شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10463
10463 - أخبرنا الحاكم أبو عبد الله ثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل ثنا أحمد بن سلمة ثنا الحسين بن منصور قال : حدثت عن فضيل بن عياض في معنى قوله صلى الله عليه و سلم : الدنيا سجن المؤمن و جنة الكافر قال : هي سجن من ترك لذاتها و شهواتها فأما الذي لا يترك لذاتها و لا شهواتها فأي سجن هي عليه
ہمیں خبر دی حاکم ابو عبد اللہ نے ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب عدل نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو حسین بن منصور نے وہ کہتے ہیں مجھے فضیل بن عیاض سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا مطلب بیان کیا کہ دنیا مؤمن کی قید ہے اور کافر کی جنت ہے۔ فرمایا کہ یہ قید ہے دنیا کی لذات اور شہوات کو ترک کرنے کی وجہ سے بہر حال جو شخص نہ دنیا کی لذات کو چھوڑے نہ ہی شہوات کو اسکے لئے یہ کون سی قید ہے؟
الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10463
