Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10487

10487 - و حدثنا أبو سعد الزاهد ثنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد السلمي ثنا محمد بن عمار بن عطية الرازي ثنا جعفر بن سليمان عن عوف عن الحسن أظنه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من ملوك الجنة فذكره بمثله غير أنه قال : خطبوا بدل طلبوا و كذلك رواه إسحاق بن أحمد الرازي عن إسحاق بن سليمان

اور ہمیں حدیث بیان کی ابو سعد زاہد نے ان کو ابوعمر اسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو محمد بن عمار بن عطیہ رازی نے ان کو سہل بن زنجلہ رازی نے ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے ان کو جعفر بن سلیمان نے عوف سے اس نے حسن سے میرا خیال ہے کہ ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جنت کے مالک۔ پھر اسی حدیث کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں فرمایا کہ لفظ طلبوا کی بجائے لفظ خطبوا فرمایا۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا اسحاق بن احمد رازی نے اسحاق بن سلیمان سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الحسن أظنه ← عَوْفٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد بن عمار بن عطية الرازي ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ ← أبو سعد الزاهد ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10487

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10488

10488 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو بكر الربونجي أنا الحسن بن سفيان ثنا دحيم قال : و أخبرنا أبو إسحاق الرازي أنا أحمد بن عمير بن حوصا ثنا موسى بن عمر ثنا سويد بن عبد العزيز ثنا زيد بن واقد عن بشر بن عبيد الله عن أبي إدريس الخولاني عن معاذ بن جبل : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا أخبركم عن ملوك أهل الجنة كل ضعيف مستضعف ذو طمرين لا يؤبه له لو أقسم على الله لأبره

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو ابوبکر ربونجی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو دحیم نے وہ کہتے ہیں ۔ کہ ہمیں خبر دی ابو اسحاق رازی نے ان کو احمد بن عمیر بن حوص نے ان کو موسیٰ بن عمر نے ان کو سوید بن عبد العزیز نے ان کو زید بن واقد نے ان کو بشر بن عبد اللہ نے ان کو ابو ادریس خولانی نے ان کو معاذ بن جبل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کے سرداروں کے بارے میں نہ بتلا دوں (وہ ہے ) ہر ضعیف اور کمزور سمجھا ہوا پٹھے پرانے کپڑوں والا جس کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہو اور (اللہ کے نزدیک ایسا مقرب ہو کہ )اگر وہ اللہ تعالیٰ کو قسم دے دے تو وہ ضرور پوری کر دے۔

«أَلَا أُخْبِرُكُمْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بِشْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُوسَى بْنِ عُمَرَ ← أحمد بن عمير بن حوصا ← أبو إسحاق الرازي ← و، ← دُحَيْمٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر الربونجي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10488

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10489

10489 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر محمد بن الحسين بن الحسن القطان أنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن هند بنت الحارث عن أم سلمة قالت : استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة و هو يقول : لا إله إلا الله ما فتح الليلة من الخزائن لا إله إلا الله ما أنزل الله من الفتن من يوقظ صواحب الحجر يا رب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة أخرجه البخاري في الصحيح من أوجه أخرى عن معمر

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین بن حسن قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو ہند بنت حارث نے ان کو ام سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بے دار ہوئے تو وہ فرما رہے تھے۔ لا الہ الا اللہ آج رات کسی قدر خزانے اترے ہیں لا اله الا اللہ اللہ نے کتنے فتنے اتارے ہیں کون جگائے گا حجروں میں رہنے والیوں کو بہت سی ماری عورتیں دنیا میں کپڑے پہننے والی ننگی ہوں گی آخرت میں۔ اس کو بخاری نے نقل کیا صحیح میں کسی دوسری وجوہ سے اس نے معمر سے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر محمد بن الحسين بن الحسن القطان ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10489

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10490

10490 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو سعيد بن الأعرابي قال : و أنا أقول : و لا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي قال محمد بن إسماعيل قال : ثنا محمد بن مسدد ثنا يحيى بن سعيد عن سفيان قال : حدثني المقدام بن شريح عن أبيه عن سعد قال لي : نزلت هذه الآية في ستة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم ابن مسعود قال ناس من قريش : هؤلاء السفلة هم الذين يلونك فوقع في نفس النبي صلى الله عليه و سلم فنزلت : { و لا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي يريدون وجهه } إلى قوله : { أليس الله بأعلم بالشاكرين } أخرجه مسلم في الصحيح من حديث سفيان الثوري و إسرائيل

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے وہ کہتے ہیں کہ اور میں کہتا ہوں ۔ کہ یہ آیت ۔ ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشى. اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے پاس سے نہ ہٹاؤ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ۔ محمد بن اسماعیل نے کہا تھا ۔ کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن مسدد نے ان کو یحیی ٰبن سعید نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی مقدام بن شریح نے ان کو ان کے والد نے اپنے والد سے اس نے ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ قریش کے کچھ لوگوں نے کہاتھا کہ یہ لوگ گھٹیا ہیں ۔یعنی جو لوگ (اے محمد) تیرے ساتھ ہیں۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بھی کوئی خیال واقع ہو گیا لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی۔ ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشى يريدون وجهه. (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے نہ ہٹائیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں جو اسی کی رضا تلاش کرتے ہیں ۔ یہ آیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الیس الله با علم با لشاکرین تک پڑھی۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں سفیان ثوری کی اور اسرائیل کی حدیث سے۔

سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن مسدد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أقول و لا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي ← و، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10490

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10491

10491 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن جعفر بن مطر أنا إبراهيم بن إسحاق الأنماطي ثنا إسحاق الحنظلي أنا عمرو بن محمد القرشي ثنا أسباط الهمداني عن الكديمي عن خباب بن الأرت في قوله عز و جل : { و لا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي يريدون وجهه } جاء الأقرع بن حابس و عيينة بن حصن الفزاري فوجدوا رسول الله صلى الله عليه و سلم مع بلال و صهيب و عمار و خباب قاعدا في ناس من ضعفاء فلما رأوهم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حقروهم فأتوه فجاؤوا به و قالوا : إنا نحب أن تجعل لنا منك مجلسا تعرف العرب لنابه فضلا فإن وفود العرب تقدم عليك فنستحي مع هؤلاء الأعبد فإذا جئناك فأقمهم عنا و إذا خرجنا نحن فاقعد معهم إن شئت فقال : نعم قالوا فاكتب لنا عليك به كتابا قال : فدعا بالصحيفة و دعا عليا ليكتب قال : و نحن جلوس في ناحية فنزل جبريل عليه السلام فقال : { و لا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي يريدون وجهه } الآية ثم ذكر الأقرع و عيينة فقال : و كذلك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا أهؤلاء من الله عليهم من بيننا أليس الله بأعلم بالشاكرين ثم قال : { و إذا جاءك الذين يؤمنون بآياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة } الآية فرمى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالصحيفة و دعاهم و قال : { كتب ربكم على نفسه الرحمة } قال فيومئذ وضعنا ركبتنا قال : و كان يجلس فإذا أراد القيام قام و تركنا فأنزل الله عز و جل : { و اصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي يريدون وجهه و لا تعد عيناك عنهم } و تجالس الأشراف : { و لا تطع من أغفلنا قلبه عن ذكرنا } يعني الأقرع و عيينة قال : ثم ضرب لهم مثل الحياة الدنيا و مثل الرجلين فكذا نقعد بعد ذلك مع النبي صلى الله عليه و سلم فإذا بلغ الساعة التي يريد أن يقوم فيها قمنا و تركناه حتى يقوم

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن جعفر بن مطر نے ان کو ابراہم بن اسحاق انماطی نے ان کو حدیث بیان کی حنظلی نے ان کو عمرو بن محمد قرشی نے ان کو اسباط ہمدانی نے ان کو کدیمی نے ان کو خباب بن ارت نے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں ۔ ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشى يريدون وجهه کے بارے میں فرمایا کہ اقرع بن حابس اور عيينہ بن حصن فزاری آئے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بلال حبشی صہیب رومی اور عمار بن یا سر اور خباب بن ارت کے ساتھ اور دیگر کمزور اوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔ انہوں نے جب ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیکھا تو انکو حقیر گردانا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ان کے لئے گئے (علیحدہ بیٹھ کر کہا) کہ ہم لوگ یہ پسند کرتے ہیں آپ ہمارےلئے ایک ایسی نشست کا انتظام کریں جس سے عرب ہماری برتری جان سکیں۔ اور عرب کے وفود آپ کے پاس آتے رہتے ہیں اور ہم ان غلاموں کے ساتھ بیٹھے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ جب ہم لوگ آیا کریں تو آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھادیا کریں اور ہمارے پاس سے اٹھادیا کریں جب ہم چلے جایا کریں تو آپ چاہیں تو پھر ان کے پاس بیٹھ جایا کریں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی طبعی نرمی اور شرافت کی بنا پر ) ان کی بات مان لی انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحریر ہمارے لئے لکھ دیں۔ کہتے ہیں کہ آپ نے صحیفہ منگوایا اور لکھنے کے لئے علی کو بلایا۔ یہ مسکین کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوئے تھے پھر جبرائیل علیہ السلام اترے اور کہا: ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالعداة والعشى يريدون وجهه اے پیغمبر اپنے پاس سے ان لوگوں کو مت بناؤ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اللہ کی رضا تلاش کرتے ہیں ۔ الخ اس کے بعد اقرع بن حابس اور عینیہ کا ذکر کیا اور فرمایا: و كذالك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا اهؤلاء من الله عليهم من بيننا اليس الله باعلم بالشاكرين. ہم اسی طرح ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ آزماتے ہیں تا کہ یہ لوگ یوں کہیں کیا یہی ہیں جن پر اللہ نے ہمارے علاوہ احسان کیا ہے کیا اللہ تعالی شکر کرنے والوں کو خوب نہیں جانتا ؟ اس کے بعد فرمایا: واذا جاءك الذين يؤمنون بأياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة الخ. (اے پیغمبر ) جب تیرے پاس وہ لوگ آتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہو تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ دیا ہے۔ الخ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس آیت کے نزول کے بعد وہ لکھنے والا صحیفہ ) پھینک دیا اور ان لوگوں کو اپنے پاس بلا لیا۔ اور فرمایا کہ: كتب ربكم على نفسه الرحمة کہ تمہارے رب نے اپنے نفس پر رحمت کو لکھ دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس دن سے ہم نے اپنا گھٹنار کھ دیا۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تھے پھر جب قیام کا ارادہ کرتے تھے تو اٹھ جاتے تھے اور ہمیں چھوڑ دیتے تھے۔ لہذا اپھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشى يريدون وجهه و لا تعد عيناك عنهم. آپ اسے پیغمبر اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روک رکھا کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اسی کی رضا طلب کرتے ہیں اور آپ ان سے اپنی نگاہیں نہ بنایا کریں اور آپ اشراف کے ساتھ بیٹھئے۔ مگر :ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا اور مت مانئے بات اس شخص کی ہم نے جس کے دل کو اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے۔ یعنی اقرع اور عیینہ ۔کہتے ہیں کہ پھر اللہ نے ان کے لئے دینوی زندگی کی مثال بیان فرمائی ۔ اور دو آدمیوں کی مثال (سورہ کہف میں ) لہٰذا اسی طرح ہم پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے جب وہ ساعت پوری ہو جاتی تھی جب اٹھنا چاہتے تھے تو ہم لوگ اٹھ جاتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ جاتے یہاں تک کہ آپ خود اٹھ جاتے۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10491

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10492

10492 - أخبرنا محمد بن الحسين بن محمد بن موسى السلمي ثنا جدي إسماعيل بن نجيد و محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق الحافظ قالا : ثنا محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا بشر بن هلال الصواف ثنا جعفر بن سليمان عن المعلى بن زياد عن العلاء بن بشير عن أبي الصديق الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : كنت في عصابة فيها ضعفاء للمهاجرين و أن بعضهم يستر بعضا من العرى و قارىء يقرأ علينا و نحن نستمع لقراءته قال : فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى قام علينا فلما رآه القارىء سكت قال : فسلم و قال : ماذا كنتم تصنعون قلنا : يا رسول الله كان قارىء يقرأ علينا و نحن نستمع إلى قراءته فقال : الحمد لله الذي جعل من أمتي من أمرت أن أصبر معه قال : ثم جلس وسطنا ليعدل نفسه فينا ثم قال : بيده هكذا فتحلق القوم فلم يعرف رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم أحدا قال : و كانوا ضعفاء المهاجرين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أبشروا صعاليك المهاجرين بالفوز التام يوم القيامة تدخلون الجنة قبل أغنياء المؤمنين بنصف يوم مقداره خمسمائة عام

ہمیں خبر دی محمد بن حسین بن محمد بن موسی ٰسلمی نے ان کو ان کے دادا اسماعیل بن نجید نے اور محمد بن بن محمد بن احمد بن اسحاق حافظ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی محمد بن اسحق بن خزیمہ نے ان کو بشر بن بلال صواف نے ان کو جعفر بن سلیمان نے معلیٰ بن زیاد سے اس نے علا ءبن بشیر سے اس نے ابو الصدیق نا جی سے اس نے ابو سعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک جماعت میں تھا جس میں ضعفاء مہاجرین تھے اور بعض ان کے بعض سے چھپ رہا تھا ننگے ہونے کے ڈر سے اور ایک تلاوت کرنے والا ہمارے سامنے تلاوت کر رہا تھا ہم اس کی قرأت سن رہے تھے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے جب قرأت کرنے والے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ خاموش ہو گیا۔ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے السلام علیکم کہا اور پوچھا کہ تم لوگ کیا کر رہے تھے ہم نے عرض کی یا رسول اللہ یہ قاری ہمارے سامنے قرأت کر رہا تھا اور ہم اس کی قرأت سن رہے تھے ۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کر دئیے ہیں جن کے بارے میں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ان کے ساتھ ٹھہروں ۔ کہتے ہیں کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے تا کہ اپنے آپ کو ہمارے اندر سکون و آرام دیں پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ایسے ہو جاؤ ( یعنی حلقہ بنالو ) لہٰذا لوگوں نے حلقہ بنالیا جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو نہیں پہچانتے تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ سب کمزور مہاجرین تھے لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش ہو جاؤ اے غریب مہاجرین مکمل کامیابی کے ساتھ قیامت کے دن تم لوگ جنت میں دولت مندوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہو گے جس کی مقدار پانچ سو سال ہوگی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← العلاء بن بشير ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← جدي إسماعيل بن نجيد و محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق الحافظ ← محمد بن الحسين بن محمد بن موسى السلمي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10492

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10493

10493 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا حرملة بن يحيى أنا ابن وهب حدثني أبو هانيء حميد بن هانيء أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يقول : جاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو بن العاص و أنا عنده فقالوا : يا أبا محمد إن و الله ما نقدر على شيء لا نفقة و لا دابة و لا متاع فقال لهم : ما شئتم إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله لكم و إن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان و إن شئتم صبرتم فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة بأربعين خريفا قالوا : إنا نصبر لا نسأل شيئا فقال رجل : يا أبا محمد أنا من فقراء المهاجرين قال : ألك مسكن و زوجة قال : نعم قال : أنت من الأغنياء قال : إن لي خادما قال : إذا أنت من الملوك رواه مسلم في الصحيح عن أبي الطاهر عن ابن وهب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو رملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن و ہب نے اور حدیث بیان کی ابو بانی حمید بن ہانی نے اس نے سناء ابوعبدالرحمٰن حبلی سے وہ کہتے ہیں کہ تین آدمی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس آئے اور میں ان کے پاس موجود تھا۔ وہ بولے اے ابو محمد اللہ کی قسم بے شک ہم لوگ اللہ کی قسم ہم لوگ کسی شئی پر قادر نہیں ہیں نہ خرچے پر نہ سواری پر نہ ہی سامان و اسباب پر قدرت رکھتے ہیں۔ عبداللہ نے ان سے کہا۔ تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ اگر تم لوگ چاہو تو ہمارے پاس واپس لوٹ کر نا ہم تمہیں اتنا کچھ دیں گے جو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے پسند کرے گا اور اگر تم لوگ چاہو تو ہم بادشاہ سے تمہارا تذکرہ کرتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو تم صبر کرو بے شک میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے بے شک فقراء مہاجرین دولت مندوں سے قیامت کے دن چالیس سال کی مقدار سبقت لے جائیں گے تو لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے بے شک ہم لوگ صبر کر کے رک جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا اے ابومحمد میں فقرا، مہاجرین میں سے ہوں ۔ آپ نے پو چھا کہ کیا تیرا گھر بار اور بیوی بچے ہیں؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہیں۔ انہوں نے کہا تو دولت مندوں میں سے ہے۔ اس نے کہا کہ میرا تو نو کر بھی ہے فرمایا پھر تو بادشاہوں میں سے ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو طاہر سے اس نے ابن وہب سے۔

أَبُو هَانِىءٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِىءٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10493

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10494

10494 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش أنا الحسن بن سفيان ثنا أبو وهب الحراني ثنا سليمان بن عطاء عن سلمة بن عبد الله عن عمه عن سلمان قال : جاءت المؤلفة قلوبهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم عيينة بن بدر و الأقرع بن حابس و ذووهم فقالوا : يا رسول الله إنك لو جلست في صدر المسجد و نفيت عنا هؤلاء و أرواح جبابهم يعنون أبا ذر و سلمان و فقراء المسلمين و كانت عليهم جباب صوف و لم يكن عليهم غيرها جلسنا إليك و حادثناك و أخذنا عنك فأنزل الله عز و جل : { و اصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة و العشي } إلى قوله : { أعتدنا للظالمين نارا } يتهددهم بالنار فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم يلتمسهم حتى أصابهم في مؤخر المسجد يذكرون الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد لله الذي لم يمتني حتى أمرني أن أصبر نفسي مع قوم من أمتي معكم المحيا و معكم الممات

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن محمد بن قریشی نے ان کو حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مؤلفۃ القلوب آئے (یعنی جن کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مال دے دیا کرتے تھے۔) عیینہ بن بدر اور اقرع بن حابس ۔ اور مالدار لوگ وہ بولے یار سول اللہ آپ اگر مسجد کے بیچ میں بیٹھا کریں۔ اور ان لوگوں کو ہم سے دور کر دیا کریں۔ اور جبوں والی روحوں کو ۔ اس بات سے ان کی مراد ابو محمد، سلیمان اور فقراء مسلمانوں سے تھی اور ان دنوں ان پراون کے جبے تھے اور ان کے سوا ان پر کوئی دوسرا کپڑا نہیں ہوتا تھا۔ اگر آپ ایسے کریں تو ہم آپ کے پاس بیٹھا کریں گے اور آپ سے باتیں کیا کریں گے اور آپ سے کچھ سیکھا کریں گے لہٰذا اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ و اصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة و العشی. تا. اعتدنا للظالمين ناراً. کہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روک رکھئے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ نارا ً تک یعنی ان کو آگ سے ڈرایا۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان سب سے خیریت پوچھنے لگے اور سب کے پاس انفرادی طور پر ٹھہرنے لگے یہاں تک کہ مسجد کے آخر تک پہنچے اور وہ سب اللہ کا ذکر کر رہے تھے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کا شکرہے جس نے مجھے نہیں مارا یہاں تک کہ مجھے حکم دے دیا کہ میں خود کو اپنی امت کی ایک قوم کے ساتھ روک رکھوں تمہارے ساتھ جینا ہے اور تمہارے ساتھ ہی مرنا ہے۔

سَلْمَانَ ← عَمِّہٖ ← سَلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← سليمان بن عطاء ← أَبُو وَهْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10494

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10495

10495 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا محمد بن عثمان التنوخي أبو الجماهر الدمشقي ثنا يحيى بن حمزة عن أبي عبد الله البحراني عن القاسم أبي عبد الرحمن عن سعد بن أبي وقاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و الذي نفسي بيده ما تنصرون و لا ترزقون إلا بالضعفاء

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ابوالحسن بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو محمد بن عثمان تنوحی نے ابوالجما ہر دمشقی نے ان کو یحیی ٰبن حمزہ نے ابو عبد اللہ بجرانی سے اس نے قاسم ابو عبد الرحمٰن سے اس نے سعد بن وقاص سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں مری جان ہے نہیں مدد کئے جاتے تم اور نہیں رزق دیئے جاتے تم مگر ضعیفوں اور کمزوری کےسب سے۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبي عبد الله البحراني ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← محمد بن عثمان التنوخي أبو الجماهر الدمشقي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10495

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10496

10496 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر ثنا أبو حاتم الرازي ثنا الأنصاري و هوذة بن خليفة قالا : ثنا سليمان التيمي أن أبا عثمان حدثهم عن أسامة بن زيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قمت على أبواب الجنة فإذا عامة من يدخلها المساكين و قمت على باب النار فإذا عامة من يدخلها النساء أخرجاه في الصحيح كما معنى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الرحمٰن محمد بن عبد اللہ تاجر نے اس نے ابو حاتم رازی سے اس نے انصاری سے اور ہوز ہ بن خلیفہ سے دونوں نے کہا کہ ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان نے ان کو حدیث بیان کی ہے اسامہ بن زید نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا اور دیکھا تو زیادہ تر جو اس میں داخل ہوئے وہ مسکین لوگ تھے اور میں نے جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا تو زیادہ تر اس میں جو داخل ہوئے وہ عورتیں تھیں بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں جیسے مفہوم ہے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← سليمان التيمي أن أبا عثمان ← الأنصاري و هوذة بن خليفة ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10496

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10497

10497 - أخبرنا عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي ثنا أبو برزة الفضل بن محمد الحاسب ثنا الحسين بن علي بن الأسود ثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة العمري حدثني نافع بن مالك أبو سهل عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا إله إلا الله تمنع العباد من سخط الله ما لم يؤثروا صفقة دنياهم على دينهم فإذا آثروا صفقة دنياهم على دينهم فإذا آثروا صفقة دنياهم ثم قالوا : لا إله إلا الله قال الله : كذبتم

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی بن عبد الخالق مؤذن نے ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم بن فضل باشمی نے ان کو ابو برزہ فضل بن محمدحاسب نے ان کو حسین بن علی بن اسود نے ان کو ابو اسامہ نے عمر بن حمزہ عمری سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی نافع بن مالک ابو سہل نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کہ لا الہ الا اللہ ۔بندوں کو اللہ کی نار اضگی سے روکتا ہے جب تک وہ دنیا کے صفقے کو اپنی دین پر ترجیح نہ دیں۔ اور جب اپنی دنیا کے صفقہ کو اپنے دین پر تر جیح دیں پھر کہتے ہیں الہ الا اللہ تواللہ فرماتا ہے تم جھوٹ کہتے ہو ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← نافع بن مالك أبو سهل ← عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ ← أبو برزة الفضل بن محمد الحاسب، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10497

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10498

10498 - حدثنا أبو سعد الزاهد نا أبو سعيد أحمد بن أبي بكر بن أبي عثمان الحيري نا الحسن بن سفيان الشيباني نا الحسين بن علي بن الأسود العجلي : فذكره بإسناده غير أنه قال : فإذا آثروا صفقة دنياهم على دينهم ثم قالوا : لا إله إلا الله ردت عليهم و قال الله لهم : كذبتم

ہمیں حدیث بیان کی ابو سعد زاہد نے ان کو ابوسعید احمد بن ابو بکر بن عثمان حیری نے ان کو حسن بن سفیان شیبانی نے ان کا حسین بن علی بن اسود عجلی نے اس نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے جب وہ اپنی دنیا کو اپنے دین پرترجیح دیں گےپھر کہیں گے لا الہ الا اللہ تو یہ ان پر واپس مار دیا جائے اور اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم جھوٹے ہو۔

الله لهم كذبتم ← لا إله إلا الله ردت عليهم و ← فإذا آثروا صفقة دنياهم على دينهم ثم ← الحسين بن علي بن الأسود العجلي فذكره بإسناده غير أنه ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الحيري، ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10498

chevron_left Previous
1…212223…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood