Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10463

10463 - أخبرنا الحاكم أبو عبد الله ثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل ثنا أحمد بن سلمة ثنا الحسين بن منصور قال : حدثت عن فضيل بن عياض في معنى قوله صلى الله عليه و سلم : الدنيا سجن المؤمن و جنة الكافر قال : هي سجن من ترك لذاتها و شهواتها فأما الذي لا يترك لذاتها و لا شهواتها فأي سجن هي عليه

ہمیں خبر دی حاکم ابو عبد اللہ نے ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب عدل نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو حسین بن منصور نے وہ کہتے ہیں مجھے فضیل بن عیاض سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا مطلب بیان کیا کہ دنیا مؤمن کی قید ہے اور کافر کی جنت ہے۔ فرمایا کہ یہ قید ہے دنیا کی لذات اور شہوات کو ترک کرنے کی وجہ سے بہر حال جو شخص نہ دنیا کی لذات کو چھوڑے نہ ہی شہوات کو اسکے لئے یہ کون سی قید ہے؟

الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10463

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10464

10464 - حدثنا أبو محمد بن يوسف انا أبو بكر بن الحسين القطان ثنا إبراهيم بن الحارث البغدادي ثنا يحيى بن أبي بكير قال : ثنا شعبة ح و أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم بن أبي أياس ثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة فاغفر للأنصار و المهاجرة و في رواية ابن يوسف قال : سمعت أنس بن مالك يروي عن النبي صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن آدم

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی شعبہ نے ’’ح‘‘اور ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمودیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے قتادہ سے اس نے انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ نہیں ہے زندگی مگر آخرت والی زندگی ہے اللہ تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے اور ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے سنا ہے انس بن مالک سے وہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أبو بكر بن الحسين القطان ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10464

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10465

10465 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا الحسين بن صفوان البردعي ثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد بن أبي الدنيا ثنا سعيد بن سليمان الواسطي عن زكريا بن منظور بن ثعلبه بن أبي مالك ثنا أبو حازم عن سهل بن سعد قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي الحليفة فرأى شاة شائلة برجلها فقال : أترون هذه الشاة هينه على صاحبها قالوا : نعم قال : و الذي نفسي بيده للدنيا أهون على الله عز و جل من هذه على صاحبها و لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ما سقي كافر منها شربة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی حسین بن صفوان بر دعی نے ان کو ابو بکر عبداللہ بن محمد بن عبید بن ابوالدنیا نے ان کو سعید بن سلیمان واسطی نے ذکریا بن منظور بن ثعلبہ بن ابو مالک سے ان کو ابو حازم نے سہل بن سعد سے وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذوالحلیفہ میں گذرے آپ نے ایک مردار بکری پڑی ہوئی دیکھی جس کی ایک ٹانگ پھولنے کی وجہ سے اٹھی ہوئی تھی آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اس بکری کو دیکھ رہے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک کس قدر بے قدرو قیمت ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک جتنا یہ اپنے مالک کے آگے حقیر ہے اور دنیا ایک مچھر کے پَر کے برابر قدرو قیمت رکھتی ہوتی تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ کے برابر پینے کے لئے بھی نہ دیا جاتا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ الْبَرْدَعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10465

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10466

10466 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد هو الصغاني ثنا سعيد بن سليمان ثنا عبد الحميد بن سليمان عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ما سقي كافر منها شربة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابو العباس اصم نے ان کو محمد صنعانی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو عبدالحمید بن سلیمان نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر قدرو قیمت رکھتی تو کافر کو اس میں ایک گھونٹ پینے کو ہی نہ دیا جاتا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد هو الصغاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10466

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10467

10467 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه قال : أنا موسى بن الحسن ثنا القعنبي ح و أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو القاسم جعفر بن محمد بن إبراهيم المرساني بمكة أنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ثنا سليمان بن بلال عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بالسوق داخلا من بعض العاليه فمر بجدي أسك ميت فتناوله فأخذ بأذنه ثم قال : أيكم أن هذا له بدرهم قالوا : ما نحب أنه لنا بشيء و ما نصنع به قال : أتحبون أنه لكم قالوا : و الله لو كان حيا لكان عيبا فيه أنه أسك فكيف و هو ميت قال : فوالله للدنيا أهون عند الله من هذا عليكم رواه مسلم في الصحيح عن القعنبي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی موسیٰ بن حسن نے ان کو قعنبی نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابومحمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو القاسم جعفر بن محمد ابراہیم مرسانی نے مکہ میں ان کو ابو حاتم محمد بن ادریس رازی نے ان کو عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے ان کو سلیمان بن بلال نے جعفر بن محمد سے اس نے اپنے والد سے اس نے جابر بن عبد اللہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض راستوں سے داخل ہو کر بازار میں داخل ہوئے وہاں آپ ایک مرے ہوئے بکری کے بچے کے پاس سے گذرے آپ نے اس کے کان کو ہاتھ لگا کر فرمایا کون تم میں سے اس کو ایک درہم کے بدلے میں لے گا ان لوگوں نے کہا ہم تو اس کو کسی شئی کے بدلے میں بھی نہیں لیں گے ہم اس کو کیا کریں گے؟ انہوں نے کہا تم پسند کرو گے کہ یہ تمہارا ہو؟ لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ ہوتا تو بھی اس میں عیب تھا۔ اب تو یہ مرا ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم البتہ دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بے قدر ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک بے قدر ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں قعنبی سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← أبو القاسم جعفر بن محمد بن إبراهيم المرساني بمكة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10467

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10468

10468 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان انا ابن أبي الدنيا ثنا خالد بن خداش قال : حدثني عبد العزيز بن أبي حازم حدثني أبي عن عبد الله بن بولا عن أبيه من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى جبل الأحمر فرأى شاة ميتة فأخذ ـ أظنه قال : بإذنها فقال : أترون هذه كريمة على أهلها قالوا : و ما كرامتها قال : فوالله للدنيا أهون على الله من هذه على أهلها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابوالد نیا نے ان کو خالد بن خداش نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی عبدالعزیز بن ابو حازم نے ان کو ان کے والد نے عبداللہ بن بولا سے اس نے اپنے والد سے اصحاب نبی سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبل احمر پر آئے انہوں نے ایک مری ہوئی بکری دیکھی آپ نے غالبا ًاس کے کان سے پکڑا اور فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ اپنے مالکوں کے ہاں کوئی عزت رکھتی ہے لوگوں نے کہا اس کی کیا عزت ہوگی؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم جتنا یہ اپنے مالکوں کے آگے بے کار ہے دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بے قدرو قیمت ہے۔

أبيه من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الله بن بولا ← أَبِي ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10468

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10469

10469 - أخبرنا علي بن محمد بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا حدثني يعقوب بن عبيد ثنا أبو عاصم النبيل عن محمد بن عماره عن عبد الله بن عبد الرحمن : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى بهديه فالتمس في البيت شيئا يضعه فيه فقال : ضعه بالحضيض فلو كانت تعدل عند الله شيئا ما أعطى كافرا منها قدر جناح بعوضه مثلا فما اخرج من ابن آدم و أن قزحه و ملحه فانظر إلى ما يصير

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابوالد نیا نے ان کو یعقوب بن عبید نے ان کو ابو عاصم نبیل نے ان کو محمد بن عمارہ نے ان کو عبداللہ بن عبد الرحمٰن نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ہدیہ کی چیز آئی آپ نے گھر سے کوئی ایسی چیز تلاش کی جس کے اندر اس کو رکھ دیں۔ فرمایا اس کو پست جگہ پر رکھدیں۔ (یا پتھر پر ) اگر دنیا اللہ کے نزدیک کسی چیز کے برابر ہوتی تو وہ کافر کو اس میں سے مچھر کے پر کے برابر نہ دیتے مثلاً پس کیا نکلتا ہے ابن آدم سے اگر چہ وہ کتنا اچھا مصالحہ وغیرہ اور نمک استعمال کرے۔ دیکھئے کہ کس چیز کی طرف رجوع کرتا ہے۔ (یعنی نعمتیں کھاتا ہے اور کیا خارج کرتا ہے۔)

عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← محمد بن عمارة ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← يعقوب بن عبيد ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10469

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10470

10470 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو العباس الضبعي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا عبد العزيز بن عبد الله الأوسي ثنا يزيد بن عبد الملك بن يزيد بن خصيفة عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لو عدلت الدنيا عند الله جناح بعوضة ما أعطى مشركا منها شيئا 10470 - مكرر ـ أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا عباس الدوري ثنا موسى بن داود ثنا أبو معشر عن سعيد المقبري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو عدلت الدنيا عند الله جناح بعوضة من خير ما سقى كافرا منها شربة

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس ضیعی نے ان کو حسین بن علی بن زیاد نے ان کو عبد العزیز بن عبد اللہ اوسی نے ان کو یزید بن عبد الملک بن یزید بن خصیفہ نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا مچھر کے پر کے برابر ہوتی اللہ کے نزدیک تو وہ اس میں سے مشرک کو کچھ بھی نہ دیتا۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید اعرابی نے ان کو عباس دوری نے ان کو موسی بن داؤد نے ان کو ابو جعفر نے ان کو سعید مقبری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی اللہ کےنزدیک چیز میں تو وہ اس میں سے کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يزيد بن عبد الملك بن يزيد بن خصيفة ← عبد العزيز بن عبد الله الأوسي ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10470

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10471

10471 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني القاسم بن هاشم ثنا عبد الله بن نجدة الخوطي ثنا بقية بن الوليد عن ابن الحجاج المهري عن أبي ميمونة اللخمي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقف على مزبلة فقال : هلموا إلى الدنيا و أخذ خرقا قد بليت على تلك المزبلة و عظاما قد نخرت فقال : هذه الدنيا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی قاسم بن ہاشم نے ان کو عبد اللہ بن نجدہ حوطی نے ان کو بقیہ بن والد نے ان کو ابو الحجاج مہری نے ابو میمونہ لخمی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے کے ڈھیر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا آ جاؤ دنیا کی طرف اور آپ نے وہاں سے ایک کپڑے کی دھجیاں اٹھائی جو بوسیدہ ہو چلی تھی اسی کوڑے پر اور ہڈیاں جو بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ آپ نے (لوگوں کو یہ دکھا کر فرمایا ) کہ یہ دنیا ہے۔

أبي ميمونة اللخمي ← ابن الحجاج المهري ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عبد الله بن نجدة الخوطي ← الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10471

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10472

10472 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الباغندي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا حماد بن سلمة ثنا علي بن زيد عن الحر بن الضحاك بن سفيان الكلابي : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : يا ضحاك فما طعامك ؟ قال : اللحم و اللبن قال : ثم يصير إلى ماذا ؟ قال : إلى ما قد علمته فقال النبي صلى الله عليه و سلم إن عند الله عز و جل ما يخرج من ابن آدم مثل الدنيا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو باغندی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے حربن ضحاک بن سفیان کلابی نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا اے ضحاک آپ کی خوراک کیا ہے؟ اس نے عرض کی کہ گوشت اور دودھ ۔فرمایا کہ اس کے بعد وہ کیا بن جاتا ہے؟ اس نے عرض کی آپ سر کار جانتے ہیں جو کچھ بن جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانا جو کچھ بن کر ابن آدم سے نکلتا ہے اللہ کے نزدیک دنیا کی مثال اسی جیسی ہے (یعنی نجاست جیسی )۔

الحر بن الضحاك بن سفيان الكلابي ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْبَاغَنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10472

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10473

10473 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن علي الميموني ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن يونس عن الحسن عن عتي عن أبي كعب : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن مطعم ابن آدم ضرب للدنيا مثلا فما أخرج من ابن آدم و ان قزحه و ملحه فانظر إلى ما يصير

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی میمونی نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے یونس سے اس نے حسن سے اس نے عتی سے اس نے ابی بن کعب سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک ابن آدم کا کھانا دنیا کے لئے ضرب المثل ہے جو کچھا ابن آدم سے نکلتا ہے اگر چہ وہ کیسے ہی نمک اور مصالحے استعمال کرے غور کرو کہ پھر وہ کیا ہو جاتا ہے۔

أبي كعب ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْمُونِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10473

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10474

10474 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن قتيبة ثنا أبو بكر الهزلي عن الحسن بن قتيبة ثنا أبو بكر الهزلي عن أبي ابن كعب قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن من هوان الدنيا على الله أن يحيى بن زكريا عليهما السلام قتلته امرأة هذا إسناد ضعيف و روى عن ابن عباس موقوفا عليه قصه قتله و هو أن ابنة أخ الملك سألته ذبحه فذبحه و ذلك حين حرم نكاح ابنة الأخ و كانت تعجب الملك و يريد نكاحها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن قتیبہ نے ان کو ابو بکر ھذ لی نے ان کو حسن نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت رزالت میں سے ہے کہ یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو ایک عورت نے قتل کر دیا تھا۔ (یعنی سبب بن گئی تھی ) یہ اسناد ضعیف ہے۔ اور حضرت ابن عباس سے بطور موقوف روایت ان کے قتل کا قصہ مروی ہے وہ یہ ہے کہ بادشاہ کے بھائی کی بیٹی نے اس کے ذبح کرنے کے لئے ٹھانی۔ اس نے ذبح کر دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا حرام ہوا تھا۔ وہ بادشاہ کو پسند کرتی تھی اور یہ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔

أبي ابن كعبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْهُزَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← أَبُو بَكْرٍ الْهُزَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10474

chevron_left Previous
1…192021…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood