Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10475

10475 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي ثنا أبو الزنباع روح بن الفرج المصري ثنا يحيى بن سليمان الجعفي ثنا المحاربي عبد الرحمن بن محمد عن سفيان الثوري عن العمش عن أبي صالح عن أبي هريرة يبلغ به قال : إذا مات الميت قالت الملائكة : ما قدم و قال بنو آدم ما خلف

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بغدادی نے ان کو ابوالزنباع روح بن الفرج مصری نے ان کو یحییٰ بن سلیمان جعفی نے ان کو محاربی نے عبدالرحمٰن بن محمد سے اس نے سفیان ثورری سے اس نے اعمش سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہچانتے ہیں، فرمایا کہ جب مرنے والا مر جاتا ہےتو فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے آگے کیا کچھ بھیجا ہے؟ اور بنی آدم کہتے ہیں اس نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ہے۔

بنو آدم ما خلف ← الملائكة ما قدم و ← إذَا ماتَ الميِّتُ ← أبي هريرة يبلغ به ← اَبِیْ صَالِحٍ ← العمش ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الْمُحَارِبِيُّ عَبد الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمد، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10475

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10476

10476 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر المعروف بابن البياض انا أحمد بن سلمان ثنا عبد الملك بن محمد ثنا أبو عاصم ثنا ابن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل ابن آدم و ماله و عمله مثل رجل له ثلاثة أخلاء قال له أحدهم : أنا معك ما دمت حيا فإذا مت فلست مني و لا أنا منك فذلك ماله و قال الآخر : أنا معك فإذا بلغت إلى قبرك فلست مني و لست لك فذلك ولده و قال الآخر : أنا معك حيا و ميتا فذلك عمله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابو طاہر معروف بن بیاض نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبد الملک بن محمد نے ان کو ابو عاصم نے ان کو ابن عجلان نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کے مال کی اور اس کے اعمال کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے تین دوست ہوں ان میں سے ایک اس سے کہے کہ تم جب تک زندہ رہو گے میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ جب تم مر جاؤ گے میرا تیرا واسطہ ختم ہو جائے گا۔ نہ میں تیرا اور نہ تو میرا ہوگا یہ اس کا مال ہے اور دوسرا کہے میں اس وقت تیرے ساتھ ہوں جب تک تو قبر تک جاپہنچے جب تم قبر تک پہنچو گے تو نہ میں تیرا اور نہ ہی تو میرا۔ میرا تیرا تعلق ختم ہو جائے گا۔ یہ اس کا بیٹا ہے۔ تیسر ا دوست کہے کہ میں تیرے ساتھ ساتھ ہوں زندہ رہے تو یا مر جائے دونوں حالتوں میں تیرے ساتھ ہوں یہ اس کا عمل ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر المعروف بابن البياض

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10476

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10477

10477 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني قال : و انا أبو عمرو بن عثمان بن أحمد السماك ثنا عبد الرحمن بن مرزوق قالا : ثنا كثير بن هشام ثنا جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أن الله لا ينظر إلى صوركم و لا أموالكم و لكن إنما ينظر إلى قلوبكم و أعمالكم رواه مسلم في الصحيح عن عمرو و الناقد عن كثير بن هشام

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو عمرو بن عثمان بن احمد سماک نے ان کو عبدالرزاق بن مرزوق نے۔ دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی کثیر بن ہشام نے ان کو جعفر بن برقان نے یزید بن اصم سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نہیں دیکھتے تمہاری صورتوں کی طرف نہ ہی تمہارے مالوں کی طرف بلکہ وہ تو دیکھتے ہیں تمہارے دلوں کی طرف اور تمہارے اعمال کی طرف۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عمرو سے اور ناقد نے کثیر بن ہشام سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← عبد الرحمن بن مرزوق ← أبو عمرو بن عثمان بن أحمد السماك ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10477

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10478

10478 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا أبو عبد الله البوشنجي ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال : حدثني المغيرة و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة ثنا أبو الحسن أحمد بن محمود بن أحمد السمعي إملاء قال : ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار قال : ثنا يحيى بن معين ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا المغيرة بن عبد الرحمن عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : ليأتين الرجل العظيم السمين يوم القيامة لا يزن جناح بعوضة ثم قرأ : { فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا } و في رواية ابن بكير : قال : إنه ليأتي على الرجل و قال : قال : اقرأ : { فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا } و رواه البخاري في الصحيح عن ابن بكير و عن محمد بن عبد الله عن ابن أبي مريم و رواه مسلم عن الصغاني عن ابن بكير

ہمیں خبردی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونصر فقیہ نے ان کو بو عبداللہ بوشخبی نے ان کویحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی مغیرہ نے اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ محمد بن فضل بن نظیف نے مکہ میں ان کو ابو الحسن احمد بن محمود بن احمد سمعی نے بطور املاء کے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی احمد بن حسن بن عبد الجبار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی یحییٰ بن معین نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو مغیرہ بن عبد الرحمٰن نے ان کو ابوز نا داعرج سے اس نے ابو ہریرہ نے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےکہ آپ نے فرمایا البتہ ضرور آئے گا ایک موٹا لمبا تڑ نگا آدمی قیامت کے دن اور وہ مچھر کے پَر کے برابر وزن نہیں کیا جاسکے گا (یعنی تر ازوئے اعمال میں اتنا وزن بھی نہیں ہوگا ۔ ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔ فلا نقيم لهم يوم القيمة وزناً ہم قیامت کے دن ان لوگوں کے لئے تر از وہی نہیں کھڑی کریں گے ۔ اور ابن بکیر کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بے شک البتہ آئے گا ( وہ وقت ) آدمی پر ۔ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ پڑھئے فلا تقيم له يوم القيمة وزناً. ہم ان کے لئے قیامت کے دن تر از وہی نہیں اٹھا ئیں گے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ۔ ابن بکیر سے اور محمد بن عبد اللہ سے مروی ہے اس نے ابن مریم سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا صنعانی سے اس نے ابن بکیر سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو الحسن أحمد بن محمود بن أحمد السمعي ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف ← الْمُغِيرَةِ, و ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10478

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10479

10479 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن العرابي ثنا عبد الرحمن بن خلف و القنطراني قالا : ثنا عمرو بن مرزوق ثنا زائدة عن العمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة بن الحر عن أبي ذر قال : كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد فقال : أنظر أرفع رجل في المسجد في عينك قال : فرفعت رأسي فإذا رجل محتبي بحلة في حلقه يحدثهم فقلت : هذا فقال : طأطىء برأسك فانظر إلى أوضع رجل ترى في المسجد في عينك فنظرت فإذا رجل مسكين ضعيف فقلت هذا فقال : و الذي نفسي بيده لهذا يوم القيامة خير عند الله من تراب الأرض من هذا

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو عبدالرحمٰن بن خلف نے اور قنطرانی نے دونوں نے کہا کہ ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو زائدہ نے اعمش سے اس نے سلیمان بن مسہر سے اس نے خرشہ بن حر سے اس نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے فرمایا کہ مجھ میں آپ سب سے اونچا آدمی دیکھو تیری نظروں میں کہتے ہیں کہ میں نے سر اوپر اٹھایا تو اچانک دیکھا ایک آدمی پوشاک پہنے لوگوں سے باتیں کر رہا ہے میں نے کہا کہ یہ شخص ہے۔ اپنے سرکو ذرا نیچے کیجئے اور دیکھتے سب سے چھوٹے قد کا آدمی جو تمہیں مسجد میں نظر آئے تیری نظروں میں۔ میں نے دیکھا تو اچانک ایک مسکین ضعیف نظر آیا میں نے کہا کہ یہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ البتہ یہ شخص قیامت کے دن بہتر ہوگا اللہ کے نزدیک زمین کی مٹی سے اس شخص سے۔

كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← العمش ← زَائِدَۃَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عبد الرحمن بن خلف و القنطراني ← أبو سعيد بن العرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10479

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10480

10480 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يعلي بن عبيد قال : قال الأعمش عن زيد بن وهب عن أبي ذر قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد فقال : أفنظرت فإذا رجل محتبي في حله يحدث حلقة فقلت هذا قال : طأطىء رأسك فانظر إلى أوضع إنسان في المسجد فنظرت فإذا رجل مسكين ضعيف فقلت هذا فقال : و الذي نفسي بيده لهذا خير من ملء الأرض مثل هذا لفظ حديث يعلي

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے اعمش سے۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یعلی بن عبید نے وہ کہتے ہیں اعمش نے کہا ہے زید بن وھب سے اس نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا آپ نے دیکھا ہے۔ (میں نے دیکھا تو )ایک آدمی اپنے دھیان میں ایک حلقے میں بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ خوب ہے آپ نے فرمایا کہ سرکو ذرا نیچے کرو اور مسجد میں سب سے کم تر انسان کو دیکھو میں نے دیکھا تو ایک مسکین ضعیف آدمی مسجد میں سب سے پیچھے تھا میں نے کہا کہ یہ ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے؟ البتہ یہ مسکین ضعیف بہتر ہے اس جیسے زمین بھری ہوئی لوگوں سے۔ (یعنی یہ مسکین ایک ہو اور اس مالدار جیسے لوگ ساری دنیا بھری ہوئی ہو پھر بھی یہ ایک ان سب سے بہتر ہے۔) یہ الفاظ حدیث یعلی کے ہیں۔

يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← الأَعْمَشِ، وَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَفَّانَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10480

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10481

10481 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله انا الحسن بن سفيان ح و أخبرنا أبو عمرو الديب انا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن و القاسم قالا : ثنا محمد بن الصباح ثنا عبد العزيز بن أبي حازم قال : حدثني أبي عن سهل بن معد قال : مر على رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل فقال لأصحابه : ما تقولون في هذا قالوا : رأيك قالوا : نقول يا رسول الله : هذا من أشراف الناس هذا حري إن خطب أن يخطب و إن شفع أن يشفع و إن قال أن يستمع لقوله قال : فسكت فمر رجل آخر فقال : ما تقولون في هذا قالوا : نقول يا رسول الله هذا من فقراء المسلمين هذا حري أن خطب لم يخطب و إن شفع لم يشفع و إن قال لم يستمع لقوله قال : هذا خير من ملء الأرض من هذا لفظ حديث الحسن و قال القاسم : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا خير من ملء الأرض من هذا و لم يقل قالوا : رأيك و قال الحسن : ثنا محمد بن الصباح أبو جعفر الجرجاني رواه البخاري في الصحيح عن ابن أبي أويس عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ’’ح‘‘اور ہمیں خبر دی ابو عمر وادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی حسن اور قاسم نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو عبد العزیز بن ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے والد نے سہل بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا آپ کی رائے۔ پھر بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگوں میں سے شریف ترین آدمی ہے یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی سے رشتہ مانگے تو اس کومل جائے کسی کے لئے سفارش کرے تو سنی جائے۔ اگر وہ کوئی بات کرے تو مانی جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ پھر دوسرا آدمی گذرا تو آپ نے پوچھا کہ تم لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ۔ وہ بولے یا رسول اللہ یہ فقراء مسلمانوں میں سے ہے یہ تو اس قابل ہے کہ اگر کسی سے رشتہ مانگے تو کوئی نہیں دے گا اگر کسی کے لئے سفارش کرے تو کوئی قبول نہیں کرے گا اگر کچھ کے تو کوئی بھی نہیں سنے گا۔ فرمایا کہ یہ مسکین۔ اس مالدار جیسے روئے زمین کے لوگوں سے بہتر ہے۔ یہ الفاظ حسن کی حدیث کے ہیں۔ اور قاسم نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس جیسے بھری زمین کے لوگوں سے بہتر ہے۔ اور یوں نہیں کہا کہ انہوں نے کہا تھا۔ جناب کی رائے ۔ (ہی معتبر ہے )۔ اور حسن نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن صباح ابو جعفر جرجانی نے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں ابن ابواویس سے اس نے عبدالعزیز سے۔

نَقُولُ ← رَأْيِكَ؟ ← لأصحابه ما تقولون في هذا ← مر على رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل ← سهل بن معد ← أَبِي ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← الحسن و القاسم ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو عمرو الديب ← و، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10481

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10482

10482 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ انا عبد الله بن محمد البغوي ح و أخبرني أبو عمرو المفري ثنا عمران بن موسى ثنا سويد بن سعيد ثنا حفص بن ميسرة عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره رواه مسلم في الصحيح عن سويد بن مسعود 10482 - حدثنا أبو محمد بن يوسف إملاء انا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري ثنا أحمد بن حازم بن غرزة أنا جعفر بن عون ثنا أسامة بن زيد عن جعفر بن عبيد الله بن أنس عن أنس بن مالك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : رب أشعث أغبر طمرين لو أقسم على الله لأبره

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو عبد اللہ بن محمد بغوی نے ’’ح‘‘ اور مجھے خبر دی ابو عمر و مقری نے ان کو عمران بن موسیٰ نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو حفص بن میسرہ نے العلاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سے پراگندہ غبار آلودہ بالوں والے دروازوں سے دور بھگائے ہوئے ایسے(قبول بارگاہ خداوندی میں بھی) کہ اگر وہ اللہ تعالی ٰکو قسم دے کر کہہ دیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سوید بن مسعود سے۔ ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد بن یوسف نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزه نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اسامہ بن زید نے ان کو جعفر بن عبید اللہ بن انس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمارہے تھے، بہت سارے بکھرے بالوں والے غبار آلود جسم والے پوشیدہ پھٹے پرانے لباس والے ایسے بھی (مقبول بارگاہ ایز دی ہوتے ہیں ) کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کو قسم دے کر دعا کر دیں تو وہ ان کی قسم کو پورا کر دے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← أبو عمرو المفري ← و، ← عبد الله بن محمد البغوي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10482

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10483

10483 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العدل ثنا محمد بن إسحاق حدثني محمد بن عزيز الأيلي حدثني سلامة بن روح عن عقيل بن خالد عن ابن شهاب عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كم ضعيف متضعف ذي طمرين لو أقسم على الله لأبر قسمه منهم البراء بن مالك و أن البراء لقي زحفا من المشركين قد أوجع المشركون في المسلمين فقالوا له : يا براء إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنك لو أقسمت على الله لأبرك فأقسم على ربك فقال : أقسمت عليك يا رب لما منحتنا أكتافهم فمنحوا أكتافهم ثم التقوا على قنطرة السوس فأوجعوا في المسلمين فقالوا : يا براء أقسم على ربك فقال : أقسمت عليك يا رب لما منحتنا أكتافهم و ألحقني بنبيك صلى الله عليه و سلم فمنحوا أكتافهم و قتل البراء شهيدا

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبد اللہ بن محمد بن زیاد عدل نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بن عز یر ایلی نے ان کو سلمہ بن روح نے اس کو عقیل بن خالد نے ان کو ابن شہاب نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت سے کمزور لوگ ایسے ہیں جن کو لوگ بھی ضعیف سمجھتے ہیں پھٹے پرانے لباس والے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کو قسم دے دیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دے گا۔ ان میں سے ایک تو براء بن مالک بھی ہیں بے شک براء مشرکین کی ایک بھیڑ اور انبوہ کے ساتھ ٹکرائے تھے مشرکوں نے مسلمانوں کو بہت دور کر دیا تھا۔ اس لئے لوگوں نے ان سے کہا تھا۔ اے براء بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو اگر آپ اللہ تعالیٰ پر قسم ڈال دے تو وہ تیری قسم پوری کر دے گا۔ لہٰذا آپ اپنے رب کو قسم دیجئے۔ لہٰذا ابراء نے دعا کی کہ اے میرے رب میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ جب مشرکوں سے مڈھ بھیڑہوتو ہم فتح یاب ہو جائیں۔ پھر سوس کے پل پر مقابلہ ہوا اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ۔ لوگوں نے کہا اے براء آپ اللہ تعالیٰ کو قسم دیجئے ۔ انہوں نے دعا کی اے میرے مالک جب کفار کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہو تو مجھے اپنے نبی کے ساتھ لاحق کر دینا۔ اب جب مقابلہ ہوا تو حضرت بر اقتل ہو کر شہید ہو گئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← سلامة بن روح ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10483

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10484

10484 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن معبد بن خالد عن حارثة بن وهب : سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ألا أدلكم على أهل الجنة كل ضعيف مستضعف لو أقسم على الله لأبره و قال : أهل النار كل جواظ عقل مستكبر أخرجاه في الصحيح من حديث غندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو معبد بن خالد نے ان کو حارثہ بن وہب نے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتلادوں ہر کمزور ۔ اور کمزور سمجھا جانے والا انسان (جو کہ ایسا مقبول بندہ ہو کہ )اگر اللہ تعالیٰ پر قسم ڈال دے تو وہ اس کی قسم کو پورا کر دے۔ اور فرمایا کہ اہل جہنم ہر مغرور متکبر اجڈ جھگڑالو ہے۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا صحیح میں حدیث مندر سے اس نے شعبہ سے۔

حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ← معبد بن خالد، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10484

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10485

10485 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا أبو عتبة عن محمد بن المهاجر عن عباس بن سالم اللخمي أن ابن عبد العزيز بعث إلى أبي سلام الحبشي و حمل على البريد حتى قدم عليه فقال : إني بعثت إليك أشافهك حديث ثوبان في الحوض فقال أبو سلام : سمعت ثوبان يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حوضي من عدن أبين إلى عمان البلقاء أكوازه مثل عدد نجوم السماء ماؤه أحلى من العسل أشد بياضا من اللبن من شرب منه لم يظمأ بعدها أبدا أول من يرد علي فقراء أمتي فقال عمر : يا رسول الله من هم ؟ قال : هم الشعث الرؤوس الدنس الثياب الذين لا ينكحون المتنعمات و لا تفتح لهم أبواب السدد قال : فقال عمر بن عبد العزيز : أنا و الله قد أنكحت المتنعمات فاطمة بنت عبد الملك و فتحت له أبواب السدد إلا أن يرحمني الله لا جرم و الله لا أدهن رأسي حتى تشعث و لا أغسل ثوبي الذي يلي جسدي حتى يتسخ

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو محمد بن مہاجر نے عباس بن سلام لخمی سے یہ کہ عمر بن عبد العزیز نے میرے پاس ابو سلام حبشی کو بھیجا اور میرے پاس خط بھیجا اس نے آ کر کہا کہ میں آپ کے پاس بھیجا گیا ہوں کہ میں حوض کوثر کے بارے میں آپ کے منہ سے حدیث سنوں تو بان والی حدیث ، بس ابو سلام نے کہا کہ میں نے ثوبان سے سنا تھا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے۔ میرا حوض ( اس قدر بڑا ہوگا۔ جیسے ) عدن سے لے کر عمان بلقاء کا فاصلہ ہے بلکہ اس سے بھی بڑا۔ اس کے ڈونگے آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے ( کثرت میں یا چمکنے میں ) اس کا پانی شہد سے شیرین تر ہوگا اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگا۔ جو شخص ایک بار اس میں سے پی لے گا وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا ہمیشہ کے لئے سب سے پہلے میرے پاس اس پر میری امت کے فقراء اور غریب پہنچیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا یا رسول اللہ وہ کون ہیں؟ فرمایا کہ وہ بکھرے ہوئے سروں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو مالدار عورتوں سے رشتہ نہیں کر سکتے اور جن کے لئے لوگوں کے بند دروازے نہیں کھولے جاتے کہتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے کہا اللہ کی قسم میں نے آرام اور نعمتوں میں پروردہ فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا ہے اور اس کے لئے بند دروازے کھول دیئے ہیں ہاں مگر یہ ہے کہ اللہ مجھ پر رحم کر دے گا۔ لا محالہ ۔ اور اللہ کی قسم میں اپنے سر میں تیل نہیں لگاتا یہاں تک کہ وہ بکھر جاتا ہے۔ اور میں اپنے کپڑے نہیں دھوتا ہوں یہاں تک کہ جو میرے جسم سے لگے ہوئے ہیں وہ میلے ہو جاتے ہیں۔

عباس بن سالم اللخمي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10485

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10486

10486 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن عبيد الفقيه ثنا أبو قريش الحافظ حدثني محمد بن علي بن حمزة المروزي ثنا إسحاق بن سليمان الرازي ثنا جعفر بن سليمان الضبعي عن أيوب عن الحسن عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أن ملوك أهل الجنة كل أشعث أغبر ذي طمرين إذا استأذنوا على الأمراء لم يؤذن لهم و إذا طلبوا النساء لم ينكحوا أو إذا قالوا الحديث لم ينصت لقولهم حاجة أحدهم يتجلجل في صدره لو قسم نوره بين أهل الأرض لوسعهم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن عبید فقیہ نے ان کو ابوقریش حافظ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن علی بن حمزہ مروزی نے ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے ان کو جعفر بن سلیمان ضبعی نے ان کو ایوب نے حسن سے اس نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا بے شک اہل جنت کے بادشاہ وہ ہوں گے ہر بکھرے بالوں والا غبار آلود پھٹے پرانے کپڑوں والا ( دنیا میں ) جو لوگ امراء کے دروازوں پر اجازت مانگیں تو ان کو اجازت نہ ملے۔ اور رشتہ مانگیں تو کوئی ان کو نکاح نہ دے۔ اور جب وہ کوئی بات کہیں تو کوئی ان کی بات پر کان نہ دھرے۔ جن کی دل کی خواہش دل کے اندر ہی کروٹیں لیتی رہے۔ اگر اس کے ایمان کی روشنی پورے اہل زمین میں تقسیم کی جائے تو ان کو پوری ہو جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← أَيُّوبَ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← محمد بن علي بن حمزة المروزي ← أبو قريش الحافظ ← محمد بن عبيد الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10486

chevron_left Previous
1…202122…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood