شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10595
10595 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا سريج بن يونس ثنا الوليد بن مسلم ثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير : أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه كان يقول : في خطبته أين الوضاءة الحسنة وجوههم المعجبون بشبابهم أين الملوك الذين بنوا المدائن و حصنوها بالحيطان أين الذين كانوا يعطون الغلبة في مواطن الحرب قد تضعضع أركانهم حين أضنى بهم الدهر و أصبحوا في ظلمات القبور الوحا الوحا ثم النجا النجا
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو سر یج بن یونس نے ان کو ولید بن مسلم ان کو اوزاعی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکر نے یہ کہ ابوبکر صدیق اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے ۔ کہاں ہیں خوبصورت اور چمکتے رخساروں والے لوگ کہاں ہیں اپنے شباب پر اترانے والے کہاں بادشاہ جنہوں نے شہر بسائے تھے اور ان کے حفاظتی قلعے اور فصلیں بنائی تھیں کہاں ہیں وہ لوگ کہ غلبہ اور کامیابی میدان جنگ میں جن کے قدم چومتی تھی ان کے اعضاء بکھر گئے ہیں جب زمانے نے ان کے ساتھ بخل اور تنگ دلی دکھائی لہٰذا وہ قبروں کے اندھیر وں میں چھپ گئے لوگو بچو۔۔۔ بچو۔۔۔ پھر بچو۔۔۔ پھر بچو۔۔۔
يحيى بن أبي كثير أن أبا بكر الصديق كان ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10595
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10596
10596 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني انا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الديبلي بمكة ثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا الحسن بن علي ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ثنا عبد الواحد بن زيد ثنا أسلم الكوفي عن مرة الطيب عن زيد بن أرقم قال : كنت مع أبي بكر الصديق رضي الله عنه فاستسقى فأتي بإناء فيه ماء و عسل فأدناه من فيه ثم نحاه و بكى حتى بكى أصحابه فسكتوا و ما سكت ثم مسح وجهه بردائه و بكى حتى أيسوا من كلامه ثم مسح عينيه فقالوا له : يا خليفة رسول الله ما الذي أباك قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأيته يدفع عنه شيئا لم أبصر أحدا معه قلت : يا رسول الله ما هذا الذي تدفع عن نفسك و لا أرى معك أحدا قال : هذه الدنيا تمثلت لي و حنت ظهرها علي فقلت لها إليك عني فقال : أما و الله لئن نجوت مني لا ينجو مني من بعدك فذكرت ذلك اليوم فخشيت أن تلحقني
ہمیں خبر دی ابو محمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم دیلی نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو حسن بن علی نے ان کو عبد الصمد بن عبد الوارث نے ان کو عبد الواحد بن زید نے اس کو اسلم کوفی نے ان کو مرہ طبیب نے زید بن ارقم سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انہوں نے پانی مانگا چنانچہ ان کے پاس پانی کا برتن لایا گیا اس میں پانی اور شہد ملا ہوا تھا انہوں نے اس کو اپنے منہ کے قریب کیا پھر اس کو ہٹالیا اور روپڑے اس قدر کہ ان کو دیکھ کم ان کے ساتھی بھی رو پڑے۔ ساتھی چپ کر گئے مگر وہ چپ نہیں ہوئے اس کے بعد انہوں نے اپنی چادر کے ساتھ اپنے چہرے کو صاف کیا اور روئے یہاں تک کہ لوگ ان کے بات کرنے سے مایوس ہو گے پھر انہوں نے اپنی آنکھوں کو پونچھا اب لوگوں نے ان سے کہا اے خلیفہ رسول اللہ کس بات نے آپ کو رلایا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ سے کسی چیز کو ہٹار ہے ہیں مگر میں نے آپ کے پاس کسی کو نہ دیکھا۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ یہ کیا چیز تھی جو آپ ہٹا رہے تھے حالانکہ میں نے تو کسی چیز کو آپ کے قریب نہیں دیکھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دنیا تھی جو میرے سامنے شکل بنا کر آئی تھی اور اس نے اپنی کمر میری طرف جھکالی تھی میں نے اس سے کہا ہے مجھ سے دو رہٹ جا اس نے کہا خبردار اللہ کی قسم اگر آپ مجھ سے نجات پاگئے تو مجھ سے وہ لوگ نجات نہیں پاسکیں گے جو آپ کے بعد ہوں گے۔ میں نے آج اسی بات کو یاد کیا ہے تو مجھے ڈر لگا کہ وہ مجھے بھی لاحق نہ ہو جائے۔
زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مُرَّةَ الطَّيِّبِ ← أَسْلَمُ الْكُوفِيُّ، ← عبد الواحد بن زيد ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الديبلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10596
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10597
10597 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق ثنا محمد بن غالب ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن منصور سمع أبا حازم يحدث عن مولاته نمرة أنها سمعت أبا بكر الصديق رضي الله عنه يقول : النساء أهلكهن الأحمران الذهب و الزعفران
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور نے انہوں نے سنا ابو حازم سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنی مولات نمیرہ سے اس نے سنا تھا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے تھے عورتوں کو دو سرخ چیزوں نے تباہ کیا ہے ایک سونا اور دوسری زعفران ( یعنی میکب اور فیش نے )
النساء أهلكهن الأحمران الذهب و الزعفران ← أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← مولاته نمرة أنها ← أَبَا حَازِمٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10597
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10598
10598 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان ثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني سريج ثنا روح بن عبادة ثنا هشام عن حوشب عن الحسن : أن سلمان الفارسي أتى أبا بكر الصديق رضي الله عنه يعوده في مرضه الذي مات فيه فقال سلمان : أوصني قال أبو بكر أن الله عز و جل فاتح عليكم الدنيا فلا تأخذن منها إلا بلاغا و اعلم أن من صلى صلاة الصبح فهو في ذمة الله فلا يخفرن الله في ذمته فيكبك على وجهك في النار
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابوالد نیا نے ان کو سریج نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ہشام نے حوشب سے اس نے حسن سے یہ کہ حضرت سلمان فارسی حضرت ابو بکر کے پاس آئے ان کی بیماری میں ان کی مزاج پرسی کرنے کے لئے جس میں ان کا انتقال ہو گیا تھا حضرت سلمان نے کہا آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیے حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا تمہارے او پر دنیا فتح ہونے والی ہے تم اس میں سے نہ لینا مگر ضرورت کی حد تک اور یقین جانیئے کہ جو شخص صبح کی نماز پڑھے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی پناہ میں خیانت نہیں کرتا کہ وہ تمہیں منہ کے بل آگ میں پھینک دے۔
الْحَسَنِ، ← حَوْشَبٍ، ← هِشَامٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← سُرَيْجٌ ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الله بن محمد بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10598
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10599
10599 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن حمشاد ثنا إسحاق بن الحسن ثنا الحسن الأشيب ثنا حماد بن سلمة عن ثابت : أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه كان يكثر أن يتمثل بهذا البيت :
( لا يزال يبغي حبيبا يكونه و قد يرجو الفتى الرجاء يموت دونه )
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو اسحاق بن حسن نے ان کو حسن بن اشیب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے یہ کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کثرت کے ساتھ اس شعر کو پڑھتے تھے۔ لايزال يبغی حبیبا یکونه وقد يرجو الفتى الرجاء يموت دونه ہمیشہ انسان اپنے محبوب کو طلب کرتا رہتا ہے اور کبھی جو ان آرزو کرتے کرتے اسی کے پیچھے جان دے دیتا ہے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10599
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10600
10600 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو محمد الحسن بن محمد الأسفرايني ثنا محمد بن محمد بن رجاء ثنا عمرو بن علي بن بحر بن كثير السقا قال : سمعت يحيى بن سعيد يقول : جاءني شعبة لما أراد الخروج إلى المهدي فقال : حدثني بحديث موسى الجهني حتى أحدث به المهدي قال : محمد بن محمد بن رجاء حدثنا أبو حفص أنا يحيى بن سعد أنا موسى الجهني أبو بكر بن حفص قال : جاءت عائشة إلى أبيها و هو يعالج ما يعالج من الموت فلما رأت نفسه في صدره تمثلت بهذا البيت :
( أماوي ما يغني الثراء عن الفتى إذا خرجت يوما و ضاق بها الصدر )
زاد فيه غيره فكشف عن وجهه و قال : لكن ( جاءت سكرة الموت بالحق ذلك ما كنت منه تحيد )
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد حسن بن محمد اسفرائنی نے ان کو محمد بن محمد بن رجاء نے ان کو عمرو بن علی بن بحر بن کثیر السقاء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنائی بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ جناب شعبہ میرے پاس آئے جب انہوں نے مہدی کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا۔ اور آ کر کہا کہ مجھے موسیٰ جھنی کی کوئی روایت بیان کیجئے تاکہ میں وہ مہدی کو سناؤں۔ کہا محمد بن محمد بن رجاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو حفص نے ان کو یحیی ٰبن سعید نے ان کو موسیٰ جھنی ابو بکر بن حفص نے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ اپنے والد کے پاس آئیں جب وہ موت کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے ( یعنی موت کے وقت ) جب انہوں نے ان کی روح سینے میں پہنچی ہوئی محسوس کی تو اس شعر سے تمثل کیا۔ اماوی مايعنى الشراء عن الفني اذا خرجت يوماً وضاق بها الصدر کسی مرد کو مال کی کثرت کوئی فائدہ نہیں دیتی جب کسی دن روح نکلنے پر آتی ہے اور اس کے ساتھ سینہ گھٹتا ہے۔ دیگر راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عائشہ کے کسی شعر کو سن کر صدیق اکبر نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمانے لگے ۔ بلکہ جاءت سكرت الموت بالحق ذالك ماكنت منه تحيد موت کی سختی اور بیہوشی یقینی ہے یہی ہے وہ جس سے آپ بھاگتے تھے۔
يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عمرو بن علي بن بحر بن كثير السقا ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← أبو محمد الحسن بن محمد الأسفرايني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10600
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10601
10601 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد رحمه الله قال : أنا أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن رجاء أنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم ثنا قتيبة بن سعيد ثنا كثير بن هشام ثنا جعفر بن برقان قال : بلغني أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب إلى بعض عماله فكان في آخر كتابه أن حاسب نفسك في الرخاء قبل حساب الشدة فإنه من حاسب نفسه في الرخاء قبل حساب الشدة عاد مرجعه إلى الرضا و الغبطة و من ألهته حياته و شغله بهواه عاد مرجعه إلى الندامة و الحسرة فتذكر ما توعظ به لكي تنتهي عما ينتهي عنه
ہمیں حدیث بیان کی ابوسعید عبد الملک بن محمد بن ابراہیم زاہد رحمتہ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو اسحاق ابراہیم بین احمد بن رجاء نے ان کو محمد بن اسحاق بن ابراہیم نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو کثیر بن ہشام نے ان کو جعفر بن برقان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے اپنے بعض عاملوں کی طرف خط لکھا اس تحریر کے آخر میں یہ بات لکھی تھی کہ تم اپنے نفس کا نرمی کے وقت محاسبہ کیا کر و شدت اور سختی کے حساب سے قبل، کیونکہ جو شخص نرم حالات میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے سخت حساب سے پہلے اس کا انجام رجوع و رضاء کی طرف اور رشک کی طرف ہوتا ہے۔ اور جس کو اس کی زندگی اس کی خواہشات کے ساتھ غافل اور مشغول رکھتی ہے اس کا انجام حسرت و ندامت ہوتا ہے۔ تو جو تمہیں نصیحت دی جائے اس کو قبول کرو تا کہ آپ ان امور سے خود رک سکیں جن سے منع کیا جاتا ہے ( یعنی جو ممنوع ہیں)۔
بلغني أن عمر بن الخطاب ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن رجاء ← أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10601
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10602
10602 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن عثمان العجلي ثنا أبو أسامة عن الشعبي عن مسروق قال : خرج عمر بن الخطاب ذات يوم و عليه حلة قطن فنظر الناس إليه فقال : لا شيء فيما يرى إلا بشاشته يبقى الإله و يود إلى المال و الولد و الله ما الدنيا في الآخرة إلا كنفحة أرنب
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عثمان عجلی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو شعبی نے مسروق سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب نکلے اور آپ کے اوپر سوتی لباس تھا لوگوں نے آپ کی طرف دیکھنا شروع کیا تو آپ نے فرمایا جس شئی کی طرف دیکھا جا رہا ہے مگر اس کی ظاہری تازگی ہے جو اللہ نے بنائی ہے اور انسان مال سے محبت کرتا ہے اور اولاد سے محبت کرتا ہے حالانکہ اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسے ہے جیسے خرگوش کی سانس ۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10602
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10603
10603 - قال : و ثنا أبو بكر حدثني أبو جعفر الأدمي ثنا يحيى بن سليم سمعت سفيان الثوري قال : بلغني أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يتمثل :
( لا يغرنك عشاء ساكن قد توافى بالمنيات السحر )
کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابو جعفر آدمی نے ان کو یحییٰ بن سلیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے انہوں نے فرمایا۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ شعر ا کثر کہتے رہتے تھے۔ لا یغرنک عشاء ساكن قد توافي بالمنيات السحر پر سکون وقت عشاء سے ہرگز جو کہ نہ کھانا کبھی کبھی ٹھیک سحر کے وقت بھی موت آلیتی ہیں۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10603
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10604
10604 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني أبو علي الطائي المحاربي عن إسماعيل بن مسلم عن أبي معشر عن إبراهيم قال : قال عمر بن الخطاب : التؤدة في كل شيء إلا في أمر الآخرة
فرمایا اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی ابوعلی طائی محاربی نے ان کو اسماعیل بن مسلم نے ان کو ابو معشر نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا ہر معاملہ میں سنجیدگی اور تاخیر بہتر ہے سوائے آخرت کے معاملے کے۔
عمر بن الخطاب التؤدة في كل شيء إلا في أمر الآخرة ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← أبو علي الطائي المحاربي ← أَبُو بَکْرٍ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10604
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10605
10605 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا يزيد بن هارون أنا إسماعيل بن أبي خالد عن مصعب بن سعد قال : قالت حفصة بنت عمر لعمر أمير المؤمنين : لو لبست ثوبا هو ألين من ثوبك و أكلت طعاما هو أطيب من طعامك فقد وسع الله من الرزق و أكثر من الخير قال : إني سأخاصمك إلى نفسك أما تذكرين ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يلقى من شدة العيش فما زال يكررها حتى أبكاها فقال لها : إني قد قلت لك : إني و الله لئن استطعت لأشاركهما بمثل عيشهما الشديد لعلي أدرك عيشهما الرضي
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو مصعب بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب سے کہا اے امیر المؤمنین اگر آپ ایسے کپڑے پہنیں جو آپ کے موجودہ کپڑوں سے نرم ہوں ۔ اور اگر آپ ایسا کھانا کھایا کریں جو آپ کے موجودہ کھانے سے زیادہ نفیس اور عمدہ ہو تو کیا زیادہ بہتر نہیں ہوگا؟ اللہ نے رزق میں بڑی وسعت عطا کر دی ہے۔ اور مال بھی زیادہ کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں اس بارے میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ کیا آپ کو یاد نہیں ہے؟ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں شدت وسختی کا سامان کیا تھا۔ بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ سیدہ حفصہ کو انہوں نے رلایا اور ان سے کہا میں نے آپ سے یہ بات کہہ دی ہے بے شک میں اللہ کی قسم اگر میں یہ کر سکوں کہ میں ان کی شدت والی زندگی میں اپنے آپ کو شریک کر سکوں تو میں ضرور کروں گا تا کہ میں ان کی پسندید و زندگی کو پالوں۔
مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10605
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10606
10606 - قال : و حدثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا علي بن إسحاق أنا ابن المبارك ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن أخيه عن مصعب بن سعد : أن حفصة قالت لعمر : ألا تلبس قال : فذكر مثل حديث يزيد بن هارون
وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو علی بن اسحٰق نے ان کو ابن مبارک نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے اپنے بھائی سے مصعب بن سعد سے یہ کہ سیدہ حفصہ نے اپنے والد حضرت عمر سے کہا کہ آپ یہ کپڑے نہ پہنئے بلکہ اس کے بعد راوی نے یزید بن ہارون والی روایت ذکر کی ہے۔
فذكر مثل حديث يزيد بن هارون ← لعمر ألا تلبس ← مصعب بن سعد أن حفصة ← أَخِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10606