Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10571

10571 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو أحمد الحسين بن علي بن محمد بن يحيى من أصل كتابه قال : حدثني أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا أحمد بن يحيى بن سعيد المعدل الضراء النيسابوري حدثني أبي عن جدي و هو أبو أمامة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو رأيت الأجل و مسيره أبغضت الأمل و غروره قال أبو بكر : لم أكتب عن هذا الرجل غير هذا الحديث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حدیث بیان کی ابو احمد حسین بن علی بن محمد بن یحیی ٰنے اپنی اصل کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے ان کو احمد بن یحیی ٰبن سعید معدل ضراء نیسا پوری نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کے داداسے یعنی ابوامامہ سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آپ موت کو اور اس کے فاصلے کو دیکھ لیتے تو آپ آرزو اور ان کے دھوکے سے نفرت کرتے۔ ابوبکر نے کہا کہ میں نے اس آدمی سے اس حدیث کے سوا کوئی دوسری حدیث نہیں لکھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← جدي و هو أبو أمامة ← أَبِي ← أحمد بن يحيى بن سعيد المعدل الضراء النيسابوري ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أبو أحمد الحسين بن علي بن محمد بن يحيى من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10571

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10572

10572 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا معاذ بن المثنى ثنا أبو مصعب ثنا محرز بن هارون عن الأعرج عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : ح قال : و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا إسماعيل بن زكريا الكوفي ثنا محرز بن هارون التميمي المدني قال سمعت الأعرج يذكر عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : بادروا بالأعمال سبعا ما تنتظرون إلا فقرا منسيا أو غنى مطغيا أو مرضا مفسدا أو هرما مفندا أو موتا مجهزا أو المسيح فشر منتظر و في رواية ابن عبدان : أو الدجال فإنه شر منتظر أو الساعة و الساعة أدهى و أمر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معاذ بن مثنی نے ان کو ابو مصعب نے ان کو محرز بن ہارون نے اعرج سے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوعبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ذکریا کوفی نے ان کو محرز بن ہارون تیمی مدنی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اعرج سے وہ ذکر کرتے ہیں ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا سات چیزوں سے پہلے اعمال کے ساتھ جلدی کر لو نہیں انتظار کر رہے تم مگر فقر بھولانے والے کا یا غنی سرکش بنانے والے کا یا مرض خراب کر دینے والے کا یا تباہ کرنے والے بڑھاپے کا یا تیار کرنے والی موت کا یا مسیح دجال کا اور وہ بدترین انتظار کیا ہوا ہے۔ یا قیامت کا اور قیامت تو سب سے زیادہ دہشت ناک ہے اور سب سے زیادہ کڑوی ہے۔ اور ابن عبد ان کی روایت میں ہے یا دجال کا بے شک وہ بدترین انتظار کیا ہوا ہے یا قیامت کا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحْرِزِ بْنِ هَارُونَ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10572

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10573

10573 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار قال : و ثنا أبو بكر ثنا محمد بن حسان بن فيروز ثنا عنبسة بن سعيد ثنا ابن المبارك عن معمر عن سمع المقبري عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما ينتظر أحدكم إلا غنى مطغيا أو فقرا منسيا أو مرضا مفسدا أو هرما مفندا أو موتا مجهزا أو المسيح فشر منتظر و في رواية ابن عبدان : الدجال فالدجال شر غائب ينتظر أو الساعة و الساعة أدهى و أمر

اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسان بن فیروز نے ان کو عنبسہ بن سعید نے ان کو ابن مبارک نے ان کو معمر نے ان کو سمع مقبری نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا ۔نہیں انتظار کرتا ایک تمہارا مگر سرکشی کرنے والے غنی کا یا بھلوا دینے والے فقر کا یا خراب کر دینے والے مرض کا یا تباہ کرنے والے بڑھاپے کا یا تیاری کرانے والی موت کا یا مسیح دجال کا پس وہ بد ترین انتظار کیا ہوا ہے۔ اور ابن عبد ان کی ایک روایت میں ہے کہ یا دجال کا انتظار کر رہے ہو پس دجال بد ترین غائب ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے یا قیامت کا انتظار کرتے ہو اور قیامت سب سے زیادہ ہیبت ناک ہے اور سب سے زیادہ کڑوی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن حسان بن فيروز ← أَبُو بَکْرٍ ← و، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10573

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10574

10574 - قال : و ثنا أبو بكر قال : حدثني سلمة بن شبيب ثنا سهل بن عاصم عن محمد بن أبي منصور ثنا يوسف بن عبد الصمد عن محمد بن عبد الرحمن عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بادروا بالأعمال هرما ناغصا و موتا خالسا و مرضا حابسا و تسويفا مؤيسا

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی سلمہ بن شبیب نے ان کو سہل بن عاصم نے ان کو محمد بن ابو منصور نے ان کو حدیث بیان کی یوسف بن عبد الصمد نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کے ساتھ جلدی کرو کمزور کر دینے والے بڑھاپے سے یا جھپٹنے اور تباہ کر دینے والی موت سے یا روک دینے اور بند کر دینے والی بیماری سے یا مایوس کرنے والی تاخیر سے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يوسف بن عبد الصمد ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ، ← سَهْلُ بْنُ عَاصِمٍ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10574

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10575

10575 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن الحسين بن شهريار ثنا أبو هريرة محمد بن فراس ثنا أبو قتيبة ثنا أبو العوام عن قتادة عن مطرف عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ابن آدم و إلى جنبه تسعة و تسعون منية إن أخطأته المنايا وقع في الهرم حتى يموت

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن حسین بن شہریار نے ان کو ابو ہریرہ محمد بن فراس نے ان کو ابو قتیبہ نے ان کو ابو العوام نے قتادہ سے اس نے مطرف سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اولاد آدم کی مثال ایسی ہے جیسے کہ اس کے پہلو میں اور دل میں ننانوے آرزو ئیں اور خواہش ہیں اگر اس کی آرزوئیں اس سے رہ جا ئیں تو وہ بڑھاپے میں واقع ہو جاتا ہے اور مر جاتا ہے۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو الْعَوَّامِ، ← أَبُو قُتَيْبَةَ، ← أبو هريرة محمد بن فراس ← محمد بن الحسين بن شهريار ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10575

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10576

10576 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني أبي ثنا أبو النفر هاشم بن القاسم عن أبي عقيل الثقفي عن برد بن سنان قال : سمعت بكير بن فيروز قال : سمعت أبا هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خاف أدلج و من أدلج بلغ المنزل إلا أن سلعة الله غالية إلا أن سلعة الله الجنة قلت : كذا قال : برد بن سنان و قال بعضهم يزيد بن سنان و كذا قاله أبو عيسى الترمذي في كتابه يزيد بن سنان

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو ابو النضر باشم بن قاسم نے ابو عقیل ثقفی سے اس نے بردبن سنان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بگیر بن فیروز سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمارہے تھے۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ اول حصے رات میں چلتا ہے۔ اور جو جلدی چلتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ خبر دار بے شک اللہ تعالیٰ کا سامان قیمتی ہے خبر دار اللہ کا سامان جنت ہے۔ میں نے کہا کہ اسی طرح کہا ہے بردبن سنان نے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ اس کو ایسے کہا ہے ابوعیسیٰ ترمذی نے اپنی کتاب میں کہ یزید بن سنان ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← بُكَيْرَ بْنَ فَيْرُوزٍ، ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← أبي عقيل الثقفي ← أبو النفر هاشم بن القاسم ← أَبِي ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الله بن محمد بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10576

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10577

10577 - و بإسناده قال : و ثنا أبو بكر قال : ثنا يحيى بن إسماعيل الواسطي قال : ثنا وكيع قال : ثنا سفيان الثوري عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن الطفيل بن أبي بن كعب عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خاف أدلج و من أدلج بلغ المنزل ألا و إن سلعة الله غالية ألا و إن سلعة الله الجنة جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه

اور اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کیا ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی یحییٰ بن اسماعیل واسطی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع نے وہ کہتے کہ ہمیں حدیث بیان کی سفیان ثوری نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے طفیل بن ابی بن کعب سے اس نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص خوف کرتا ہے وہ اول شب میں چلتا ہے اور جو جلدی چلتا ہے منزل پر جلدی پہنچتا ہے خبر دار اللہ تعالیٰ کا سامان مہنگا ہے خبر دار اللہ کا سامان جنت ہے آچکی ہے کا نپنے والی پیچھے آرہی ہے اس کے پیچھے آنے والی موت آگئی ہے ان تمام ہلاکتوں کے ساتھ جو اس کے اندر ہیں۔

أَبِيهِ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← وَكِيعٌ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10577

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10578

10578 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا محمد بن بكير الحضرمي ثنا ضمام بن إسماعيل عن موسى بن وردان عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا بني عبد مناف أنا النذير و الموت المغير و الساعة الموعد و في رواية الحضرمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا بني هاشم يا بني عبد مناف يا بني قصي أنا النذير فذكره

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کومحمد بن بکیر حضرمی نے ان کو ضمام بن اسماعیل نے موسیٰ بن وردان سے انہوں نے ابو ہریرہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے بنو عبد مناف میں ڈرانے والا ہوں اور موت لوٹ اور تباہی مچانے والی ہے اور قیامت وعد بے کا وقت ہے۔ اور حضرمی کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی ہاشم ! اے بنی عبد مناف ! اے بنو قصی میں ڈرانے والا ہوں۔ پھر راوی نے مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10578

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10579

10579 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا عمرو بن محمد العنقري أنا سفيان عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن الطفيل بن أبي عن أبي بن كعب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ذهب ربع الليل خرج فقال : اذكروا الله اكروا الله جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه

ہمیں خبر دی ابو محمد عبد اللہ بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو عمرو بن محمد عنقری نے ان کو سفیان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے طفیل بن ابی سے اس نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب رات کی ایک چوتھائی گذر جاتی تو آپ نکلتے اور آواز لگاتے تھے اذ کرو اللہ لوگو اللہ کو یاد کرو لو گو اللہ کو یاد کرو آ چکی ہے کا نپنے والی پیچھے آنے والی ہے اس کے پیچھے آنے والی موت آگئی ہے اپنی تمام ہلاکت سامانیوں کے ساتھ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيٍّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← عمرو بن محمد العنقري ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10579

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10580

10580 - أخبرنا أبو عمرو الرزجاهي أنا أبو بكر الإسمعيلي ثنا عبد الله بن محمد بن ناجية ثنا إسحاق بن بهلول الأنباري ثنا الهيثم بن موسى المروزي ثنا عبد الصمد بن الحصين بن الترجمان ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأنبياء قادة و الفقهاء سادة و مجالسهم زيادة و أنتم في ممر الليل و النهار على آجال منقوصة و أعمال محفوظة و الموت يأتيكم بغتة فمن يزرع خيرا يحصد رغبة و من يزرع شرا يحصد ندامة و قد روينا هذا عن عبد الله بن مسعود و من قوله غير مرفوع و هو المحفوظ

ہمیں خبر دی ابو عمر ور ز جاہی نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ناجیہ نے ان کو اسحٰق بن بہلول انباری نے ان کو ہیثم بن موسیٰ مروزی نے ان کو عبد الصمد بن حصین بن ترجمان نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحاق نے حارث سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کرام قیادت کرنے والے ( قائد ) ہیں۔ اور فقہاء ( فہم رکھنے والے) سردار ہیں۔ ان کی ہم نشینی اضافی چیز ہے تم لوگ شب وروز کی گذرگاہ پر کم ہو چکے اجلوں پر ہو۔ تمہارے اعمال بھی محفوظ کئے جاچکے ہیں اور موت تمہارے پاس اچانک آن دھمکے گی جو شخص خیر کی کھیتی کاشت کرے گا وہ خیر ہی کو کاٹے اور حاصل کرے گا اور جوشخص شر کی کھیتی کاشت کرے گا ندامت کی کھیتی کو کاٹے گا۔ ہم نے اس کو روایت کیا عبداللہ بن مسعود سے۔ اس قول سے (کہ غیر مرفوع ) یہی محفوظ ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عبد الصمد بن الحصين بن الترجمان ← الهيثم بن موسى المروزي ← إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أبو بكر الإسمعيلي ← أبو عمرو الرزجاهي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10580

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10581

10581 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أحمد بن عبد العلى حدثني أبو جعفر المكي قال : قال الحسن البصري : طلبت خطب النبي صلى الله عليه و سلم في الجمعة فأعيتني فلزمت رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فسألته عن ذلك فقال : كان يقول : في خطبته يوم الجمعة يا أيها الناس إن لكم علما فانتهوا إلى علمكم و إن لكم نهاية فانتهوا إلى نهايتكم فإن المؤمن بين مخافتين بين أجل قد مضى لا يدري كيف صنع الله فيه و بين أجل قد بقي لا يدري كيف الله بصانع فيه فليتزود المرء لنفسه و من دنياه لآخرته و من الشباب قبل الهرم و من الصحة قبل السقم فإنكم خلقتم للآخرة و الدنيا خلقت لكم و الذي نفسي بيده ما بعد الموت من مستعتب و ما بعد الدنيا دار إلا الجنة و النار و أستغفر الله لي و لكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے و ہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی احمد بن عبدالا علی نے ان کو ابو جعفر مکی نے وہ کہتے ہیں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میں نے جمعہ کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے اور وعظ تلاش کرنے شروع کئے۔ اس تلاش نے مجھے تھکا دیا لہٰذا میں نے اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک شخص کو لازم پکڑ لیا۔ میں نے اس بارے میں اس سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرمایا کرتے تھے اپنے خطبے میں جمعہ کے دن ۔ اے لوگو بے شک تم لوگوں کے پاس ایک علم ہے۔ لہٰذا تم لوگ اپنے علم تک پہنچو( یا تمہارے پاس عمل ہے تم اپنے عمل تک پہنچو ) تمہارے لئے ایک حد اور انتہاء ہے تم اس اپنی انتہاء تک پہنچو۔ بے شک مؤمن دو خوف کی باتوں میں مبتلا ہوتا ہے ایک تو اس کو خوف ہوتا ہے گذرے ہوئے وقت کا کہ اس کو نہیں معلوم ہوتاکہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اور دوسرے اس مدت کے بارے میں خوف ہوتا ہے جو زندگی ابھی باقی ہوتی ہے وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس میں کیا کرے گا۔ لہٰذا انسان کو اپنے لئے سامان سفر خوب تیار کرنا چاہئے ۔ اور اپنی دنیا سے اپنی آخرت کے لئے اور اپنے شباب اور جوانی سے بڑھاپے سے پہلے ۔ اور صحت میں سے بیمار ہونے سے پہلے بے شک تم لوگ آخرت کے لئے بنائے گئے ہو۔ اور دنیا تمہارے لئے بنائی گئی ہے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے موت کے بعد کوئی مہلت نہیں ہے۔ اور دنیا کے بعد کچھ بھی ٹھکانہ نہیں ہے سوائے جنت کے یا جہنم کے میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اپنے لئے اور تم سب کے لئے۔

أبو جعفر المكي ← أحمد بن عبد العلى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10581

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10582

10582 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد حدثني محمد بن علي بن شقيق ثنا إبراهيم بن الأشعث انا الفضل بن عياض عن حسان بن عمران عن الحسن قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم على أصحابه ذات يوم فقال : هل منكم من يريد أن يؤتيه الله عز و جل علما بغير تعلم و هديا بغير هداية هل منكم من يريد أن يذهب الله عز و جل عنه العمى و يجعله بصيرا إلا انه من رغب في الدنيا و قصر أمله فيها أعطاه الله علما بغير تعلم و هدى بغير هداية إلا انه سيكون بعدكم قوم لا يستقيم لهم الملك إلا بالقتل و التجبر و لا الغني إلا بالبخل و الفخر و لا المحبة إلا بالإستخراج في الدين و اتباع الهوى ألا فمن أدرك ذلك الزمان منكم فصبر للفقر و هو يقدر على الغنى و صبر للبغضاء و هو يقدر على المحبة و صبر على الذل و هو يقدر على العز لا يريد بذلك إلا وجه الله عز و جل أعطاه الله ثواب خمسين صديقا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے انکو عبد اللہ بن محمد نے ان کو محمد بن علی بن شقیق نے ان کو ابراہیم بن اشعث نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو حسان بن عمران نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب پر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو یہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو علم سیکھے بغیر علم عطا کر دے۔ اور ہدایت لئے بغیر ہدایت عطا کر دے۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو یہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اندھا پن دور کر دے اور اس کو بینا کر دے مگر وہ شخص جو دنیا سے بے رغبت ہو جائے اور اس میں آرزو کومختصر کر دے اللہ تعالیٰ اس کو علم سیکھے بغیر علم عطا کر دے گا ۔ اور ہدایت لئے بغیر ہدایت عطا کر دے گا۔ خبر دار عنقریب تمہارے بعد ایسی قوم ہوگی کہ ان کے لئے حکومت و بادشاہت راس نہیں آئے گی مگر قتل اور جبر کے ساتھ ۔ اور نہیں ہوگا غنی ہو نا مگر بخل کرنے اور فخر کرنے کے ساتھ اور نہیں ہوگی محبت مگر دین سے نکل جانے اور خواہش نفس کے اتباع کے ساتھ خبر دار و شخص تم میں سے اس زمانے کو پالے پس وہ صبر کرے فقر پر حالانکہ وہ قادر ہوغنی بننے اور مالدار بننے پر اور وہ صبر کرے بغض اور نفرت پر حالانکہ وہ قادر ہو محبت پر اور وہ صبر کرے ذلت پر حالانکہ وہ قادر ہو عزت پر ۔ یہ سب کچھ نہ برداشت کرے مگر اللہ کی رضا کے لئے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پچاس صدیقوں کا ثواب عطا فرمائیں گے۔

خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم على أصحابه ذات يوم ← الْحَسَنِ، ← حسان بن عمران ← الْفَضْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إبراهيم بن الأشعث، ← محمد بن علي بن شقيق ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10582

chevron_left Previous
1…282930…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood