Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10583

10583 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا بن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن إسماعيل ثنا روح بن عبادة عن عوف عن الحسن قال : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما مثل الدنيا كمثل الماشي في الماء هل يستطيع الذي يمشي في الماء أن لا تبتل قدماه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابوالد نیا نے اسحاق بن اسماعیل سے اس نے روح بن عبدہ سے اس نے عوف سے اس نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناد نیا کی مثال پانی کے او پر پیدل چلنے والے کے جیسی ہے کہ کوئی اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ پانی میں پیدل چلے اور اس کے قدم گیلے بھی نہ ہوں ۔ (یعنی دین میں رہنے والا کسی نہ کسی قدر ضرور دنیا سے آلودہ ہوتا ہے۔)

بلغني ← الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إسحاق بن إسماعيل ← بن أبي الدنيا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10583

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10584

10584 - قال : و ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني سلمه يعني ابن شبيب أنه حدث عن عبد الله بن المبارك ثنا محمد بن النضير الحارثي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تشغلوا قلوبكم بذكر الدنيا

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو سلمہ یعنی ابن شبیب نے کہ اس نے حدیث بیان کی ہے عبد اللہ بن مبارک سے اس نے محمد بن نضیر حارثی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے دلوں کو دنیا کے تذکروں میں مصروف نہ رکھو۔

محمد بن النضير الحارثي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سلمه يعني ابن شبيب أنه حدث ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10584

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10585

10585 - قال أبو بكر و ثنا عبد الله ثنا عصمه بن الفضل ثنا الحارث بن مسلم الرازي و كانوا يرونه من الأبدال ـ عن زياد بن أنس بن مالك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أصبح و أكبر همه الدنيا فليس من الله

کہتے ہیں کہ میں حدیث بیان کی ہے عبداللہ نے ان کو عصمہ بن فضل نے ان کو حارث بن مسلم رازی نے لوگ ان کو ابدالوں میں سے شمار کرتے تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں زیاد بن انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافر ماتے تھے۔ جو شخص صبح کرے اور اس کی سب سے بڑی فکر دنیا ہو وہ اللہ سے نہیں ہے ( یعنی اللہ کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ )

من أصبح و أكبر همه الدنيا فليس من الله ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زياد بن أنس بن مالك ← الحارث بن مسلم الرازي و كانوا يرونه من الأبدال ← عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أبو بكر و

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10585

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10586

10586 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بشرويه ثنا أبو يحيى البزار ثنا سليمان بن يحيى ثنا وهب بن راشد ثنا فرقد السبنجي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصبح و همه غير الله فليس من الله و من أصبح لا يهتم للمسلمين فليس منهم إسناده ضعيف و كذلك ما قبله

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن بشرویہ نے ان کو ابو یحییٰ بزار نے ان کو سلیمان بن یحییٰ نے ان کو وہب بن راشد نے ان کو فر قد سنجی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص صبح کرے اور وہ مسلمانوں کی فکر نہ کرے وہ ان میں سے نہیں ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے اور ماقبل والی کی بھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← فرقد السبنجي ← وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ، ← سليمان بن يحيى ← أبو يحيى البزار، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بشرويه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10586

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10587

10587 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن عبيد بن عتبة الكندي ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن يعلي عن حميد العرج عن عبد الله بن الحارث عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عجبت لغافل و لا يغفل عنه و عجبت لمن يؤمل الدنيا و الموت يطلبه و عجبت لضاحك ملء فيه و لا يدري أرضي عنه أم سخط

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن عبید بن عتبہ کندی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحیی ٰبن یعلی نے ان کو حمید اعرج نے ان کو عبداللہ بن حارث نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس غافل پر تعجب کرتا ہوں جس سے غفلت نہیں برتی جاتی۔ (یعنی بندہ غافل ہوتا ہے اور اللہ اس کا پورا پورا خیال کرتا ہے ) اور میں تعجب کرتا ہوں اس پر جو دنیا کی آرزوئیں کر رہا ہے اور موت اس کی تلاش میں ہے اور میں اس شخص سے تعجب کرتا ہوں جو منہ پھاڑ کر ہنستا ہے مگر نہیں جانتا کہ اس سے رب راضی ہے یا ناراض ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حميد العرج ← يحيى بن يعلى ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن عبيد بن عتبة الكندي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10587

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10588

10588 - و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الرزجاهي ثنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ ثنا عبد الله بن محمد بن ناجيه ثنا هشام بن يونس ثنا يحيى بن يعلي الأسلمي غير أنه قال : و كان يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : عجبت لطالب الدنيا و الموت يطلبه و غافل و ليس بمغفول عنه ثم ذكر ما بعده

ہمیں خبر دی ابو عمر محمد بن عبد اللہ رز جاہی نے ان کو ابو احمد عبد اللہ بن عدی حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ناجیہ نے ان کو ہشام بن یونس نے ان کو یحییٰ بن یعلی اسلمی نے علاوہ ازیں انہوں نے کہا اور وہ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع کرتے تھے ۔ کہ آپ نے فرمایا کہ میں دنیا کے طالب پر تعجب کرتا ہوں موت جس کی تلاش میں ہے اور مجھے اس غافل پر بھی تعجب ہے جس سے رب غافل نہیں ہے اس کے بعد انہوں نے اس کا مابعدذکر کیا۔

يحيى بن يعلي الأسلمي غير ← هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أبو عمرو محمد بن عبد الله الرزجاهي ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10588

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10589

10589 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب عن سليمان بن بلال عن كثير بن زيد عن الحارث بن أبي يزيد عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تتمنوا الموت فإن هول المطلع شديد و أن من السعادة أن يطيل الله عز و جل عمر العبد و يرزقه الإنابة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے کثیر بن زید سے اس نے حارث بن ابو یزید سے اس نے جابر بن عبد اللہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ موت کی آرزو نہ کیا کرو ۔ بے شک اس کا منظر بہت شدید ہوتا ہے۔ بے شک سعادت کی بات ہے کہ اللہ کسی شخص کی عمر لمبی کر دے اور پھر اس کو انابت اور رجوع کرنے کا مادہ بھی عطا کرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10589

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10590

10590 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل الماسرجسي ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا الحسن بن عبد الصمد القهندري ثنا أبو الصلت الهروي انا يوسف بن عطيه ثنا ثابت عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج يوما فاستقبله شاب من الأنصار يقال له : حارثة بن النعمان فقال له : كيف أصبحت يا حارثة قال : أصبحت مؤمنا حقا قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انظر ما تقول فإن لكل حق حقيقة إيمانك قال : فقال : عزفت نفسي عن الدنيا فأسهرت ليلي و أظمأت نهاري و كأني أنظر إلى عرش ربي بارزا و كأني أنظر إلى أهل الجنة كيف يتزاورون فيها و كأني انظر إلى أهل النار كيف يتعادون فيها فقال : فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : أبصرت فالزم مرتين عبد نور الله الإيمان في قلبه قال : فنودي يوما في الخيل يا خيل الله إركبي فكان أول فارس ركب و أول فارس استشهد فجاءت أمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله أخبرني عن ابني حارثة أين هو إن يكن في الجنة لم أبك و لم أحزن و إن يكن في النار بكيت ما عشت في الدنيا قال : فقال : لها رسول الله صلى الله عليه و سلم يا أم حارثه إنها ليست بجنة و لكنها جنان و حارثة في الفردوس الأعلى قال : فانصرفت و هي تضحك و تقول : بخ بخ لك يا حارثه كذا قال : حارثه بن النعمان

ہمیں خبر دی ابومحمد حسن بن علی بن مؤمل ما سر جسی نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبد اللہ بصری نے ان کو حسن بن عبد الصمد قہندری نے ان کو ابو صلت ہروی نے ان کو یوسف بن عطیہ نے ان کو ثابت نے انس بن مالک سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھر سے نکلے اور انصار کا ایک نوجوان آپ کے سامنے آ گیا اس کو حارثہ بن نعمان کہتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کس حال میں صبح کی اے حارثہ ؟ اس نے جواب دیا میں نے صبح کی ہے اس حال میں کہ میں سچا اور برحق مؤمن ہوں۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایہ دیکھ لیجئے آپ کیا کہ رہے ہو؟ بے شبہ ہر برحق شئی کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور تیرے ایمان کی حقیقت ( کیا؟) کہتے ہیں کہ اس نے جواب دیا میں دنیا سے اچاٹ اور بے رغبت ہوں۔ میں اپنی رات جاگ کر گذارتا ہوں اور دن پیا سارہ کر گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کو دیکھتا رہتا ہوں اپنے سامنے اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک دوسرے سے کیسے مل رہے ہیں۔ اور گویا کہ میں اہل جہنم کو بھی دیکھتا ہوں کہ وہ کس طرح جہنم میں ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا۔ کیا آپ نے یہ سب کچھ دیکھا ہے دومرتبہ اس کو پکا کیا پھر فرمایا کہ یہ ایسا بندہ ہے کہ اللہ نے اس کے دل میں ایمان کو روشن کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن۔ گھڑ سواروں میں اعلان کیا گیا اے اللہ کے مجاہد و سوار ہو جاؤ پس گویا کہ یہی حارثہ پہلا سوار تھا جو سوار ہو گیا اور یہ پہلا شہسوار جو شہید کر دیا گیا چنانچہ اس کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورعرض کرنے لگی یا رسول اللہ مجھے میرے بیٹے کے بارے میں خبر دیجئے کہ حارثہ کہاں ہے اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس کو نہ روؤں گی اور اگر وہ جنت میں نہیں ہے بلکہ جہنم میں ہے تو میں جب تک جیوں گی اس کو روتی رہوں گی دنیا میں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا۔ اے ام حارثہ یہ جنت کوئی ایک نہیں ہے بلکہ جنات تو بہت ساری ہیں حارثہ تو فردوس اعلی میں ہے۔ فرمایا کہ بڑھیا واپس لوٹی تو ہنستی ہوئی جارہی تھی اور کہہ رہی تھی بس بس حارثہ کافی ہے تیرے لئے۔ ایسے ہی کہا راوی نے حارثہ بن نعمان۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← يوسف بن عطيه ← أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ ← الحسن بن عبد الصمد القهندري ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل الماسرجسي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10590

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10591

10591 - و قد أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن الفضيل بن محمد بن عقيل ثنا مطين ثنا محمد بن العلاء ثنا زيد ثنا ابن لهيعة ثنا خالد بن يزيد السكسكي عن سعيد بن أبي هلال عن محمد بن أبي الجهم عن الحارث بن مالك : أنه مر برسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له : كيف أصبحت يا حارثة قال : أصبحت مؤمنا حقا قال : انظر ما تقول أن لكل حق حقيقة فما حقيقة إيمانك قال : عزفت نفسي عن الدنيا و كأني أنظر إلى عرش ربي بارزا و كأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها و كأني أنظر إلى أهل النار يتضاغون فيها قال : يا حارثة عرفت فالزم قالها ثلاثا هذه القصة في الحارث بن مالك و يقال : حارثة و قصة الأم في الحارثة بن النعمان

تحقیق ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن فضیل بن محمد بن عقیل نے ان کو مطمین نے ان کو محمد بن علاء نے ان کو زید نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو خالد بن یزید سکسکی نے سعید بن ابو ہلال سے اس نے محمد بن ابو لحجم نے حارث بن مالک سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گذرے تو آپ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کس حال میں صبح کی ہے۔ اے حارثہ ! اس نے کہا کہ میں نے اس طرح صبح کی ہے کہ میں پکا مومن ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ سوچ لو کیا کہہ رہے ہو کہ ہر حق شئی کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ تیرے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میر انفس دنیا سے نفرت کرتا ہے اور ایسے ہوتا ہے کہ جیسے میں اپنے رب کے عرش کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ اور ایسے لگتا جیسے میں اہل جنت کو سامنے دیکھ رہا ہوں کہ وہ جنت میں ایک دوسرے کو کس طرح مل رہے ہیں اور ایسے لگتا ہے جیسے میں اہل جہنم کو بھی سامنے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کس طرح اس میں یا ہم شور کرر ہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھ گیا تم پکے رہو تین بار یہ فرمایا۔ یہ قصہ حارث بن مالک کے بارے میں مروی ہے۔ اور کبھی حارثہ کہا جاتا ہے۔ اور ماں کا قصہ حارثہ بن نعمان کا ہے۔

الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ، ← محمد بن أبي الجهم، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← زيد1 ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مطين ← علي بن الفضيل بن محمد بن عقيل ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و قد

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10591

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10592

10592 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن صالح بن سمار و جعفر بن برقان : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : للحارث بن مالك ما أنت يا حارث بن مالك أو قال : يا حار قال : مؤمن يا رسول الله قال : مؤمن حقا قال : مؤمن حقا قال : فإن لكل حق حقيقة فما حقيقة ذلك قال : عزفت نفسي عن الدنيا فأسهرت ليلي و أظمأت نهاري و كأني أنظر إلى عرش ربي حين يجاء به و كأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها و كأني أسمع عواء أهل النار فقال النبي صلى الله عليه و سلم : مؤمن نور الله قلبه هذا منقطع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق دبری نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو صالح بن سمارنے اور جعفر بن برقان نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث سے کہا تھا حارث بن مالک سے تم کو کیا ہوااے حارث بن مالک یا یوں کہا تھا۔ اے سمار۔ اس نے جواب دیا یا رسول اللہ میں مؤمن ہوں آپ نے پوچھا کہ سچا مؤ من؟ اس نے کہا کہ سچا مؤمن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ تیرے مومن ہونے کی حقیقت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میرانفس دنیا سے ہٹ چکا ہے میں راتوں کو شب بے داری کرتا ہوں اور دن کو پیاسا رہتا ہوں بس گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کو سامنے دیکھ رہا ہوں۔ جب اس کو لایا جائے گا۔ اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھتا ہوں کہ وہ آپس میں مل رہے ہیں۔ اور گویا کہ میں اہل جہنم کا بھوکنا اور شور کرنا سنتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا یہ ایسا مومن ہے کہ اللہ نے اس کے دل کو روشن کر دیا ہے۔ اور یہ روایت من منقطع ہے ۔

صالح بن سمار و جعفر بن برقان ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10592

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10593

10593 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا أحمد بن عمران ثنا محمد بن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد الله القرشي عن عبد الله بن عكيم قال : خطبنا أبو بكر الصديق رضي الله عنه فقال : أوصيكم بتقوى الله و أن تثنوا عليه بما هو له أهل و تخلطوا الرغبة و الرهبة و تجمعوا الإلحاف بالمسلمين فإن الله عز و جل أثنى على زكريا و أهل بيته فقال : ( أنهم كانوا يسارعون في الخيرات و يدعوننا رغبا و رهبا و كانوا لنا خاشعين ) ثم اعلموا عباد الله أنكم تغدون و تروحون في أمل قد غيب عنكم علمه فإن استطعتم أن لا تنقضي آجالكم إلا و أنتم في عمل الله فافعلوا و لن تستطيعوا ذلك إلا بالله عز و جل فسارعوا في مهل إياكم قبل أن تنقضي آجالكم فتردكم إلى أسوأ أعمالكم فإن أقواما جعلوا آجالهم لغيرهم فأنهاكم أن تكونوا أمثالهم الوحا الوحا ثم النجا النجا فإن من ورائكم طالبا حثيثا مره سريع يعني الموت

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو احمد بن عمران نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن فضیل نے عبدالرحمٰن بن اسحاق سے اس نے عبداللہ قرشی سے اس نے عبداللہ بن حکیم سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ اور یوں فرمایا۔ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تم اس کی حمد و ثنا کرو اس لئے کہ وہی اس کا اہل ہے۔ اور امید و خوف کی ملی جلی کیفیت پیدا کرو اور مسلمانوں کے ساتھ چمٹے رہنا بھی ساتھ ملالو۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر حضرت زکریا علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کی اسی صفت پر تعریف فرمائی ہے۔انهم كانوا يسار عون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا و كانوا لنا خاشعين. کہ بے شک وہ لوگ بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے تھے اور وہ ہمیں پکارتے تھے امید کرتے اور ڈرتے ہوئے اور وہ ہمارے لئے عاجزی کرتے تھے ۔پھر جان لو اللہ کے بندو بے شک تم لوگ صبح بھی اور شام بھی آرزو میں گذارتے ہو حالانکہ اس کا علم تم سے غیب کر دیا گیا ہے۔ اگر تم لوگ اس بات کی طاقت رکھو کہ تمہاری زندگی کی مہلتیں اللہ کے لئے عمل کرنے میں گذریں تو ایسا ضرور کرو یا درکھو تم اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھو گے مگر اللہ تعالٰی کی عنایت کے ساتھ لہٰذا اجلدی کرو ان مہتوں میں جو تمہیں حاصل ہیں اس سے قبل کہ تمہاری زندگیاں پوری ہو جائیں پھر تمہیں وہ تمہارے بدترین اعمال کی طرف لوٹنا پڑے بے شک کچھ تو میں ایسی تھیں جنہوں نے اپنی مہلتیں اور زندگیاں اپنے سوا دوسروں کے لئے کر رکھی ہیں میں آپ لوگوں کو روکتا ہوں کہ تم ان جیسے بنو بچنا تم بچنا تم پھر بچنا اور بچنا بے شک تمہارے پیچھے ایک مسلسل طلب کرنے والی چیز لگی ہوئی ہے جس کی رفتار بہت ہی تیز ہے۔ یعنی موت۔

خطبنا أبو بكر الصديق ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10593

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10594

10594 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا موسى بن إسحاق الأنصاري ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل ثنا عبد الرحمن بن ح عن عبد الله بن عبيد القرشي عن عبد الله بن عكيم قال : خطبنا أبو بكر الصديق رضي الله عنه فحمد الله و أثنى عليه بما هو له أهل ثم قال : أوصيكم بتقوى الله و أن تثنوا عليه بما هو له أهل و أن تخلطوا الرغبة بالرهبة فإن الله عز و جل أثنى على زكريا و أهل بيته فقال : أنهم كانوا يسارعون في الخيرات و يدعوننا رغبا و رهبا و كانوا لنا خاشعين ثم اعلموا عباد الله أن الله قد ارتهن بحقه أنفسكم و أخذ على ذلك مواثيقكم و اشترى منكم القليل الفاني بالكثير الباقي و هذا كتاب الله فيكم لا يطفأ نوره و لا تنقضي عجائبه فاستضيئوا بنوره و انتصحوا كتابه و استضيئوا منه ليوم الظلمة فإنه إنما خلقكم لعبادته و وكل بكم كراما كاتبين يعلمون ما تفعلون ثم اعلموا عباد الله أنكم تغدون و تروحون في أجل قد غيب عنكم علمه فإن استطعتم أن تنقضي الآجال و أنتم في عمل الله فافعلوا و لن تستطيعوا ذلك إلا بالله فسابقوا في مهل آجالكم قبل أن تنقضي آجالكم و يردكم إلى أسوأ أعمالكم فإن أقواما ما جعلوا آجالهم لغيرهم و نسوا أنفسهم فأنهاكم أن تكونوا أمثالهم فالوحا الوحا ثم النجا النجا فإن وراءكم طالبا حثيثا مره سريع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو موسیٰ بن اسحاق انصاری نے ان کو عبد اللہ بن ابو شیبہ نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو عبید الرحمٰن بن اسحٰق نے ان کو عبد اللہ بن عبید قرشی نے ان کو عبد اللہ بن حکیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں صدیق اکبر نے خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثنا کی جس طرح وہ اس کا حق دار ہے اس کے بعد انہوں نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ تم اسی کی حمد وثنا کیا کرو جیسے وہ اس کا حق دار ہے۔ اور امید و بیم کی کیفیت کو ملالو بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کی اسی وصف پر تعریف فرمائی ہے۔انهم كانوا يسارعون فى الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا و كانوا لنا خاشعين.بے شک وہ بھلائیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور وہ ہم سے ڈرتے تھے۔ پھر جان لو اللہ کے بندو بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نفسوں کو اپنے حق کے ساتھ رہن رکھ دیا ہے اور اس پر تم سے عہد و میثاق لئے ہیں۔ اور اللہ نے تم سے قلیل فانی کو کثیر باقی کے بدلے میں خریدا اور یہ اللہ کی کتاب تمہارے اندر موجود ہے۔ اس کا نور کبھی نہیں بجھے گا۔ اور اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے تو اسی کے نور سے روشنی حاصل کرو۔ اور اللہ کی کتاب کی نصیحت قبول کرو اور اسی کتاب اللہ سے روشنی حاصل کرو تاریک دن کے لئے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور تمہارے او پر عزت والے منشی اور لکھنے والے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ۔ وہ سب جانتے ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔ پھر تم جان لواے اللہ کے بندو۔ بے شک تم لوگ صبح بھی کرتے ہو اور شام بھی کرتے ہو ایک مہبات کے اندر جس کا علم تم لوگوں سے چھپا لیا گیا ہے۔ اگر تم لوگ ایسا کر سکتے ہو کہ تمہاری مہلت کی مدتیں اس طرح گذریں کہ تم اللہ کے اعمال کر رہے ہو تو ایسا ضرور کرو۔ مگر یہ بھی تم ہر گز نہیں کر سکتے ہو مگر اللہ کی توفیق ارزانی کے ساتھ ۔ لہٰذا تم اپنی مہلتوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اس سے قبل کہ تمہاری مہلت کی مدتیں پوری ہو جائیں۔ اور تمہیں تمہارے بدتر اعمال کی طرف لوٹا دیا جائے۔ بے شک کچھ اقوام ایسی ہیں جو اپنی مہات کی مدتوں کو دوسروں کے لئے ضائع کر دیتے ہیں اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں میں تمہیں منع کرتا ہوں کہ تم لوگ ان جیسے نہ بنا بچنا تم بچنا اور بچنا پھر بچنا۔ بے شک تمہارے پیچھے جلدی جلدی تلاش کرنے والی (موت) ہے جس کی رفتار بہت تیز ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10594

chevron_left Previous
1…293031…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood