شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10643
10643 - أخبرنا علي بن محمد بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن شقيق عن عبد الرحمن بن ثروان عن هزيل بن شرحبيل قال : قال عبد الله : من أراد أضر بآخرته و من اراد الآخرة أضر بدنياه فأضروا بالفاني للباقي
ہمیں خبر دی علی بن محمد بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو شفیق کو عبد الرحمٰن بن ثروان نے ان کو ھزیل بن شرحبیل نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا جو شخص دنیا کا ارادہ کرتا ہے وہ اپنی آخرت کا نقصان کرتا ہے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے وہ اپنی دنیا کا نقصان کرتا ہے لہٰذا باقی رہنے والی چیز کے لئے فانی چیز کا نقصان برداشت کرلو۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10643
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10644
10644 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا النضر أنا قرة بن خالد ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن بندار ثنا الفضل بن حباب ثنا مسلم بن إبراهيم عن قرة قال : سمعت الضحاك بن مزاحم يقول : قال عبد الله بن مسعود : ما أصبح منكم أحد إلا و هو ضيف و ماله عاريه و الضيف مرتحل و العارية مؤداة إلى أهلها لفظ حديث السلمي
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو نضر نے ان کو قرہ بن خالد نے’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن بندار نے ان کو فضل بن حباب نے ان کو سلمہ بن ابراہیم نے ان کو قرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ضحاک بن مزاحم سے وہ کہتے تھے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں صبح کرتا تم میں سے کوئی ایک آدمی مگر وہ مہمان ہوتا ہے۔ اور اس کا مال ادھار اور مانگا ہوا ہوتا ہے۔ حقیقت ہے کہ ہر مہمان کوچ کرنے والا ہوتا ہے۔ اور ادھاری مانگی ہوئی چیز واپس کرنی ہوتی ہے اس کے اصل مالک کی طرف۔ یہ الفاظ میں سلمی کی حدیث کے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10644
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10645
10645 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا أبو داود ثنا نصر بن علي ثنا المعتمر عن أبيه عن عطاء بن السائب عن عرفجه قال : استقرأت ابن مسعود سبح اسم ربك الأعلى فلما بلغ
{ بل تؤثرون الحياة الدنيا }
ترك القراءة و أقبل على أصحابه فقال : آثرنا الحياة الدنيا على الآخرة لا نار رأينا سقياها و زينتها طعامها و شرابها فزويت عنا الآخرة فأخبرنا العاجل على الآجل و قال : بل تؤثرون الحياة الدنيا بالياء
ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابوداؤد نے ان کو نصر بن علی نے ان کو معتمر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عطا بن سائب نے ان کو عرفجہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورہ سبح اسم ربک الاعلی سنانے کی درخواست کی۔ وہ جب اس آیت پر پہنچے بل تؤثرون الحياة الدنيا ( بلکہ تم لوگ دنیا کی زندگی کوتر جیح دیتے ہو ) تو انہوں نے تلاوت بند کر کے اپنے ساتھیوں کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا۔ ہم لوگوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ہم نے تو جہنم نہیں دیکھی۔ نہ اس کا گرم کھولتا ہوا پانی دیکھا ہے۔ نہ اس کا گلے میں پھنسے والا کھانا دیکھا ہے نہ اس کا پانی دیکھا ہے لہٰذا آخرت ہم سے سمٹ گئی ہے لہذا ہم نے دنیا کو آخرت پر پسند کر لیا ہے لہذا انہوں نے فرمایا بلکہ یہ دنیاوی زندگی کو تر جیح دیتے ہیں ۔ یاء کے ساتھ ۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10645
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10646
10646 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا عبيد الله بن شميط قال : سمعت أبي يقول : بلغنا أن أبا ذر كان يقول : و هو في مجلس معاوية لقد عرفنا خياركم من شراركم و لنحن أعرف بكم من البياطره بالخيل فقال رجل : يا أبا ذر أتعلم الغيب فقال معاوية : دعوا الشيخ فالشيخ علم منكم من خيارنا يا أبا ذر قال : خياركم أزهدكم في الدنيا و أرغبكم في الآخرة الذي يعتق محرروهم الذين لا يتخذون الذكر مهجرا و لا يأتون الصلاة دبرا قال : فمن شرارنا قال : أرغبكم في الدنيا و أزهدكم في الآخرة الذين لا يعتق محرروهم و لا يأتون الصلاة إلا دبرا
10646 - مكرر ـ قال : و بلغنا أن أبا الدرداء كان يقول : ألا أنبئكم بدائكم و دوائكم أما داؤكم فحب الدنيا و أما دوائكم فذكر الله عز و جل
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابوسعید بن عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو بو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خصر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو عبید اللہ بن شمیط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے ہمیں خبر ملی ہے کہ حضرت ابوذر فرمایا کرتے تھے حالانکہ وہ حضرت معاویہ کی مجلس میں ہوتے تھے البتہ تحقیق ہم نے پہچان لیا ہے تمہارے بہترین لوگوں کو تمہارے بدترین لوگوں میں سے۔ اور البتہ ہم تمہارے ساتھ زیادہ جاننے والے ہیں گھوڑوں کی نعل لگانے والوں کو۔ چنانچہ ایک آدمی نے کہا اے ابوذر کیا آپ غیب جانتے ہیں؟ تو حضرت معاویہ نے فرمایا چھوڑئیے شیخ کو پس شیخ جان چکے ہیں تم میں سے اس شخص کو جو ہم میں سے بہترین ہے۔ اے ابو ذر۔ انہوں نے فرمایا تم میں بہترین شخص وہ ہے جو تم میں سے دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت ہے اور تم میں سے آخرت کے بارے میں سب سے زیادہ تم میں سے رغبت کرنے والا وہ ہے جو غلام آزاد کرتا ہے۔ وہی لوگ ہیں جوذ کر کو ترک نہیں کرتے۔ اور نماز کو تاخیر سے ادا نہیں کرتے انہوں نے پوچھا کہ ہم میں سے بدترین کون ہیں۔ فرمایا کہ دنیا کے اندر زیادہ رغبت کرنے والے تم میں سے اور آخرت سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے جو غلام آزاد نہیں کرتے اور نماز میں تو آتے ہی آخر میں ہیں۔
(مکرر ہے ) فرمایا کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابو درداء فرمایا کرتے تھے۔ کیا میں تم لوگوں کو تمہاری بیماری اور تمہارے علاج کے بارے میں نہ بتادوں۔ بہر حال آپ لوگوں کی بیماری تو جب دنیا سے تمہارا علاج ذکر اللہ ہے۔
بَلَغَنَا ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ شُمَيْطٍ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10646
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10647
10647 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو علي محمد بن أحمد بن العباس المزكي ثنا أبو سعيد عبيد بن كثير التمار بالكوفة ثنا عمر بن حفص بن غياث ثنا أبي ثنا العمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال : ذو الدرهمين أشد حسابا من ذي الدرهم
ہمیں خبر دی ابوعلی روز باری نے ان کو ابو علی محمد بن احمد بن عباس مزکی نے ان کو ابو سعید عبید بن کثیر تمارے کوفے میں۔ ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم تیمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو درہم کے مالک کا حساب ایک درہم کے مالک سے زیادہ شدید ہوگا۔
«ذُو الدِّرْهَمَيْنِ أَشَدُّ حِسَابًا مِنْ ذِي الدِّرْهَمِ» ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← العمش ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← أبو سعيد عبيد بن كثير التمار بالكوفة ← أبو علي محمد بن أحمد بن العباس المزكي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10647
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10648
10648 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الصم ثنا محمد هو الصغاني ثنا سعيد بن عامر عن همام بن منبه عن ليث بن أبي سليم عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال : قدمت البصرة فربحت فيها عشرين ألفا فما اكترثت بها فرحا و ما أريد أن أعود إليها إني سمعت أبا ذر يقول : أن صاحب الدرهم يوم القيامة أخف حسابا من صاحب الدرهمين
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد صنعانی نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو ہمام بن منبہ نے ان کو لیث بن ابوسلم نے ان کو ابراہیم تیمی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں بھرے میں آیا میں نے وہاں پر بیسں ہزار روپے منافع کمایا۔ مگر نہ تو میں اس سے زیادہ خوش ہوا نہ ہی اتر ایا۔ اور میں دوبارہ بھی اسی کا اعادہ کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ میں نے حضرت ابوذر سے سناوہ کہتے تھے قیامت کے دن دو درہم کے مالک کا حساب ایک در ہم کے مالک سے زیادہ سخت ہوگا اور ایک درہم والے کا حساب دو درہم والے سے ہلکا ہوگا۔
أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← ليث بن أبي سليم ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← محمد هو الصغاني ← أبو العباس الصم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10648
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10649
10649 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني سريج ثنا يونس بن هارون أنا محمد بن عمرو عن محمد بن المنكدر قال : بعث حبيب بن مسلمه إلى أبي ذر و هو بالشام ثلثمائة دينار فقال : استعن بها على حاجتك فقال أبو ذر : ارجع بها إليه ما أحد أغنى بالله منا و ما لنا إلا ظل نتوارى به و ثلاثة من غنم تروح علينا و مولاة لنا تصدقت علينا بخدمتها ثم أني لأتخوف الفضل
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابوالد نیا نے ان کو سریج نے ان کو یونس بن ہارون نے ان کو محمد بن عمر نے ان کو محمد بن منکدر نے وہ کہتے ہیں کہ حبیب بن مسلمہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس تین سود ینار بھیجے اور کہا کہ آپ اس رقم کے ساتھ اپنی حاجات پوری کرنے میں مدد لیجئے۔ وہ اس وقت شام کے ملک میں تھے۔ حضرت ابوذر نے فرمایا : یہ رقم آپ ان کے پاس واپس لے جائیے۔ ہم سے زیادہ غنی کوئی نہیں ہے اللہ کے ساتھ۔ ہمارے پاس بس صرف ایک سایہ ہے جس کے نیچے سر چھپاتے ہیں اور تین بکریاں میں جو شام کو ہمارے پاس آجاتی ہیں اور ایک خادمہ ہے جو رضا کارانہ طور پر ہماری خدمت کرتی ہے اس کے بعد اس سے زیادہ ہونے پر خوف کھاتا ہوں۔
اسْتَعِنْ بِهَا عَلَى حَاجَتِكَ، ← بعث حبيب بن مسلمه إلى أبي ذر و هو بالشام ثلثمائة دينار ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يُونُسَ بْن هَارُونَ ← سُرَيْجٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10649
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10650
10650 - قال : و ثنا عبد الله ثنا زياد بن أيوب ثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم التيمي قال : دخل شاب من قريش على أبي ذر فقال : فضحت الدنيا فاغضبوه فقال : ما لي و للدنيا و إنما يكفيني صاع من طعام كل جمعة و شربة ماء كل يوم
فرمایا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبد اللہ نے ان کو زیاد بن ایوب نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک نو جوان حضرت ابوذر کے پاس داخل ہوئے۔ اور انہوں نے کہا دنیا رسوا ہو گئی ہے لوگوں نے اس کو ناراض کر دیا ہے۔ حضرت ابوذر نے فرمایا مجھے دنیا سے کیا نسبت حقیقت ہے کہ مجھے ہر ہفتے بھر کے لئے ایک صاع غلہ کافی ہے اور روزانہ پانی کا ایک گھونٹ کافی ہے۔
فضحت الدنيا فاغضبوه ← دخل شاب من قريش على أبي ذر ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10650
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10651
10651 - قال : و حدثنا عبد الله ثنا زياد بن أيوب ثنا سعيد بن عامر عن حفص بن سليمان قال : دخل رجل على أبي ذر أين متاعكم فجعل يقلب بصره في بيته فقال : يا أبا ذر أين متاعكم قال : إن لنا بيتا نوجه إليه صالح متاعنا قال : انه لا بد لك من متاع ما دمت هاهنا قال : إن صاحب المنزل لا يدعنا فيه
فرمایا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ نے ان کو زیاد بن ایوب نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو حفص بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوذر کے گھر میں ملاقات کے لئے داخل ہوئے تو ان کے گھر میں اپنی نظر گھمانے لگے اور پوچھنے لگے اے ابوذر آپ لوگوں کا گھر کا سامان کہاں ہے۔ انہوں نے فرمایا ہمارا دوسرا گھر ہے ہم اپنا اچھا اچھا سامان وہاں بھیج دیتے ہیں۔ اس شخص نے ( بات نہ سمجھی اور ) کہا کہ آپ یہاں جب تک ہیں تو یہاں بھی تو سامان ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسی گھر کا مالک ہمیں اس گھر میں نہیں رہنے دے گا۔
إن صاحب المنزل لا يدعنا فيه ← انه لا بد لك من متاع ما دمت هاهنا ← إن لنا بيتا نوجه إليه صالح متاعنا ← يا أبا ذر أين متاعكم ← دخل رجل على أبي ذر أين متاعكم فجعل يقلب بصره في بيته ← حفص بن سليمان ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10651
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10652
10652 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري بمكة ثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن أبي الموت إملاء ثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا حماد بن يحيى الأشج ثنا معاوية بن قرة قال : قال سلمان الفارسي : ثلاث أعجبتني حتى أضحكتني مؤمل الدنيا و الموت يطلبه و غافل و ليس بمفعول عنه و ضاحك لا يدري أساخط عليه رب العالمين أو راض و ثلاث أحزنتني حتى أبكتني فراق محمد صلى الله عليه و سلم و حزبه أو قال : فراق محمد و الأحبة شك حماد و هول المطلع و الوقوف بين يدي الله عز و جل لا أدري إلى جنة يؤمر بي أو إلى نار
ہمیں خبر دی ابو عبدالله محمد بن فضل بن نصیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو بکر احمد بن محمد بن ابوالموت نے بطور املاء کے ان کو محمد بن علی بن زید صانع نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو حماد بن یحییٰ اشج نے ان کو معاویہ بن قرہ نے وہ کہتے ہیں کہ : حضرت سلمان فارسی نے فرمایا: تین شخصوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے حتیٰ کہ مجھے انہوں نے ہنسنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک تو وہ شخص جو دنیا کی امید یں اور آرزوئیں کرنے والا ہے حالانکہ موت اس کو تلاش کر رہی ہے۔ دوسرا وہ شخص جو غافل اور بے خبر رہتا ہے حالانکہ اس سے کوئی غافل نہیں ہے بلکہ وہ سب کی نظروں میں ہے۔ تیسرا وہ شخص جو ہنستا رہتا ہے حالانکہ اس کو نہیں پتہ کہ اس کا رب اس سے ناراض ہے یا راضی ہے۔ اور تین شخصوں نے مجھے غم اور حزن و ملال میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ ان باتوں نے مجھے رولا دیا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی اور صحابہ کرام کی جدائی ۔ یا یوں کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فراق اور ان کے احباب کا فراق ۔ حماد کو شک ہے۔ دوسری بات قیامت کا ہولناک منظر اور تیسری چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر پیش ہو نا۔ مجھے نہیں معلوم کیا میرے لئے جنت کی طرف حکم ہوگا یا جہنم کی طرف۔
مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَشَجُّ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أبو بكر أحمد بن محمد بن أبي الموت ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10652
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10653
10653 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا عفان ثنا جعفر بن سليمان ثنا ثابت البناني قال : كتب عمر بن الخطاب إلى سلمان أن زرني قال : فخرج سلمان إليه فلما بلغ عمر قدومه قال : لأصحابه هذا سلمان قد قدم فانطلقوا نتلقاه قال : فلقيه عمر فالتزمه و ساءله ثم رجعا إلى المدينة سلمان و عمر فقال له عمر : يا أخي أبلغك عني شيء تكرهه لما أخبرتني به قال : لولا أنك عزمت ما أخبرتك بلغني عنك شيء كرهته بلغني أنك تجمع على مائدتك السمن و اللحم و بلغني أن لك حلتين حلة تلبسها في أهلك و حلة تخرج فيها فقال : هل غير هذا ؟ فقال : لا كفيت هذا أظنه ؟ فقال : لا كفيت هذا أظنه قال : لا أعود إليه أبدا قال جعفر : الحلة إزار و رداء
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن ابان قطان نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت بنانی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت سلمان فارسی کو خط لکھا کہ آپ مجھے یہاں آ کر ملیں۔ چنانچہ سلمان ان سے ملاقات کرنے کے لئے روانہ ہو گئے جب حضرت عمر کو ان کے پہنچنے کی اطلاع مل گئی تو آپ نے اپنے احباب سے کہا کہ یہ حضرت سلمان فارسی تشریف لائے ہیں میرے ساتھ چلو ہم چل کر ان کو ملتے ہیں۔ حضرت عمر آگے جا کر ان سے ملے اور ان کو گلے سے لگایا اس کے بعد حضرت عمر اور حضرت سلمان دونوں مدینے میں واپس آگئے۔ چنانچہ حضرت عمر نے ان سے پوچھا اور کہا بھائی جان ۔ کیا آپ کو میری طرف سے کوئی شکایت ملی ہے جس بات کو آپ مجھ سے نا پسند کرتے ہوں جو آپ نے مجھے نہ بتائی ہو؟ حضرت سلمان فارسی نے فرمایا : اگر آپ مجھ سے سخت تاکید کے ساتھ نہ پوچھتے تو میں آپ کو نہ بتا تا۔ مجھے آپ کے بارے میں خبر ملی ہے جس کو میں پسند نہیں کرتا ہوں۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ اپنے دستر خوان پر بیک وقت گھی بھی اور گوشت بھی جمع کرتےہیں( یعنی دونوں چیز کھانے کے لئے ایک ہی وقت میں استعمال کرتے اور کراتے ہیں ) اور دوسری مجھے یہ بھی خبر ملی ہے (جس کو میں نا پسند کرتا ہوں ) کہ آپ کے پاس دو پوشاکیں ہیں ایک پوشاک آپ گھر میں پہنتے ہیں اور دوسری پوشاک پہن کر آپ باہر نکلتے ہیں۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا اس کے سوا بھی کوئی بات مجھ سے آپ کو نا پسند ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ یہی کافی ہے۔ میرا گمان ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ آئندہ میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ حضرت جعفر نے فرمایا کہ پوشاک سے مراد ازار اور رداء ہے۔
عمر بن الخطاب إلى سلمان ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10653
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10654
10654 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا : : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أبي عثمان قال : لما افتتح المسلمون جوعا جعلوا يمشون فيها و الطعام كأنه كاس الجبال و رجل إلى جنب سلمان فيقول :
يا عبد الله ألا ترى إلى ما فتح الله من الخير ألا ترى إلى ما أعطى الله عز و جل ـ فقال له سلمان : ما يعجبك مما ترى ؟ إن إلى جنب كل حبة حسابا رواه أحمد بن حنبل عن سيار
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ثابت سے اس نے ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے آغاز اور ابتداء بھوکے ہونے کی حالت سے کی تھی تو اسی بھوک میں چلنے لگے تھے ۔ اور کھانا تو ایسے تھا جیسے پہاڑ کا ( پر رکھا ہوا) پیالہ۔ اور ایک آدمی حضرت سلمان کے پہلو میں بیٹھا تھاوہ کہتا ہے اے عبداللہ ! کیا آپ دیکھتے نہیں اللہ نے جو خیر و مال کھول دیا ہے (اور عطا کر دیا ہے ) کیا آپ دیکھ نہیں رہے اللہ نے جو عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت سلمان نے ان سے کہا جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں جو کچھ آپ کو اچھا لگ رہا ہے یہ کتنا اچھا لگ رہا ہے؟ ( مگر سن لیجئے کہ ) اس مال میں سے ایک ایک دانے کا حساب بھی دینا ہوگا۔ اس کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے سیارسے۔
أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10654