بن سعيد بن سليمان القرشي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10663

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10664

10664 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن عيسى نا عمرو بن أبي سلمة نا الأوزاعي قال : سمعت بلال بن سعد يقول : كان أبو الدرداء يقول في دعائه : اللهم إني أعوذ بك من تفرقة القلب قال : قيل له : و ما تفرقة القلب قال : أن يوضع لي في كل دار مال 10664 - مكرر ـ أخبرنا أبو القاسم الحرفي نا أحمد بن سلمان نا الحارث بن محمد نا إسحاق بن عيسى نا القاسم بن معن عن الأعمش عن عبد الله بن مرة قال : قال أبو الدرداء : اعبدوا الله كأنكم ترونه و عدوا أنفسكم في الموتى و اعلموا أن قليلا يكفيكم خير من كثير يلهيكم و اعلموا أن البر لا يبلى و أن الإثم لا ينسى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو عمرو بن ابو سلمہ نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت ابو درداء اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے۔ اللهم انى اعوذبک من تفرقة القلب ۔اے اللہ میں پراگندہ دلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ دل کا تفرقہ اور پراگندہ ہونا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بندہ یہ چاہے کہ میرے لئے ہر گھر مکان اور ہر جگہ میں مال ہی مال رکھاہواہو۔ ( مکر رہے ) ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو حارث بن محمد نے ان کو اسحٰق بن عیسیٰ نے ان کو قاسم بن معن نے اعمش سے اس نے عبداللہ بن مرہ سے وہ کہتے ہیں کہ ابو درداء نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو اور یقین کرو کہ بے شک قلیل مال جو تمہیں کفایت کرے وہ ایسے کثیر مال سے زیادہ بہتر ہے جو تمہیں غافل کر دے اور یقین جانئے کہ نیکی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ← أن يوضع لي في كل دار مال مكرر ← قيل له و ما تفرقة القلب ← فِي دُعَائِهِ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ تَفْرِقَةِ الْقَلْبِ ← كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أحمد بن عيسى، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10664

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10665

10665 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قال : نا أبو العباس هو الأصم نا العباس هو الدوري نا عبيد الله بن موسى نا شيبان بن عبد الرحمن عن عاصم عن أبي وائل عن أبي الدرداء : اعمل لله كأنك تراه و اعدد نفسك مع الموتى و إياك و دعوات المظلوم فإنهن يصعدن إلى الله عز و جل كأنهن شرارات نار

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان بن عبد الرحمٰن نے ان کو عاصم نے ابو وائل سے ان کو ابو درداء نے کہ آپ اللہ کے لئے عمل اس طرح کیجئے جیسے کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہوں ۔ اور اپنے نفس کو مرنے والوں میں شمار کیجئے اور اپنے آپ کو مظلوم کی بد دعاؤں سے بچائیے بے شک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف او پر چڑھ جاتی ہیں جیسے کہ وہ آگ کی چنگاریاں ہیں۔

أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10665

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10666

10666 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا إسحاق بن أحمد الكاذي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا أبي نا الوليد بن مسلم نا ابن جابر عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء : أن أبا الدرداء لما احتضر جعل يقول : من يعمل لمثل يومي هذا من يعمل لمثل ساعتي هذه من يعمل لمثل مضجعي هذا ثم يقول : { و نقلب أفئدتهم و أبصارهم كما لم يؤمنوا به أول مرة }

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسحٰق بن حسن کا رزی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن ؤنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن جابر نے اسماعیل بن عبید اللہ سے اس نے ام درداء سے یہ کہ ابو درداء کو جب موت آن پہنچی تو وہ فرما رہے تھے ۔ کون عمل کرے گا میرے اس دن کے مثل دن کے لئے کون عمل کرے گا میری اس ساعت کی مثل وقت کے لئے کون عمل کرے گا میرے اس طرح پڑے ہونے کے وقت کے لئے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ ونقلب افئدتهم وابصار هم كما لم يؤمنوا به اول مرة. ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے کہ وہ پہلی بار اس کے ساتھ ایمان نہیں لائے تھے۔

أُمِّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، لَمَّا احْتُضِرَ جَعَلَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاذِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10666

chevron_left Previous
1…353637…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood