Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10547

10547 - أخبرنا أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله النخعي أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا أحمد بن حازم أنا عبد الله بن محمد هو ابن أبي شيبة أنا إسحاق بن منصور عن أبي رجاء عبد الله بن واقد عن محمد بن مالك عن البراء بن عازب قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة فلما انتهينا إلى القبر حثا على القبر فاستدرت فاستقبلته فبكى حتى بل الثرى ثم قال : إخواني لمثل هذا اليوم فأعدوا

ہمیں خبر دی ابو منصور محمد بن عبداللہ نخعی نے انکو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عبداللہ ابن محمد یعنی ابن شیبہ نے ان کو اسحٰق بن منصور نے ان کو ابور جاء نے عبد اللہ بن واقد سےان کو محمد بن مالک نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک جنازے میں ہم جب قریب پہنچے تو حضور نے قبر پر مٹی ڈالی میں گھوم کر آپ کے سامنے آیا تو آپ رو پڑے حتیٰ کہ مٹی گیلی ہو گئی پھر فرمایا ۔ کہ میرے بھائیو اس جیسے دن کے لئے بس تیاری کرو۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ ← أبي رجاء عبد الله بن واقد ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله النخعي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10547

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10548

10548 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا بشر بن الوليد الكندي من كتاب ثنا أبو رجاء الهروي عبد الله بن واقد عن محمد بن مالك عن البراء بن عازب قال : أقبلت مع النبي صلى الله عليه و سلم في بعض المدينة فبصر بجماعة فقال على ما اجتمع هؤلاء قيل على قبر يحفرونه قيل ففزع النبي صلى الله عليه و سلم فبدر بين يدي أصحابه مسرعا حتى انتهى إلى القبر فحثا عليه قال البراء فاستقبلته من بين يديه لأنظر ما يصنع فرأيته بكى حتى بل الثرى من دموعه ثم أقبل علينا فقال أي إخواني لمثل هذا فادعوا

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا بشر بن ولید کندی نے ایک کتاب سے اس نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابور جاء ہر وی عبداللہ بن واقد نے محمد بن مالک سے اس نے براء بن عازب سے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے کے بعض حصے میں آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت دیکھی تو فرمایا کہ کس وجہ سے یہ لوگ جمع ہیں کسی نے بتایا یہ کوئی قبر کھود رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور اپنے اصحاب کے سامنے جلدی سے گئے اور قبر پر پہنچ گئے اور اس پر آپ نے مٹی ڈالی براء کہتے ہیں کہ میں نے سامنے آکر دیکھا آپ اور ہے تھے حتی ٰ کہ مٹی گیلی ہو گئی آپ کے آنسو سے۔ اس کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایااے میرے بھائیو اس جیسے منظر کے لئے دعا کرو۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ ← أبو رجاء الهروي عبد الله بن واقد ← أبو بكر بن أبي الدنيا بشر بن الوليد الكندي من كتاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10548

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10549

10549 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن أبي قماش ثنا عمرو بن عون عن إسماعيل بن عياش عن العلاء بن عتبة عن عطاء عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكيس المؤمنين أكثرهم ذكرا و أحسنهم للموت استعدادا أولئك الأكياس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو عمرو بن عون نے اسماعیل بن عیاش سے اس نے علاء بن عقبہ سے اس نے عطا ء سے اس نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومنوں میں سے سب سے زیادہ عقل مند وہ ہیں جو ان میں سے سب سے زیادہ ذکر کرنے والے ہیں اور موت کے لئے سب سے زیادہ بہتر تیاری کرتے ہیں وہی لوگ عقل مند ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← الْعَلَاءِ بْنِ عُتْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10549

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10550

10550 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي و أبو عثمان سعيد بن محمد بن عبدان و أبو سعيد بن أبي عمرو و غيرهم قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب قالا ثنا عبيد الله بن سعد بن كثير بن عفير قال : حدثني أبي قال : حدثني مالك بن أنس عن عمه أبي سهيل بن مالك عن عطاء بن أبي رباح عن عبد الله بن عمر : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم أي المؤمنين أفضل قال : أحسنهم خلقا قال : فأي المؤمنين أكيس قال : أكثرهم للموت ذكرا و أحسنهم له استعدادا أولئك الأكياس ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : خمس خصال يا معشر المهاجرين أن تنزل بكم أعوذ بالله أن تدركوهن : لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا إلا فشا فيهم الطاعون و الأوجاع التي لم تكن فشت في أسلافهم و لم ينقصوا المكيال و الميزان إلا أخذوا بالسنين و شدة المؤونة و جور السلطان عليهم و ما منعوا زكاة أموالهم إلا منعوا المطر و لولا البهائم لم يمطروا و لم ينقضوا عهد الله و عهد رسوله إلا سلط الله عليهم عدوهم فأخذوا بعض ما في أيديهم و ما لم يحكم أئمتهم بكتاب الله و يتخذوا فيما أنزل الله إلا جعل بأسهم بينهم لفظهما سواء إلا أن في حديث المصري قال عبد الله : خمس خصال إلى آخر الحديث

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسین قاضی نے اور ابو عثمان سعید بن محمد بن عبدان نے اور ابوسعید بن ابو عمرو اور دیگر نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن سعد بن کثیر بن عفیر نے اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے ان کو حدیث بیان کی مالک بن انس نے اپنے چچا سہیل بن مالک سے اس نے عطاء بن ابور باح سے اس نے عبداللہ بن عمر سے کہ ایک آدمی نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کون سامو من افضل ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوان میں زیادہ اچھے اخلاق والا ہو۔ پھر اس نے پوچھا کہ کون سامؤمن عقل مند ہے۔ فرمایا کہ جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرے اور ان میں سے اس کے لئے بہتر تیاری کرے وہ لوگ عقل مند ہیں۔ پانچ خصلتیں ہیں اے مہاجرین کی جماعت اگر وہ تمہارے ساتھ اتر پڑیں میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تم ان کو یاد ۔ جس قوم میں بدکاری وبے حیائی غالب ہو کر غالب اور ظاہر ہو جائے ان میں طاعون اور وبائی امراض عام ہو جاتے ہیں اور ایسی بیماریاں جو ان کے اسلاف میں نہیں تھیں۔ اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں وہ قحط سالی میں اور سخت مشقت میں مبتلا اور بادشاہ کے ظلم میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ روک لیتے ہیں ان سے رحمت کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر چوپائے جاندار نہ ہوتے تو بالکل ان کو بارش نصیب نہ ہوتی اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کیا کیا عہد توڑتے ہیں اللہ ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے لہٰذا جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ بھی ان سے چھن جاتا ہے۔ اور جن لوگوں کے حکمران کتاب اللہ اور قرآن کے ساتھ فیصلے نہیں کرتے اور اللہ نے اس میں ان کے لئے جو آتا ہے اس کو نہیں اپنا تے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آپس میں جھگڑا اور فساد برپا کر دیتے ہیں۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں مگر یہ ہے کہ مصری کی حدیث میں ہے کہ کہا عبد اللہ نے پانچ صفات ہیں تا آخر حدیث تک ۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10550

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10551

10551 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو بكر أحمد كامل القاضي ثنا عبد الملك بن محمد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا حمزة بن العباس العقبي ثنا أبو قلابة ثنا إسحاق بن ناصح ثنا قيس بن الربيع عن منصور عن ربعي عن طارق بن عبد الله المحاربي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا طارق استعد للموت قبل الموت

ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو بکر احمد کامل قاضی نے ان کو عبد الملک بن محمد نے ’’ح‘‘۔اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو حمزہ بن عباس عقبی نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو حدیث بیان کی اسحاق بن ناصح نے ان کو فیس بن ربیع نے ان کو منصور نے ربعی سے اس نے طارق بن عبداللہ محاربی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے طارق موت سے پہلے موت کے لئے تیاری کیجئے۔

طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← إسحاق بن ناصح ← أَبُو قِلَابَةَ ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو بكر أحمد كامل القاضي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10551

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10552

10552 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن جعفر الوركاني حدثني عدي بن الفضل عن عبد الرحمن بن عبد الله عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن أيوب عن ابن مسعود قال : تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم : { فمن يرد الله أن يهديه يشرح صدره للإسلام } فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أن النور إذا دخل الصدر انفسخ فقيل يا رسول الله هل لذلك من علم يعرف قال : نعم التجافي عن دار الغرور و الإنابة إلى دار الخلود و الاستعداد للموت قبل نزوله

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن جعفر ور کانی نے ان کو حدیث بیان کی عدی بن فضل نے عبدالرحمٰن بن عبد اللہ سے اس نے قاسم بن عبد اللہ رحمٰن سے اس نے اپنے والد سے اس نے ایوب سے اس نے ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ فمن يرد الله ان يهديه يشرح صدره للاسلام۔ الله تعالیٰ جس کو ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اسلام کے لئے اس کا سینہ کھول دیتا ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نور جب سینہ میں داخل ہو جاتا ہے سینہ کشادہ ہو جاتا ہے سوال کیا گیا یا رسول اللہ کیا اس کے لئے کوئی علم ہے جس سے اس کی پہچان ہو سکے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں دھو کے والے گھر سے علیحدگی اور ہمیشہ والے گھر کی طرف رجوع وانابت اور موت کے آنے سے قبل موت کے لئے تیاری کرنا۔

تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10552

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10553

10553 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا يحيى بن معين ثنا هشام بن يوسف عن عبد الله بن بجير القاضي عن هانىء مولى عثمان بن عفان قال : كان عثمان رضي الله عنه إذا وقف على قبر بكى حتى بل لحيته فقيل له تذكر الجنة و النار و لا تبكي و تبكي من هذا قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن القبر أول منزل من منازل الآخرة فإن نجا منه فما بعده أيسر منه و إن لم ينج منه فما بعده شر منه قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما رأيت منظرا قط إلا القبر أفظع منه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یحیی ٰبن معین نے ان کو ہشام بن یوسف نے ان کو عبد اللہ بن بحیر قاضی نے ان کو ہانی مولیٰ عثمان بن عفان نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر ٹھہر تے تھے تو روتے تھے حتی ٰ کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی تھی۔ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ جنت کو یاد کرتے ہیں اور جہنم کو یاد کرتے ہیں مگر آپ نہیں روتے اور قبر کو دیکھ ہی کر رونے لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : کہ بے شک قبر پہلی منزل ہے آخرت کی منازل میں۔ اگر اس سے نجات ہوگئی تو ما بعد اس سے آسان ہوگا اور اگر یہاں سے نجات نہ ہوئی تو مابعد اس سے بہت برا ہوگا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ؟ میں نے جو بھی ہیبت ناک مناظر دیکھے ہیں قبران سب سے زیادہ وحشتناک ہے۔

هانىء مولى عثمان بن عفان ← عبد الله بن بجير القاضي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10553

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10554

10554 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا الحسن بن محبوب و غيره قالوا ثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كفى بذكر الموت مزهدا في الدنيا مرغبا في الآخرة هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حسن بن محبوب وغیرہ نے انہوں نے کہا ان کو حدیث بیان کی ہے اسحاق بن سلیمان رازی نے ابو جعفر رازی سے اس نے ربیع بن انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سے بے رغبت ہونے اور آخرت میں راغب ہو جانے کے لئے موت کا تذکرہ کرنا کافی ہے۔

الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← الحسن بن محبوب و غيره ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10554

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10555

10555 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد هو ابن إسحاق الصغاني ثنا شريح بن يونس ثنا إسحاق بن سليمان قال : سمعت أبا جعفر الرازي عن الربيع بن أنس : رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : كفى بالموت مزهدا في الدنيا مرغبا في الآخرة

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو اسحٰق بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو جعفر رازی سے اس نے ربیع بن انس سے۔ اس نے حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے فرمایا کہ آدمی کو دنیا سے بے رغبت ہونے والا اور آخرت میں رغبت کرنے والا ہونے کے لئے موت کو یاد کرنے والا ہونا کافی ہے۔

كفى بالموت مزهدا في الدنيا مرغبا في الآخرة ← الربيع بن أنس رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبَا جَعْفَرٍ الرَّازِيَّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← محمد هو ابن إسحاق الصغاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن ← و قد

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10555

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10556

10556 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عمر أنيس الدلال ثنا داود بن رشيد ثنا الربيع بن بدر عن يونس بن عبيد عن الحسن عن عمار يعني ابن ياسر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : كفى بالموت واعظا و كفى باليقين غنى و كفى بالعبادة شغلا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عمر انیس دلال نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو ربیع بن بدر نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کو عمار یعنی ابن یا سر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔ کہ موت نصیحت کرنے والا ( واعظ کافی ہے ) اور غنی ہونے کے لئے یقین ہونا کافی ہے۔ اور مشغولیت کے لئے عبادت ہی کافی ہے۔

كفى بالموت واعظا و كفى باليقين غنى و كفى بالعبادة شغلا ← كان النبي صلى الله عليه و سلم ← عمار يعني ابن ياسر ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← عمر أنيس الدلال ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10556

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10557

10557 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن صالح الأنماطي ثنا محمد بن إسماعيل ثنا عبد الله بن سلمة عن أم حبيبة الجهنية قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو يعلم البهائم الموت ما يعلم بنو آدم ما أكلت سمينا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن صالح انماطی نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو عبد اللہ بن سلمہ نے ام حبیبہ جہینہ سے وہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چوپائے مویشی موت کو اس قدر جا ئیں جیسے بنو آدم جانتے ہیں تو آپ موٹے جانور کو نہ کھا ئیں۔

أُمِّ حَبِيبَةَ الْجُهَنِيَّةِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10557

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10558

10558 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه ثنا أحمد بن علي الأبار ح و أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا القاضي أبو بكر أحمد بن محمود بن خرزاد الأهوازي ثنا موسى بن إسحاق و محمد بن جعفر القتات ثنا منجاب بن الحارث ثنا أبو عامر الأسدي عن عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثروا ذكر هادم اللذات فإنه لا يكون في كثير إلا قلله و لا في قليل إلا أجزاه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے ان کو احمد بن علی آباد نے ’’ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو بکر فورک نے ان کو قاضی ابو بکر احمد بن محمود بن خرز ادا ھوازی نے ان کو موسیٰ بن اسحاق اور محمد بن جعفرقتات نے ان کو منجاب بن حارث نے ان کو ابو عامر اسدی نے ان کو عبد اللہ بن عمر عمری نے ان کو نافع نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو توڑ دینے والی خیر کو کثرت کے ساتھ یاد کرو۔ بے شک شان یہ ہے کہ نہیں ہوگا کثیر میں مگر اس کو قلیل کر دے گا اور نہ ہی قلیل میں مگر اس کو کفایت کرے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن عمر العمري ← أَبُو عَامِرٍ الْأَسَدِيُّ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← موسى بن إسحاق و محمد بن جعفر القتات ← القاضي أبو بكر أحمد بن محمود بن خرزاد الأهوازي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10558

chevron_left Previous
1…262728…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood