Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10379

10379 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه أنا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا عبد الله بن وهب حدثني أبو هاني الخولاني أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يقول : جاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو بن العاص و أنا عنده فقالوا : يا أبا محمد إنه و الله لا نقدر على شيء لا نفقة و لا دابة و لا متاع فقال لهم : إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله عز و جل لكم و إن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان و إن شئتم صبرتم فإني : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن فقراء المهاجرين سبقوا الأغنياء يوم القيامة بأربعين عاما قالوا : فإنا نصبر لا نسأل شيئا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجد ہ نے ان کو ابو ہانی خولانی نے کہ اس نے سنا ابو عبد الرحمٰن حبلی سے وہ کہتے ہیں کہ تین آدمی حضرت عمرو بن العاص کے پاس گئے جب کہ میں ان کے پاس پہلے سے موجود تھا انہوں نے کہا اے ابو محمد اللہ کی قسم ہم لوگ کسی شئی پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ نفقہ ہے نہ سواری ہے نہ مال و متاع ہے۔ انہوں نے فرمایا اگر تم لوگ چاہو تو واپس آ جانا ہمارے پاس۔ ہم تمہیں وہ کچھ دیں گے جو اللہ تمہارے لئے مقدر کرے گا۔ اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ بادشاہ سے ذکر کر دیں اور اگر تم چاہو تو صبر کرلو بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تھا بے شک فقراء مہاجرین دولت مندوں سے قیامت کے دن چالیس سال سبقت لے جائیں گے۔ لٰہذا ان لوگوں نے کہا بے شک ہم لوگ صبر کریں گے ہم کسی شئی کا سوال نہیں کریں گے۔

أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10379

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10380

10380 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش أنا الحسن بن سفيان نا يونس بن عبد الأعلى انا ابن وهب نا عمرو بن الحارث عن أبي عشانة المعافري عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول ما يدخل الجنة من خلق الله فقراء المهاجرين الذين تسد بهم الثغور و تتقي بهم المكاره و يموت أحدهم و حاجته في صدره لا يستطيع لها قضاء

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو یونس بن عبدالاعلیٰ نے ان کو ابن وہب نے ان کو عمرو بن الحارث نے ان کو ابو عشانہ معافری نے عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایات پہلا طبقہ اللہ کی مخلوق میں سے جو جنت میں داخل ہوگا وہ فقراء مہاجرین ہوں گے جن کے ساتھ پل باندھے گئے جن کے ذریعے مشکلات سے تحفظ حاصل کیا گیا جب ان میں سے کوئی ایک مرتا ہے تو اس کی ضرورت اور خواہش اس کے سینے میں رہ جاتی ہے جس کو وہ پورا نہیں کر سکتا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10380

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10381

10381 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني و أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي قالا : نا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني محمد بن الحسين الرازي الكاغدي ثنا أبو زرعة الرازي حدثني علي بن بحر ثنا قتادة بن الفضيل سمعت أبا حاضر يحدث عن الوضين بن عطاء عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يدخل فقراء أمتي الجنة قبل أغنيائهم بأربعين خريفا قالوا : من هم يا رسول الله صفهم لنا قال : هم الشعثة رؤسهم الدنسة ثيابهم الذين لا يؤذنون لهم على السدات و لا ينكحون المتنعمات من كل مشارق الأرض و مغاربها يعطون كل الذي عليهم و لا يعطون كل الذي لهم

ہمیں خبر دی ابو منصور احمد بن علی ومعانی نے اور ابو الحسن علی بن عبداللہ خسرو گردی نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی محمد بن حسین رازی کاغدی نے ان کو ابو زرعہ رازی نے ان کو علی بن بحر نے ان کو قتادہ بن فضیل نے اس نے سنا ابو حاضر سے وہ حدیث بیان کرتے تھے وضین بن عطاء سے اس نے سالم بن عبداللہ سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ میری امت کے فقراء دولت مندوں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔صحابہ وکرام نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ ہمارے لئے ان کی تعریف کیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے ہیں۔ جن کو گھر کی دہلیز پر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی جو کھاتے پیتے گھرانوں کی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے دھرتی کی تمام مشرقوں اور مغربوں میں۔ ان کو ہر ایسی چیز دی جاتی ہے جو ان پر و بال و پریشانی ہوتی ہے اور ان کو ہر وہ چیز نہیں دی جاتی جو ان کا حق ہے۔

من هم ← يدخل فقراء أمتي الجنة قبل أغنيائهم بأربعين خريفا ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← أَبَا حَاضِرٍ، ← قتادة بن الفضيل ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّازِيُّ الْكَاغِدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10381

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10382

10382 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع بن الحسن الصوفي أنا أبو بكر محمد بن جعفر النباري نا جعفر بن محمد الصائغ نا قبيصة نا سفيان عن محمد بن عمرو عن علقمة عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يدخل الفقراء الجنة قبل الأغنياء بخمسمائة عام نصف يوم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حسین بن شجاع بن حسن صوفی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر انباری نے ان کو جعفر بن محمد صائغ نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو علقمہ نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا :کہ فقراء جنت میں اغنیاء سے آدھا دن یعنی پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے۔

يدخل الفقراء الجنة قبل الأغنياء بخمسمائة عام نصف يوم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَلْقَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ ← أبو بكر محمد بن جعفر النباري ← أبو عبد الله الحسين بن شجاع بن الحسن الصوفي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10382

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10383

10383 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا إسحاق بن يوسف نا عوفالعرابي عن عبد رجاء و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد الكعبي نا محمد بن أيوب أنا أبو أيوب أنا الوليد نا مسلم بن زرير نا أبو رجاء عن عمران بن حصين : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء و في رواية عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطلعت في الجنة فكان أكثر أهلها الفقراء : ثم اتفق قال : و أطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد عن عثمان بن الهيثم عن عوف و كذا قاله عبد الوارث عن أيوب عن أبي رجاء عن عمران قال البخاري : و قال صخر و حماد بن نجيح عن أبي رجاء عن ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو اسحاق بن یوسف نے ان کو عوف اعرابی نے ان کو ایور جاء نے اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن محمد کعبی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابو ایوب نے ان کو ابو الولید نے ان کو مسلم بن زریر نے ان کو ابور جاء نے ان کو عمران بن حصین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو جنت والے زیادہ تر فقراء تھے۔ اور عوف کی ایک روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں جھانکا تو اکثر اہل جنت فقراء تھے۔ اس کے بعد دونوں روایات متفق ہوگئی ہیں۔ میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا میں نے دیکھا کہ اکثر اہل جہنم عورتیں ہی تھیں اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الولید سے اس نے عثمان بن ہثیم سے اس نے عوف سے اور اسی طرح اس کو کہا ہے عبد الوارث نے ایوب سے اس نے ابور جاء سے اس نے عمران سے۔ امام بخاری نے کہا۔ اور کہا صخر نے اور حماد بن نجیع نے ابور جا ء سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے۔

أطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء و في رواية عوف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← مسلم بن زرير ← الْوَلِیْدُ ← أَبُو أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عبد رجاء و ← عوفالعرابي ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10383

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10384

10384 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن سلمان ثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا حماد بن نجيح و صخر بن جويرية قالا : ثنا أبو رجاء العطاردي سمعت ابن عباس يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أطلعت في الجنة فإذا عامة أهلها الفقراء و المساكين و أطلعت في النار فإذا أهلها أو قال : أكثر أهلها النساء رواه مسلم من حديث أبي الأشهب عن أبي رجاء عم ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن سلمان نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰقاضی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حماد بن نجیع نے اور صخر بن جویریہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابور جاء عطاردی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اکثر اہل جنت فقراء اور مساکین تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اکثر اس میں عورتیں تھیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو اشہب کی حدیث سے اس نے ابور جاء سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبو رجاء العطاردي ← حماد بن نجيح و صخر بن جويرية ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10384

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10385

10385 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون أنا سعيد بن أبي عروبة عن أبي رجاء العطاردي عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطلعت في النار فرأيت عامة أهلها النساء و أطلعت في الجنة فرأيت عامة أهلها المساكين

ہمیں خبر دی ابومحمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو محمد بن عبد الوہاب فراء نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو ابورجا ، عطاردی نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جہنم میں دیکھا تو میں نے دیکھا کہ زیادہ تر اہل جہنم عورتیں تھیں اور میں نے جنت میں دیکھا تو زیادہ تر اہل جنت میں مساکین تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10385

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10386

10386 - و حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا ى يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا أبو الأشهب و جرير بن حازم و مسلم بن زرير و حماد بن نجيح و صخر بن جويرية عن أبي رجاء عن عمران بن حصين و ابن عباس قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نظرت في الجنة فإذا أكثر أهلها الفقراء و نظرت في النار فإذا أكثر أهلها النساء

اور ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابوالا شہب نے اور جریر بن حازم نے اور مسلم بن زریر نے اور حماد بن نجیع نے اور صخر بن جویریہ نے ان کو ابور جاء نے ان کو عمران بن حصین نے اور ابن عباس نے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے جنت میں نظر ڈالی تو اکثر اہل جنت فقراء تھے اور میں نےجہنم میں نظرڈالی تو اکثر اہل جہنم عورتیں تھیں ۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10386

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10387

10387 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي ثنا يزيد بن هارون أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قمت على باب الجنة فإذا أكثر من يدخلها الفقراء و إذا أصحاب الجد محبوسون و قمت على باب النار فإذا أكثر من يدخلها النساء مخرج في الصحيحين من حديث سليمان

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن عبد الملک دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نےان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان نے ان کو اسامہ بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اکثر جولوگ اس میں داخل ہوئے وہ فقراء تھے اور اصحاب جہد و مشقت رکے ہوئے تھے۔ اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اکثر جو اس میں داخل ہوئے وہ عورتیں تھیں ۔بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث سلیمان سے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10387

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10388

10388 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بالكوفة قال : أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا إبراهيم بن عبد الله انا وكيع بن الجراح عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال : انتهيت إلى النبي صلى الله عليه و سلم و هو جالس في ظل الكعبة فلما رآني قال : هم الأخسرون و رب الكعبة قال : فجئت حتى جلست فلم أتقار أن قمت فقلت : فداك أبي و أمي يا رسول الله من هم قال : هم الأكثرون إلا من قال : بالمال هكذا و هكذا من بين يديه و من خلفه و عن يمينه و عن شماله و قليل ما هم رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوالقاسم زید بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین نے کوفہ میں وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو جعفر محمد بن علی دحیم نے ان کو ابراہیم بن عبد اللہ نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو اعمش نے ان کو معرور بن سوید نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ کعبے کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا :هم الاخسرون ورب الكعبة و ہ لوگ سب سے زیادہ خسارے میں ہیں رب کعبہ کی قسم ۔ کہتے ہیں کہ میں آیا حتی ٰ کہ میں بیٹھ گیا میں زیادہ دیر نہ بیٹھا بلکہ میں اٹھ کھڑا ہوا پھر میں نے کہا آپ کے اوپر میرے ماں باپ قربان ہوں یا رسول اللہ ۔ وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا کہ وہ اکثر لوگ ہیں ہاں مگر جو شخص ایسے ایسے مال کو ( اللہ کے واسطے لوٹائے ) اپنے آگے اپنے پیچھے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں اور وہ لوگ بہت کم ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو بکر بن ابوشیبہ سے اس نے وکیع سے۔ اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10388

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10389

10389 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا إبراهيم بن عبد الله البصري ثنا عمرو بن مرزوق انا عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم : تعس عبد الدينار و عبد الخميصة و عبد الدرهم إن أعطي رضي و إن منع سخط تعس و انتكس و إذا شيك فلا انتقش رواه البخاري في الصحيح عن عمرو بن مرزوق

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید اعرابی نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ بصری نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو عبد الرحمٰن بن عبد اللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہلاک ہود ینار کا بندہ اور چادرو کملی کا بندہ اور درہم کا بندہ اگر اس کو دے دیا جائے تو خوش ہو جائے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائے ہلاک ہو جائے اور سر کے بل گرایا جائے اور جس وقت کا نٹا چبھا جائے تو کا نٹانہ نکالا جائے؟ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عمرو بن مرزوق سے۔

عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10389

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10390

10390 - حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة أخبرني أبو حمزة عن رجل من طي عن أبيه عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهي عن التبقر يعني الكثرة في المال و الولد

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو حمزہ نے ایک آدمی سے بنوطی سے اس نے اپنے والد سے اس نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے تبقر سے یعنی مال اور اولاد میں کثرت تلاش کرنے سے منع فرمایا تھا۔

التبقر يعني الكثرة في المال و الولد ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ طَيٍّ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10390

chevron_left Previous
1…121314…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood