Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10415

10415 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا زيد بن الحباب حدثني المسعودي عن عمرو بن مره عن إبراهيم عن علقمة بن قيس عن ابن مسعود : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نام على حصير فقام و قد أثر في جسده فقال له : ابن مسعود يا رسول الله لو أمرتنا أن نبسط لك و نفعل قال : مالي و للدنيا و ما أنا و الدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح و تركها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو زید بن حباب نے۔ ان کو حدیث بیان کی مسعودی نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابراہیم نے عالقمہ بن قیس سے ان کو ابن مسعود نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر سور ہے تھے آپ اٹھے تو چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیئے تھے۔ ابن مسعود نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ ہمیں حکم دیتے کہ ہم آپ کے لئے کچھ بچھا دیتے اور ہم کچھ کر لیتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہے میرے لئے اور دنیا کے لئے؟ ( یعنی مجھے دنیا سے کیا سروکار ہے ) میری اور دنیا کی مثال تو محض اس سوار جیسی ہے جو کسی درخت تلے سایہ حاصل کرتا ہے پھر اس کو وہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10415

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10416

10416 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا أبو جعفر أحمد بن علي الخراز ثنا يحيى بن إسماعيل الواسطي ثنا محمد بن فضيل عن أبيه عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم جاء إلى بيت فاطمة ابنته فرجع و لم يدخل فجاء علي فذكر ذلك علي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ابعثوا به إلى بني فلان فإن بهم إليه حاجة رواه البخاري عن أبي جعفر محمد بن جعفر عن محمد بن فضيل و قال : إلى فلان أهل بيت لهم حاجة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکرمحمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو ابو جعفر احمد بن علی حراز نے ان کو یحییٰ بن اسماعیل واسطی نے ان کو محمد بن فضیل نے اپنے والد سے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بینی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے مگر اندر جانے کی بجائے باہر سے واپس لوٹ آئے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس نے پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے فاطمہ کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا اس لئے واپس آ گیا تھا مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ پردہ نقش و نگار دار تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے جا کر فاطمہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات کہی تو اس نے کہا کہ ابا جان جیسے حکم کریں میں وہی کرلوں گی اس پر دہ کا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے جا کر حضور سے بات ذکر کی تو آپ نے فرمایا اس کو بنی فلاں کے پاس بھیج دو ان کو اس کی ضرورت ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابو جعفر محمد بن جعفر سے اس نے محمد بن فضیل سے اس نے کہا یہ کہ یوں آپ نے فرمایا تھا کہ فلاں اہل بیت کے پاس بھیج دو ان کو ضرورت ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، ← أبو جعفر أحمد بن علي الخراز ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10416

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10417

10417 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا عبد الله بن معاوية الجمحي ثنا ثابت بن يزيد ثنا هلال بن خباب عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما لي و للدنيا و ما للدنيا ولي و الذي نفسي بيده ما مثلي و مثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار ثم راح و تركها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ مد بن عبداللہ صفارنے ان کو ابو بکربن ابوالد ینا نے ان کو عبد اللہ بن معاد جمحی نے ان کو ثابت بن یزید نے ان کو ہلال بن جناب نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا تعلق اور دنیا کو مجھ سے کیا تعلق ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میری مثال اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سوارگرمی کے دن درخت کے نیچے لحظہ بھر سایہ حاصل کرے پھر اس کو چھوڑ کر چلا جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10417

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10418

10418 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة أنا أبو الفضل محمد بن عبد الله بن حميرويه أنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا يعقوب بن عبد الرحمن حدثني عمرو بن أبي عمرو عن المطلب عن عائشة قالت : قالت : كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم فراش رث غليظ فأردت أن أجعل له فراشا آخر ليكون أوطأ لرسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء فقال : ما هذا يا عائشة فقلت رأيت فراشك رثا غليظا فأردت أن يكون هذا أوطأ لك فقال : أخريه عني و الله لا أقعد عليه حتى ترفعيه قالت : فرفعت الأعلى الذي صنعت

ہمیں خبر دی ابو نصر عمر بن عبد العزیز بن عمر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل محمد بن عبد اللہ بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن جدہ نے ان کو حدیث بیان کی سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبد الرحمٰن نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے مطلب سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بچھونا تھا جو پرانا تھا اور کھردرا بھی میں نے چاہا کہ میں اس پر دوسرا بچھونا یا پوش بچھا دوں تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ نرم بن جائے ۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے اور دیکھا تو پوچھا کیا ہوا یہ ؟ اے عائشہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نے دیکھا کہ آپ کا بستر پرانا اور سخت ہو گیا تھا میں نے سوچا کہ آپ کے لئے نرم بستر بن جائے۔ آپ نے فرمایا اس کو مجھ سے ہٹا دو۔ اللہ کی قسم میں اس کے اوپر نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ تم اس کو لنا لو ۔ فرماتی ہیں کہ میں نے اوپر سے وہ اٹھالیا جو میں نے بنایا تھا۔

عَائِشَةَ ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل محمد بن عبد الله بن حميرويه ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10418

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10419

10419 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب ثنا محمد بن سليمان ثنا عارم أبو النعمان ثنا ثابت بن يزيد و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن أبي قماش ثنا عبد الله بن معاوية الجمحي عن ثابت بن يزيد عن هلال بن خباب عن عكرمة عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يمكث الليالي المتتابعات طاويا و أهله لا يجدون عشاء و كان خبزهم خبز الشعير و في رواية عارم : يبيت الليالي طاويا ما يجدون عشاء و كان عامة خبزهم خبز الشعير

ہمیں خبر دی ابو سہل محمد بن نصرو یہ مروزی نے ان کو ابوبکرمحمد بن احمد بن خنب نے ان کو محمد بن سلیمان نے ان کو عارم ابو نعمان نے ان کو ثابت بن یزید نے اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو عبد اللہ بن معاویہ جمحی نے ان کو ثابت بن یزید نے ان کو ہلال بن جناب نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی کئی راتیں خود بھی بھوکے رہتے تھے اور آپ کے گھر والوں کے پاس رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا۔ ( جب کہ ان کا کھانا کوئی پر تکلف نہیں ہوتا تھا بلکہ ) روٹی ان کی جو کی ہوتی تھی۔ اور عارم کی ایک روایت میں ہے آپ بھو کے رات گذارتے تھے۔ عشاء کا کھانا میسر نہیں ہوتا تھا۔ جب کہ ان کی عام روٹی جو کی روٹی ہوتی تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← ثابت بن يزيد و ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن خَنْبٍ ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10419

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10420

10420 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم و قتيبة بن سعيد قال إسحاق : أنا و قال قتيبة : ثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت : ما شبع آل محمد صلى الله عليه و سلم منذ قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة من طعام بر ثلاث ليال تباعا حتى قبض رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق و رواه البخاري عن عثمان بن أبي شيبة عن جرير و قد مضى في هذا المعنى أخبار في باب الطعام

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے اور قتیبہ بن سعید نے ۔ اسحاق نے کہا کہ ہمیں خبر دی اور قتیبہ نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی جریر نے منصور سے اس نے ابراہیم سے اس نے اسود سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے والوں نے گندم کی روٹی سے کبھی مسلسل تین راتیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ وفات دے دیئے گئے ۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق سے اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عثمان بن ابو شیبہ سے اس نے جریر سے اور اس مفہوم میں تحقیق کئی روایات باب طعام میں گذر چکی ہیں۔

إسحاق بن إبراهيم و قتيبة بن سعيد ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10420

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10421

10421 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي ثنا أحمد بن الأزهر ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال : سمعت مجالدا يحدث عن الشعبي عن مروان : أنه سمع عائشة و دعى لها بطعام قالت : قل ما أشبع من طعام فأشاء أن أبكي إلا بكيت قلت : لم قالت : أذكر الحال التي فارق عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم الدنيا فوالله ما شبع من خبز البر مرتين في يوم حتى لحق بالله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن بن شرقی نے ان کو احمد بن از ہر نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مجالد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں شعبی سے وہ مروان سے کہ اس نے سنا سیدہ عائشہ سے۔ کہ اس نے سیدہ عائشہ کی کھانے پر دعوت کی تھی۔ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ بہت کم وقت ایسا ہوتا ہے کہ میں پیٹ بھر کر کھانا کھائی جب بھی کھالوں تو مجھے رونا آتا ہے پھر میں روتی ہوں۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس حالت کو یاد کرتی ہوں جس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم دنیا کو چھوڑ کر گئے تھے۔ پس اللہ کی قسم ہے کبھی گندم کی روٹی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میں دومرتبہ پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملے۔

قل ما أشبع من طعام فأشاء أن أبكي إلا بكيت قلت لم ← عائشة و دعى لها بطعام ← مروان أنه ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدًا، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10421

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10422

10422 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا يحيى بن أيوب ثنا سعيد بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب قال : حدثني ابن غزيه قال : سمعت أبا النضر يحدث عن عروة بن الزبير عن عائشة أنها قالت : إن كان ليمر الشهر على ذنبه و ما نرى في بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بصيص نار لمصباح و لا لغيره

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابن غزیہ نے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو نضر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عروہ بن زبیر سے وہ سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ مہینہ مبینہ مسلسل گذر جاتا تھا اور ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دیا جلانے کے لئے یا کسی اور ضرورت کے لئے آگ کی ایک چنگاری بھی نہیں دیکھتے تھے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبَا النَّضْرِ ← ابْنُ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10422

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10423

10423 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمد بن عبد السلام ثنا شيبان ثنا عبد العزيز بن مسلم عن هشام بن عروة عن أبيه قال : سمعت عائشة تقول : كان يأتي عن آل رسول الله صلى الله عليه و سلم شهر ما لهم سراج توقد و لو كان

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمد بن عبد السلام نے ان کو شیبان نے ان کو عبد العزیز بن مسلم نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ سے سنا کہتی تھیں کہ آل رسول پر مہینہ مہینہ گذر جاتا تھا ان کے پاس جلانے کے لئے دیا نہیں ہوتا تھا۔

عائشة تقول كان يأتي ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← شَيْبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10423

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10424

10424 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي محمد بن أحمد بن الحسن بن الصواف ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا علي بن عياش و حسين بن محمد قالا : ثنا محمد بن مطرف ثنا أبو حازم عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت : كان يمر بنا هلال و هلال و هلال ما يوقد في بيت من بيوت رسول الله صلى الله عليه و سلم من نار فقلت : يا خاله على أي شيء كنتم تعيشون قالت : على الأسودين التمر و الماء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو علی محمد بن احمد بن حسن بن صواف نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو علی بن عیاش نے اور حسین بن محمد نے دونوں نے کہا کہ ان کو محمد بن مطرف نے ان کو ابو حازم نے ان کو عروہ بن زبیر نے ان کو عائشہ نے فرماتی ہیں ہمارے اوپر تین تین چاند گذر جاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں سے کسی گھر میں کوئی آگ نہیں جلتی تھی میں نے کہا اے خالہ کہ تم لوگ پھر کس چیز پر زندگی گذارتے تھے ۔ فرمانے لگی دو سیاہ چیزوں پر ایک پانی اور دوسری کھجوریں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبُو حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← علي بن عياش و حسين بن محمد ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10424

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10425

10425 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن محمد بن يوسف الحفيد ثنا جدي العباس بن حمزة ثنا أحمد بن حرب أنا محمود بن يزيد ثنا شقيق بن إبراهيم عن إبراهيم بن أدهم عن محمد بن زياد عن أبي هريرة قال : دخلنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما و هو يصلي جالسا فقلت يا رسول الله ما أصابك قال : الجوع قال : فرعبت فقال : لا ترع أن شدة القيامة لا تصيب الجائع إذا احتسب في دار الدنيا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن محمد بن یوسف سعید نے ان کو حدیث بیان کی ان کے دادا عباس بن حمزہ نے ان کو احمد بن حرب نے ان کو محمود بن یزید نے ان کو شقیق بن ابراہیم نے ابراہیم بن ادھم سے اس نے محمد بن زیاد سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ بیٹھے ہوئے نماز پڑھا رہے میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کو کیا تکلیف پہنچی ہے فرمایا کہ بھوک ۔کہتے ہیں کہ میں خوف زدہ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ڈرو نہیں اس لئے کہ قیامت کے دن کی شدت بھوکے رہنے والے کو نہیں پہنچے گی کیونکہ وہ دنیا میں حساب لے لیا گیا ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← شقيق بن إبراهيم ← مَحْمُودُ بْنُ يَزِيدَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ← جَدِّي الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْحَفِيدِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10425

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10426

10426 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحجاجي ثنا محمد بن بشر العكبري بمصر ثنا محمود بن يزيد الخراساني ثنا أحمد بن عبد الله الشيباني ثنا شقيق بن إبراهيم البلخي : فذكره غير أنه قال : فبكيت قالا : لا تبك أحمد بن عبد الله الشيباني هو الجويباري و هو ممن يضع الحديث و روى ذلك من وجه آخر ضعيف عن سفيان الثوري عن إبراهيم بن أدهم

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو حجاجی نے ان کو حمد بن بشر عکبری نے مصر میں ان کو محمود بن یزید خراسانی نے ان کو محمد بن عبداللہ شیبانی نے ان کو شقیق بن ابراہیم بلخی نے اس نے اسی کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے ۔ پھر میں رو پڑا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت رو۔ احمد بن عبد اللہ شیبانی وہ جو یباری ہے وہ ان لوگوں میں تھا جو حدیث وضع کرتے تھے۔ یہ روایت ایک اور طریق سے مروی ہے جو کہ ضعیف ہے۔ وہ سفیان ثوری سے وہ ابراہیم بن ادہم سے۔

شقيق بن إبراهيم البلخي فذكره غير ← أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيِّ، ← محمود بن يزيد الخراساني ← مُحَمَّدَ بْنَ بِشْرٍ الْعُكْبَرِيَّ، ← الحجاجي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10426

chevron_left Previous
1…151617…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood