Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10607

10607 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر العبدي حدثني إسماعيل بن أبي خالد حدثني أخي نعمان عن مصعب بن سعد ابن أبي وقاص : عن حفصة بنت عمر أنها قالت : لأبيها يا أمير المؤمنين ما عليك لو لبست ألين من ثوبيك هذين و أكلت أطيب من طعامك هذا و قد فتح الله عز و جل عليك الأرض و أوسع عليك الرزق قال : أخاصمك إلى نفسك أما تعلمين ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يلقى من شدة العيش و جعل يذكرها أشياء مما كان النبي صلى الله عليه و سلم يلقى حتى أبكاها قال : قد قلت لك : أني كان لي صاحبان فسلكا طريقا و أني إن سلكت غير طريقهما سلك بي غير طريقهما و إني و الله لأشركهما في مثل عيشهما الشديد لعلي أدرك عيشهما الرضي يعني بصاحبيه النبي صلى الله عليه و سلم و أبا بكر رضي الله عنه

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن بشر عبدی نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو حدیث بیان کی ان کے بھائی نعمان نے مصعب بن سعد بن ابو و قاص سے انہوں نے حفصہ بنت عمر سے کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا تھا اے امیر المومنین آپ کے اوپر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر اپنے یہ دو کپڑے نرم پہن لیں اور آپ اگر عمدہ اور نفیس کھانا کھائیں کیونکہ اللہ نے آپ کے اوپر زمین فتح کر دی ہے اور اس کے رزق میں وسعت عطا کر دی ہے۔ ان کے والد حضرت عمر نے فرمایا کہ میں اس بات میں اختلاف کروں گا کیا آپ جانتی نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں شدت اور سختی پائی تھی چنانچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آنے والی تکلیفوں کو ایک ایک کر کے ذکر کرنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے حفصہ کو رولا دیا۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے پہلے آپ سے کہہ دیا تھا۔ میرے دو دوست تھے دونوں ایک راستے پر چل گئے ہیں۔ اگر میں ان کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلوں تو وہ راستہ مجھے ان کے طریقے سے دور لے جائے گا۔ بے شک میں دونوں کی زندگی کی شدت میں خود کو شریک کرنا چاہتا ہوں تا کہ میں ان کی پسندید و زندگی کو اپنا سکوں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ابو بکر صدیق کی پسندیدہ زندگی کو پاسکوں۔

حفصة بنت عمر أنها ← مصعب بن سعد ابن أبي وقاص ← أخي نعمان ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10607

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10608

10608 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد ثنا إسماعيل ابن أبي خالد قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : يا أيها الناس كونوا أوعية للكتاب و عدوا أنفسكم في الموتى و سلوا رزق يوما بيوم لا عليكم أن لا يكثر لكم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبد اللہ بصری نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو لیعلی بن عبید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے فرمایا اے لوگو تم لوگ کتاب اللہ کے سانچے اور حفاظت کے برتن بن جاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو اور اللہ سے ایک ایک دن کا رزق مانگوتمہارے اوپر یہ ناپسندیدگی نہ ہو کہ وہ تمہارے واسطے زیادہ کیوں نہیں کرتا۔

إسماعيل ابن أبي خالد ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10608

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10609

10609 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا محمد بن ناجح ثنا بقية بن الوليد عن محمد بن مسرة التستري قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : الزهد في الدنيا راحة للقلب و البدن

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن ناجح نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو محمد بن مسرہ تستری نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا۔ دنیا سے زہد اور بے رغبتی قلب و بدن کے لئے راحت و سکون ہے۔

عمر بن الخطاب الزهد في الدنيا راحة للقلب و البدن ← محمد بن مسرة التستري ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← محمد بن ناجح ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10609

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10610

10610 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ ثنا عبيد الله بن محمد العمري ثنا عبد العزيز الأويسي حدثني إبراهيم بن سعد عن ابن أخي شهاب أظنه عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله عن أبي هريرة قال : كان عمر بن الخطاب إذا خطب الناس يقول في خطبته : أفلح منكم من حفظ الهوى و الطمع و الغضب و ليس فيما دون الصدق من الحديث خير من يكذب يفجر و من يفجر يهلك إياكم و الفجور و ما فجور عبد خلق من تراب فإلى التراب يعود و هو اليوم حي و غدا ميت اعملوا يوما بيوم و اجتنبوا دعوات المظلوم و عدو أنفسكم من الموتى و كذلك رواه جماعة عن الأويسي و قالوا : عن عمه ابن شهاب

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر احمد بن سعدی بن فرضخ نے ان کو عبید اللہ بن محمد عمری نے ان کو عبد العزیز اویسی نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن اخی شہاب نے میرا گمان ہے کہ ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو خطبہ میں یوں کہتے تھے تم میں سے وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے خواہش نفس سے طمع اور لالچ اور غضب و غصے سے حفاظت کر لی بات میں سچائی کے بغیر کوئی خیر نہیں ہے۔ جو شخص جھوٹ بولتا ہے وہ گناہ کرتا ہے اور جو گناہ کرتا ہے و ہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ بچاؤ تم اپنے آپ کو گناہوں سے یعنی رب کی نافرمانی سے۔ ایسا بندہ مٹی سے بنا ہو اس کو رب کی نافرمانی زیب نہیں دیتی وہ مٹی ہی ہو کر رہے گا ۔ وہ آج زندہ ہے تو کل صبح میت ہو گا دن بہ دن عمل کرو ( یعنی روزانہ عمل کرو ) اور مظلوم کی بددعا سے بچو، اور اپنے نفسوں کو مردوں میں شمار کرو ۔ اس کو اسی طرح روایت کیا ہے جماعت نے اویسی سے اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے چچا ابن شہاب سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابن أخي شهاب أظنه ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ← أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10610

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10611

10611 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال : انكسرت قلوص من إبل الصدقة فحقها عمر و دعا الناس فقال له العباس : لو كنت تصنع بنا هكذا فقال له عمر : إنا و الله ما وجدنا لهذا المال سبيلا إلا أن يؤخذ من حق و يوضع في حق و لا يمنع من حق

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو خبر دی عبدالرزاق نے معمر سے اس نے زہری سے انہوں نے کہا کہ صدقے کے اونٹوں میں سے ایک جانور رسی تڑوا کر نکل گیا حضرت عمر نے اس کو پکڑ کر باندھ دیا۔ پھر لوگوں کو بلایا۔ چنانچہ حضرت عباس نے ان سے (ازراہ مذاق کہا ) اگر آپ اس کو یوں ہی ہمارے لئے عطا کر دیتے تو کیا ہو جاتا حضرت عمر نے اس سے کہا اللہ کی قسم بے شک ہم لوگ اس مال کے لئے ( استعمال کی کوئی گنجائش اور کوئی راستہ )نہیں پاتے اس کے سوا کہ یہ حق کے مطابق لیا جائے اور حق میں ہی استعمال کیا جائے اور حق میں دینے سے نہ روکا جائے۔

لَهُ عُمَرُ: ← له العباس لو كنت تصنع بنا هكذا ← انكسرت قلوص من إبل الصدقة فحقها عمر و دعا الناس ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10611

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10612

10612 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسن بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا قال : كتب إلي أبو عبد الله محمد بن خلف بن صالح الكوفي التيمي ثنا شعيب بن إبراهيم التيمي حدثني سيف بن عمر الأسدي عن بدر بن عثمان عن عمه قال : آخر خطبة خطبها عثمان رضي الله عنه في جماعة أن الله إنما أعطاكم الدنيا لتطلبوا بها الآخرة لم يعطكموها لتركنوا إليها إنما الدنيا تفنى و االآخرة تبقى لا تبطركم الفانية و لا تشغلنكم عن الباقية آثروا ما يبقى على ما يفنى فإن الدنيا منقطعة و أن المصير إلى الله عز و جل اتقوا الله فإن تقواه جنة من بأسه و وسيلة من عنده و احذروا من الله الغير و الزموا جماعتكم لا تصيروا أحزابا : { و اذكروا نعمة الله عليكم إذ كنتم أعداء فألف بين قلوبكم فأصبحتم بنعمته إخوانا } إلى آخر الآيتين

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کے حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالد نیا نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبد اللہ محمد بن حلف بن صالح کوئی تیمی نے مجھے لکھا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شعب بن ابراہیم تیمی نے ان کو حدیث بیان کی ہے سیف بن عمر اسدی نے بدر بن عثمان سے اس نے اپنے چچا سے وہ کہتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو زندگی کا آخری خطبہ دیا تھا جماعت میں یہ تھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو دنیا اس لئے عطا کی ہے تا کہ اس کے ذریعہ آخرت کو طلب کرو۔ یہ تمہیں اس لئے عطا نہیں کی کہ آپ لوگ اسی کی طرف ہی جھک جاؤ اور مائل ہو جاؤ یقینی بات ہے کہ دنیا فنا ہو جائے گی اور آخرت باقی رہے گی تمہیں فانی چیز اترانے میں مبتلا نہ کر دے۔ اور نہ ہی وہ تمہیں ہمیشہ اور باقی رہنے والی چیز سے غافل کر دے۔ جو چیز باقی رہے گی اس کو اس چیز پر ترجیح دو جو فنا ہو جائے گی بے شک دنیا ختم ہو جائے گی۔ اور لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جانا ہے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سے ڈرنا ڈھال ہے اس کے عذاب سے اور اس کی طرف سے وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اللہ سے ڈرو غیر سے اور اپنی جماعت اور وحدت کو لازم پکڑو اور گروہ نہ بنو۔ واذكروا نعمة الله عليكم اذ كنتم اعداء فالف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا الخ اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی پھر تم اس کی نعمت کے ساتھ بھائی بھائی ہو گئے۔ (دو آیات کے آخر تک)۔

عَمِّہٖ ← بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ← سيف بن عمر الأسدي ← شعيب بن إبراهيم التيمي ← إلي أبو عبد الله محمد بن خلف بن صالح الكوفي التيمي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الحسن بن صفوان ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10612

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10613

10613 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد المصري ثنا ابن أبي مريم ثنا الفريابي ثنا سفيان عن زبيد اليامي عن مهاجر العامري عن علي رضي الله عنه قال : إن أخوف ما أخاف عليكم اتباع الهوى و طول الأمل أما اتباع الهوى فإنه يصد عن الحق و أما طول الأمل فينسي الآخرة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد بن احمد مصری نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو فریابی نے ان کو سفیان نے ان کو ز بید یا می نے ان کو مہاجر عامری نے ان کو علی رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ ڈر کی بات جس کے بارے میں تمہارے او پر ڈرتا ہوں وہ خواہش نفس کی اتباع ہے۔ اور لمبی لمبی آرزو کرنا ہے۔ بہر حال خواہش نفس کی اتباع کرنا حق سے روک دیتا ہے اور جب کہ لمبی لمبی آرزو کرنا آخرت کو بھلوادیتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← مُهَاجِرٍ الْعَامِرِيِّ؛ ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10613

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10614

10614 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله علي بن عبد الله العطار ببغداد ثنا علي بن حرب الموصلي سنة ستين و مائتين بالموصل ثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي قال : خطب علي بن أبي طالب رضي الله عنه بالكوفة فقال : يا أيها الناس إن أخوف ما أخاف عليكم طول الأمل و اتباع الهوى فأما طول الأمل فينسي الآخرة و أما اتباع الهوى فيضل عن الحق إلا أن الدنيا قد ولت مدبرة و الآخرة مقبلة و لكل واحدة منهما بنون فكونوا من أبناء الآخرة و لا تكونوا من أبناء الدنيا فإن اليوم عمل و لا حساب و غدا حساب و لا عمل و قد روى محمد علي بن أبي علي اللهبي و هو ضعيف هذه الألفاظ بإسنادين له عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ علی بن عبدالله عطار نے بغداد میں ان کو علی بن حرب موصلی نے سنہ ۲۶۰ دوسو ساٹھ میں موصل شہر میں ان کو حدیث بیان کی وکیع نے سفیان سے اس نے عطاء بن سائب سے ان کو ابو عبد الرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفے میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا اے لوگو بے شک سب سے زیادہ ڈر کی بات جو میں تمہارے اوپر ڈرتا ہوں وہ ہے لمبی لمبی آرزو کرنا اور خواہش نفس کی اتباع کرنا۔ بہر حال لمبی آرزو آخرت کو بھلوادیتی ہے اور خواہش نفس کی اتباع کر نا حق سے بھٹکا دیتی ہے۔ خبردار بے شک دنیا بیٹھ پھیر کر جانے والی ہے اور آخرت سیدھی آنے والی ہے۔ اور دونوں کے لئے مخصوص لوگ ہیں لہٰذا آپ لوگ ابنا ء آخرت بنوا بنا ء دنیا نہ بنو ۔ آج ( دنیا میں عمل ہی عمل کرتا ہے حساب و کتاب نہیں ہے مگر کل حساب و کتاب ہی ہو گا۔ عمل کوئی نہیں ہوگا۔ اور تحقیق روایت کیا ہے محمد علی بن ابوعلی لہبی نے او روہ ضعیف ہے یہی الفاظ اس کی دوسندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

خَطَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← علي بن حرب الموصلي سنة ستين و مائتين ← أبو عبد الله علي بن عبد الله العطار ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10614

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10615

10615 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عثمان بن عمر قال : ثنا الحجبي ثنا علي ابن أبي علي الهاشمي عن جعفر بن محمد عن أبيه محمد بن علي عن أبيه علي : عن النبي صلى الله عليه و سلم كذا قال

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عثمان بن عمر نے وہ کہتے ہیں میں حدیث بیان کی علی بن ابوعلی ہاشمی نے ان کو جعفر بن محمد نے اپنے والد ابن علی سے اس نے اپنے والد علی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح فرمایا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم كذا ← أبيه عليٍّ ← أبيه محمد بن علي ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← علي ابن أبي علي الهاشمي ← الْحَجَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10615

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10616

10616 - و أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن بالويه ثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم بن الفضل محمد بن إبراهيم بن الفضل المكي ثنا أحمد بن محمد بن عبد الله الشافعي ثنا عمر ثنا علي ابن أبي علي عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخوف ما أتخوف على أمتي الهوى و طول الأمل فأما الهوى فيصد عن الحق و أما طول الأمل فينسي الآخرة و هذه الدنيا مرتحلة ذاهبة و هذه الآخرة مرتحلة قادمة و لكل واحدة منهما بنون فإن استطعتم أن لا تكونوا من بني الدنيا فافعلوا فإنكم اليوم في دار العمل و لا حساب و أنتم غدا في دار الحساب و لا عمل لفظ الإسنادين سواء غير أنه قال : في رواية جعفر بن محمد : فإن استطعتم أن تكونوا من الآخرة و لا تكونوا من الدنيا فافعلوا

اور ہمیں خبر دی ابو محمدعبد الرحمٰن بن محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم بن فضل محمد بن ابراہیم بن فضل مکی نے ان کو احمد بن محمد بن عبد اللہ شافعی نے ان کو عمر نے ان کو علی بن ابو علی نے محمد بن منکدر سے اس نے جابر بن عبد اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سب سے زیادہ خوف کی بات جو میں اپنی امت کے بارے میں ڈرتا ہوں وہ خواہش نفس اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنا ہے۔ خواہش نفس تو حق سے رکاوٹ بنتی ہے اور لمبی آرزوئیں کرنا آخرت کو بھلوادیتا ہے۔ اور یہ دنیا کوچ کر کے جانے والی ہے اور آخرت کوچ کر کے آنے والی ہے۔ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے خاص لوگ ہیں۔ اگر تم لوگ استطاعت رکھو کہ تم دنیا والے نہ بنو تو ضرور ایسا کرو بے شک تم لوگ آج دار العمل میں ہو جہاں حساب و کتاب بالکل نہیں ہے اور تم کل دار الحساب میں ہو گے وہاں عمل بالکل نہیں ہوگا۔ دونوں سندوں کے الفاظ برابر ہیں ہاں روایت جعفر بن محمد میں ہے۔ اگر تم استطاعت رکھتے ہو تم لوگ اہل آخرت میں سے ہو اور اہل دنیا میں سے نہ بنو تو ایسا ضرور کرو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← علي ابن أبي علي ← عُمَرَ، ← أحمد بن محمد بن عبد الله الشافعي، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم بن الفضل محمد بن إبراهيم بن الفضل المكي ← أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10616

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10617

10617 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أبو جعفر الدينوري ثنا عبد العزيز يعني الأويسي ثنا علي بن أبي علي اللهبي عن محمد بن المنكدر عن جابر : مثله غير أنه قال : فإن استطعتم أن تكونوا من بني الآخرة و لا تكونوا من بني الدنيا فافعلوا انفرد به هذا اللهبي و ليس بالقوي

اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو جعفر دینوری نے ان کو عبد العزیز یعنی اویسی نے ان کو علی بن ابو علی لہبی نے ان کو گھر بن منکدر نے ان کو جابر نے اسی کی مثل۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے اگر تم استطاعت رکھو کہ تم اپنائے آخرت بنواور ابناء دنیا نہ ہو تو ایس ضرور کرو لہبی اسی کے ساتھ منفرد اور اکیلا ہے اور قوی نہیں ہے۔

جَابِرٍ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← علي بن أبي علي اللهبي ← عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي: الأُوَيْسِيَّ، ← أبو جعفر الدينوري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10617

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10618

10618 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا محمد بن عثمان بن ثابت الصيدلاني ثنا محمد بن يونس ثنا إبراهيم بن زكريا البزار ثنا فديك بن سلمان ثنا محمد بن سوقة عن الشعبي عن الحارث عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اشتاق إلى الجنة سارع إلى الخيرات و من أشفق من النار لها عن الشهوات و من ترقب الموت هانت عليه اللذات و من تزهد في الدنيا هانت عليه المصيبات

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو محمد بن عثمان بن ثابت صید لانی نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو ابراہیم بن زکریا بزار نے ان کو فد یک بن سلمان نے ان کو محمد بن سوقہ نے شعبی سے اس نے حارث سے اس نے علی رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جوشخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے وہ خیرات اور نیکیوں کی طرف لپکتا ہے۔ اور جو جہنم سےنہیں ڈرتا ہے وہ شہوات ولذات سے دور بھاگتا ہے۔ اور جو شخص موت کا انتظار کرتا ہے اس پر لذات بے مزہ ہو جاتی ہیں اور جو دنیا سے بے رغبتی کرتا ہے اس پر مصیبتیں ہلکی اور بے اثرہو جاتی ہیں ۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← فديك بن سلمان ← إبراهيم بن زكريا البزار ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10618

chevron_left Previous
1…313233…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood