Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10511

10511 - و أخبرنا عبد الخالق بن علي انا أبو بكر بن خنب انا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أيوب بن سليمان حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان بن بلال قال : قال يحيى : أخبرني ابن شهاب قال : سمعت سعيد بن المسيب يقول : إن القصواء كانت كلما دفعت في سباق سبقت فدفعت بها في إبل فسبقت و كانت على المسلمين كآبة إذ سبقت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الناس لا يرفعون شيئا إلا وضعه الله

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی نے ان کو ابو بکر بن حسب نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو ایوب بن سلیمان نے ان کو وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابوبکر بن ابواویس نے سلیمان بن بلال سے وہ کہتے ہیں کہ یحییٰ نے کہا ہمیں خبر دی ابن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن مسیّب سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصوٰی ایسی تھی کہ جب اس کو دوڑ کے مقابلے میں ڈالا جاتا تو وہ سب سے آگے نکل جاتی تھی چنانچہ دونوں میں اس کا مقابلہ کر دیا گیا تو ان سے ہارگئی۔ اور مسلمانوں پر یہ بات دل شکنی اور اداسی کر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک لوگ جس چیز کو اونچا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو نیچے کر دیتا ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَحْيَى ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10511

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10512

10512 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو القاسم الطبراني ثنا إسماعيل بن إسحاق السراج النيسابوري ثنا عبد الله بن الجراح القهستاني ثنا أبو عامر العقدي ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا إبراهيم بن الوليد الجشاش ثنا عبد الله بن الجراح القهستاني ثنا عبد الملك بن عمرو ثنا سفيان بن سعيد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ما كان منها لله عز و جل رواه مهران بن أبي عمرو عن الثوري عن محمد بن المنكدر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبردی ابوالحسین علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو القاسم طبرانی نے ان کو اسماعیل بن اسحاق سراج نیسا پوری نے ان کو عبد اللہ بن جراح قھستانی نے ان کو ابو عامر عقدی’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابراہیم بن ولید نے جشاش نے ان کو عبد اللہ بن جراح قھستانی نے ان کو عبد الملک بن عمرو نے ان کو سفیان بن سعید نے ان کو محمد بن منکدر نے جابر بن عبد اللہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا د نیا لعنتی ہے جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے مگر اس میں سے جو کچھ اللہ تعالی ٰکے لئے ہے۔ وہ ملعون نہیں ہے۔ اس کو روایت کیا ہے مہران بن ابو عمرو نے ثوری سے اس نے محمد بن منکدر سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَشَّاشُ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ النَّيْسَابُورِيُّ ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10512

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10513

10513 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا ابن أبي الدنيا ثنا ابن حميد عن مهران بن أبي عمرو : فذكره و هذا عن أبي الدرداء معروف أخبرناه أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن العرابي ثنا الدبري عن عبد الرزاق عن ثور عن خالد بن معدان عن أبي الدرداء قال : الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ذكر الله و ما أدى إليه 10513 - مكرر ـ حدثنا أبو حازم العبدوي الحافظ إملاء و أبو سهل أحمد بن محمد بن إبراهيم المهراني قراءة و أبو عبد الرحمن السلمي قالوا : أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد السلمي ثنا محمد بن عمار بن عطية ثنا حفص بن عمر ثنا يحيى بن سعيد عن عبيد الله بن عمر عن أبي الزناد عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تقحم في الدنيا فهو يتقحم في النار قال أبو حازم تفرد به حفص بن عمر المهرقاني عن يحيى بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابوالد نیا نے ان کو ابن حمید نے ان کو مہران من ابو عمرو نے اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے اور یہ ابودرداء سے معروف ہے۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو دبری نے ان کو عبد الرزاق نے ثور سے اس نے خالد بن معدان سے اس نے ابو درداء سے وہ کہتے ہیں کہ دنیا ملعون ہے۔ اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے مگر اللہ کا ذکر اور وہ چیز جو اللہ کے ذکر تک پہنچائے ۔ ( مکرر ہے ) ہمیں حدیث بیان کی ابو حازم عبدوی حافظ نے بطور املاء کے اور ابو سہل احمد بن محمد بن ابراہیم مہرانی نے بطور قرأت کے۔ اور ابوعبد الرحمٰن سلمی نے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو عمر و اسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو محمد بن عمار بن عطیہ نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عبد اللہ بن عمر نے ان کو ابوالزناد نے ان کو عبد الرحمٰن اعرج نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص زبردستی ( یعنی تکلیف اٹھا کر ) دنیا میں گھسے وہ زبر دستی جہنم میں بھی ڈالا جائے گا۔ ابو حازم نے کہا اس کے ساتھ حفص بن عمر مہر قانی یحییٰ بن سعید سے ان کا تفرد ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الدبري ← أبو سعيد بن العرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، مَعْرُوفٌ، ← مهران بن أبي عمرو فذكره و هذا ← ابْنُ حُمَيْدٍ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10513

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10514

10514 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا جدي يعني أبا عمرو ثنا السراج ثنا أبو همام ثنا الحسين بن عيسى الحنفي ثنا الحكم بن ابان عن عكرمة عن ابن عباس قال : لا يعجبكم إنسان و إن صلى و إن صام حتى تنظروا على ما تهجم من الدنيا هذا موقوف

اور ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو حدیث بیان کی ان کے دادا یعنی ابو عمرو نے ان کو سراج نے ان کو ابو ہمام نے ان کو حسین بن عیسی ٰحنفی نے ان کو حکم بن ابان نے ان کو عکرمہ نے اس نے ابن عباس سے وہ فرماتے ہیں۔ تمہیں کوئی انسان زیادہ اچھا نہ لگے اگر وہ نماز روزہ کرتا ہو ۔ بلکہ یہ دیکھو کہ وہ دنیا سے کس قدر دور بھاگتا ہے، یہ موقوف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ← أَبُو هَمَّامٍ، ← السَّرَّاجُ: ← جدي يعني أبا عمرو ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10514

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10515

10515 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل ثنا أبو عثمان البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب انا يعلي بن عبيد ثنا العمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن عبادة بن الصامت قال : يجاء بالدنيا يوم القيامة فيقال : أميزوا ما كان منها لله عز و جل فيماز و يرمى سائره في النار

ہمیں خبر دی ابومحمد حسن بن علی بن مومل نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو یعلی ٰبن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو شمر بن عطیہ نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عبادہ بن صامت نے وہ کہتے ہیں قیامت کے دن دنیا کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا۔ علیٰحدہ کرو اس میں سے جو کچھ اس میں سے اللہ کے لئے ہے۔ لہٰذا علیحدہ کیا جائے گا (یعنی جو کچھ دنیا کا حصہ اللہ کے لئے ہوگا ) اور باقی ساری دنیا کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← العمش ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10515

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10516

10516 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا ابن أبي الدنيا ثنا عباس بن يزيد البصري ثنا أبو معاوية عن الأعمش : فذكره و قال : أراه رفعه و قال : و ألقوا سائرها في النار

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو عباس بن یزید بصری نے ان کوابو معاویہ نے ان کو اعمش نے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا اور کہا کہ میر اخیال ہے کہ اس نے اس کو مرفوع کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ۔( کہا جائے گا ) کہ ڈال دو باقی ساری دنیا کو آگ میں۔

و ألقوا سائرها في النار ← أراه رفعه و ← الأعمش فذكره و ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عباس بن يزيد البصري ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10516

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10517

10517 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران انا عبد الصمد بن علي بن محمد بن مكرم اخبرني السري بن سهل ثنا عبد الله بن رشيد ثنا الربيع بن بدر عن أبي العالية عن حذيفة بن اليمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصبح و همه غير الله فليس من الله

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عبد الصمد نے بن علی بن محمد بن مکرم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی سری بن سہل نے ان کو عبداللہ بن رشید نے ان کو ربیع بن بدر نے ابو العالیہ سے اس نے حذیفہ بن یمان سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص صبح کرتا ہے اور اس کی فکر اور اس کا غم غیر اللہ کے لئے ہوتا ہے اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ← السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ ← عبد الصمد بن علي بن محمد بن مكرم ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10517

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10518

10518 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني أبو علي عبد الرحمن الطائي ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ثنا عبد الواحد بن زيد حدثني أسلم الكوفي غير مرة عن زيد بن أرقم قال : كنا مع أبي بكر رضي الله عنه فدعا بشراب فأتي بماء و عسل فلما أدناه من فيه بكى و بكى حتى بكى أصحابه فسكتوا و ما سكت ثم عاد فبكى حتى ظنوا أنهم لن يقدروا على مسألته قال : ثم مسح عينيه فقالوا : يا خليفة رسول الله ما أبكاك قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأيته يدفع عن نفسه شيئا و لم أرى معه أحدا فقلت : يا رسول الله ما الذي تدفع عن نفسك قال : هذه الدنيا مثلت لي فقلت لها : إليك عني ثم رجعت فقالت : إن أفلت مني فلن يفلت مني من بعدك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ابوعلی عبد الرحمٰن طائی نے ان کو عبد الصمد بن عبد الوارث نے ان کو عبدالواحد بن زید نے ان کو حدیث بیان کی اسلم کوفی نے کئی مرتبہ حضرت زید بن ارقم سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے انہوں نے پینے کے لئے کچھ منگوالیا لہٰذا پانی اور شہد لا کر پیش کیا گیا جب انہوں نے اس کو پینے کے لئے منہ سے قریب کیا تو وہ رو پڑے اور روتے رہے یہاں تک کے حاضرین مجلس بھی رونے لگے۔ وہ تو رو کر چپ ہو گئے مگر صدیق خاموش نہ ہوئے پھر پلٹ کر رونے لگے۔ یہاں تک کہ حاضرین نے خیال کیا کہ وہ سوال بھی نہیں کر پار ہے۔ کہتے ہیں پھر انہوں نے اپنی آنکھوں کو صاف کیا۔ پھر لوگوں سے پوچھا۔ اے خلیفہ رسول آپ کو کس بات نے رولایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اپنے آپ سے ہٹا رہے ہیں اور دفع کر رہے ہیں جب کہ میں نے آپ کے پاس کسی شئی کو نہیں دیکھا تھا۔ لہٰذا میں نے کہا یا رسول اللہ آپ کس کو اپنے آپ سے ہٹا ر ہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہی دنیا تھی جو میرے لئے شکل تبدیل کر کے آئی تھی میں نے اس سے کہا ہے کہ تو مجھ سے دور ہو جا پھر میں اپنی حالت پر لوٹ آیا ہوں اس نے کہا ہے کہ اگر چہ آپ مجھ سے چھٹکارا پاگئے ہیں مگر جو لوگ تیرے بعد ہوں گے وہ مجھ سے چھٹکارا اور رہائی ہرگز نہیں پاسکیں گے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أسلم الكوفي غير مرة ← عبد الواحد بن زيد ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أبو علي عبد الرحمن الطائي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10518

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10519

10519 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن إسحاق البراز ببغداد قال : أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ثنا أبو يحيى بن أبي مسرة ثنا أبو عبد الرحمن المقري ثنا موسى بن علي بن رباح قال : سمعت أبي يقول : سمعت عمرو بن العاص يخطب الناس بمصر يقول : ما أبعد هديكم من هدى نبيكم صلى الله عليه و سلم أما هو فكان أزهد الناس في الدنيا و أما أنتم أرغب الناس فيها

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن احمد بن اسحاق براز نے بغداد میں وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن اسحاق فاکھی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو حدیث بیان کی ابو عبد الرحمٰن مقری نے ان کو موسیٰ بن علی بن رباح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے عمرو بن العاص سے سناوہ مصر میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے ۔ آپ لوگوں کی سیرت تمہارے نبی کی سیرت سے کس قدر دور ہو چکی ہے۔ وہ تو دنیا سے زائد نہیں بلکہ ازہد تھے بے رغبت ترین تھے (یعنی سب سے زیادہ بے رغبت تھے دنیا ہے۔) اور آپ لوگ سب لوگوں سے زیادہ دنیا میں رغبت کرنے والے ہو۔

عمرو بن العاص یخطب الناس بمصر ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن إسحاق البراز ببغداد

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10519

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10520

10520 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا أبو كريب ثنا المحاربي عن عاصم الأحول قال : بلغني أن ابن عمر سمع رجلا يقول : أين الزاهدون في الدنيا الراغبون في الآخرة فأراه قبر النبي صلى الله عليه و سلم و أبي بكر و عمر فقال : عن هؤلاء فسل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو حدیث بیان کی ابن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی ابو کریب نے ان کو محاربی نے ان کو عاصم احول نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہاں ہیں زاہد لوگ تارک الدنیا اور آخرت سے رغبت کرنے والے۔ انہوں نے اس کو نبی کریم کی قبر اور ابو بکر صدیق اور عمر کی قبر دیکھا کر کہا کہ ان لوگوں سے پوچھئے ( یعنی ان لوگوں کے بارے میں پوچھئے)۔

بلغني ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10520

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10521

10521 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني عبد الرحمن بن صالح ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن عبد الملك بن صفوان قال : أخبرت عن الحسن قال : قالوا يا رسول الله من خيرنا قال : أزهدكم في الدنيا و أرغبكم في الآخرة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی عبد الرحمٰن بن صالح نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد محاربی نے ان کو عبد الملک بن صفوان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت حسن کے بارے میں خبر ملی ہے وہ کہتے ہی لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم میں سے بہتر کون ہے فرمایا کہ: ازهد كم في الدنيا وارغبكم في الآخرة. جو تم میں سے دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت ہو اور تم میں سے آخرت کے لئے سب سے زیادہ رغبت کرنے والا ہو ۔

الْحَسَنِ، ← عبد الملك بن صفوان ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← عبد الرحمن بن صالح ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10521

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10522

10522 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن جعفر الآدمي ببغداد ثنا أبو جعفر أحمد بن عبيد بن ناصح ثنا خالد بن عمرو القرش ثنا سفيان الثوري ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن فراس المالكي ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو عبيد ثنا خالد بن عمرو عن سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد : أن النبي صلى الله عليه و سلم وعظ رجلا فقال : ازهد في الدنيا في الدنيا يحبك الله و ازهد فيما في أيدي الناس يحبك الناس خالد بن عمرو هذا ضعيف

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر آدمی نے بغداد میں۔ ان کو ابو جعفر احمد بن عبید بن ناصح نے ان کو خالد بن عمر قرش نے ان کو سفیان ثوری نے’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن احمد بن فراس مالکی نے ان کو علی بن عبد العزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو خالد بن عمرو نے ان کو سفیان نے ابو حازم سے اس نے سہل بن سعد سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت فرمائی کہ تم دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اللہ تمہیں محبوب بنائے گا، اور لوگوں کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس سے بھی تو بے رغبت ہو جا لوگ تم سے محبت کریں گے ۔ خالد بن عمر ضعیف ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← خالد بن عمرو ← أَبُو عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن فراس المالكي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← خالد بن عمرو القرش ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ، ← أبو بكر محمد بن جعفر الآدمي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10522

chevron_left Previous
1…232425…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood