شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10379
10379 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه أنا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا عبد الله بن وهب حدثني أبو هاني الخولاني أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يقول : جاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو بن العاص و أنا عنده فقالوا : يا أبا محمد إنه و الله لا نقدر على شيء لا نفقة و لا دابة و لا متاع فقال لهم : إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله عز و جل لكم و إن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان و إن شئتم صبرتم فإني : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن فقراء المهاجرين سبقوا الأغنياء يوم القيامة بأربعين عاما قالوا : فإنا نصبر لا نسأل شيئا
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجد ہ نے ان کو ابو ہانی خولانی نے کہ اس نے سنا ابو عبد الرحمٰن حبلی سے وہ کہتے ہیں کہ تین آدمی حضرت عمرو بن العاص کے پاس گئے جب کہ میں ان کے پاس پہلے سے موجود تھا انہوں نے کہا اے ابو محمد اللہ کی قسم ہم لوگ کسی شئی پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ نفقہ ہے نہ سواری ہے نہ مال و متاع ہے۔ انہوں نے فرمایا اگر تم لوگ چاہو تو واپس آ جانا ہمارے پاس۔ ہم تمہیں وہ کچھ دیں گے جو اللہ تمہارے لئے مقدر کرے گا۔ اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ بادشاہ سے ذکر کر دیں اور اگر تم چاہو تو صبر کرلو بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تھا بے شک فقراء مہاجرین دولت مندوں سے قیامت کے دن چالیس سال سبقت لے جائیں گے۔ لٰہذا ان لوگوں نے کہا بے شک ہم لوگ صبر کریں گے ہم کسی شئی کا سوال نہیں کریں گے۔
أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10379
