Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10499

10499 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني أنا علي بن عياش ثنا سعيد بن سنان حدثني أبو الزاهرية عن أبي شجرة عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يلقى الله أحد بشهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له إلا دخل الجنة ما لم يخلط معها غيرها رددها ثلاثا قال قائل من قاصية الناس : بأبي أنت و أمي يا رسول الله و ما يخلط معها غيرها قال : حب الدنيا و أثرة لها و جمعا لها و رضي بها و عمل عمل الجبارين

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن احق صنعانی نے ان کو علی بن عیاش نے ان کو سعید بن سنان نے ان کو ابوزہریہ نے ان کو ابو شجرہ نے عبد اللہ بن عمر سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ملے گا کوئی ایک بھی اللہ کو لا الہ الا اللہ کی گواہی کے ساتھ کہ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مگر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جب تک وہ اس کے ماتھہ غیر کی ملاوٹ نہ کرے تین بار آپ نے اس کو دھرایا۔ پھر کسی کہنے والے نے کہا کہ جو کہ لوگوں کے آخر میں سے تھا۔ میر ےماں باپ آپ او پر قربان جائیں یا رسول اللہ غیر کو اس میں کیسے ملائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت اور اس کو تر جیح دینا کو ملانا جمع کر دینا اور اسی کے ساتھ خوش ہو جانا اور سرکشوں والے عمل کرنا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي شَجَرَةَ ← أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10499

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10500

10500 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني سريج بن يونس ثنا عبد الوهاب بن عطاء عن موسى بن يسار أنه بلغه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله جل ثناؤه لم يخلق خلقا أبغض إليه من الدنيا و إنه منذ خلقها لم ينظر إليها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی ہے سریج بن یونس نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے اس نے موسیٰ بن سیار سے ان کو خر پہنچی ہے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ جل شانہ ‘نے ایسی کوئی مخلوق پیدا نہیں فرمائی جو اس کے نزدیک دنیا سے زیادہ ناپسندیدہ ہواور بے شک اس نے جب سے اسے پیدا کیا ہے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں ہے۔

موسى بن يسار أنه بلغه ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10500

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10501

10501 - و بإسناده قال : حدثني سريج بن يونس قال : ثنا عباد بن العوام عن هشام أو عوف عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حب الدينار رأس كل خطيئة

اس نے اپنی اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے سری بن یونس نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عباد بن عوام نے ہشام سے یا عوف سے اس نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل ہے۔

الْحَسَنِ، ← هشام أو عوف ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10501

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10502

10502 - قال : و حدثني سريج بن يونس ثنا مروان بن معاوية عن محمد بن أبي قيس عن سليمان بن حبيب عن أبي أمامة الباهلي قال : لما بعث محمدا صلى الله عليه و سلم أتت إبليس جنوده فقالوا : قد بعث نبي و أخرجت أمته فقال : يحبون الدنيا قالوا : نعم قال : لئن كانوا جميعا يحبونها ما أبالي أن لا يعبدوا الأوثان و أنا أغدو عليهم و أروح بثلاثة أخذ المال من غير حقه و إنفاقه في غير حقه و إمساكه عن حقه و الشر كله لها تبع

کہتے ہیں کرمجھے حدیث بیان کی سریج بن یونس نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی مروان بن معاویہ نے محمد بن ابو قیس سے اس نے سلیمان بن حبیب سے اس نے ابو امامہ باہلی سے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ابلیس کے لشکر اس کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ایک نبی بھیجا گیا ہے اور اس نے اپنی امت اور پارٹی بنالی ہے۔ ابلیس نے پوچھا کہ یہ بتا کیا وہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں لشکروں نے بتایا کہ جی ہاں پسند کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اگر وہ سب کے سب پسند کرتے ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اگر وہ بتوں کی عبادت نہ بھی کریں میں ان کے پاس صبح کو شام کو آؤں گا۔ تین چیزوں کے ساتھ ۔ مال کو ناحق طریقے سے حاصل کرنا۔ اور ناحق طریقے پر خرچ کرنا ، اور حق پر خرچ کرنے سے روک لینا اور شر پورے کا پورا نہیں تین باتوں کے تابع ہے۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10502

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10503

10503 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا علي بن محمد بن مروان ثنا إبراهيم بن زيادة قال : ثنا مروان بن معاوية الفزاري عن محمد بن قيس عن سليمان بن حبيب قاضي عمر بن عبد العزيز قال : سمعت أبا أمامة الباهلي : فذكره

ہمیں اس کی خیر دی علی بن احمد بن عبد ان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو علی بن محمد بن مروان نے ان کو ابراہیم بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی مروان بن معاویہ فزاری نے ان کو محمد بن قیس نے ان کو سلیمان بن حبیب قاضی عمر بن عبد العزیز نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو امامہ باہلی سے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا تھا۔

أبا أمامة الباهلي فذكره ← سليمان بن حبيب قاضي عمر بن عبد العزيز ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← إبراهيم بن زيادة ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10503

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10504

10504 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله حدثني أبو حاتم الرازي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة يعني خالد عن عيينة بن أبي حكيم ثنا أبو الدرداء الرهاوي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احذروا الدنيا فإنها أسحر من هاروت و ماروت و قال غيره عن هشام بإسناده عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ نے ان کو حدیث بیان کی ابو حاتم رازی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو صدقہ بن خالد نے عیینہ بن ابو حکیم سے اس نے ابو درداء رھاوی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سے بچ کر رہو بے شک وہ ہاروت ماروت سے زیادہ جادو اثر ہے۔ (ایک دوسرا مفہوم ہے) دنیا سے ڈرو بے شک اس نے تو ہاروت ماروت پر بھی اپنا جادو چلا دیا تھا۔ اور دیگر نے کہا کہ یہ مروی ہے ہشام سے اس کی اسناد کے ساتھ اصحاب رسول کے ایک آدمی سے۔

أبو الدرداء الرهاوي، ← عيينة بن أبي حكيم ← صدقة يعني خالد ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10504

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10505

10505 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل القاضي ثنا أحمد بن عيسى ثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن هلال عن محمد بن المنكدر عن جابر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تستبطئوا الرزق فإنه لم يكن عبد ليموت حتى يبلغه رزق هو له فأجملوا في الطلب أخذ الحلال و ترك الحرام

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبد ان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن قاضی نے ان کو احمد بن عیسی ٰنے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے سعید بن ہلال سے اس نے محمد بن منکدر سے اس نے جابر سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا رزق میں تاخیر نہ سمجھو بے شک شان یہ ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کو اس کا رزق نہ پہنچ جائے لہٰذا رزق کو طلب کرنے میں اختصار و خوبصورت طریقہ اختیار کرو یعنی حلال طریقے پر لینا اور حرام طریقے کو ترک کرنا۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سعيد بن هلال ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى، ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10505

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10506

10506 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا سليمان بن خالد بن يزيد بن أبي مالك عن أبيه عن عطاء قال : سمعت أبا سعيد الخدري يقول : يا أيها الناس لا يحملنكم العسر على أن تطلبوا الرزق من غير حله فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم توفني إليك فقيرا و لا توفني غنيا و احشرني في زمرة المساكين يوم القيامة فإن أشقى الأشقياء من اجتمع عليه فقر الدنيا و عذاب الآخرة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن نمیر نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے ان کو سلیمان بن خالد نے بن یزید بن مالک نے اپنے والد سے اس نے عطاء سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سعید خدری سے وہ فرماتے تھے۔ اے لوگو تمہیں تنگ دستی اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم رزق غیر حلال طریقے پر طلب کرنے لگ جاؤ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا۔ اے اللہ مجھے اپنی طرف فقیر اور محتاج بنا کر مارنا اور مجھے غنی و مالدار بنا کر نہ مارنا اور مجھے مسکینوں کی جماعت میں قیامت کے دن اٹھانا بے شک بدبختوں کا بد بخت ہوگا وہ شخص جس پر دنیا کا فقر اور آخرت کا عذاب جمع ہو جائیں گے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَطَاءٍ، ← أَبِيهِ ← سليمان بن خالد بن يزيد بن أبي مالك ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10506

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10507

10507 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران ثنا ثابت بن محمد أبو إسماعيل الزاهد ثنا الحارث بن النعمان عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم أحيني مسكينا و أمتني مسكينا و احشرني في زمرة المساكين يوم القيامة فقالت عائشة : لم يا رسول الله قال : إنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين خريفا يا عائشة لا تردي المساكين و لو بشق تمرة يا عائشة حبي المساكين و فربيهم فإن الله عز و جل يقربك يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے کو ابوعبداللہ محمد بن عبد الله صفار نے ان کو احمد بن مہران نے ان کو ثابت بن محمد ابو اسماعیل زاہد نے ان کو حارث بن نعمان نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ مجھے زندہ رکھنا مسکینی کی حالت میں اور مجھے موت بھی دینا مسکینی کی حالت میں اور قیامت کے دن مجھے اٹھانا بھی مسکینوں کے گروہ میں ۔ سیدہ عائشہ نے سوال کیا کیوں یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا بے شک وہ جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے۔ اے عائشہ مسکینوں کی تھالی واپس نہ لوٹانا اگر چہ کھجور کا آدھا دانہ ہی کیوں نہ ہو۔ اے عائشہ مساکین سے محبت و شفقت کرنا۔ اور ان کو قریب کرنا بے شک اللہ تعالی ٰتجھے قیامت کے دن اپنے قریب کر دیں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ← ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الزَّاهِدُ ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10507

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10508

10508 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا زياد بن الخليل ثنا مسدد ثنا جعفر بن سليمان ثنا عتيبة عن يزيد بن أصرم قال : سمعت عليا رضي الله عنه يقول : مات رجل من أهل الصفة فقيل : يا رسول الله ترك دينارا أو درهما فقال : كيتان صلوا على صاحبكم قلت : و هذا لأنه كان يرى من نفسه من الزهد و الفقر ما لم يكن و الله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو زیاد بن خلیل نے ان کو مسدد نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو عقبہ نے یزید بن اصرم سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی سے سنادہ کہتے تھے اہل صفہ میں سے ایک آدمی کا انتقال ہو گیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ اس نے ایک دینار ۔یا ایک درہم چھوڑا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو داغ دینے والی چیزیں ہیں۔ جاؤ اپنے ساتھی پر جنازہ پڑھ لو۔ میں نے کہا ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ وہ اپنے تئیں زاہد اور فقیر سمجھتا تھا جب کہ تھا نہیں ۔

مات رجل من أهل الصفة فقيل ← عَلِيًّا ← يزيد بن أصرم ← عُتَيْبَةُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10508

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10509

10509 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن عبد الرحمن بن زياد عن سعيد بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : للفقر أزين على المؤمن من العذار الجيد على خد الفرس 10509 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو بكر الريونجي نا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عبد الله الموصلي ثنا المعافى عن موسى بن عبيدة عن القاسم بن مهران عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يحب عبده المؤمن المتعفف الفقير أب العيال

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ ذکر کی سفیان نے عبد الرحمٰن بن زیاد سے اس نے سعید بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:البتہ فقر زیادہ آراستگی اور زینت ہوتا ہے مؤمن پر گردن کے ہارسے جو گھوڑے کے ماتھے پر سجا ہوا ہو۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابوعبدالا حمٰن سلمی نے ان کو ابوبکر ر یونجی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن عبد اللہ موصلی نے ان کو معانی نے ان کو موسیٰ بن عبید نے ان کو قاسم بن مہران نے عمران بن حصین سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ٰپسند فرماتا ہے اپنے مؤمن بندے کو جو فقیر ہونے کے باوجود مانگنے سے بچنے والا ہو اور عیالدار ہو۔

سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10509

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10510

10510 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا عبدوس بن الحسين بن منصور السمسار ثنا أبو حاتم الرازي ثنا النصاري حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال : كانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ناقة تسمى العضباء لا تسبق فجاء أعرابي على قعود له فسبقها فشق ذلك على المسلمين فلما رأى ما في وجوههم قالوا : يا رسول الله سبقت العضباء قال : إن حقا على الله أو لا يرفع شيئا من الدنيا إلا وضعه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو عبدوس بن حسین بن منصور سمسار نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو انصاری نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضبا ، تھا۔ اس سے کوئی سبقت نہیں کر سکتا تھا، چنانچہ ایک دیہاتی آیا ایک جوان اونٹ پر سوار تھاوہ عصباء سے سبقت کر گیا۔ مسلمانوں پر یہ بات گراں گذری۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر اداسی دیکھی تو وہ بولے یا رسول اللہ عضباء، پیچھے رہ گئی۔ بے شک اللہ تعالی ٰپر لازم ہے ( حق ہے ) کہ دنیا میں سے جس چیز کو اونچا کرتا ہے اس کو نیچا بھی کرتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← النصاري ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عبدوس بن الحسين بن منصور السمسار ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10510

chevron_left Previous
1…222324…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood