Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10247

10247 - و أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق نا زائدة عن ليث عن مجاهد قال : قال لي ابن عمر يا مجاهد إذا أصبحت فلا تحدث نفسك بالمساء و إذا أمسيت فلا تحدث نفسك بالصباح و خذ من صحتك قبل سقمك و خذ من حياتك قبل موتك فإنك يا عبد الله لا تدري ما اسمك غدا

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو زائدہ نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں مجھے حضرت ابن عمر نے فرمایا تھا اے مجاہد جس وقت تو صبح کرے تو تو اپنے نفس کے ساتھ شام کی بات نہ کرنا اور جب تم شام کرو تو اپنے نفس سے صبح کی بات نہ کرنا۔ اور اپنی صحت سے کچھ لے اوراپنی بیماری سے پہلے اور اپنی زندگی سے کچھ لے لو۔ اپنی موت سے پہلے بے شک تو اے عبداللہ نہیں جانتا کہ کل صبح تیرا کیا نام ہو گا ؟

مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← زَائِدَۃَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و،

Hadith 10247

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10248

10248 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في كتاب قصر الأمل لابن أبي الدنيا أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الأصيهاني نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الله بن المبارك أنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند عن أبيه عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لرجل و هو يعظه اغتنم خمسا قبل خمس شبابك قبل هرمك و صحتك قبل سقمك و غناك قبل فقرك و فراغك قبل شغلك و حياتك قبل موتك قلت هكذا وجدته في كتاب قصر الأمل و كذلك رواه غيره عن ابن أبي الدنيا و هو غلط و إنما المعروف بهذا الإسناد ما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ابن ابو الدنیا کی کتاب ’’قصر الامل‘‘ میں ان کو ابوعبدالله محمد بن عبداللہ بن سعید بن ابو ھند نے اپنے والد سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ایک آدمی سے اور آپ اس کو نصیحت فرما رہے تھے۔ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھ۔ اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے۔ اور اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے ۔ اور اپنی دولت مندی کو اپنے فقرو محتاجی سے پہلے۔ اور اپنی فرصت کو اپنی مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔ میں نے کہا کہ اس روایت کو میں نے کتاب قصر الامل میں اسی طرح پایا ہے۔اور اس کے سوا دیگر نے اس کو روایت کیا ہے ابن ابو الدنیا سے حالانکہ وہ غلط ہے۔ یقینی بات یہ ہے کہ اس اسناد کے ساتھ معروف ہے اس طرح جو ذیل میں درج ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الأصيهاني ← أبو عبد الله الحافظ في كتاب قصر الأمل لابن أبي الدنيا

Hadith 10248

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10249

10249 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا علي بن الحسين الدارابجردي نا عبد الله بن عثمان أنا ابن المبارك أنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند عن أبيه عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس الصحة و الفراغ رواه البخاري في الصحيح عن مكي بن إبراهيم عن عبد الله بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن حسین دار بجروی نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو ابن مبارک نے ان کو عبداللہ بن سعید بن ابو ہند نے اپنے والد سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن میں لوگوں میں سے بہت سے لوگ نقصان کرتے ہیں یا نقصان میں رہتے ہیں (گویا ان سے پورا پورا اور با مقصد فائدہ نہیں اٹھاتے ) یا دھوکہ خوردہ ہیں۔ ایک صحت و تندرستی اور دوسری وقت کی فرصت۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں مکی بن ابراہیم سے اس نے عبداللہ بن سعید سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← علي بن الحسين الدارابجردي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 10249

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10250

10250 - و أما المتن الأول فعبد الله بن المبارك إنما رواه في كتاب الرقاق عن جعفر بن برقان عن زياد بن الجراح عن عمرو بن ميمون الأودي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل و هو يعظه : اغتنم خمسا قبل خمس شبابك قبل هرمك و صحتك قبل سقمك و غناك قبل فقرك و فراغك قبل شغلك و حياتك قبل موتك أخبرناه الإمام أبو عثمان أنا الشيخ أبو علي زاهر بن أحمد نا محمد بن معاذ الماليني نا الحسين بن الحسن المروزي أنا عبد الله بن المبارك أنا جعفر بن برقان فذكره عقيب الحديث الذي رواه عن عبد الله بن سعيد باللفظ المعروف نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس

بہرحال پہلا متن پس عبدالله بن مبارک نے اس کو روایت کیا کتاب الرقاق میں جعفر بن برقان سے زیاد بن جراح سے اس کے عمرو بن میمون اودی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ایک آدمی سے حالانکہ آپ اس کو نصیحت کر رہے تھے۔ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت مجھے اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اپنی صحت کو بیماری سے پہلے اپنے غنا کو فقر سے پہلے اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔ ہمیں اس کی خبر دی امام ابو عثمان نے ان کو خبر دی شیخ ابو علی زاہر بن احمد نے ان کو محمد بن معاذ مالینی نے ان کو حسین بن حسن مروزی نے ان کو عبد الله بن مبارک نے ان کو ابو جعفر بن برقان نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس حدیث کے بعد جس کو روایت کیا ہے اس نے عبداللہ بن سعید سے مشہور لفظ کے ساتھ کہ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ بہت سے لوگ ان میں دھوکہ خوردہ ہیں اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔

عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← زياد بن الجراح ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ

Hadith 10250

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10251

10251 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا عبد الله بن أحمد بن محمد الفقيه بهمدان أنشدنا أبو القاسم إبراهيم بن إسحاق الديباجي بهمدان قال : أنشدنا أبو عصمة محمد بن أحمد السجستاني بالبصرة لنفسه : ( أنبأنا خير بني آدم و ما على أحمد إلا البلاغ ) ( الناس مغبونون في نعمتي صحة أبدانهم و الفراغ )

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن محمد فقیہ نے ہمدان میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے ابو القاسم ابراہیم بن اسحٰق دیباجی نے ہمدان میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے ابو عصمہ محمد بن احمد سجستانی نے بصرہ میں اپنے کام میں سے۔ ہمیں اولاد آدم کے سب سے بہتر انسان نے خبر دی ہے کہ محمد مصطفے احمد مجتبیٰ کے ذمے صرف پیغام الہٰی پہنچا دینا ہے لوگ میری نعمت و احسان میں دھوکے میں ہیں ایک تو ان کی جسمانی صحت اور دوسرے وقت کی فرصت کے بارے میں۔

أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 10251

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10252

10252 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن إسحاق البزار ببغداد من أصل سماعه من خط الدرقطني نا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا أبو عبد الرحمن المقري نا سعيد بن أبي أيوب حدثني محمد بن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أتت عليه ستون سنة فقد أعذر الله إليه في العمر استشهد به البخاري

ہمیں خبردی ابو الحس محمد بن احمد بن اسحاق بزار نے بغداد میں۔ اپنے اصل سماع سے دار قطنی کی تحریر سے۔ ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکہی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن عجلان نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی عمر کے ساٹھ سال پورے ہو جائیں اللہ تعالیٰ اسے سستی و کمزوری دے کر موت کے قریب کر دیتا ہے۔ بخاری اس روایت کے ساتھ شاہد لایا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي

Hadith 10252

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10253

10253 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسن البجلي المقري بالكوفة نا أبو بكر بن أبي دارم نا الحسين بن جعفر بن محمد القرشي نا يوسف بن يعقوب الصفار نا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك عن إبراهيم بن الفضل قال : نا المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : معترك المنايا ما بين الستين إلى السبعين و أقل أمتي أبناء السبعين سنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن محمد بن حسن بجلی مقری نے کوفے میں ان کو ابو بکر بن ابو دارم نے ان کو حسین بن جعفر بن محمد قرشی نے ان کو یوسف بن یعقوب صفار نے ان کو محمد بن اسماعیل بن ابو فدیک نے ان کو ابراہیم بن فضل نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی مقبری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ موتوں کا میدان جنگ یا میدان کھیل اور ان کی جولان گاہ ساٹھ سے ستر سال ہوتی ہے میری امت کے کم لوگ ستر سال کے ہوں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ← الحسين بن جعفر بن محمد القرشي ← أبو بكر بن أبي دارم ← أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسن البجلي المقري بالكوفة

Hadith 10253

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10254

10254 - و بإسناد عن إبراهيم بن الفضل عن ابن أبي حسين عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ينادي مناد يوم القيامة أين أبناء الستين و هو العمر الذي قال الله عز و جل : { أولم نعمركم ما يتذكر فيه من تذكر و جاءكم النذير }

اور اسناد کے ساتھ مروی ہے ابراہیم بن فضل سے اس نے ابن ابو حسین سے اس نے عطاء سے اس نے ابن عباس سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہاں ہیں ساٹھ برس کی عمر والے یہ وہی عمر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اولم نعمر کم ماینذ کرفیہ من تذکرو جآء کم الذیرکیا ہم نے تمہیں دو عمر نہیں دی ہے جس کے اندر وہ شخص نصیحت پکڑے جو نصیحت پکڑتا ہے۔ حالانکہ تمہارے پاس ڈرانے والا آ چکا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ← و بإسناد

Hadith 10254

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10255

10255 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن محمد الصيرفي نا محمد بن غالب نا قبيصة نا سفيان حدثني أبي عن أبي يعلى عن الربيع بن خيثم عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه خط مربعا و خط خطا وسط الخط المربع و خط خطوطا إلى جنب الخط الذي وسط المربع و خط خطوطا خارجة من الخط المربع قال : تدرون ما هذا ؟ قالوا الله و رسوله أعلم قال هذا الإنسان الخط الأوسط و هذه الخطوط إلى جنبه الأعراض تنهشه من كل مكان إن أخطأه هذا أصابه هذا و الخط المربع الأجل المحيط به و الخط الخارج الأمل أخرجه البخاري من حديث يحيى القطان عن سفيان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن محمد صیرفی نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے ابو یعلیٰ سے اس نے ربیع بن سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع خط کھینچا (چوکور لکیر ) پھر آپ نے اس چوکڑی کے اندر بیچوں بیچ ایک لکیر کھینچی۔ پھر اس لکیر کے پہلو میں جو بیچ میں تھی کئی لکیریں بنائیں اور چوکور خط کے باہر سے بھی گئی خطوط کھینچے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دائرے کے اندر والی ایک سیدھی لکیر انسان ہے اور اس کے دائیں بائیں پہلو کی چھوٹی لکیریں اس کی اعراض ہیں ونشانے میں جو ہر طرف سے اس کو ڈس رہے ہیں اور زخمی کر رہے ہیں اگر ایک تیر نشانے سے خطا کرتا ہے تو دوسرا اس کو لگ جاتا ہے۔ اور چوکور خط اس کا اجل ہے جو اس کی چاروں طرف سے محیط ہے اور کھیرے ہوئے ہیں۔ اور باہر کے خطوط اور لکیریں امیدیں آرزوئیں اور خواہش ہیں۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح بن قطان کی حدیث سے اس نے سفیان سے۔

الله و رسوله أعلم ← «تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ ← أَبِي يَعْلَى ← أَبِي ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أبو بكر بن محمد الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10255

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10256

10256 - حدثنا أبو منصور الظفر بن محمد بن أحمد بن زياد العلوي رحمه الله إملاء أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني بالكوفة و أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة قال : أنا أبو جعفر بن دحيم قال : نا أحمد بن حازم قال : أنا قبيصة قال نا سفيان عن أبيه عن أبي يعلى عن الربيع بن خيثم عن عبد الله بن مسعود قال : خط لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم خطا ثم وضع لنا شيئا في وسطها فقال هذا الإنسان و هذا أجله ثم أسرع إليه من الخط أشياء مشرعة إليه فوقه ثم قال : هذه الأعراض إن أخطأته هذه أصابته هذه ثم وضع شيئا أمام ذلك و قال أمله ثم قال حال الأجل دون الأمل

ہمیں حدیث بیان کی ابو منصور ظفر بن محمد بن احمد بن زیاد علوی نے بطور املاء کے ان کو ابو جعفر محمد بن علی دحیم شیبانی نے کوفے میں ۔ اور ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر قاضی نے کوفے میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو جعفر بن دحیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن حازم نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی قبیصہ نے وہ کہتے ہیں ان کو سفیان نے اپنے والد سے اس نے ابو یعلیٰ سے اس نے ربیع بن خیثم سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے وہ کہتے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک لکیر کھینچی پھر اس کے درمیان میں کوئی چیز رکھ دی پھر فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کا اجل ہے۔ پھر اس پہلی لکیر کی طرف جلدی جلدی کچھ لکیریں کھینچیں جو اس کی طرف جا رہی تھیں پھر اس کو روک کر فرمایا کہ یہ تیروں کے نشانے ہیں اگر یہ تیر نشانے سے خطا کرے گا تو وہ لگ جائے گا۔ پھر اس کے آگے ایک چیز رکھ دی اور فرمایا کہ یہ اس انسان کی امید و آرزو ہے۔ پھر فرمایا کہ اجل حال امید و آرزو کے قریب ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ ← أَبِي يَعْلَى ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي ← أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني بالكوفة و ← أبو منصور الظفر بن محمد بن أحمد بن زياد العلوي

Hadith 10256

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10257

10257 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي بالكوفة قال أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم قال : نا محمد بن الحسين بن أبي الحنين قال : نا مسلم بن إبراهيم قال : نا همام قال : نا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم خط خطوطا و خط منها ناحية ثم قال : تدرون ما هذا هذا مثل المتمني و ذلك الخط الأمل بينهما هو يأمل إذ جاءه الموت رواه البخاري في الصحيح عن مسلم بن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابو القاسم زید بن جعفر بن محمد بن علی علوی نے کوفے میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو جعفر محمد بن علی دحیم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن حسین بن ابو الحسنین نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی مسلم بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ھمام نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر ہی اسحٰق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ان کو انس بن مالک نے یہ کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کچھ لکیریں کھینچیں اور ان میں سے ایک لکیر کونے کی طرف کھینچی پھر فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے یہ مثال ہے آرزو اور تمنا کرنے والے کی اور یہ لکیر ان دونوں کے درمیان امید ہے وہ اس وقت تک بھی آرزو کرتا ہے جب اس کو موت آ رہی ہوتی ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے مسلم بن ابراہیم سے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي بالكوفة،

Hadith 10257

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10258

10258 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الباغندي نا خلاد بن يحيى بن صفوان السلمي نا بشير بن المهاجر نا عبد الله بن بريدة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم رمى بحصاتين فقرب واحدة و باعد أخرى و قال : هذا الأجل و هذا الأمل زاد غيره عن خلاد فيختلجه الأجل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو باغندی نے ان کو خلاد بن یحییٰ بن صفوان سلمی نے ان کو بشر بن مہاجر نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکیں ایک کو قریب پھینکا دوسری کو دور فرمایا کہ یہ قریب والی اجل ہے اور دور والی امید اور آرزو ہے۔ اس کے ماسوا نے خلاد سے یہ الفاظ بھی زیادہ کئے ہیں کہ پس کھینچ کر نکال لیتا ہے اس کو اہل ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ← خلاد بن يحيى بن صفوان السلمي ← الْبَاغَنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 10258

chevron_left Previous
1234…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood