Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10403

10403 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن صاحب له قال : كتب أبو الدرداء إلى سلمان : يا أخي بلغني إنك اشتريت خادما و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال العبد من الله عز و جل و هو منه ما لم يخدم فإذا خدم وجب عليه الحساب و أن أم الدرداء سألتني خادما و أنا يومئذ موسر فكرهت ذلك لما سمعت من الحساب و يا أخي من لي و لك بأن توافي رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم القيامة و لا تخاف حسابا و يا أخي لا تفتر بصحبة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنا قد عشنا بعده دهرا طويلا و الله عز و جل أعلم بالذي أصبنا

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے وہ کہتے ہیں ان کو حدیث بیان کی احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے اپنے ایک ساتھی سے انہوں نے کہا حضرت ابودرداء نے حضرت سلمان کی طرف لکھا اے بھائی مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے ایک خادم خرید کیا ہے حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے کہ بندہ اللہ تعالی ٰسے دور نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ بندے سے جب تک وہ خادم نہیں رکھتا۔ جب وہ خادم رکھ لیتا ہے تو اس پر حساب و کتاب واجب ہو جاتا ہے اور بے شک ام در دا، نے مجھ سے خادم مانگا تھا اور میں ان دنوں آسودہ حال بھی تھا مگر میں نے اس کو نا پسند کیا تھا اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حساب کی بات سن رکھی تھی ۔ اور اے بھائی جان کون میرے لئے اور تیرے لئے سفارش کرے جب قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے منہ پھیر لیا۔ کیا آپ حساب سے نہیں ڈرتے اور اے بھائی جان ۔ آپ صرف صحبت رسول پر نہ اتر ائیے اس لئے کہ ہم لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طویل زمانے تک زندہ رہنا ہے۔ اللہ جانے ہم لوگوں کو کن کن چیزوں سے سابقہ پڑے گا۔

أبو الدرداء إلى سلمان يا أخي بلغني إنك اشتريت خادما و إني ← صَاحِبٍ لَهُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10403

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10404

10404 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الخضر بن أبان ثنا يسار ثنا جعفر سمعت مالك بن دينار يقول : كنت عند ثابت البناني في منزله فقرأ علينا رسالة سلمان إلى أبي الدرداء و كان فيها هذا الكلام و إنه بلغني أنك جعلت طبيبا فإن كنت تبرىء فنعم مالك و بلغني أنك اتخذت خادما و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن العبد لا يزال من الله و الله منه ما لم يخدم فإذا خدم وجب عليه الحساب كذا قال سلمان إلى أبي الدرداء

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ اور ابومحمد بن ابو حامد مقری نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابوالعباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو یسار نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مالک بن دینار سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ثابت بنانی کے پاس ان کے گھرمیں بیٹھے تھے انہوں نے ہمارے سامنے حضرت سلمان کا۔ حضرت ابو درداء کی طرف خط پڑھا۔ اس میں یہی کلام کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے معالج مقرر کر لیا ہے اگر آپ کو فائدہ ہوتا ہے تو یہ بہتر بات ہے۔ اور مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے خادم مقرر کر لیا ہے تو بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔ کہ بندہ اللہ سے دور نہیں ہوتا اور اللہ تعالی ٰاس سے جب تک خادم مقرر نہیں کرتا جب کر لیتا ہے تو اس پر حساب لازم ہو جاتا ہے۔

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← يَسَارٍ ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10404

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10405

10405 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي و أنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان قالا : ثنا ابن أبي الدنيا ثنا سريج بن يونس ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن عمرو قال : سمعت عراك بن مالك قال : قال أبو ذر : إني لأقربكم مجلسا من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم القيامة و ذاك إني سمعت رسول الله يقول : إن أقربكم مني مجلسا من خرج من الدنيا كهيئته كما نركته فيها و انه و الله ما منكم أحد إلا و قد تشبث منها بشيء

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو الحسین نے بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے دونوں نے کہا ان کو ابن ابوالد نیا نے ان کو سریج بن یونس نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عراک . بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بے شک میں تم سب سے مجلس کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہوں گا۔قیامت کے دن۔ یہ اس لئے ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے بے شک تم میں سے مجلس کے لحاظ سے مجھ سے قریب تر وہ ہوگا جو دنیا سے اس کیفیت کے ساتھ نکلے جیسے میں اس کو دنیا میں چھوڑ کر جاؤں ۔ اور بے شک حال یہ ہے کہ اللہ کی قسم نہیں کوئی ایک تم میں سے مگر ہر ایک نے تم میں سےکسی قدر اپنے آپ کو دنیا کے ساتھ آلودہ کر لیا ہے۔

عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← أبو سعيد بن الأعرابي و ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10405

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10406

10406 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن العرابي ثنا الصائغ ثنا الحلواني ثنا زيد بن الحباب ثنا موسى بن عبيد حدثني محمد بن الوليد عن ابن عباس قال : قال أبو ذر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أقربكم مني مجلسا يوم القيامة من خرج من الدنيا بهيئة ما تركته فيها

اور ہمیں خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو صائغ نے ان کو حلوانی نے ان کو زید بن حباب نے ان کوموسی ٰ بن عبید نے ان کو محمد بن ولید نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر نے فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےفرماتے تھے تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اس عہد پر مرے جس پر اس نے مجھ سے عہد کیا۔ اور ابو درداء نے فرمایا اور ابوذر نے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ قیامت کے دن نشست کے لحاظ سےمجھ سے قریب تر وہ شخص ہوگا جو دنیا سے اسی صورت پر نکلے گا جس بیت پر میں تم کو دنیا میں چھوڑ کر جارہا ہوں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبُو ذَرٍّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحُلْوَانِيُّ ← الصَّائِغُ، ← أبو سعيد بن العرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10406

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10407

10407 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا محمد بن عبيد الكندي ثنا محمد بن إسحاق ثنا الحارث بن النعمان ثنا الحارث بن سالم سمعت أنسا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي ذر : أن بين أيدينا عقبة كؤودا لا يجاوزها إلا المخفون قال أبو ذر : أنا منهم يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لك قوت يوم و ليلة قال : لا قال : فأنت من المخفين

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن عبید کندی نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو حارث بن نعمان نے ان کو حارث بن سالم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت انس سے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر سے فرمایا تھا بے شک ہم لوگوں کے آگے ایک گھاٹی ہے سخت رنج و غم والی ہے اس سے سلامتی کے ساتھ نہیں گذر سکیں گے مگر ڈھیلے پیٹ والے (یعنی بھوکے رہنے والے ) ابوذر نے کہا میں انہیں میں سے ہوں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کیا تیرے پاس ایک دن رات کی روزی ہے ؟ اس نےبتایا کہ نہیں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو واقعی خالی پیٹ رہنے والوں میں سے ہے۔

أَنَسًا ← الحارث بن سالم ← الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن عبيد الكندي ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10407

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10408

10408 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن العرابي ثنا محمد بن سليمان بن بنت مطر الوراق ثنا أبو معاوية ثنا موسى بن مسلم و هو موسى الصغير عن هلال بن يساف عن أم الدرداء قالت : قلت لأبي الدرداء : ألا تبتغي لأضيافك ما يبتغي الرجال لأضيافهم فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أمامكم عقبة كؤودا لا يجاوزها المثقلون فاحب أن أتخفف لتلك العقبة

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن سلیمان بن بنت مطر الوراق نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو موسیٰ بن مسلم نے وہ موسیٰ صغیر ہیں بلال بن سیاف سے اس نے ام درداء سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو درداء سے کہا آپ اپنے مہمانوں کے لئے وہ چیز تلاش نہیں کرتے جو لوگ مہمانوں کے لئے کرتے ہیں۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے بے شک تمہارے آگے ایک سخت رنج وغم کی گھاٹی ہے جس سے بوجھل لوگ گزر نہیں سکیں گے۔ اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس گھاٹی کے لئے ہلکاپھلکار ہوں۔

إن أمامكم عقبة كؤودا لا يجاوزها المثقلون فاحب أن أتخفف لتلك العقبة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قلت لأبي الدرداء ألا تبتغي لأضيافك ما يبتغي الرجال لأضيافهم فقال إني ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← موسى بن مسلم و هو موسى الصغير ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِنْتِ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ← أبو سعيد بن العرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10408

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10409

10409 - و أخبرنا الأستاذ أبو إسحاق الأسفريني ثنا أبو بكر الإسماعيلي ثنا مطين ثنا عبد الحميد بن صالح ثنا أبو معاوية عن موسى الصغير : فذكره غير أنه قال عن أبي الدرداء قال له يعني لأبي الدرداء : مالك لا تطلب كما يطلب لفلان فقال : فذكره

ہمیں خبر دی استا ذابو اسحٰق اسفرائنی نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو مطین نے ان کو عبد الحمید بن صالح نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو موسیٰ صغیر نے اس نے اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ ابو درداء سے مروی ہے انہوں نے ابو درداء سے کہا کہ کیا ہوا آپ نہیں طلب کرتے جیسے فلاں کرتے ہیں انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔

له يعني لأبي الدرداء مالك لا تطلب كما يطلب لفلان فقال فذكره ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← موسى الصغير فذكره غير أنه ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ ← مطين ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← الأستاذ أبو إسحاق الأسفريني ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10409

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10410

10410 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي حامد بن محمد الرفا ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا عبد الله بن صالح المصري حدثني حيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن زيد عن القاسم عن أبي أمامة الباهلي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : عرض علي ربي عز و جل أن يجعل لي بطحاء مكة ذهبا فقلت : لا يا رب و لكن أجوع يوما و أشبع يوما فإذا شبعت حمدتك و شكرتك و إذا جعت تضرعت إليك و دعوتك تابعه عبد الله بن المبارك عن يحيى بن أيوب

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعلی بن حامد بن محمد رفاء نے ان کو عثمان بن سعد دارمی نے ان کو عبد اللہ بن صالح مصری نے ان کو یحیی ٰبن ایوب نے ان کو عبید اللہ بن زحر نے ان کو علی بن زید نے ان کو قاسم نے ان کو ابو امامہ باھلی نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے رب نے مجھ پر یہ پیش کیا ہے کہ وہ میرے لئے مکہ کی پتھریلی زمین کو سونا بنا دے تو میں نے کہا ہے نہیں اے میرے رب ۔ بلکہ میں ایک دن بھوکا رہوں گا اور ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں۔ میں جب شکم سیر ہوں گا تو تیرا شکر کروں گا اور تیری حمد کروں گا۔ اور جب بھوکا ہوں گا تو تیری بارگاہ میں گڑ گڑاؤں گا اور آپ کو پکاروں گا۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک نے یحییٰ بن ایوب سے اس روایت کی متابع روایت بیان کی ہے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← حيى بن أيوب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو علي حامد بن محمد الرفا ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10410

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10411

10411 - حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان المرادي ثنا ابن وهب ثنا سليمان بن بلال حدثني يحيى بن سعيد قال : أخبرني عبيد بن حنين أنه سمع عبد الله بن عباس يحدث عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أنه جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم و إنه لعلى حصير ما بينه و بينه شيء و تحت رأسه وسادة من أدم حشوها ليف و إن عند رجليه قرظ مصبوغ و عند رأسه أهب معلقة فرأيت أثر الحصير في جنب رسول الله صلى الله عليه و سلم فبكيت فقال : ما يبكيك قلت : يا رسول الله إن كسرى و قيصر على ما هما و أنك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما ترضى أن تكون لهما الدنيا و لك الآخرة أخرجاه في الصحيح

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان مرادی نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نےان کو یحییٰ بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبید بن حنین نے انہوں نے سنا عبد اللہ بن عباس سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عمر بن خطاب سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس پر کوئی چیز بچھی ہوئی نہیں تھی اور آپ کے سر کے نیچے سرہانہ رکھا ہوا تھا جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ اور آپ کے پیر کے قریب رنگا ہوا چمڑارکھا ہوا تھا اور آپ کے سر کے قریب ایک مشک لٹکی ہوئی تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشانات دیکھے (یہ منظر دیکھ کر) میں رود یا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے رولا یا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ قیصر و کسرٰی ( دولت کے اس معیار پر ہیں جس پر وہ ہیں ) اور آپ یا رسول اللہ اس حال میں ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر کیا آپ خوش نہیں ہیں اس بات پر ان کے لئے صرف دنیا ہی دنیا ہو اور آپ کے لئے آخرت ہو۔ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10411

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10412

10412 - و في رواية عبيد الله بن عبد الله بن أبي ثور عن ابن عباس عن عمر في هذا الحديث قال : قلت ادع الله يا رسول الله أن يوسع على أمتك فقد وسع على فارس و الروم و هم لا يعبدون الله فاستوى جالسا و قال : في شك أنت يا ابن الخطاب أولئك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا أخبرنا أبو محمد السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : ثنا الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عبيد الله بذلك

اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن ثور کی ایک روایت میں ابن عباس سے انہوں نے عمر سے اس حدیث میں ہے فرمایا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت پر رزق کی وسعت کر دے۔ اللہ نے اہل فارس واہل روم کے لئے بھی تو وسعت کر رکھی ہے۔ حالانکہ وہ لوگ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر سید ھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ اور فرمانے لگے۔ ابن خطاب کیا تم شک میں مبتلا ہو ؟ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لئے ان کی نفیس اور ستھری چیزیں دنیوی زندگی میں ان کے لئے جلدی دے دی گئی ہیں۔ ہمیں خبر دی ہے ابومحمد سکروی نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے تھے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے زہری سے اس نے عبید اللہ سے اسی کے ساتھ ۔

قلت ادع الله ← عمر في هذا الحديث ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← و في رواية عبيد الله بن عبد الله بن أبي ثور

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10412

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10413

10413 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن جعفر البستي ثنا الحسن بن سفيان حدثني أبو سعيد يحيى بن سليمان الجعفي بمصر حدثني عمرو بن عثمان بن سعيد الجعفي حدثني عمي أبو مسلم عبيد الله بن سعيد بن مسلم الجعفي عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي عبد الرحمن السلمي عن عبد الله بن مسعود قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم و هو في غرفة له كأنها بيت حمام و هو نائم على حصير و قد أثر بجنبه قال : فبكيت فقال : ما يبكيك يا عبد الله فقلت : يا رسول الله كسرى و قيصر يطأون على الخز و الحرير و الديباج و أنت نائم على الحصير و قد أثر بجنبك قال : فلا تبك يا عبد الله فإن لهم الدنيا و لنا الآخرة ما مثلي و مثل الدنيا إلا مثل راكب قال تحت شجرة سار و تركها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر البستی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو حدیث بیان کی ابوسعیدیحییٰ بن سلیمان جعفی نے مصر میں ان کو حدیث بیان کی عمرو بن عثمان بن سعید جعفی نے ان کو حدیث بیان کی ان کے چچا ابو مسلم عبید اللہ بن سعید بن مسلم جعفی نے ان کو اعمش نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ فرماتے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہو اوہ اپنے بالا خانے میں ۔یعنی اوپر والے کمرے میں تھے ۔ وہ ایسے تھا جیسے کہ کبوتر کا ڈر ہا ہو آپ چٹائی پر سور ہے تھے جس کی وجہ سے چٹائی نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیئے تھے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں یہ کیفیت دیکھ کر رود یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے عبداللہ آپ کو کس بات نے رولا یا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ قیصر و کسریٰ موٹے ریشم باریک ریشم حریر و دیبائج پر لیٹتے ہیں اور آپ (اللہ کے رسول ہوتے ہوئے) چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبد اللہ مت روان کے لئے دنیا ہے اور ہمارے لئے آخرت ہے لیکن میری مثال اور دنیا کی مثال ایک سوار کی جو کسی درخت تلے اترتا ہے پھر چل پڑتا ہے اور اس درخت کو وہیں چھوڑ دیتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَمِّي أَبُو مُسْلِمٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُعْفِيُّ ← عمرو بن عثمان بن سعيد الجُعْفِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر محمد بن جعفر البستي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10413

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10414

10414 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا صالح بن مالك ثنا عبيد الله بن مسلم العجلي قائد الأعمش عن الأعمش عن إبراهيم قال : قال عبد الله بن مسعود فذكره بمعناه غير انه قال : أما ترضى أن تكون لهم الدنيا و لك الآخرة ما أنا إلا كمثل رجل مر في يوم صائف فاستظل تحت شجرة فلما أبرد ارتحل و ذهب

اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو حدیث بیان کی عبداللہ بن ابوالد نیا نے ان کو صالح بن مالک نے ان کو عبید اللہ بن مسلم عجلی نے جو اعمش کے چلانے والے خادم تھے وہ روایت کرتے ہیں اعمش سے وہ ابراہیم سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : پھر اس نے اس روایت کو مذکورہ روایت کے مفہوم کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ ان کے لئے دنیا ہو اور تیرے لئے آخرت ہو ۔ میری مثال اس آدمی جیسی ہے جو شدید گرمی کے دن کسی درخت کے پاس گذرتے ہوئے اس درخت تلے سایہ حاصل کرنے کی عرض سے رک جائے پھر جب ٹھنڈا ہو جائے تو کوچ کر کے چلا جائے۔

أما ترضى أن تكون لهم الدنيا و لك الآخرة ما ← عبد الله بن مسعود فذكره بمعناه غير انه ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عبيد الله بن مسلم العجلي قائد الأعمش ← صالح بن مالك ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10414

chevron_left Previous
1…141516…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood