شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10619
10619 - رواه أيضا عبيد الله الوصافي عن ابن سوقة عن الحارث عن علي أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن الخليل بن إبراهيم الأصبهاني ثنا يعقوب بن يوسف القزويني ثنا القاسم بن الحكم العرني ثنا عبيد الله الوصافي عن محمد بن سوقة : فذكره
اور اس کو روایت کیا ہے عبید اللہ وصافی نے ابن سوقہ سے اس نے حارث سے اس نے علی سے ہمیں اس کی خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن خلیل بن ابراہیم اصفہانی نے ان کو یعقوب بن یوسف قزوینی نے ان کو قاسم بن حکم عرنی نے ان کو عبید اللہ وصافی نے ان کو محمد بن سوقہ نے اس نے مذکورہ روایت کو ذکر کیا ہے۔
محمد بن سوقة فذكره ← عبيد الله الوصافي، ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن الخليل بن إبراهيم الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← ابْنِ سُوقَةَ، ← رواه أيضا عبيد الله الوصافي
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10619
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10620
10620 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا الحجبي ثنا علي بن أبي علي الهاشمي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنتم اليوم في المضمار و غدا السباق فالسبق الجنة و الغاية النار بالعفو تنجون و بالرحمة تدخلون و بأعمالكم تقتسمون
تفرد به علي ابن أبي علي و قد قيل عنه كما :
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عثمان بن عمر ضبی نے ان کو حجبی نے ان کو علی بن ابوعلی ہاشمی نے جعفر بن محمد سے اس نے اپنے والد سے اس نے علی بن ابو طالب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ آج کے دن گھڑ دوڑ کے مقابلے کے میدان میں اترے ہوئے ہو اور آئندہ کل صبح دوڑ کے مقابلے کا فیصلہ ہوتا ہے دوڑ میں جیت جنت کا حاصل کر لیتا ہے۔ اور دوڑنے کی آخری حد جہنم ہے۔ اللہ کی عفو و در گذر کرنے سے تم نجات پاسکتے ہو، اور اسی کی رحمت کے ساتھ جنت میں داخل ہو سکتے ہو اور تم لوگ اپنے اپنے اعمال کے ساتھ ایک دوسرے سے تقسیم اور جدا ہو گے۔ علی بن ابی علی اس میں متفرد ہے۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← علي بن أبي علي الهاشمي ← الْحَجَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10620
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10621
10621 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا القاسم بن مهدي ثنا أبو مصعب حدثني علي بن أبي علي اللهبي عن محمد بن المنكدر أنه سمع جابرا قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنتم اليوم في المضمار و غدا في السباق فذكر مثله
ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو قاسم بن مہدی نے ان کو ابو مصعب نے ان کو حدیث بیان کی علی بن ابوعلی لہبی نے ان کو محمد بن منکد رنے انہوں نے سنا جابر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم لوگ آج مقابلے کے میدان میں اترے ہوئے ہو اور صبح کل ہار جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس نے مذکور کے مثل روایت کی ہے۔
جَابِرًا ← محمد بن المنكدر أنه ← علي بن أبي علي اللهبي ← أَبُو مُصْعَبٍ ← القاسم بن مهدي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10621
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10622
10622 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا هارون بن عبد الله و علي بن مسلم قالا : ثنا سيار ثنا جعفر ثنا مالك بن دينار قال : قالوا لعلي بن أبي طالب : يا أبا حسن صف لنا الدنيا قال : أطيل أم أقصر قالوا : بل أقصر قال : حلالها حساب و حرامها النار
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالدنیا نے ان کو ہارون بن عبد اللہ نے اور علی بن مسلم نے دونوں نے کہا ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک بن دینار نے وہ کہتے ہیں لوگوں نے حضرت علی بن ابو طالب سے کہا اے ابو الحسن آپ ہمارے سامنے دنیا کی حقیقت بیان کیجئے۔ حضرت علی نے پوچھا کہ لمبی بات کروں یا مختصر کروں۔ لوگوں نے کہا کہ مختصر اًبتا ئیے۔ انہوں نے جواب دیا۔حلالها حساب، وحرامها الناراس میں سے جو کچھ حلال ہے اس کا ارتکاب کرنے پر حساب دینا پڑے گا اور جو کچھ حرام ہے اس کا ارتکاب کرنے سے جہنم ملے گی۔ (اس کا حلال حساب ہے اور اس کا حرام جہنم ہے۔)
حلالها حساب و حرامها النار ← بل أقصر ← أُطِيلُ أَمْ أُقْصِرْ؟ ← لعلي بن أبي طالب يا أبا حسن صف لنا الدنيا ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← هارون بن عبد الله و علي بن مسلم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10622
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10623
10623 - قال : و حدثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني إسحاق بن إسماعيل ثنا سليمان بن الحكم بن عوانة عن عتبة بن حميد عمن حدثه عن قبيصة بن جابر قال : قال علي بن أبي طالب : من زهد في الدنيا هانت عليه المصيبات و من ارتقب الموت سارع في الخيرات زاد فيه غيره من اشتاق إلى الجنة سلا عن الشهوات و من أشفق من النار رجع عن الحرمات
کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی عبد اللہ بن ابوالد نیا نے ان کو اسحاق بن اسماعیل نے ان کو سلیمان بن محکم بن عوانہ نے ان کو عقبہ بن حمید نے اس سے جس نے اس کو حدیث بیان کی تھی قبیصہ بن جابر سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب نے فرمایا۔ جو دنیا سے بے رغبتی کرتا ہے مصیبتیں اس پر آسان ہو جاتی ہیں۔ اور جو موت کا انتظار کرتا ہے وہ نیکیوں میں جلدی کرتا ہے۔ اس راوی کے علاوہ دیگر نے یہ الفاظ اضافہ کئے ہیں اور جو شخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے وہ شہوات ولذات سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور جو شخص جہنم سے ڈرتا ہے وہ حرام کردہ چیزوںسے واپس لوٹ آتا ہے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10623
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10624
10624 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان الدارمي ثنا نعيم بن حماد ثنا سليمان بن الحكم : فذكر في حديث طويل في تفسير الإيمان
ہمیں خبردی ابوبکر اشنانی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کوعثمان دارمی نے ان کو نعیم بن عمادنے ان کوسلیمان بن حکم نے اس نےطویل حدیث میں ذکر کیا ہے ایمان کی تفسیر میں ۔
سليمان بن الحكم فذكر في حديث طويل في تفسير الإيمان ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر الأشناني
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10624
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10625
10625 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا محمد بن يزيد الأدمي ثنا محمد بن كثير عن سهل بن شعيب عن عبد الأعلى بن نوف قال : سمعت علي بن أبي طالب يقول : طوبى للزاهدين في الدنيا و الراغبين في الاخرة أولئك قوم اتخذوا أرض الله بساطا و ترابها فراشا و ماءها طيبا و الكتاب شعارا و الدعاء دثارا و رفضوا الدنيا رفضا على منهاج المسيح بن مريم عليه السلام
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن یزید آدمی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سہل بن شعیب نے ان کو عبدالا علی بن نوف نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناعلی المرتضیٰ سے وہ فرماتے تھے۔ مبارک بادی ہے دنیا سے بے رغبتی کرنے والوں اور آخرت میں رغبت کرنے والوں کے لئے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی زمین کو پلنگ اور اس کی مٹی کو بستر بنا لیا ہے۔ اور اس کی مٹی کو خوشبو بنالیا ہے اور کتاب اللہ کو اپنی شناخت اور پہچان بنالیا ہے اور اللہ کو پکارنے اور مانگنے کواوڑھنی بنا لیا ہے ۔ اور دنیا کو لازمی طور پر ترک کر دیا ہے۔ مسیح بن مریم علیہما السلام کی نہج اور طریق پر ۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عبد الأعلى بن نوف ← سهل بن شعيب ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْآدَمَيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10625
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10626
10626 - قال : و ثنا عبد الله حدثني محمد بن إسماعيل بن إبراهيم العلوي ثنا أبو شجاع قال : كتب علي بن أبي طالب إلى سلمان الفارسي و أما بعد : فإنما مثل الدنيا مثل الحيه لين مسها يقتل سمها فاعرض عما يعجبك منها لقلة ما يصحبك منها و ضع عنك همومها لما ايقنت من فراقها و لكن أشر ما يكون لها فإن صاحبها قلما اطمأن فيها إلى سرور أشخصه عنه مكروه و السلام و قد ذكرنا سائر أقواله في الدنيا و في زهده فيها في فضائله
کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن اسماعیل بن ابراہیم علوی نے ان کو ابو شجاع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے حضرت سلمان فارسی کی طرف خط لکھا۔ اما بعد حقیقت ہے کہ دنیا کی مثال سانپ جیسی ہے کہ جس کا کا نٹا تو بظاہر معمولی سا ہوتا ہے مگر ز ہر اس کا مار دیتا ہے لہٰذا دنیامیں سے جو کچھ آپ کو اچھا لگے اس سے منہ پھیر لیں اس لئے کہ اس میں سے بہت کم ہی تیرے ساتھ رہے گا۔ اور اپنے آپ سے اس کے فکر وغم کو اتار پھینکئے اس لئے کہ اس کے فرق کا آپ کو بھی یقین ہے بلکہ جو کچھ اس کے لئے ہو اس سے کنارہ کش ہو جائیے بے شک صاحب دنیا اس میں بہت ہی کم بھی مطمئن ہوتا ہے سرور و خوشی کی جانب۔ اس میں سے مکروہ اور نا پسندیدہ چیز کو نگاہیں اونچی کر کے دیکھئے۔ والسلام ہم نے حضرت علی کے جمیع اقوال دنیا کے بارے میں اور اس سے بے رغبتی کے بارے میں۔ اس کے فضائل میں ذکر کر دیئے ہیں۔
أبو شجاع ← محمد بن إسماعيل بن إبراهيم العلوي ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10626
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10627
10627 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن هشام بن عروة عن أبيه : لما قدم عمر الشام فتلقاه عظماء أهل الأرض و أمراء الأجناد فقال عمر : أين أخي قالوا : من قال : أبو عبيدة قالوا : أتاك الآن فجاء على ناقة مخطومة بحبل فسلم عليه ثم ساءله ثم قال للناس : انصرفوا عنا قال : فسار معه حتى أتى منزله فنزل عليه فلم ير في بيته إلا سيفه و قوسه و رحله فقال له عمر : لو اتخذت متاعا أو قال : شيئا قال أبو عبيدة : يا أمير المؤمنين إن هذا سيبلغنا المقيل
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالله محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے کہ جب حضرت عمر شام میں گئے۔ اور علاقے کے معززین اور فوج کے کمانڈروں نے ان سے ملاقات کی تو حضرت عمر نے پوچھا کہ میرے بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہاکون ؟ فرمایا کہ ابوعبیدہ۔ بتایا گیا کہ ابھی ابھی وہ بھی آپ کے پاس آتے ہیں۔ چنانچہ اتنے میں وہ بھی اونٹنی پر سوار ہو کر آن پہنچے جس کے ناک میں نکیل رسی کی ڈلی ہوئی تھی انہوں نے حضرت عمر کو سلام کیا کچھ انہوں نے آپس میں کوئی سوال جواب کئے اس کے بعد انہوں نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ ہم لوگوں سے علیٰحد ہ ہو جاؤ۔ فرمایا کہ وہ آہستگی سے آپس میں باتیں کرتے کرتے ان کے گھر پر جاپہنچے حضرت عمر کو ان کے گھر میں سوائے ان کی ایک تلوار ایک ان کی کمان اور اونٹ کے پالان کے اور کوئی شئی نظر نہ آئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا۔ اگر آپ کچھ سامان لے لیتے تو بہتر ہوتا یا ایسی ہی کوئی بات کہی جس کے جواب میں حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا اے امیر المومنین بے شک یہ چیزیں ہمیں سوال و جواب و حساب و کتاب تک پہنچا دے گی۔ یا مقتل گاہ و ہلاکت گاہ تک پہنچا دے گا۔
هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10627
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10628
10628 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن حمزة بن عبد الله بن عمر قالوا : لو أن طعاما كثيرا كان عبد الله بن عمر ما شبع بعد أن يجد له أكلا قال : و دخل عليه ابن مطيع يعوده فرآه قد نحل جسمه فقال : لصفية ألا تلطفينه لعله يرتد إليه جسمه تصنعين له طعاما قالت : إنا لنفعل ذلك و لكنه لا يدع أحدا من أهله و لا من يحضره إلا دعاه عليه و كلمه أنت في ذلك فقال له ابن مطيع : يا أبا عبد الرحمن لو اتخذت طعاما فيرجع إليك جسمك فقال : إنه ليأتي علي ثمان سنين لا أشبع فيها شبعة واحدة أو قال : لا أشبع فيها إلا شبعة واحدة فالآن تريد أن أشبع حين لم يبق من عمري إلا ظمأ حمار و قد مضى عن ابن عمر و غير في مثل هذا آثار في باب الطعام
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کوحمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھاتے تھے خواہ کتناہی ان کے لئے اچھا کھانا کیوں نہ تیار کر لیا جاتا اور کتنازیادہ ہوتا مگر وہ کم ہی کھاتے تھے۔ ایک مرتبہ ابن مطیع ان کے پاس آئے وہ ان کی طبع پرسی کرنے آئے تھے انہوں نے دیکھا کہ ان کا جسم نحیف وکمزور ہو چکا ہے انہوں نے ان کی اہلیہ سے کہا کیا آپ ان کے لئے کوئی نفیس اور عمدہ چیز نہیں تیار کر دیتیں تا کہ ان کی صحت بحال ہو جائے۔ انہوں نے جو اب د یا ، ہم تیار کر دیتے ہیں مگر یہ سب کو بلا لیتے ہیں گھر میں سے کسی کو نہیں رہنے دیتے اور نہ ہی کسی بھی موجود شخص کو سب کو بلا کر ساتھ کھلا دیتے ہیں۔ آپ ان سے اس بارے میں بات کر کے دیکھیں۔ چنانچہ ابن مطیع نے ان سے کہا اے ابو عبد الرحمٰن اگر آپ کوئی عمدہ چیز کھانے کی تیار کروالیں تا کہ آپ کی صحت بحال ہو جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ میری عمر کے اسی سال گذر چکے ہیں میں نے اسی سال میں ایک بار بھی کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یا یوں کہا کہ میں نے صرف ایک بار پیٹ بھر کر کھایا تھا۔ اور تم آج کہتے ہو کہ میں پیٹ بھر کر کھاؤں جب کہ میری عمر میں سے نہیں باقی رہ گیا مگر انتہائی مختصر وقت۔ ان آثار کی مثل حضرت ابن عمر سے اور دیگر سے باب الطعام میں روایات گذر چکی ہیں۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10628
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10629
10629 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن قادم أنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال : قال سعد بن مالك : لو أن الدنيا جمعت لرجل فمر بأربعة أسهم ملقاة لأرادته نفسه أن يأخذها قال : قال رجل قاعد معه و لم يدعهن قال : إني أحسبك ذلك الرجل
ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحیی ٰبن ابو طالب نے ان کو علی بن قادم نے ان کو اسماعیل بن ابو خادم نے ان کو قیس بن ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ سعد بن مالک نے کہا اگر ساری دنیا ایک آدمی کے لئے جمع کر لی جائے پھر وہ اس کے چار پڑے ہوئے حصوں کے پاس سے گذرے تو اس کا نفس یہ چاہے گا کہ وہ ان کو بھی اٹھالے۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ ان حصوں کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں وہ آدمی آپ کو ہی سمجھتا ہوں۔
سعد بن مالك لو ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← علي بن قادم ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10629
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10630
10630 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا سعيد عن أشعث عن رجاء بن حيوة قال : قال معاذ : إنكم قد ابتليتم بفتنة الضراء فصبرتم و إني أخاف عليكم فتنة السراء و إن من أكثر ما أخاف عليكم من قبل النساء إذا تسورن الذهب و لبسن غصب اليمن و ريط الشام فاتبعن الغنى و كلفن الفقير ما لا يجد
و رواه أيضا أبو عثمان النهدي عن معاذ
ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو سعد نے اشعث سے اس نے رجاء بن حیوۃ سے وہ کہتے ہیں حضرت معاذ نے فرمایا بے شک تم لوگ غربت و بدحالی کے فتنے میں مبتلا کئے گئے تھے پس تم نے صبر کیا اور میں تمہارے اوپر خوف کرتا ہوں غربت و بدحالی کے فتنے کا اور اس سے زیادہ جو میں تمہارے اوپر ڈرتا ہوں وہ عورتوں کی طرف سے ہے جب وہ ہونے کے کنگن پہنیں گی اور یمن کے تنگ کپڑے یا گلو بند ۔سینہ بند و غیرہ۔ اور شام کا دوپٹہ۔ غنی کے پیچھے یا گانے کے پیچھے جائیں گی۔ اور فقر و غربت کو اس چیز کی تکلیف دہی کی جودہ نہیں رکھتا ہوگا۔ اس کو بھی روایت کیا ہے ابو عثمان نہدی نے حضرت معاذ ہے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10630