Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10523

10523 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص الزاهد ثنا محمد بن أحمد بن الوليد ثنا محمد بن كثير عن سفيان الثوري عن أبي حازم المدني عن سهل بن سعد الساعدي قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله دلني على عمل إذا أنا عملته أحبني الله و أحبني الناس قال : ازهد في الدنيا يحبك الله و ازهد فيما عند الناس يحبك الناس

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص زاہد نے ان کو محمد بن احمد بن ولید نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابو حازم مدنی نے اس نے سہل بن سعد ساعدی سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ میں جب وہ عمل کروں مجھے اللہ محبوب بنا لے اور لوگ بھی مجھے محبوب بنا لیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تجھ سے محبت کرے گا اور لوگوں کے مال سے تو بے رغبت ہو جا لوگ تجھے محبوب بنا لیں گے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ الْمَدَنِيِّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10523

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10524

10524 - أخبرنا أبو سعد الماليني قال : قال أبو أحمد بن عدي الحافظ لا أدري ما أقول في رواية ابن كثير عن الثوري هذا الحديث منكر و قد روى عن زافر عن محمد بن عيينة أخي سفيان عن أبي حازم عن سهل و روى من حديث زفر عن محمد بن عيينة عن ابن عمر قلت : حديث ابن كثير تفرد به محمد بن أحمد بن الوليد بن برد الأنطاكي عنه و الله اعلم

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابو احمد بن عدی حافظ نے میں نہیں جانتا کہ میں ابن کثیر کی روایت کے بارے میں کیا کہوں جو ثوری سے ہے یعنی یہی حدیث بے شک محمد ابن کثیر تو ثقہ ہے قوی ہے اور یہ حدیث ثوری سے منکر ہے۔ اور تحقیق روایت کی گئی ہے زافر سے اس نے محمد بن عیینہ سے اس نے ابن عمر سے میں نے کہا کہ حدیث محمد بن کثیر میں محمد بن احمد کا تفر دمحمد بن احمد بن ولید بن برد الانطا کی۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← سهل و روى من حديث زفر ← أَبِي حَازِمٍ ← محمد بن عيينة أخي سفيان ← زَافِرُ، ← الثوري هذا الحديث منكر و قد روى ← أبو أحمد بن عدي الحافظ لا أدري ما أقول في رواية ابن كثير ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10524

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10525

10525 - و روى عن أبي قتادة عن الثوري نحو حديث خالد القرشي أخبرناه أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنا أبو إسحاق الشيرازي أنا أبو عروبة ثنا يزيد بن محمد ثنا أبو قتادة عن الثوري : فذكره

ابو قتادہ سے روایت کی گئی ہے اس نے ثوری سے مثل حدیث خالد قرشی کے۔ اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبد الرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو اسحاق شیرازی نے ان کو ابو عروبہ نے ان کو یزید بن محمد نے ان کو محمد بن ابو قتادہ نے ثوری سے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔

الثوري فذكره ← أَبُو قَتَادَةَ ← يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَرُوبَةَ، ← أبو إسحاق الشيرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← الثوري نحو حديث خالد القرشي ← أَبِي قَتَادَةَ، ← و روي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10525

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10526

10526 - أخبرنا أبو سعد الماليني انا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن جعفر بن الإمام ثنا سعيد بن سليمان عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : و لا أعلمه إلا قد رفعه قال : صلح أمر أول هذه الأمة بالزهد و اليقين و هلك آخرها بالبخل و الأمل

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کومحمد بن جعفر بن امام نے ان کو سعید بن سلیمان نے محمد بن مسلم سے اس نے ابراہیم بن میسرہ سے اس نے عمرو بن شعیب سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر یہی کہ تحقیق اس نے اس کو مرفوع روایت کیا ہے۔ فرمایا کہ اس امت کا آغاز اول زہد اور یقین کے ساتھ اصلاح پذیر ہوا تھا ( اور اچھا ہوا تھا ) اور اس کا آخر بخل اور آرزو سے ہلاک ہو گا

و لا أعلمه إلا قد رفعه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد بن جعفر بن الإمام ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10526

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10527

10527 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق أبو بكر السراج ثنا الحسن بن حماد سجادة ثنا عمرو بن هاشم عن جويبر و أخبرنا أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني ثنا محمد بن حيان بن حمدويه أبو بكر الجبائي ثنا محمد بن منده ثنا سهل بن عثمان العسكري ثنا أبو مالك الجنبي عن جويبر عن الضحاك عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم أن الله تبارك و تعالى ناجى موسى عليه السلام فكان فيما ناجاه أن قال : يا موسى لم يتصنع المتصنعون بمثل الزهد في الدنيا و لم يتقرب المتقربون بمثل الورع عما حرمت عليهم و لم يتعبد المتعبدون بمثل البكاء من خشيتي فقال موسى عليه السلام : يا رب و يا إله البرية كلها و يا مالك يوم الدين و يا ذا الجلال و الإكرام ماذا أعددت لهم و ماذا جزيتهم قال : أما الزاهدون في الدنيا فإني امنحهم جنتي يتبوأون منها حيث شاءوا و أما الورعون عما حرمت عليهم فإذا كان يوم القيامة لم يبق عبد إلا ناقشته الحساب و فتشت عما في يديه إلا الورعون فإني استحييهم و أجلهم و أكرمهم و أدخلهم الجنة بغير حساب و أما الباكون من خشيتي فأولئك لهم الرفيق الأعلى لا يشاركهم فيه أحد لفظ حديث ابن عبدان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق ابو بکر سراج نے ان کو حسن بن حماد سجادہ نے ان کو عمرو بن ہاشم نے جو یبر سے۔ اور ہمیں خبر دی ابو یعلی حمزہ بن عبد العزیز بن محمد صید لانی نے ان کو محمد بن حیان حمدویہ نے ان کو ابو بکر جبائی نے ان کو محمد بن مندہ نے ان کو سہل بن عثمان عسکری نے ان کو ابو مالک جنبی نے جو یبر سے اس نے ضحاک سے اس نے ابن عباس سے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے سرگوشی کی اس سر گوشی میں یہ تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ تصنع اور بناوٹ کرنے والوں نے دنیا میں زہد جیسی کوئی تصنع اور بناوٹ نہیں کیا۔ اللہ کا قرب ڈھونڈھنے والوں نے ورع و پر ہیزگاری جیسا تقرب حاصل نہیں کیا ان چیزوں سے پر ہیز جوان پر حرام ہیں ۔ اور عابدوں نے میرے خوف سے رونے جیسی کوئی عبادت نہیں کی تو موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی اے میرے رب اسے ساری مخلوق کےمعبود و مشکل کشا اور اے روز جزا کے مالک اجلال و بزرگی والے آپ نے ان کے لئے کیا کیا تیار کر رکھا ہے اور آپ نے ان کو کیا جزا دی ہے۔ بہر حال زاہد لوگ جو دنیا میں ہیں، میں نے ان کو اپنی جنت عطیہ کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں جگہ پکڑیں گے جہاں سے چاہیں گے ۔ بہر حال پر ہیز گار جوان امور سے پر ہیز کریں جو ان پر حرام ہے۔ تو جب قیامت کا دن ہوگا کوئی بندہ باقی نہیں رہے گا مگر میں اس سے مناقشہ کروں گا حساب لوں گا اور ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس کی تفتیش کروں گا مگر پرہیز گاروں سے نہیں کروں گا میں شرم و حیا کرتا ہوں۔ اور ان کو مہات دیتا ہوں اور ان کو عزت دوں گا اور ان کو جنت میں داخل کروں گا۔ بہر حال جو لوگ میرے خوف سے رونے والے ہیں وہی لوگ ہیں جن کے لئے رفیق اعلیٰ ہے ان کے ساتھ اس مقام میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوگا۔ ابن عبدان کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← جُوَيْبِرٍ ← أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ، ← محمد بن حيان بن حمدويه أبو بكر الجبائي ← أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني ← جويبر و ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← إسماعيل بن إسحاق أبو بكر السراج ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10527

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10528

10528 - و رواه أيضا ابن وهب عن الماضي عن جويبر عن الضحاك : باسناده

اور اس کو بھی ابن وہب نے ماضی سے روایت کیا ہے اس نے جو یبر سے اس نے ضحاک سے اپنی اسناد کے ساتھ ۔

الضحاك باسناده ← جُوَيْبِرٍ ← الماضي ← و رواه أيضا ابن وهب

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10528

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10529

10529 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ثنا الحسين بن إدريس ثنا هشام بن عمار ثنا الحكم بن هشام ثنا يحيى بن سعيد بن أبان عن أبي فروة عن أبي خلاد و كانت له صحبة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأيتم الرجل المؤمن قد أعطي زهدا في الدنيا و قلة منطق فاقتربوا منه فإنه يلقى الحكمة و كذلك قال عبد الله بن يوسف عن الحكم بن هشام

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور عباس بن فضل نضروی نے ان کو حسین بن ادریس نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو حکم بن ہشام نے ان کو یحییٰ بن سعید بن ابان نے ان کو ابو فروہ نے ان کو ابوخلاد نے اور ان کو صحبت رسول حاصل تھی وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسے مومن کو دیکھو جو دنیا سے بے رغبتی عطا کیا گیا ہے۔ اور کم بولنا بھی تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ وہ شخص فراست اور حکمت کو پالے گا۔ اور اسی طرح کہا ہے عبداللہ بن یوسف نے حکم بن ہشام سے۔

أبي خلاد و كانت له صحبة ← أَبِي فَرْوَةَ ← يحيى بن سعيد بن أبان ← الْحَكَمِ بْنِ هِشَامٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10529

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10530

10530 - و قال أحمد بن إبراهيم عن يحيى سمع أبا فروة الجزري عن أبي مريم عن أبي خلاد : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال البخاري و هذا أصح

اور کہا ہے احمد بن ابراہیم نے یحییٰ ہے کہ اس نے سنا ابو فروہ جذری سے اس نے ابو مریم سے اس نے ابوخلاد اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بخاری کہتے ہیں کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔

البخاري و هذا أصح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي خَلَّادٍ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← أبا فروة الجزري ← يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10530

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10531

10531 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران انا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني القاسم بن هاشم عن حمزة بن سالم عن محمد بن مسلم الطائفي عن صفوان يعني ابن سليم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من زهد في الدنيا أسكن الله الحكمة قلبه و أطلق بها لسانه و بصره عيوب الدنيا داءها و دواءها و أخرجه منها سالما مسلما إلى دار السلام هذا مرسل و قد روى باسناده آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابوالد نیا نے ان کوحدیث بیان کی قاسم بن ہاشم نے حمزہ بن سالم سے اس نے محمد بن مسلم طائفی سے اس نے صفوان بن سلیم سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا ہے بے رغبت ہو جائے اللہ تعالیٰ فراست و حکمت اس کے دل میں ٹھہرا دیں گے۔ اور اسی کے ساتھ اس کی زبان کو بلواتے ہیں اور اس کی نظر کو دکھاتے میں دنیا کے عیب اس کی بیماری اس کی دوا کھاتے ہیں۔ اور پھر دنیا سے ان کو سلامتی والا صحیح سالم نکالتے ہیں جنت کی طرف۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ اور تحقیق ایک اور ضعیف اسناد کے ساتھ بھی مروی ۔

صفوان يعني ابن سليم ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← حمزة بن سالم ← الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10531

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10532

10532 - أخبرناه أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن عيسى المستملي قال : ثنا أحمد بن جعفر الحبال الرازي ثنا أحمد بن الصباح ثنا بشير بن زادان عن عمر بن الصبح عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما زهد عبد في الدنيا إلا أثبت الله الحكمة في قلبه و انطق لها لسانه و بصره عيب الدنيا و داءها و دواءها و أخرجه منها سالما إلى دار السلام

ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابوالحسن علی بن ابراہیم بن عیسیٰ مستملی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی احمد بن جعفر حبال رازی نے ان کو احمد بن صباح نے ان کو بشر بن زادان نے ان کو عمر بن صبح نے ان کو یحیی ٰبن سعید نے ان کو سعید بن مسیّب نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بے رغبتی کرتا دنیا سے کوئی بندہ مگر اللہ تعالیٰ حکمت و دانائی کو اس کے دل میں ثبت کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ اس زبان کو بلواتے ہیں۔ اور اس کو دنیا کے عیب اس کی بیماری اور اس کا علاج دکھا دیتے ہیں اور اس کو دنیا سے سالم دار اسلام کی طرف لے جاتے ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُمَرَ بْنِ الصُّبْحِ، ← بَشِيرُ بْنُ زَادَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← أحمد بن جعفر الحبال الرازي ← أبو الحسن علي بن إبراهيم بن عيسى المستملي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10532

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10533

10533 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني ثنا أبو الزبير المنبجي و اسمه أحمد بن محمد بن عمر ثنا روح بن أبي روح ثنا بشير : فذكره باسناده غير أنه قال : و أطلق بها لسانه و عمر بن صبح ضعيف بمرة

ہمیں خیر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوز کریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی دحیم شیبانی نے ان کو ابوز بیر منجیی نے اور اس کا نام احمد بن محمد بن عمر ہے اس نے روح بن ابو روح سے ان کو بشیر نے اس نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ علاوہ ازیں اس میں یہ الفاظ ہیں کہ واطلق بھالسانہ۔ اور عمر بن صبیح کئی طرح ضعیف ہے۔

و أطلق بها لسانه و عمر بن صبح ضعيف بمرة ← بشير فذكره باسناده غير أنه ← روح بن أبي روح ← أبو الزبير المنبجي و اسمه أحمد بن محمد بن عمر ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10533

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10534

10534 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ بهمدان ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا أبو مسمر عبد الأعلى بن مسهر ثنا الحكم بن هشام الثقفي ثنا يحيى بن سعيد بن أبان بن سعيد بن العاص قال : ثنا أبو فروة عن أبي خلاد و كانت له صحبة قال : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا رأيتم الرجل قد أعطي زهدا في الدنيا و قلة منطق فاقتربوا منه فإنه يلقي الحكمة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید حافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابو مسمر عبدالاعلی بن مسہر نے ان کو حکم بن ہشام ثقفی نے ان کو یحییٰ بن سعید بن ابان بن سعید بن عاص نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو فروہ نے ابوخلاد سے اور ان کو صحبت رسول حاصل تھی وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو دیکھو گے وہ دنیا میں زہد اور بے رغبتی عطا کیا گیا ہے اور کم گوئی بھی تو اس کے قریب ہو جاؤ بے شک وہ حکمت و دانائی عطا کر دیا گیا ہے۔

أبي خلاد و كانت له صحبة ← أَبُو فَرْوَةَ ← يحيى بن سعيد بن أبان بن سعيد بن العاص ← الحكم بن هشام الثقفي ← أبو مسمر عبد الأعلى بن مسهر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10534

chevron_left Previous
1…242526…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood