Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10451

10451 - أخبرنا علي بن محمد بن بشران ثنا الحسين بن صفوان أنا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن عثمان العجلي ثنا الحسين الجعفي قال : ذكر زائده عن شيخ من أهل البصرة عن أميه بن قسيم عن حذيفة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل يحمي عبده المؤمن كما يحمي الراعي الشقيق غنمه من مراتع الهلكة

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عثمان عجلی نے ان کو حسین بعضی نے وہ کہتے ہیں زائدہ نے ذکر کیا اہل بصرہ کے ایک شیخ سے اس نے امیہ بن قسیم سے اس نے حذیفہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن کی ایسے حفاظت کرتا ہے جیسے چرواہائے ہلاکت والی چراگاہوں سے اپنی بکریوں کی حفاظت کرتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← حُذَيْفَةَ ← أُمَيَّةَ بْنِ قُسَيْمٍ ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10451

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10452

10452 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر الجرشي و أبو عبد الرحمن السلمي قالوا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو امية ثنا موسى بن هلال العبدي ثنا هشام بن حسان عن الحسن قال : كان حذيفة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل ليتعاهد وليه بالبلاء كما يتعاهد المريض أهله بالطعام و أن الله ليحمي عبده الدنيا كما يحمي المريض الطعام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر جرشی نے اور ابو عبد الرحمٰن سلمی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس اصم نے ان کو ابو امیہ نے ان کو موسیٰ بن ہلال عبدی نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کو فرماتے سنا تھا بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ولی اور نیک بندے کو آزمائش کے ساتھ حفاظت کرتا ہے جیسے گھر والے اپنے مریض کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دنیا سے حفاظت کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے مریض کی کھانے وغیرہ کے ساتھ حفاظت کرتا ہے۔

كَانَ حُذَيْفَةُ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← موسى بن هلالٍ العبدي، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر الجرشي و أبو عبد الرحمن السلمي ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10452

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10453

10453 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن إسماعيل بن شروس عن عكرمة بن خالد قال : كان رجل يتعبد فجاءه شيطان ليفتنه فازداد عبادة فتمثل له برجل فقال : أصحبك فقال العابد : نعم فصحبه فكان يتخلف عنه و يطيف به فأنزل الله عز و جل ملكا فلما رآه الشيطان عرفه و لم يعرفه الإنسان فكان إذا أمسى تخلف الشيطان فمد الملك يده نحو الشيطان فقتله فقال الرجل ما رأيت كاليوم قتلته و هو من حاله و من حال ثم انطلقا حتى نزلا قرية فأنزلوهما فضيفوهما فأخذ الملك منهم إناء من فضة ثم انطلقا فنزلا في قرية أخرى فلم ينزلوهما و لم يضيفوهما فأعطاهم الملك الإناء فقال له : أما من ضافنا فأخذت إناءهم و أما من لم يضفنا فأعطيته إناء الآخرين فلن تصحبني فقال : أما الذي قتلته فإنه شيطان أراد أن يفتنك و أما الذي أخذت منهم الإناء فإنهم قوم صالحون فلم يكن ينبغي لهم و كان هؤلاء قوما فاسقين فكانوا أحق به قال : ثم عرج إلى السماء و الرجل ينظر

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے اسماعیل بن شروس سے اس نے عکرمہ بن خالد سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبادت میں خوب مشغول رہتا تھا چنانچہ اس کو گمراہ کرنے کے لئے شیطان اس کے پاس آیا اور کسی آدمی کی شکل بنا کر اس کے سامنے عبادت اس عبادت سے بڑھ چڑھ کر کرنے لگا پھر اس سے کہا کہ میں آپ کا ساتھی اور دوست بن جاؤں اس نے اجازت دے دی لہٰذا (وہ موقع کا انتظار کرنے کے لئے ) اس کے آگے پیچھے پھرنے لگا۔ چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ایک فرشتہ اتارا اس کی مدد کے لئے شیطان نے جب اس کو دیکھا تو اس کو پہچان لیا مگر انسان نے اس کو نہیں پہچانا جب شام ہوئی تو شیطان اس سے علیٰحدہ ہو جاتا تھا۔ چنانچہ فرشتے نے شیطان کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس کو قتل کر دیا۔ اس عابد نے اس سےکہا کہ میں نے ایسا ظلم بھی نہیں دیکھا۔کہ آپ نے ناحق اس کو قتل کر دیا ہے حالانکہ وہ تو ایسا نیک تھا ایسا تھا ایسا تھا ۔ پھر وہ عابد اور وہ فرشتہ ساتھ ساتھ چلنے لگے یہاں تک کہ وہ دونوں ایک بستی میں اترے تو بستی والوں نے ان کو اپنے پاس بطور مہمان کے ٹھہرایا اور ان کی مہمانی کی مگر اس فرشتے نے ان لوگوں کا ایک چاندی کا برتن اٹھالیا۔ پھر وہ ساتھ ساتھ چل دیئے پھر وہ دوسری بستی میں جا کر اترے ان لوگوں نے اس کو ٹھہرایا بھی نہیں اور نہ ہی ان کی انہوں نے ضیافت کی مگر اس فرشتے نے وہ برتن ان کو دے دیا۔ لہٰذا اس عابد نے کہا اس سے کہ جن لوگوں نے ہمیں ٹھہرایا اور ہماری ضیافت کی آپ نے ان کا تو برتن اٹھا لیا۔ اور جنہوں نے ہمیں ٹھہرایا بھی نہیں اور ہماری ضیافت بھی نہیں کی آپ نے ان کو وہ برتن دے دیا۔ لہٰذا آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اس نے کہا کہ بہر حال میں نے جس کو قتل کر دیا تھا۔ وہ شیطان تھا۔ وہ تمہیں فتنے میں واقع کرنا چاہتا تھا۔ اور جن کا میں نے برتن لے لیا تھا۔ وہ نیک لوگ تھے وہ برتن چاندی کا تھا ان لوگوں کے لئے وہ مناسب نہیں تھا۔ (اس لئے ان سے اٹھا لیا تھا تا کہ وہ اس کو استعمال نہ کریں ) اور یہ لوگ فاسق ہیں یہ اس کے استعمال کے زیادہ مستحق ہیں۔ فرمایا کہ اس کے بعد وہ فرشتہ اوپر آسمان کی طرف چلا گیا۔ اور یہ عابد اس کو دیکھتا رہ گیا۔

عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ شَرُوسَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10453

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10454

10454 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي انا الحسين بن محمد بن موسى أبو علي القاضي ثنا حمزة بن محمد الكاتب ثنا نعيم بن حماد أنا ابن المبارك عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر أن عمر بن الخطاب قال : قال رجل : يا رسول الله كيف لي أن أعلم ما كان عند الله عز و جل قال : إذا رأيت كلما طلبت شيئا من الدنيا يسر لك و إذا طلبت شيئا من أمر الآخرة عسر عليك فأنت على حالة قبيحة و إذا طلبت شيئا من الدنيا عسر عليك و إذا طلبت من أمور الآخرة يسر لك فأنت على حالة حسنة هكذا جاء منقطعا

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو حسین بن محمد بن موسیٰ ابوعلی قاضی نے ان کو ہمزہ بن محمد کا تب نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو ابن مبارک نے ان کو عبد الرحمٰن بن یزید بن جابر نے کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ مجھے کیسے معلوم ہو سکے گا کہ میرے لئے اللہ کے ہاں کیا کچھ ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ جو چیز آپ دنیا میں سے طلب کرتے ہیں وہ آسانی کے ساتھ آپ کو مل جاتی ہے اور اگر کوئی چیز آخرت کی مانگتے ہیں تو وہ آپ کے لئے مشکل ہو جاتی ہے تو سمجھ لو کہ آپ خراب حالت پر ہیں۔ اور جس وقت دنیا کی کوئی چیز طلب کرتے ہیں وہ آپ کے لئے مشکل ہو جاتی ہے۔ اور امور آخرت میں سے کوئی چیز طلب کرتے ہیں تو وہ آپ کے لئے آسان ہو جاتی ہے تو سمجھ لیں کہ آپ اچھی حالت پر ہیں یہ روایت اسی طرح منقطع آئی ہے۔

رَجُلٌ: ← عبد الرحمن بن يزيد بن جابر أن عمر بن الخطاب ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ ← الحسين بن محمد بن موسى أبو علي القاضي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10454

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10455

10455 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محاضر ثنا الأعمش عن خيثمة قال : قال عبد الله هو ابن مسعود : أن الرجل ليطلب الأمر من التجارة أو الإمارة حتى إذا قدر عليها في نفسه ذكره الله عز و جل فوق سبع سماوات فبعث الله ملكا : ائت عبدي هذا فاصرف عنه هذا الأمر فإني أن أيسر له هذا الأمر أدخلته به النار قال : فيصرفه عنه و ظل يبطي بجيرانه من سبعين ما صرف عنه إلا الله عز و جل يعني من ينفعني

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محاضر نے ان کو اعمش نے ان کو خثیمہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبد اللہ بن مسعود نے کہ بے شک آدمی کوئی امر طلب کرتا ہے تجارت سے ہو یا امارت میں سے یہاں تک کہ جب اس پر تنگی ہو جاتی ہے اس کے دل میں ۔تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتوں آسمانوں کے اوپر یاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے کہ میرے فلاں بندے کے پاس جاؤ اور جا کر اس سے یہ معاملہ اور یہ امر ہٹا دو میں اگر اس کے لئے اس امر کو آسان کر دوں تو میں اس کو اس کے ساتھ جہنم میں داخل کر دوں گا۔ فرمایا کہ وہ آ کر اس کو اس سے ہٹا دیتا ہے۔

خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرٌ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10455

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10456

10456 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الطيب محمد بن أحمد حدثني محمد بن الرومي ثنا محمد بن عبد الوهاب سمعت علي بن عثام يقول : إذا أبغض الله عبدا فيقل له ملكا قال : أترفه فإذا أترفه نسي التضرع و الدعاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الطیب محمد بن احمد نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن رومی نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے تھے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا یعنی اس کو نا پسند کرتا ہے تو اس کے لئے فرشتے کو کہتا ہے اس کو مالدار کردے وہ جب اس کو مالدار کر دیتا ہے تو وہ خود بخود عاجزی کرنے کو اور دعا مانگنے کوبھول جاتا ہے۔

أترفه فإذا أترفه نسي التضرع و الدعاء ← إذا أبغض الله عبدا فيقل له ملكا ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← محمد بن الرومي ← أبو الطيب محمد بن أحمد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10456

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10457

10457 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ قال : أنا هلال بن محمد العجلي بالكوفة قال : ثنا الخضر بن أبان الهاشمي ثنا سيار بن حاتم ثنا هلال بن حق ثنا سعيد الجريري و الحسن بن ذكوان عن الحسن عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل من أحد مشي على الماء إلا ابتلت قدماه قالوا : لا يا رسول الله قال : كذلك صاحب الدنيا لا يسلم من الذنوب أرسله غيرهما عن الحسن و قد روينا عن داود الطائي أنه قال : أبت الدنيا أن تجدي إلا بالاختلاط 10457 - مكرر ـ و عن أبي حازم قال : يسير الدنيا يشغل عن كثير الآخرة

ہمیں خبر دی محمد بن عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہلال بن محمد عجلی نے کوفے میں وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی خضر بن ابان ہاشمی نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو ہلال بن حق نے ان کو سعید جریری نے اور حسن بن ذکوان نے ان کو حسن بن انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ہے کوئی ایسا شخص جو پانی کے اوپر چلے مگر اس کے قدم تر ہوں گے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ایسا تو کوئی نہیں ہو سکتا جس کے قدم تر نہ ہوئے ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صاحب دنیا کی یہ مثال ہے وہ بھی گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔ مذکورہ راویوں کے علاوہ دیگر نے اس کو مرسل کیا ہے حسن سے اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے داؤد طائی سے کہ اس نے کہا کہ دنیا انکار کرتی ہے کہ وہ حاصل ہو جائے مگر معاملہ گڈمڈ کر کے۔ (مکرر ہے ) اور ابو حازم سے مروی ہے کہ فرمایا تھوڑی سی دنیا بھی آخرت کے کثیر حصے سے مشغول اور غافل کر دیتی ہے۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← سعيد الجريري و الحسن بن ذكوان ← هِلَالُ بْنُ حَقٍّ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← هلال بن محمد العجلي بالكوفة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10457

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10458

10458 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا أبو داود الحفري عن سفيان بن سعيد قال : كان عيسى عليه السلام يقول : حب الدنيا أصل كل خطيئة و المال فيه داء كبير قالوا و ما داؤه قال : لا يسلم من الفخر و لا الخيلاء قالوا فإن سلم يشغله إصلاحه عن ذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن الدنیا نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو ابوداؤد خضری نے ان کو سفیان بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے تھے۔ دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ اور مال جو ہے اس میں بڑی بیماری ہے لوگوں نے پوچھا کہ مال کی بیماری کیا ہے فرمایا ہے کہ فخر کرنے اور اترانے سے سلامتی نہیں نہیں رہ سکتا لوگوں نے پوچھا کہ اگرسلامتی سے رہ جائے تو ؟ فرمایا کہ پھر اس کو درست کرنا اس شخص کو ذکر اللہ سے غافل کر دیتا ہے۔

الله عز و جل ← فإن سلم يشغله إصلاحه ← لا يسلم من الفخر و لا الخيلاء ← و ما داؤه ← حب الدنيا أصل كل خطيئة و المال فيه داء كبير ← كان عيسى ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10458

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10459

10459 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون أنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال : سمعت المستورد أخا بني فهر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : و الله ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يضع أحدكم أصبعه في اليم فلينظر بم يرجع أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه إسماعيل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عبد الوہاب فراء نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو قیس بن ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مستور دبنی فہر کے بھائی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ اللہ کی قسم نہیں ہے دنیا آخرت کے مقابلے میں مگر مثل اس کے جو تم میں سے ایک آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈبو کر اٹھا لے۔ اس کو چاہئے کہ غور کرے انگلی کیا کچھ دریا میں سے لے کر نکلی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں کتنی وجوہ سے اسماعیل سے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← المستورد أخا بني فهر ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10459

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10460

10460 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن درستويه النحوي ثنا يعقوب بن سفيان الفارسي ثنا محمد بن سعيد بن سابق ثنا عمرو بن أبي قيس عن إبراهيم بن مهاجر عن قيس بن أبي حازم عن المستورد قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم فتذاكروا الآخرة فقال : بعضهم أما الدنيا بلاغ إلى الآخرة فيها العمل و فيها الصلاة و فيها الزكاة و قالت : طائفة منهم : الآخرة منتهى الجنة و قالوا ما شاء الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما الدنيا في الآخرة إلا كما يمشي أحدكم إلى اليم فأدخل أصبعه فيها فما اخرج منها فهي الدنيا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبد اللہ بن جعفر بن درستو یہ نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان فارسی نے ان کو محمد بن سعید بن سابق نے ان کو عمرو بن قیس نے ابراہیم بن مہاجرے ان کو قیس بن ابو حازم نے اس نے مستورد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا لوگوں نے آپس میں آخرت کا مذاکرہ کیا بعض نے کہا کہ بہر حال دنیا آخرت تک پہنچانے والی ہے۔ اسی میں عمل انسان کرتا ہے اسی میں نماز ہوتی ہے اسی میں زکوٰۃ ہوتی ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ آخرت جنت میں پہچانے والی ہے اور بھی لوگوں نے کچھ نہ کچھ کہا جو اللہ نے چاہا۔ پھر رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے کوئی شخص دریا میں پیدل چلے اور اس میں اپنی انگلی ڈبو دے جو کچھ انگلی اس میں سے نکالے گی پس وہی دنیا ہے۔

الْمُسْتَوْرِدِ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن جعفر بن درستويه النحوي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10460

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10461

10461 - أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني قال : ثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا ابن أبي أويس انا مالك عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الدنيا سجن المؤمن و جنة الكافر

ہمیں خبر دی ابو احمد عبد اللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر احمد بن اسحاق بن ایوب فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابو اولیس نے ان کو مالک نے علاء بن عبد الرحمٰن سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا مؤمن کی قید ہے اور کافر کی جنت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10461

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10462

10462 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق انا أبو المثنى ثنا القعنبي ثنا عبد العزيز بن محمد عن العلاء : فذكره بإسناده نحوه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو ابو المثنی نے قعنبی نے ان کو عبد العزیز بن محمد نے علاء سے اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا اپنی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے اس نے عبد العزیز سے۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← قُتَيْبَةُ، ← العلاء فذكره بإسناده نحوه رواه مسلم في الصحيح ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10462

chevron_left Previous
1…181920…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood