Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10559

10559 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد الغضائري ثنا أبو بكر محمد بن يحيى المؤملي قال : ثنا هشام بن علي العطار ثنا عثمان بن طالوت ثنا العلاء بن محمد عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثروا ذكر هادم اللذات قالوا و ما هادم اللذات قال الموت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن حسن بن محمد غضائری نے ان کو ابوبکر محمد بن یحییٰ موملی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہشام بن علی عطاری نے ان کو عثمان بن طالوت نے ان کو علاء بن محمد نے محمد بن عمرو سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لذات کو تباہ کرنے والی چیز کو کثرت کے ساتھ یاد کر ولوگوں نے پوچھا کہ لذتوں ک ہلاک کرنے والی چیز کیا ہے فرمایا کہ موت ہی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← العلاء بن محمد ← عُثْمَانُ بْنُ طَالُوتَ ← هشام بن علي العطار ← أبو بكر محمد بن يحيى المؤملي ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد الغضائري

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10559

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10560

10560 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو بكر أحمد بن سليمان بن الحسن النجاد إملاء ثنا أحمد بن علي و معاذ بن المثنى قالا ثنا عيسى بن إبراهيم البركي ثنا عبد العزيز بن مسلم ثنا محمد بن عمرو عن علقمة عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أكثروا ذكر هادم اللذات فإنه لم يذكره أحد في ضيق إلا وسع عليه و لا ذكره في سعة إلا ضيقها عليه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان بن حسن نجاد نے بطور املاء کے ان کو احمد بن علی اور معاذ بن مثنی نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی عیسیٰ بن ابراہیم برکی نے ان کو عبد العزیز بن مسلم نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو علقمہ نے ان کو ابو سلمہ نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لذتوں کو تباہ کرنے والی چیز کو کثرت سے یاد کرو جو اس کو تنگی میں یاد کرتا ہے اس پر وسعت ہو جاتی ہے اور جو اس کو فراخی میں یاد کرتا ہے اس پر تنگی ہو جاتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَلْقَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← أحمد بن علي و معاذ بن المثنى ← أبو بكر أحمد بن سليمان بن الحسن النجاد إملاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10560

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10561

10561 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه أنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن زكريا عن إياد بن إسحاق الأسدي حدثني الصباح بن محمد بن أبي حازم البجلي عن مرة الهمداني مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استحيوا من الله حق الحياء قال : قلنا إنا نستحي الله و الحمد لله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استحيى من الله حق الحياء فليحفظ الرأس و ما وعى و ليحفظ البطن و ما حوى و ليذكر الموت و البلى و من أراد الآخرة ترك زينة الحياة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحى من الله حق الحياء

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے ریاد بن اسحاق اسدی سے ان کو حدیث بیان کی صباح بن محمد بن ابو حازم بجلی نے مرہ ہمدانی مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ سے حیاء کرو جس طرح اس سے حیاء کرنے کا حق ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ ہم لوگ اللہ سے حیاء کرتے ہیں اللہ کا شکر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے حیاء کرتا ہے جیسے اس سے حیاء کرنے کا حق ہے اس کو چاہئے کہ وہ سر کی حفاظت کرے اور اس میں جو کچھ ہے۔ اور اس کو چاہئے کہ وہ پیٹ کی حفاظت کرے اور پیٹ جس کو حادی ہے اور مشتمل ہے اور چاہئے کہ موت کو یاد کرے اور بوسیدہ ہونے کو۔ اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دیتا ہے۔ جو شخص یہ کام کرتا ہے وہ اللہ سے حیاء کرتا ہے جیسے اس سے حیاء کرنے کا حق ہے۔

مرة الهمداني مسعود ← الصباح بن محمد بن أبي حازم البجلي ← إياد بن إسحاق الأسدي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10561

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10562

10562 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو إسحاق إبراهيم الآدمي ثنا سعيد بن عبد الحميد بن جعفر ثنا علي بن ثابت عن الوازع بن نافع عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أم المنذر قالت : اطلع رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات عشية إلى الناس فقال : أيها الناس أما تستحيون الله قالوا و ما ذاك يا رسول الله قال : تجمعون ما لا تأكلون و تأملون ما لا تدركون و تبنون ما لا تعمرون

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی ابو اسحاق ابراہیم آدمی نے سعید بن عبدالحمید بن جعفر سے ان کو علی بن ثابت نے ان کو وزاع بن نافع نے ان کو سالم بن عبد اللہ بن عمر نے ان کو ام المنذر نے وہ کہتی ہیں کہ ایک شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف جھانک کر فرمایا تھا: اے لوگو کیا تم اللہ سے نہیں شرماتے ؟ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ وہ کچھ جمع کرتے ہو جس کو کھاتے نہیں ہو۔ اور تم آرزوئیں وہ کرتے ہو جس کو تم پا نہیں سکتے ہو اور عمارتیں وہ بناتے ہو جو تم آباد نہیں کر سکتے ہو۔

و ما ذاك ← أيها الناس أما تستحيون الله ← اطلع رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات عشية إلى الناس ← أمِّ المنذر ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← سعيد بن عبد الحميد بن جعفر ← أبو إسحاق إبراهيم الآدمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10562

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10563

10563 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن الحسن بن قتيبة ثنا محمد بن أبي السرى ثنا عبد العزيز بن عبد الصمد ثنا أبان بن أبي عياش عن أنس بن مالك قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على ناقته الجدعاء فقال في خطبته : يا أيها الناس كأن الحق فيها على غيرنا وجب و كأن الموت على غيرنا كتب و كأن الذي يشيع من الأموات سفر عما قليل إلينا راجعون نبوئهم أجدائهم و نأكل نزاقهم كأنا مخلدون بعدهم نسينا كل موعظة و أمنا كل جائحة طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس و أنفق مالا كسبه في غير معصية و خالط أهل الفقه و الحكمة و جانب أهل الذل و المعصية طوبى لمن ذل في نفسه و حسنت خليقته و صلحت سريرته و عزل عن الناس شره طوبى لمن عمل بعمله و أنفق الفضل من ماله و امسك الفضل من قوله و وسعته السنة و لم يعدها إلى البدعة تفرد به أبان و قد روى بعض ألفاظه في آخر الحديث من حديث ركب المصري

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن حسن بن قتیبہ نے ان کو محمد بن ابو السری نے ان کو عبد العزیز بن عبد الصمد نے ان کو ابان بن ابو عیاش نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جد عاء اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے خطبہ دیا۔ اور اپنے خطبے میں آپ نے ارشاد فرمایا۔ اے لوگو ایسے ( لگتا ہے )جیسے کہ اس دنیا میں حق (ہمارے اوپر لازم نہیں ہے ) ہمارے ماسوا اور غیروں پر واجب کیا گیا ہے۔ اور جیسے کہ موت ( ہمارے لئے نہیں ) ہمارے ماسوا دوسروں پر لکھ دی گئی ہے۔ گویا کہ وہ لوگ جور خصت ہو گئے ہیں اموات میں سے وہ سفیر بھیجے ہوئے ہیں۔ (مردوں کے آگے پہنچ کر ہم ایسے غافل ہو جاتے ہیں جیسے کہ )یہ تھوڑے عرصے بعد واپس ہمارے پاس آجائیں گے۔ ہم لوگ خودان کو قبروں میں دفن کرتے ہیں پھر ان کے مال و متاع اور تر کے کو ایسے کھاتے ہیں جیسے ہم ان کے پیچھے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہم ہر نصیحت بھول جاتے ہیں۔ اور ہم ہر خطرے سے امن میں اور محفوظ ہو جاتے ہیں۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا اپنے عیبوں پر نظر کرنا اس کو دوسروں کی عیب بینی سے مصروف کر دیتا ہے۔ اور وہ مال کو خرچ کرتا ہے جس کو اس نے غیر معصیت میں کمایا تھا اور اہل فقہ و دانش سے میل جول رکھتا ہے اور اہل ذلت و گناہ سے علیحدہ رہتا ہے۔ مبارک بادی ہے اس کے لئے جو اپنے آپ کے نزدیک کم عزت دار ہے۔ حالانکہ اس کے اخلاق اچھے ہیں اور اس کا باطن اصلاح پذیر ہے۔ اور اپنے شر سے لوگوں کو بچاتا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جو اپنے علم کے ساتھ عمل کرتا ہے، اور اپنے فاضل مال کو خرچ کرتا ہے۔ اور فاضل و غیر ضرور ی بات چیت سے رک جاتا ہے۔ اور اس کے دائرہ عمل اس کے لئے سنت کافی ہوتی ہے وہ اس کو چھوڑ کر بدعت کی طرف نہیں جاتا۔ اس روایت کے ساتھ ابان کا تفرد ہے۔ اور تحقیق حدیث کے آخر میں بعض الفاظ ایک مصری کی حدیث میں ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10563

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10564

10564 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن قريش ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن المصفي ثنا محمد بن حمير ثنا أبو بكر بن أبي مريم عن عطاء بن أبي رباح عن أبي سعيد الخدري قال : اشترى أسامة بن زيد بن ثابت وليده بمائة دينار إلى شهر فسمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ألا تعجبون من أسامة إلى شهر أسامة لطول الأمل و الذي نفسي بيده ما طرفت عيناي فظننت أن شفيري يلتقيان حتى أقبض و لا رفعت طرفي و ظننت أني أوضعه حتى أقبض و لا لقمت فظننت أني أسيغها حتى أغص بالموت يا بني آدم إن كنتم تعقلون فعدوا أنفسكم في الموتى إنما توعدون لآت

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمن سلمی نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن قرشی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن مصفی نے انکومحمد بن حمیر نے ان کو ابو بکر بن ابو مریم نے ان کو عطا بن ابو رباح نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں اسامہ بن زید بن ثابت نے مہینے بھر کے لئے سودینار کے بدلے میں ایک غلام خرید کیا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کیا آپ لوگ حیران نہیں ہوتے اس بات پر کہ اسامہ نے مہینے بھر کے لئے عام خریدا ہے طول آرزو کی وجہ سے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ نہیں جھپکتی میری دونوں آنکھیں پس میں گمان کرتا ہوں کہ دونوں میری پلکیں مل جائیں گی اور ملتے ہی میں قبض کر لیا جاؤں گا۔ اور میں جو نہیں آنکھ اٹھا تا ہوں اور میں گمان کرتا ہوں کہ جیسی ہی میں نظر نیچے کروں گا میں قبض کر لیا جاؤں گا۔ اور میں جب بھی لقمہ منہ میں لیتا ہوں میں یہی گمان کرتا ہوں کہ میں جیسے ہی اس کو نگلوں گا اس کے ساتھ ہی میری موت ہو جائے گی ۔ اے آدم زاد واگر تم عقل رکھتے ہو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو کیونکہ جو تمہیں وعدہ ملا ہوا ہے وہ آنے والا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اشترى أسامة بن زيد بن ثابت وليده بمائة دينار إلى شهر ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10564

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10565

10565 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد انا أبو معاوية عن سليمان بن فروخ عن الضحاك بن مزاحم قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل فقال يا رسول الله من أزهد الناس قال : من لم ينس القبر و البلى و ترك فضل زينة الدنيا و آثر ما بقي على ما يغني و لم يعد غدا من أيامه وعد نفسه في الموتى

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوعلی حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ابوالدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو سلیمان بن فروخ نے ضحاک بن مزاحم سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے پوچھا کہ سب لوگوں سے زیادہ زاہد کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو قبر کو نہیں بھولتا اور گل جانے بوسیدہ ہو جانے کو نہیں بھولتا اور دنیا کی زینت کی زیادتی کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور اس کو ترجیح دیتا ہے جو باقی رہے اس پر جس کی ضرورت نہ ہو اور نہیں گنتا آئندہ کل کو اپنے ایام میں سے اور اپنے نفس کو مردوں میں شمار کرتا ہے۔

أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل فقال ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ فَرُّوخَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أبو الحسين بن صفوان ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10565

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10566

10566 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا يعقوب بن يوسف مولى بني أسد ثنا أبو هريرة محمد بن أيوب الواسطي ثنا أبو إبراهيم التميمي سمعت راشدا أبا الجودي ثنا أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عد غدا من أجله فقد أساء صحبة الموت هذا إسناد مجهول و روى من وجه آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو یعقوب بن یوسف مولی ٰبنی اسد نے ان کو ابو ہریرہ محمد بن ایوب واسطی نے ان کو ابو ابراہیم تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا راشد ابو الجودی سے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کل صبح کو اپنی مہلت مدت میں سے شمار کیا اس نے موت کے ساتھ بری دوستی کی ۔ یہ مجہول اسناد ہے اور ایک اور ضعیف طریق سے بھی مروی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← راشدا أبا الجودي ← أبو إبراهيم التميمي ← أبو هريرة محمد بن أيوب الواسطي ← يعقوب بن يوسف مولى بني أسد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10566

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10567

10567 - أخبرنا أبو الحسن الأهوازي أنا أحمد بن عبيد ثنا الكديمي ثنا محمد بن أيوب الكلابي ثنا يحيى بن يمان حدثني أبو الحواري عن هارون بن موسى عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عد غدا من أجله فقد أساء صحبة الموت

ہمیں خبر دی ابوالحسن اہوازی نے ان کو احمد بن عبید کریمی نے ان کو محمد بن ایوب کلابی نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو حدیث بیان کی ابوالحواری نے ان کو بارون بن موسیٰ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے آنے والی صبح کو اپنی مدت مہات میں سے شمار کیا اس نے موت کے ساتھ بری دوستی کی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو الْحَوَارِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← محمد بن أيوب الكلابي ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن الأهوازي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10567

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10568

10568 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار أنا أبو بكر بن أبي الدنيا أنا جعفر الآدمي محمد بن يزيد ثنا سفيان عن محمد بن أبان عن زيد السليمي : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أنس من أصحابه غفلة أو غرة نادى فيهم بصوت رفيع أتتكم المنية راتبة لازمة إما بشقاوة و إما بسعادة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو جعفر آدمی محمد بن یزید نے ان کو سفیان نے محمد بن ابان سے اس نے زید سلیمی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں کوئی غفلت کی کیفیت محسوس کرتے تھے یا دھوکہ کھانے کی تو ان میں بلند آواز سے پکارتے تھے تمہارے پاس موت آ چکی ہے قائم و دائم اور لازم اور ملزوم ہونے والی یا شقاوت کے ساتھ یا سعادت کے ساتھ ۔

زيد السليمي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← سُفْيَانَ، ← جعفر الآدمي محمد بن يزيد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10568

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10569

10569 - أخبرنا محمد عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا إبراهيم بن عمر الصغاني ثنا الوضين بن عطاء قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أحس من الناس بغفلة من الموت جاء فأخذ بعضادتي الباب ثم هتف ثلاثا يا أيها الناس يا أهل الإسلام أتتكم الموتة راتبة لازمة جاء الموت بما جاء به جاء بالروح و الراحة و الكره و المباركة لأولياء الرحمن من أهل دار الخلود الذين كان سعيهم و رغبتهم فيها لها ألا إن لكل ساع غاية و غاية كل ساع سابق مسبوق

ہمیں خبر دی محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو ابراہیم بن عمر صنعانی نے ان کو وضین بن عطاء نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں میں غفلت محسوس کرتے تھے موت سے ۔تو تشریف لاتے اور دروازے کی دونوں چوکھٹوں کو پکڑ کر کھڑے ہوتے۔ پھر تین مرتبہ آواز دیتے۔ اے لوگو تمہارے پاس موت آ چکی ہے قائم و دائم اور لازم ۔ موت آچکی ہے اپنے سامان کے ساتھ ۔ آرام و راحت کو بھی لائی ہے۔ اور تکلیف اور کراہت کو۔ اور مبارک ہے وہ رحمٰن کے ولیوں اور دوستوں کے لئے ۔ جو دار خلد میں سے ہیں جن کی سعی اور رغبت دنیا میں اسی دار خلد کے لئے تھی ۔ خبردار بے شک ہر دوڑنے والے کے لئے ایک حد اور انتہا ، ہوتی ہے۔ اور ہر سعی کرنے والے کی آخری حد اور انتہا، موت ہے، جو کہ سابق بھی ہے اور مسبوق بھی۔

الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← إبراهيم بن عمر الصغاني ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10569

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10570

10570 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد جعفر بن أحمد بن إبراهيم المقريء بمكة ثنا أبو عوف عن عبد الرحمن بن مرزوق ثنا روح بن عبادة ثنا ابن جريج عن أبي الحوشب عن زرعة بن عبد الله البياض : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يحب الإنسان الحياة و الموت خير لنفسه و يحب الإنسان كثرة المال و قلة المال أقل لحسابه هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو محمد جعفر بن احمد بن ابراہیم مقری نے ۔مکہ مکرمہ میں ان کو ابو عوف نے عبد الرحمٰن بن مرزوق سے اس نے روح بن عبادہ سے اس نے ابن جریج سے اس نے ابوالحوشب سے اس نے زرعہ بن عبد اللہ بیاض سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان حیات کو پسند کرتا ہے حالانکہ موت اس کی ذات کے لئے بہتر ہوتی ہے اور انسان مال کی کثرت پسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی میں اس کا حساب کم سے کم ہوتا ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔

زرعة بن عبد الله البياض ← أبي الحوشب ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← عبد الرحمن بن مرزوق ← أَبُو عَوْفٍ ← أبو محمد جعفر بن أحمد بن إبراهيم المقريء بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10570

chevron_left Previous
1…272829…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood