Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10427

10427 - أخبرناه أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن جعفر البغدادي ثنا محمد بن يوسف الهروي بدمشق ثنا أحمد بن عيسى الخشاب ثنا عبد الله بن عبد الرحمن الجندي ثنا سفيان عن إبراهيم بن أدهم : فذكره غير أنه قال : فبكيت فقال : لا تبك

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن جعفر بغدادی نے ان کو محمد بن یوسف مہروی نے دمشق میں ان کو احمد بن عیسیٰ خشاب نے ان کو عبد اللہ بن عبد الرحمٰن جندی نے ان کو سفیان نے ابراہیم بن ادھم سے اس نے بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے۔ کہ میں رو پڑا تو آپ نے فرمایا کہ مت رو ۔

فبكيت فقال لا تبك ← إبراهيم بن أدهم فذكره غير أنه ← سُفْيَانَ، ← عبد الله بن عبد الرحمن الجندي ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ ← محمد بن يوسف الهروي بدمشق ← محمد بن جعفر البغدادي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10427

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10428

10428 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن الجرشي قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان الهاشمي ثنا سيار بن حاتم ثنا سهل بن أسلم العدوي حدثني يزيد بن أبي منصور عن أنس بن مالك عن أبي طلحة قال : شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الجوع فرفعنا عن بطوننا حجرا حجرا و رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بطنه بحجرين

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسین جرشی نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان ہاشمی نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو سہل بن اسلم عدوی نے ان کو حدیث بیان کی یزید بن ابی منصور نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس نے ابو طلحہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے اپنے پیٹوں سے ایک ایک پتھر اٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے دو دو پتھر اٹھائے۔

بطنه بحجرين ← بطوننا حجرا حجرا و رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم ← شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الجوع فرفعنا ← أَبِي طَلْحَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ← سهل بن أسلم العدوي ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن الجرشي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10428

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10429

10429 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا أبو بكر جعفر بن محمد المستفاض الفريابي ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا زهير ثنا سماك بن حرب قال : سمعت النعمان بن بشير يقول : ما كان النبي صلى الله عليه و سلم أو ما كان نبيكم صلى الله عليه و سلم يشبع من العقل و ما ترضون دون ألوان التمر و الزبد و ألوان الثياب

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر بن مطر نے ان کو ابوبکر جعفر بن محمد مستفاض فریابی نے ان کو ابو جعفر نفیلی نے ان کو زہیر نے ان کو سماک بن حرب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشر سے سنا تھا وہ کہتے تھے کہ نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کہا تھا کہ آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیٹ نہیں بھرتے تھے۔ کیا تم لوگ اس سے کم تر پر راضی نہیں ہو سکتے ہو۔ رنگ رنگ کھجوریں ۔ اور مکھن ۔ اور رنگ رنگ کے کپڑے پہننا۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْتَفَاضُ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10429

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10430

10430 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن أبي قماش و عبد الله بن أيوب قالا : ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا أبو هاشم صاحب الزعفراني ثنا محمد بن عبد الله أنا أنسا حدثه قال : جاءت فاطمة بكسرة خبز لرسول الله فقال : ما هذه الكسرة يا فاطمة قالت : قرصا خبزته و لم تطب نفسي حتى أتيتك بهذه الكسرة فقال : أما أنه أول طعام دخل في فم أبيك منذ ثلاثة أيام لفظ حديث عبد الله

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابو قماش نے اور عبد اللہ بن ایوب نے دونوں نے کہا ان کو ابوالولید طیالسی نے ان کو ابو ہاشم نے ان کو ابو ہاشم صاحب زعفرانی نے ان کو محمد بن عبد اللہ نے یہ کہ انس نے ان کو حدیث بیان کی سیدہ فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا لے کر آئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسا ٹکڑا ہے اے فاطمہ اس نے عرض کیا یہ روٹی کا ٹکرا ہے میں نے روٹی پکائی تھی لیکن میرا ادل نہیں مانا اکیلے کھانے کو بلکہ میں یہ ٹکڑا آپ کے پاس لے کر آ گئی ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لے کر کھا لیا اور فرمانے لگے فاطمہ یہ تین دن بعد پہلا طعام ہے جو تیرے ابا کے پیٹ میں اترا ہے یہ الفاظ عبد اللدکی روایت سے ہیں۔

قرصا خبزته و لم تطب نفسي حتى أتيتك بهذه الكسرة ← ما هذه الكسرة يا فاطمة ← جاءت فاطمة بكسرة خبز لرسول الله ← أَنَسًا ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو هَاشِمٍ، صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِيِّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← ابن أبي قماش و عبد الله بن أيوب ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10430

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10431

10431 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد الطوسي ثنا محمد بن حماد الأبيوردي ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن أبي ذر قال : كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حرة المدينة عشاء و نحن ننظر إلى أحد فقال : يا أبا ذر فقلت : لبيك يا رسول الله فقال : ما أحب أن أحدا ذاك عندي ذهبا أمسى ليلة عندي منه دينار أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا و هكذا بين يديه و عن يمينه و عن شماله قال : ثم مشى فقال : أن الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة إلا من هكذا و هكذا و أشار أبو معاوية بيده عن يمينه و عن شماله و أمامه رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و جماعة عن أبي معاوية و أخرجه البخاري من أوجه عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد طوسی نے ان کو محمد بن حماد ابیوردی نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے زید بن وھب سے اس نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید گرمی میں عشاء کے وقت چل رہا تھا ہم لوگ اللہ پہاڑکی طرف دیکھنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ اگر احد پہاڑ سونے کا بن کر میرے پاس آجائے میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ وہ سونا ایک رات بھی میرے پاس رک جائے مگر اس میں سے ایک دینار بھی رک جائے جس کو میں نے دین کے لئے محفوظ رکھا ہو۔ مگر یہ کہ اس کو اللہ کے بندوں میں ایسے ایسے لوٹاؤں گا۔ اس طرح اور اس طرح یعنی دائیں بائیں اور اپنے آگے۔ اس کے بعد آگے چلے اور چل کر فر مایا کہ زیادہ زیادہ مال رکھنے والے قیامت کے دن غریب تر ہوں گے ہاں مگر وہ شخص جو اس طرح اور اس طرح لوٹائے ۔ یہاں ابو معاویہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا اپنے دائیں بائیں اور سامنے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے اور جماعہ نے ابو معاویہ سے۔ اس کو نقل کیا ہے بخاری نے کئی طرق سے اعمش سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبيوردي, ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10431

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10432

10432 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدباس بمكة ثنا محمد بن علي بن زيد ثنا أحمد بن شبيب ثنا أبي عن يونس عن ابن شهاب قال : حدثني عبيد الله قال : قال أبو هريرة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا يمر علي ثلاث ليالي و عندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن شبيب و أخرجه مسلم من حديث محمد بن زياد عن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومحمد عبد العزیز بن عبد الرحمٰن بن سہل دباس نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن علی بن زید نے ان کو احمد بن شبیب نے ان کو میرے والد نے ان کو یونس نے ابن شہاب سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتو مجھے یہ خوشی ہوگی کہ مجھ پر تین رات نہ گذرنے پائیں اور میرے پاس اس میں سے کوئی شئی ہو ( یعنی سب اللہ کے بندوں میں تقسیم کر دوں ) مگر صرف اسی قدر کہ جس کو میں دین کے لئے محفوظ کر کے رکھوں ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں احمد بن شبیب سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہےمحمد بن زیادہ کی روایت سے اس نے ابو ہر یرہ سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10432

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10433

10433 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا عباس الدوري و ابن أبي الحنين و علي بن عبد العزيز في آخرين قالوا ثنا أبو نعيم عن إسماعيل بن أبي الصقر ثنا ابن أبي مليكة قال : حدثتني عائشة قالت : أصاب النبي صلى الله عليه و سلم دنانير فقسمها إلى ستة فدفع الستة إلى بعض نسائه فلما أوى إلى بعض نسائه لم يأخذه النوم فقال : ما فعلت الستة قالوا : دفعناها إلى فلانة قال : ائتوني بها فقسم منها في خمسة أبيات من الأنصار ثم قال استمتعوا بهذا الباقي فقال : و الآن استحرصت فرقد صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابومحمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عباس دوری نے اور ابن ابو الحنین نے اور علی بن عبدالعزیز نے آخرین میں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نعیم نے اسماعیل بن ابوالصفر سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابو ملیکہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دینار پہنچے آپ نے ان کو تقسیم کر دیا چھ دینار باقی بچ گئے وہ مجھے آپ نے کسی ایک زوجہ مطہرہ کے پاس رکھوا دیئے رات جب کسی اہلیہ کی باری کے دن رات کو سونے لگے تو آپ کو نیند نہ آئی ۔آپ نے فرمایا کہ میں نے چھ دینار کا کیا کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے فلاں خاتون کے پاس رکھوا دیئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرے پاس لے کر آؤ۔ لائے گئے تو آپ نے پانچ انصار کے گھروں میں وہ تقسیم کر دیئے اس کے بعد فرمایا کہ اپنےاہل خانہ سے کہ اس باقی حصے کے ساتھ آپ لوگ فائدہ اٹھاؤ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس بات کا حرص تھا ( جو میں نے کر دیا ہے ) اس کے بعد آپ آرام سے سو گئے ۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← إسماعيل بن أبي الصقر ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عباس الدوري و ابن أبي الحنين و علي بن عبد العزيز في آخرين ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10433

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10434

10434 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا أبو سلمة منصور قال : ثنا بكر بن نصر ثنا موسى بن جبير عن أبي أمامة قال : دخلت أنا يوما و عروة على عائشة فقالت : لو رأيتما نبي الله في مرضة مرضها قالت : و كانت له عندي ستة دنانير فقال : موسى بن جبير أو سبعة فأمرني نبي الله صلى الله عليه و سلم أن أفرقها فشغلني وجع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى عافاه الله ثم سألني عنها فقال : أكنت فرقت الستة أو السبعة قالت : لا و الله شغلني وجعك قالت : فدعا بها ثم مزقها و قال : ما ظن نبي الله لو لقي الله عز و جل و هي عنده و روى فيه عن أبي سلمة عن عائشة

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ابوسلمہ منصور نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی بکر بن نصر نے ان کو موسیٰ بن جبر نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں ایک دن میں اور حضرت عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری کی حالت میں دیکھتے جب وہ بیمار ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میرے پاس چھے دینار تھے۔ موسیٰ بن جبر کا کہنا ہے کہ یا سات دینار تھے چنانچہ اللہ کے نبی نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو تقسیم کر دوں پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں مصروف ہو گئی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو صحت عطا کی۔ پھر آپ نے مجھ سے ان چھے دینار کے بارے میں پوچھا؟ کہ کیا تم نے وہ چھے یا سات دینار تقسیم کر دیئے تھے تو میں نے بتایا کہ نہیں اللہ کی قسم نہیں کئے مجھے تو آپ کی بیماری نے مصروف کر دیا تھا کہتی ہیں کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوا لئے پھر ان کو توڑ دیا اور فرمایا کیا گمان کیا جا تا اللہ کے نبی کے بارے میں اگر (میر اوصال ہو جاتا ) اور اللہ سے مل جاتا اور یہ دینار میرے پاس ہوتے۔ اس بارے میں ایک روایت ابو سلمہ سے اس نے سیدہ عائشہ سے بھی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← بكر بن نصر، ← أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورٌ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10434

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10435

10435 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا سعيد بن سلام عن عمر بن سعيد بن أبي حسين عن ابن أبي مليكة قال : حدثني عقبة بن الحارث : أنه صلى مع النبي صلى الله عليه و سلم ثم انصرف من العصر فانصرف مسرعا حتى دخل على بعض نسائه فعجب الناس من سرعة دخوله ثم خرج فرأى ما في وجوه الناس من سرعته فقال : إني ذكرت تبرا عندي فكرهت أن يبيت عندنا فأمرت بقسمته

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو سعید بن سلام نے ان کو عمر بن سعید بن ابو حسین نے ابن ابوملیکہ سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عقبہ بن حارث نے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر عصر سے واپس لوٹے مگر بڑی تیزی کے ساتھ لوٹے اور اپنی بعض بیبیوں کے پاس داخل ہوئے کچھ اس انداز سے کہ آپ کے جلدی جلدی داخل ہونے سے لوگوں کو حیرانی ہوئی پھر باہر آ گئے اور آ کر لوگوں کے چہرے کے وہ تاثرات آپ نے دیکھے جو آپ کے جلدی کرنے کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے سونے کی ڈلی یاد آ گئی تھی جو میرے پاس پڑی تھی میں نے نا پسند کیا کہ وہ ڈلی ہمارے پاس رات گذارے میں نے جا کر اس کے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سعيد بن سلام ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10435

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10436

10436 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا عباس يعني الدوري ثنا أبو عاصم ثنا عمر بن سعيد ابن أبي الحسين عن ابن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث : أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى العصر ثم خرج مسرعا فقيل له يا رسول الله خرجت مسرعا قال : كان عندي تبر و كرهت أن يبيت عندي زاد فيه غيره : فأمرت بقسمته رواه البخاري في الصحيح عن أبي عاصم

ہمیں خبر دی عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عباس دوری نے ان کو ابو عاصم نے ان کو عمرو بن سعید ابن ابوحسین نے ان کو ابن ابو ملیکہ نے ان کو عقبہ بن حارث نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی پھر جلدی جلدی نکل گئے ( جب واپس آئے تو ) پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ جلدی سے کیوں چلے گئے تھے آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سونے کی ڈلی تھی میں نے نا پسند کیا کہ وہ رات کو میرے پاس رہ جائے۔ اس کے علاوہ دیگر نے کہیں لفظ کا اضافہ کیا ہے۔ کہ میں نے اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے ابو عاصم سے۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عمر بن سعيد ابن أبي الحسين ← أَبُو عَاصِمٍ ← عباس يعني الدوري ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10436

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10437

10437 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عائشة قالت : ما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم دينارا و لا درهما و لا بعيرا و لا أوصى بشيء رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر عن ابن نمير 10437 - مكرر ـ أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا محمد بن الجنيد الدقاق ثنا أبو أحمد الزبيري ثنا مسعر عن عدي بن ثابت عن علي بن الحسين و عاصم عن زر عن عائشة قالت : ما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم دينارا و لا درهما و لا عبدا و لا شاة و لا بعيرا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو حدیث بیان کی حسن بن علی بن عفان نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے مسروق سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دینار کوئی درہم نہیں چھوڑا تھا نہ کوئی اونٹ اور نہ ہی کسی شئی کی کوئی وصیت کی تھی۔ اس کو مسلم نے راویت کیا ہے صحیح میں ابو بکر سے اس نے ابن نمیر سے۔ مکرر ہے ۔ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن جنید دقاق نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو مسعر نے ان کو عدی بن ثابت نے ان کو علی بن حسین نے اور عاصم نے ذر سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بوقت وفات ) کوئی دینار ۔کوئی درہم کوئی غلام کوئی بکری اور کوئی اونٹ کچھ نہیں چھوڑ ا تھا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10437

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10438

10438 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عمرو بن مرزوق أنا زائدة عن عطاء بن السائب عن أبيه عن علي : أن النبي صلى الله عليه و سلم جهز فاطمة بخميل و قربة و وسادة أدم حشوها إذخر

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو زائدہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کو جہیز میں یہ سامان دیا تھا۔ ایک کمبل ایک مشک اور ایک تکیہ چمڑے کا جس کے اندر اذ خر نام کی گھاس بھری ہوئی تھی۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زَائِدَۃَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10438

chevron_left Previous
1…161718…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood