شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10415
10415 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا زيد بن الحباب حدثني المسعودي عن عمرو بن مره عن إبراهيم عن علقمة بن قيس عن ابن مسعود : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نام على حصير فقام و قد أثر في جسده فقال له : ابن مسعود يا رسول الله لو أمرتنا أن نبسط لك و نفعل قال : مالي و للدنيا و ما أنا و الدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح و تركها
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو زید بن حباب نے۔ ان کو حدیث بیان کی مسعودی نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابراہیم نے عالقمہ بن قیس سے ان کو ابن مسعود نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر سور ہے تھے آپ اٹھے تو چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیئے تھے۔ ابن مسعود نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ ہمیں حکم دیتے کہ ہم آپ کے لئے کچھ بچھا دیتے اور ہم کچھ کر لیتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہے میرے لئے اور دنیا کے لئے؟ ( یعنی مجھے دنیا سے کیا سروکار ہے ) میری اور دنیا کی مثال تو محض اس سوار جیسی ہے جو کسی درخت تلے سایہ حاصل کرتا ہے پھر اس کو وہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10415
