Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10439

10439 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الربيع بن سليمان ثنا ابن وهب أنا سليمان بن بلال عن كثير بن زيد عن المطلب بن عبد الله قال : لقد دخلت خير العرب على سيد المسلمين أو العشاء عروسا قامت آخر الليل تطحن و هي أم سلمة حين دخلت أيما على رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ بن حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابوالعباس اصم نے ۔ ان کو حدیث بیان کی ربیع بن سلیمان نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو مطلب بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ البتہ تحقیق میں سارے عرب کے بہترین انسان کے پاس داخل ہوا تمام مسلمانوں کے سردار کے پاس کہ رات کے اول حصے میں دلہن بننے والی خاتون نے رات کے آخر حصے میں چکی پر آٹا پیسا تھا۔ یہ سیدہ ام سلمہ تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس حال میں داخل ہوئی تھی کہ بیوہ تھی۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10439

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10440

10440 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا عبد الله بن وهب قال : حدثني أبو هانىء الخولاني أن أبا علي عمرو بن مالك الجنبي حدثه عن فضالة بن عبيد قال : سمعته يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي بالناس فيخر رجال من قامتهم في الصلاة مما بهم من الخصاصة و هم من أصحاب الصفة حتى يقول الأعراب أن هؤلاء لمجانين فإذا قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة انصرف إليهم فقال : لو تعلمون ما لكم عند الله عز و جل لأحببتم لو أنكم تزدادون فاقة و حاجة قال : فقال فضالة : و أنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عبد اللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو ہانی الخولانی نے یہ کہ ابو علی عمرو بن مالک الجنبی نے اس کو حدیث بیان کی ہے فضالہ بن عبید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ان سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو کچھ مرد نماز میں قیام نہ کر سکتے تو وہ گر جاتے تھے بھوک کی وجہ سے وہ لوگ اصحاب صفہ میں سے تھے یہاں تک کہ دیہاتیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مجنون اور دیوانے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھا کر پھرتے تو ان کی طرف چلے جاتے تھے ایک مرتبہ آپ نے فرمایا اگر آپ لوگ جان لیتے جو کچھ تمہارے لئے اللہ کے ہاں اجر و ثواب ہے تو تم یہ پسند کرتے کہ کاش کہ تمہارا فاقہ اور بھوک اور زیادہ ہوتی۔ کہتے ہیں کہ فضالہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فر مایا تھا۔ میں اس دن آپ کے ساتھ تھا۔

أَبُو هانىء الْخَوْلانِيُّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10440

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10441

10441 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد الأعرابي ثنا أبو يحيى بن أبي مسرة قال : أنا عبد الله بن يزيد ثنا حيوة أخبرني أبو هانىء أن أبا علي عمرو بن مالك أخبره أنه سمع فضالة بن عبيد يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى بالناس يخر رجال من قامتهم لما بهم من الخصاصة و هم أصحاب الصفة يقول الأعراب أن هؤلاء لمجانين فإذا قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم انصرف إليهم فقال : لو تعلمون ما لكم عند الله عز و جل لأحببتم أن تزدادوا حاجة و فقرا قال فضالة : و أنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید اعرابی نے ان کو ابویحیی ٰبن ابو مسرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبد اللہ بن یزید نے ان کو حیوۃ نے ان کو خبر دی ابو ہانی نے یہ کہ ابو علی عمرو بن مالک نے ان کو خبر دی ہے کہ اس نے سنا فضالہ بن عبید سے وہ کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو کچھ لوگ قیام نہ کر سکتے اور گر جاتے تھے بھوک کی وجہ سے اور وہ لوگ اصحاب صفہ تھے اعراب کہنے لگے کہ یہ لوگ مجنون ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو ان لوگوں کے پاس لوٹ جاتے تھے ایک آپ ان کی طرف لوٹے اور فرمایا: اگر تم لوگ جان لیتے جو کچھ تمہارے لئے اجر اللہ کے پاس ہے تو تم یہ پسند کرتے کہ تمہاری حاجت اور غربت اور زیادہ ہوتا۔ فضالہ کہتے ہیں کہ میں اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔

أبو هانىء ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْرَابِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10441

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10442

10442 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن أبي سعيد : أن أبا سعيد الخدري شكا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حاجته فقال : اصبر أبا سعيد فإن الفقر إلى من يحبني أسرع من السيل من أعلى الوادي أو من أعلى الجبل إلى أسفله كان في كتابي عن سعيد بن أبي سعيد

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسین اور ابوز کریا بن ابو اسحاق نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عمرو بن حارث نے ابو سعید سے یہ کہ ابوسعید خدری نے شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی حاجت کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر کیجئے اے ابو سعید بے شک فقر و غربت اس شخص کے ساتھ جو مجھ سے محبت کرتا ہے وادی کے اوپر سے سیلاب جس تیزی کے ساتھ نیچے آتا ہے اس سے بھی تیز اور جلدی اس کے پاس آتا ہے۔ یا یوں فرمایا تھا کہ پہاڑ کے اوپر سے اس کے نیچے کی طرف میری کتاب میں تھا سعید بن ابوسعید سے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10442

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10443

10443 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا دعلج بن أحمد السجزي ببغداد ثنا أبو مسلم ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد عن أيوب عن محمد قال : كنا عند أبي هريرة و عليه ثوبان ممشقان فتمخط فقال : بخ بخ أبو هريرة يتمخط في الكتان و لقد رأيتني و أني لأخر من منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حجرة عائشة مغشيا علي فيجيء الجاني فيضع رجله على عنقي يرى أني مجنون و ما بي من جنون و ما بي إلا الجوع رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو دعلج بن احمد سجزی نے بغداد میں ان کو ابو مسلم نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد نے ان کو ایوب نے ان کو محمد نے وہ کہتے ہیں ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ کے پاس بیٹھے تھے اور ان کے پاس دو نقش دار کپڑے تھے انہوں نے اس پر بلغم تھوک دیا پھر وہ کہنے لگے (اپنے آپ کو ) ٹھہر ٹھہر ابو ہریرہ سوتی کپڑے میں بلغم تھوکتے ہو۔ میں نے خود کو اس وقت بھی دیکھا تھا کہ میں منبر رسول سے لے کر سید دعائشہ کے حجرے تک بے ہوش ہو کر گر جاتا تھا۔ اور کوئی آنے والا آتا تو وہ اپنا پیر میری گردن پر رکھ کر دیکھتا اور یہ خیال کرتا کہ میں مجنون ہوں (یعنی مجھ پر پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے ) حالانکہ میرے ساتھ کوئی جنون اور دیوانہ پن نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ میں تو بھوک سے نڈھال ہو کرگرتا تھا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سلیمان بن حرب سے۔

مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10443

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10444

10444 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا إسحاق بن محمد الفروي ثنا محمد بن هلال عن أبيه عن أبي هريرة قال : خرجت من بيتي يوما ما أخرجني إلا الجوع فجئت المسجد فوجدت نفرا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : ما أخرجك هذه الساعة فقلت : أخرجني الجوع قالوا : و نحن ما أخرجنا إلا الجوع فقمنا فدخلنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما أخرجكم هذه الساعة قلنا أخرجنا الجوع فدعا بطبق فيه تمر فأعطى كل رجل تمرتين فقال : كلوا هاتين التمرتين و اشربوا عليه من الماء فإنهما سيجزيانكم يومكم هذا قال أبو هريرة : فأكلت تمرة و خبأت تمرة في حجري فرآني لما رفعت التمرة فسألني فقلت رفعتها لأمي قال : كلها فإنا سنعطيك لها تمرتين

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحاق ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو اسحاق بن محمد فروی نے ان کو محمد بن بلال نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن گھر سے نکلا مجھے بھوک نے ہی نکالا تھا۔ میں مسجد میں آیا میں نے اصحاب رسول کے کچھ افراد کو ہاں پایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس وقت تمہیں کس چیز نے باہر نکالا ؟ میں نے بتایا کہ مجھے تو صرف اور صرف بھوک نے باہر نکالا ہے۔ وہ بولے ہمیں بھی اس وقت بھوک نے باہر نکالا ہے۔ پھر ہم لوگ اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ تمہیں اس وقت کس چیز نے باہر گھر سے نکالا ؟ ہم نے بتایا کہ ہمیں صرف بھوک ہی لے آئی ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تھال منگوایا اس میں کھجور یں تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی کو ہم میں سے صرف دو دو کھجوریں دیں اور فرمایا کہ یہ کھجوریں کھاؤ اور اوپر سے پانی پی لو یہ تمہیں آج سارا دن کافی رہیں گی۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دانہ کھجور کا کھایا اور ایک دانہ چھپا لیا اپنی گود میں۔ میں نے جب و دانہ اٹھایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا لہٰذا آپ نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کھجور کیوں اٹھائی ہے میں نے بتایا کہ وہ میں نے اپنی امی کے لئے اٹھائی ہے آپ نے فرمایا اسے کھا جائیے میں آپ کو اور دو کھجوریں دے دیتا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10444

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10445

10445 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحكم بن موسى ثنا صدقة بن خالد و أخبرنا أبو محمد بن عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن عبد الله الترقفي ثنا محمد بن المبارك ثنا صدقة بن خالد ثنا يزيد بن أبي مريم الدمشقي عن أبي عبيد الله مسلم بن مشكم عن عمرو بن غيلان الثقفي : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : اللهم من آمن بي و صدقني و علم أن ما جئت به الحق من عندك فأقل ماله و ولده و حبب إليه لقاءك و عجل له القضاء و من لم يؤمن بي و لم يصدقني و لم يعلم أن ما جئت به الحق فأكثر ماله و ولده و أطل عمره و في رواية يعقوب عن أبي عبيد الله لم يقل مسلم بن مشكم و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو صدقہ بن خالد نے اور ہمیں خبر دی ابومحمد عبید اللہ بن یحیی ٰبن عبد الجبار شکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبد اللہ ترقفی نے ان کو محمد بن مبارک نے ان کو صدقہ بن خالد نے ان کو یزید بن ابو مریم دمشقی نے ان کو ابوعبداللہ مسلم بن مشکم نے ان کو عمر و بن غیلان ثقفی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے دعا کرتے ہوئے عرض کی اے اللہ جو شخص مجھ پر ایمان لے آیا ہے اور میرے ساتھ تصدیق کی ہے اور جس نے یہ جان لیا ہے کہ جو کتاب میں لے کر آیا ہو ںوہ تیری طرف سے حق ہے۔ تو اس کے مال کو کم کر دے۔ اور جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا جس نے میرے ساتھ تصدیق نہیں کی ہے جس نے یہ بھی نہیں جانا کہ میں جو کچھ لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ۔ تو اس کے مال اور اولادکو زیادہ کر دے اور اس کی عمر کو لمبا کر دے اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے ابو عبد اللہ سے ۔ مسلم بن مشکم نے یہ نہیں کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ، ← أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ، ← يزيد بن أبي مريم الدمشقي ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد بن عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ← صدقة بن خالد و ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10445

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10446

10446 - أخبرنا أبو بكر محمد بن سفورك أنا عبد الله بن جعفر الصبهاني قال : ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا غسان بن برزين ثنا سيار بن سلامة الرياحي من بني تميم عن البراء السليطي من بني عبس عن نقادة الأسدي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث إلى رجل يستحمله في ناقة له فأبى فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فبعثه إلى رجل آخر يستحمله فبعث إليه بناقة فجاء بها نقادة يقودها فلما نظر إليها رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بارك الله فيها و فيمن بعث بها و قال نقادة : و فيمن جاء بها قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و فيمن جاء بها قال : فقدمت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فحلبت فدرت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم أكثر مال فلان و ولده المانع الأول و قال : لصاحب الناقة اللهم اجعل رزق فلان يوما بيوم تابعه يحيى بن حسان بن رزين

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو غسان بن برزین نے ان کو سیار بن سلامہ ریاحی نے بنو تمیم سے اس نے براہ سلیطی سے اس نے بنو عبس سے اس نے نقادہ اسدی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے پاس نمائندہ بھیجا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سواری کرنے کے لئے اپنی اونٹنی دے دے۔ اس شخص نے دینے سے انکار کر دیا۔ نمائندے نے آ کر خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آدمی کے پاس بھیج دیا۔ اس کے پاس بندہ پہنچا تو اس نے اونٹنی بھیج دی یہ شخص کھینچ کر اونٹنی کو لے آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو دعا فرمائی اے اللہ اس سواری میں برکت عطا فرما۔ اور جس نے اس کو بھیجا اس میں بھی برکت دے جو شخص لے کر آیا تھا اس نے عرض کی کہ جو لے کر آیا ہے اس کو بھی آپ دعا میں شامل فرما لیجئے۔ آپ نے فرمایا جو لے کر آیا ہے اس میں بھی برکت عطا فرما۔ یاوہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے اونٹنی کا دودھ نکالا اور میں نے خوب دودھ نکالا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس شخص کے مال اور اولاد کو زیادہ کر دے یعنی جس پہلے شخص نے منع کیا تھا۔ اور اونٹنی والے کے لئے یہ دعا کی اے اللہ اس کا رزق ایک ایک دن کا بنا دے۔ یحییٰ بن حسان بن زرین نے اس کی متابع روایت بیان کی ہے۔

نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ، ← البراء السليطي من بني عبس ← سيار بن سلامة الرياحي من بني تميم ← غَسَّانَ بْنُ بَرْزِينَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عبد الله بن جعفر الصبهاني ← أبو بكر محمد بن سفورك

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10446

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10447

10447 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الصبهاني املاء أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن سليمان ثنا مصبح بن هلقان ثنا قيس بن الربيع عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من أمتي من لو قام على باب أحدكم يسأله دينارا أو درهما أو شيئا ما أعطاه إياه و ما يمنعه إلا من كرامته عليه و لو أقسم على الله لأبره

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن سلیمان نے ان کو صبح بن ھلقام نے ان کو حدیث بیان کی قیس بن ربیع نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو سالم بن ابوالجعدنے ان کو ثوبان مولی ٰرسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک میری امت میں سے وہ لوگ بھی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر کھڑا ہو کر کوئی سوال کر لے دینار کا یا درہم کا یا کسی بھی شئی کا تو تم میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں عزت دار سمجھتے ہوئے اس کو کچھ نہیں دے گا ۔ حالانکہ (وہ اللہ کی بارگاہ میں اس قدر مقرب ہوتا ہے کہ) اگروہ اللہ تعالیٰ پر قسم ڈال دے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دے۔

ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← مصبح بن هلقان ← أبو إسحاق إبراهيم بن سليمان ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف الصبهاني املاء

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10447

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10448

10448 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني قال : ثنا جدي ثنا إسحاق بن محمد الفروي ثنا و أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني عباس العنبري ثنا محمد بن جهضم ثنا إسماعيل بن جعفر عن عمارة بن غزيه عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن قتادة بن النعمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أحب الله عز و جل عبدا حماه كما يحمي أحدكم مريضه الماء من الطعام و في رواية الفروي سقيمه الماء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد شعرانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہمارے دادا نے ان کو اسحاق بن محمد فروی نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی عباس عنبری نے ان کو محمد بن جہضم نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو عمارہ بن غزیہ نے ان کو عاصم بن عمر بن قتادہ نے ان کو محمد بن لبید نے قتادہ بن نعمان سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو محبوب رکھتا ہے اس کی ایسے حفاظت کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بعض کی حفاظت کرتا ہے۔ کھلانے میں اور پلانے ہیں۔ اور فروی کی ایک روایت میں ۔ مریضہ کے بجائے سقیمہ کا لفظ ہے۔

قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10448

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10449

10449 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن الفضل البلخي حدثني عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا ابن عياش عن عمارة بن غزية عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمد بن دين بن لبيد عن رافع بن خديج : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا أحب الله عبدا حماه الدنيا كما يحمي أحدكم مريضه الماء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبدی نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخی نے ان کو عبد الوہاب بن نجد و حوطی نے ان کو ابن عیاش نے عمارہ بن عزیہ سے اس نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے اس نے محمد بن دین بن لبید سے اس نے رافع بن خدیج سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے اس کی ایسے حفاظت کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کی حفاظت کرتا ہے پانی وغیرہ سے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← محمد بن دين بن لبيد ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ← إسماعيل بن الفضل البلخي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10449

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10450

10450 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن العرابي ثنا أبو داود ثنا القعنبي ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أن الله عز و جل يحمي عبده الدنيا كما تحمون مريضكم الطعام و الشراب

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابوداؤد نے ان کو قعنبی نے ان کو عبد العزیز بن محمد نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے اس نے محمود بن لبید سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ عز و جل اپنے بندے کی دنیا سے حفاظت کرتے ہیں جیسے تم لوگ اپنے مریض کی کھانے پینے کے لئے حفاظت کرتے ہو۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو سعيد بن العرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10450

chevron_left Previous
1…171819…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood