شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10655
10655 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن عبد الملك نا يزيد بن هارون نا سليمان ح و أخبرنا أبو الحسين نا إسماعيل نا بشر بن موسى نا الحميدي عن سفيان قال : قال لنا التيمي : عن أبي عثمان عن سلمان : لا تكن أول أهل السوق دخولا و آخرهم خروجا فإن فيها باض الشيطان و فرخ و في رواية يزيد : لا تكن أول داخل السوق و لا آخر خارج منها فإن بها فرخ الشيطان و مركز رايته
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کومحمد بن عبد الملک نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان نے ’’ح‘‘اور ہمیں خبر دی ہے ابو لحسین نے ان کو اسماعیل نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا تھا تمیمی نے ابو عثمان سے اس نے سلمان سے کہ اہل بازار میں تم پہلا داخل ہونے والا اور آخری نکلنے والا نہ بننا بے شک اس میں شیطان کے انڈے بھی ہوتے ہیں اور اس کے بچے بھی۔ اور یزید کی ایک روایت میں ہے۔ کہ تم بازار میں پہلا داخل ہونے والا اور آخری نکلنے والا نہ ہونا بے شک اس میں شیطان کے چوزے بھی ہوتے ہیں۔ اور اس کے جھنڈے کا مرکز بھی۔( مراد ہے کہ بازار میں بقدر ضرورت جائیں اور جلدی وہاں سے واپس نکل آئیں کیونکہ وہ خالص دنیا کمانے کی جگہ ہے اور اللہ سے غافل رہنے کی جگہ ہے ) جارودی۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10655
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10656
10656 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن ثور بن يزد عن سليم بن عامر قال : قال أبو الدرداء : نعم صومعة المسلم بيته يكف بصره و فرجه و إياكم و الأسواق فإنها تلغي وتلهي
اور ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ثور بن یزید سے اس نے سلیم بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا کہ مسلمان کا بہترین گرجا اور معبد و خلوت خانہ اس کا اپنا گھر ہے اسی میں رہ کر وہ اپنی نظر اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے۔ اور تم لوگ بچاؤ اپنے آپ کو بازاروں سے بے شک و بالغو اور بے کار کام کرواتی ہیں اور غافل کر دیتی ہیں۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10656
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10657
10657 - أخبرنا أبو نصر بن عبد العزيز بن قتادة نا أبو الفضل بن حمرويه نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن عياش حدثني محمد بن مقدام الصغاني عن محمد بن واسع قال : كتب أبو الدرداء إلى سلمان أما بعد يا أخي اغتنم صحتك و فراغك من قبل أن ينزل بك من البلاء ما لا يستطيع أحد من الناس رده يا أخي اغتنم دعوة المؤمن المبتلي و يا أخي ليكن المسجد بيتك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
المسجد بيت كل تقي و قد ضمن الله لمن كانت المساجد بيوتهم بالروح و الراحة و الجواز على الصراط إلى رضوان الرب
و يا أخي أدن اليتيم منك و امسح برأسه و الطف به و أطعمه من طعامك فإن ذلك يلين قلبك و تدرك حاجتك و يا أخي إياك أن تجمع من الدنيا ما لا يؤدي شكره فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
يؤتى بصاحب المال الذي أطاع الله فيه و ماله بين يديه كلما تكفأ به الصراط فقال له ماله : امض فقد أديت حق الله في ثم يجاء بصاحب المال الذي لم يطع الله فيه و ماله بين كتفيه كلما تكفأ به الصراط قال له ماله : ويلك ألا أديت حق الله في فما يزال كذلك حتى يدعو بالويل و الثبور
و يا أخي إني أنبئت أنك ابتعت خادما و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
العبد من الله و هو منه ما لم يخدم فإذا خدم وقع عليه الحساب
و إن أم الدرداء سألتني أن أشتري لها خادما و كنت بذلك موسرا و إني خفت الحساب و يا أخي آن لي و لك أن نتقي الله غدا و لا حساب علينا و إنا عشنا بعد نبينا صلى الله عليه و سلم دهرا طويلا و الله أعلم بما أحدثنا و السلام
ہمیں خبر دی ابو نصر بن عبد العزیز بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمرویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو محمد بن مقدام صنعانی نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان کی طرف لکھا۔ اما بعد ۔ آپ غنیمت سمجھئے اپنی صحت کو اور اپنی فرصت کو اس وقت سے پہلے کہ آپ کے ساتھ کوئی مصیبت آن پڑے جس کو بٹنے اور واپس کرنے کی لوگوں میں سے کسی کو استطاعت نہ ہو۔ اے بھائی ۔ مصیبت زدہ مؤمن کی دعا کو ۔ اور اے میرے بھائی چاہئے کہ آپ کا گھر آپ کی مسجد ہونا چاہئے۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرمارہے تھے۔ مسجد ہر متقی انسان کا گھر ہے (یعنی اس کے رات گذارنے کی جگہ ہے۔ ) بے شک اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے اس شخص کے لئے مساجد جن کے گھر ہوا کرتے ہیں ۔ روح کی اور راحت کی ضمانت اور پل صراط پر سلامتی کے ساتھ عبور کی ضمانت سے رب کی رضامندی تک ۔ اور اے میرے بھائی یتیم کو اپنے سے قریب تر کیجئے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرئیے اور اس کے ساتھ شفقت اور نرمی کیجئے۔ اپنے کھانے میں سے اس کو کھلائیے اس بات سے آپ کا دل نرم ہو گا اور آپ کی حاجت پوری ہوگی۔ اے میرے بھائی اپنے آپ کو دنیا کا مال جمع کرنے سے بچاؤ جس کا شکر ادا نہ کیا جائے بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ فرما رہے تھے ۔ قیامت کے دن اس مالدار کو لایا جائے گا جس نے اپنے مال کے بارے میں اللہ کا حکم مانا تھا۔ اور اس کا مال اس کے سامنے ہوگا ۔ جب بھی وہ پل صراط پر ٹھو کر کھانے لگے گا اس کا مال اس کو کہے گا آپ چلتے رہئے آپ نے میرے بارے میں اللہ کا حق ادا کیا تھا۔ اس کے بعد اس مالدار کو لایا جائے گا جس نے مال کے معاملہ میں اللہ کی اطاعت نہیں کی تھی جب کہ مال اس کے کندھوں کے اوپر لدا ہوا ہو گا جب بھی وہ پل صراط کے اوپر ٹھو کر کھانے لگے گا۔ اس کا مال اس سے کہے گا تیرے لئے ہلاکت ہو تم نے میرے بارے میں اللہ کا حق کیوں نہ ادا تھا۔ بس وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ وہ ہلاکت اور تباہی کو آواز دے گا اور بلائے گا۔ اور اے میرے بھائی مجھے یہ بھی خبر ملی ہے کہ آپ نے اپنے لئے ایک نوکر خرید لیا ہے۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرمارہے تھے کہ بندہ اللہ سے توقع رکھتا ہے اور اللہ بندے کا خیال رکھتا ہے جب تک وہ خادم مقرر نہیں کرتا جب وہ خادم رکھ لیتا ہے اس کے ذمہ حساب و کتاب لگ جاتا ہے۔ بے شک ام درداء نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں اس کے لئے ایک خادم خرید کرلوں اور مجھے اس کی استطاعت بھی تھی۔ مگر میں قیامت کے حساب سے ڈر گیا۔ اے میرے بھائی اور آپ کے لئے لازم ہے کہ ہم آنے والے کل کے بارے میں اللہ سے ڈریں کہ ہمارے ذمے کوئی حساب نہ ر ہے اور بے شک ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طویل زمانے تک زندہ رہیں گے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ زمانہ ہمارے ساتھ کیا کیا گل کھلائے گا۔
مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← محمد بن مقدام الصغاني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حمرويه ← أبو نصر بن عبد العزيز بن قتادة
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10657
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10658
10658 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر عن صاحب له : أن أبا الدرداء كتب إلى سلمان فذكره بمعناه و في آخره : يا أخي لا تغتدن بصحابة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنا عشنا بعده دهرا طويلا و الله اعلم بالذي أصبنا بعده
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ان کے ایک دوست نے یہ کہ حضرت ابو دردا ءرضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی کی طرف خط لکھا۔ پھر معمر نے اس کو مذکورہ مفہوم میں ذکر کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ اے میرے بھائی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ نرمی کر کے ڈھیلا نہ چھوڑیں بے شک ہم لوگوں نے رسول اللہ کے بعد طویل زمانے تک زندور بنا ہے ہمیں اللہ بہتر جانے کہ ہمیں کیا کچھ پہنچے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ۔
صَاحِبٍ، لَهُ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10658
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10659
10659 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن علي الوراق نا موسى بن داود نا نافع بن عمر صبحي عن ابن أبي مليكة قال : قال يزيد بن معاوية : قال أبو الدرداء : و كان من العلماء تأملون و تجمعون فلا ما تأملون تدركون و لا ما تجمعون تأكلون
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو موسیٰ بن داؤد نے ان کو نافع بن عمر صجی نے ان کو ابن ابو ملیکہ نے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ نے کہا کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا اور وہ علماء میں سے تھے۔ آپ لوگ آرزوئیں کرتے ہو اور مال جمع کرتے ہو۔ اور جس چیز کی آرزو کرتے ہو اس کو تم حاصل نہیں کر سکتے ہو ۔ اور جس مال کو جمع کرتے ہو اس کو کھا نہیں پاتے ہو ۔ )
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10659
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10660
10660 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن ابان نا سيار نا جعفر بن ثلبت قال : خطب يزيد بن معاوية إلى أبي الدرداء ابنته الدرداء فرده و انكحها غيره فقيل لأبي الدرداء أترد يزيد و تنكح فلانا ؟ فقال أبو الدرداء : ما ظنكم بابنة أبي الدرداء إذا قام رأسها الخصيان و نظرت في بيوت تلمع منها بصرها أين دينها يومئذ ؟
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابومحمد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ خلیفتہ المسلمین یزید بن معاویہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو ان کی بیٹی درداء کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے اس کو منع کر کے درداء کا نکاح کسی اور سے کر دیا۔ حضرت ابو درداء سے کسی نے پوچھا کہ آپ یزید کو منع کر کے فلاں سے نکاح کر رہے ہیں لہٰذا حضرت ابو درداء نے فرمایا : ابو درداء کی بیٹی کے بارے میں آپ لوگوں کا خیال ہے جب اس کے سر کے اوپر ( دوحفی خادم ) خواجہ سرا کھڑے ہوں گے اور وہ ایسے گھروں میں نگا میں اٹھا کر دیکھے گی جس سے اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اس دن اس کا دین کہاں رہے گا ؟ (فائدہ) اس روایت میں اہل علم کے لئے بہت سی عبرتیں اور نصائح موجود ہیں خصوصا ًیہ کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو ابن معاویہ کے مال پر اعتراض تھا کردار پر نہیں ) مترجم ۔
جعفر بن ثلبت ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10660
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10661
10661 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن إدريس الحنظلي نا المعلي بن أسد العمي نا عبد العزيز بن المختار عن موسى بن عقبة حدثني بلال بن سعد التيمي عن أبيه : أن أبا الدرداء ذكر الدنيا فقال : إنها ملعونة ملعون ما فيها إلا كان لله أو ما ابتغي به وجهه
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن ادریس حنظلی نے ان کو معلی ٰبن اسد عمی نے ان کو عبد العزیز بن مختار نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو بلال بن سعد تمیمی نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ حضرت ابو درداء نے دنیا کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایاد نیا ملعون ہے اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے مگر جو کچھ اللہ کے لئے ہے یا جس کے ساتھ اس کی رضا ڈھونڈی جائے۔
الدُّنْيَا ← أبيه أن أبا الدرداء ← بلال بن سعد التيمي ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10661
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10662
10662 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو الفضل بن حمرويه نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن حدثني موسى بن عقبة قال : كتب أبو الدرداء إلى بعض إخوانه أما بعد فإني أوصيك بتقوى الله و الزهد في الدنيا و الرغبة فيما عند الله فإنك إذا فعلت ذلك أحبك الله لرغبتك فيما عنده و أحبك الناس لتركك لهم دنياهم و السلام
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبد الرحمٰن نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے اپنے کچھ احباب کی طرف خط لکھا اما بعد بے شک میں آپ کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور دنیا میں بے رغبتی کرنے کی اور اس میں رغبت کرنے کی جو اللہ کے پاس ہے۔ بے شک آپ نے اگر ایسا کر لیا تو اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کریں گے آپ کے اس چیز میں رغبت کرنے کی وجہ سے جو اللہ کے پاس ہے۔ اور لوگ آپ سے محبت کریں گے ان کی دنیا کو آپ کے ان کے لئے چھوڑنے کی وجہ سے۔ والسلام
مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حمرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10662
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10663
10663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عمر بن سعيد بن سليمان القرشي نا سعيد بن بشير عن قتادة قال : قال أبو الدرداء : ابن آدم طأ الأرض بقدمك فإنها عن قليل تكون قبرك ابن آدم إنما أنت أيام فكلما ذهب يوم ذهب بعضك ابن آدم إنك لم تزل في هرم عمرك منذ يوم ولدتك أمك
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو عمر بن سعید بن سلیمان قریشی نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا اے ابن آدم آپ اپنے قدموں تلے زمین کو روندتے رہتے ہیں پھر تھوڑے عرصے کے بعد وہی تیری قبر ہو گی اے ابن آدم آپ ایام یعنی دنوں کی طرح ہیں۔ جب بھی ایک دن گذر جاتا ہے۔ تو تیرا کچھ حصہ چلا جاتا ہے۔ اے ابن آدم بے شک آپ ہمیشہ سے اپنے بڑھاپے کی عمر میں ہیں جب سے آپ کو آپ کی ماں نے جنم دیا ہے۔ (یعنی اس وقت سے بوڑھے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔)
أبو الدرداء ابن آدم طأ الأرض بقدمك فإنها ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← عمر بن سعيد بن سليمان القرشي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10663
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10664
10664 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن عيسى نا عمرو بن أبي سلمة نا الأوزاعي قال : سمعت بلال بن سعد يقول : كان أبو الدرداء يقول في دعائه : اللهم إني أعوذ بك من تفرقة القلب قال : قيل له : و ما تفرقة القلب قال : أن يوضع لي في كل دار مال
10664 - مكرر ـ أخبرنا أبو القاسم الحرفي نا أحمد بن سلمان نا الحارث بن محمد نا إسحاق بن عيسى نا القاسم بن معن عن الأعمش عن عبد الله بن مرة قال : قال أبو الدرداء : اعبدوا الله كأنكم ترونه و عدوا أنفسكم في الموتى و اعلموا أن قليلا يكفيكم خير من كثير يلهيكم و اعلموا أن البر لا يبلى و أن الإثم لا ينسى
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو عمرو بن ابو سلمہ نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت ابو درداء اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے۔ اللهم انى اعوذبک من تفرقة القلب ۔اے اللہ میں پراگندہ دلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ دل کا تفرقہ اور پراگندہ ہونا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بندہ یہ چاہے کہ میرے لئے ہر گھر مکان اور ہر جگہ میں مال ہی مال رکھاہواہو۔
( مکر رہے ) ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو حارث بن محمد نے ان کو اسحٰق بن عیسیٰ نے ان کو قاسم بن معن نے اعمش سے اس نے عبداللہ بن مرہ سے وہ کہتے ہیں کہ ابو درداء نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو اور یقین کرو کہ بے شک قلیل مال جو تمہیں کفایت کرے وہ ایسے کثیر مال سے زیادہ بہتر ہے جو تمہیں غافل کر دے اور یقین جانئے کہ نیکی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ← أن يوضع لي في كل دار مال مكرر ← قيل له و ما تفرقة القلب ← فِي دُعَائِهِ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ تَفْرِقَةِ الْقَلْبِ ← كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أحمد بن عيسى، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10664
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10665
10665 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قال : نا أبو العباس هو الأصم نا العباس هو الدوري نا عبيد الله بن موسى نا شيبان بن عبد الرحمن عن عاصم عن أبي وائل عن أبي الدرداء : اعمل لله كأنك تراه و اعدد نفسك مع الموتى و إياك و دعوات المظلوم فإنهن يصعدن إلى الله عز و جل كأنهن شرارات نار
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان بن عبد الرحمٰن نے ان کو عاصم نے ابو وائل سے ان کو ابو درداء نے کہ آپ اللہ کے لئے عمل اس طرح کیجئے جیسے کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہوں ۔ اور اپنے نفس کو مرنے والوں میں شمار کیجئے اور اپنے آپ کو مظلوم کی بد دعاؤں سے بچائیے بے شک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف او پر چڑھ جاتی ہیں جیسے کہ وہ آگ کی چنگاریاں ہیں۔
أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10665
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10666
10666 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا إسحاق بن أحمد الكاذي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا أبي نا الوليد بن مسلم نا ابن جابر عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء : أن أبا الدرداء لما احتضر جعل يقول : من يعمل لمثل يومي هذا من يعمل لمثل ساعتي هذه من يعمل لمثل مضجعي هذا ثم يقول : { و نقلب أفئدتهم و أبصارهم كما لم يؤمنوا به أول مرة }
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسحٰق بن حسن کا رزی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن ؤنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن جابر نے اسماعیل بن عبید اللہ سے اس نے ام درداء سے یہ کہ ابو درداء کو جب موت آن پہنچی تو وہ فرما رہے تھے ۔ کون عمل کرے گا میرے اس دن کے مثل دن کے لئے کون عمل کرے گا میری اس ساعت کی مثل وقت کے لئے کون عمل کرے گا میرے اس طرح پڑے ہونے کے وقت کے لئے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ ونقلب افئدتهم وابصار هم كما لم يؤمنوا به اول مرة. ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے کہ وہ پہلی بار اس کے ساتھ ایمان نہیں لائے تھے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10666