Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10367

10367 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن إسماعيل نا مسلم بن إبراهيم و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا إسحاق بن الحسن الحربي نا مسلم بن إبراهيم نا حريث بن السائب عن الحسن عن حمران عن عثمان بن عفان : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : كل شيء فضل عن ابن آدم من حلف الخبز و ثوب يواري سوءته و بيت يكنه ما سوى ذلك فهو حساب يحاسب به يوم القيامة فقيل لحمران : فما لك لا تعمل بهذا الحديث و كان حسن اللباس قال : أن الدنيا تقاعدني لفظ حديث الحربي

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو حدیث بیان کی مسلم بن ابراہیم نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو بکرمحمد بن عبد اللہ شافعی نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حریث بن سائب نے ان کو حسن نے ان کو حمران نے ان کو عثمان بن عفان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ جو چیز ابن آدم سے فاضل اور زائد ہو۔ سوکھی روٹی کا ٹکڑا۔ اور کپڑا جو اس کی شرم گاہ ڈھک دے اور گھر جو اس کو چھپائے بس اس کے سوا جو کچھ ہے وہ حساب ہے۔ قیامت کے روز اس کا اس سے حساب لیا جائے گا۔ چنانچہ حمر ان سے پوچھا گیا آپ کو کیا ہوا کہ آپ اس حدیث پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ بڑے خوش لباس تھے۔ فرمایا کہ دنیا نے مجھے جھکا دیا ہے۔ یہ الفاظ حدیث حربی کے ہیں۔

كل شيء فضل ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← حُمْرَانَ ← الْحَسَنِ، ← حُرَيْثٌ بْنِ السَّائِبَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← مسلم بن إبراهيم و ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10367

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10368

10368 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد بن علي بن زياد نا أبو محمد عبد الله بن محمد المدني نا إسحاق بن راهوية أنا عيسى بن يونس نا هشام عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث لا يحاسب العبد بهن كسرة يشد بها صلبه و ثوب يواري عورته و ظل خص يستظل به هكذا جاء مرسلا و هو مرسل جيد في هذا المعنى شاهد لما تقدم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن علی بن زیاد نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد مدنی نے ان کو اسحٰق بن راہو یہ نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو ہشام بن حسن نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ تین چیزیں ہیں جن کا بندے سے حساب نہیں لیا جائے گا کپڑے کا ٹکڑا جس کے ساتھ انسان اپنی شرم گاہ چھپاتا ہے۔ اور روٹی کا ٹکڑا جس کو کھا کر وہ اپنی کمر مضبوط کرتا ہے۔ اور مخصوص سایہ جس کے ساتھ وہ سایہ حاصل کرتا ہے۔ یہ روایت اسی طرح مرسل آئی ہے۔ یہ مرسل ہے مگر اس مفہوم میں جید اور عمدہ ہے اور ساتھ روایت کے لئے شاہد ہے۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← أبو محمد عبد الله بن محمد المدني ← عبد الله بن محمد بن علي بن زياد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10368

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10369

10369 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو سعيد الحارثي نا يحيى بن سعيد القطان نا أسامة بن زيد عن محمد بن عبد الرحمن عن سعد بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الذكر الخفي و خير الرزق ما يكفي و هذا هو المراد بالمعنى المذكور في الحديث الصحيح عن سعد و هو ما يكفي و ذلك فيما

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابوسعید حارثی نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو اسامہ بن زید نے ان کو محمد بن عبد الرحمٰن نے ان کو سعد بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : کہ بہترین ذکر وہ ہے جو آہستہ اور مخفی ہو اور بہتر رزق وہ ہے جو پورا ہو جائے۔ حضرت سعد سے مروی سابقہ صحیح حدیث میں مایکفی سے یہی مذکورہ چیز مراد ہے۔

خَيْرُ ال ← سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10369

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10370

10370 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا أبو بكر الحنفي عبد الكبير بن عبد المجيد نا بكير بن مسمار عن عامر بن سعد أن أخاه عمر أتى إلى سعد في غنم له خارجا من المدينة فلما رآه سعد قال : أعوذ بالله من شر هذا الراكب فلما أتاه قال : يا أبه أرضيت أن تكون أعرابيا في غنمك و الناس يتنازعون في الملك بالمدينة فضرب سعد صدر عمر و قال : اسكت : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يحب العبد التقي الغني الخفي رواه مسلم في الصحيح عن عباس بن عبد العظيم عن أبي بكر الحنفي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے ان کو ابو بکر حنفی نے عبدالکبیر بن عبدالمجید سے ان کو بکیر بن مسمار نے ان کو عامر بن سعد نے کہ ان کے بھائی عمر حضرت سعد کے پاس آئے اپنی بکریوں کے ساتھ جو مدینے سے باہر تھیں سعد نے جب ان کو دیکھا تو فرمایا۔ کہ میں اس مال سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جب وہ آ گیا تو اس نے کہا اے ابا جان کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ اپنی بکریوں میں چرواہےہوتے اور لوگ مدینے میں اس مال کی ملکیت میں جھگڑا کریں؟چنانچہ حضرت سعد نے اپنے بیٹے عمر کے سینہ پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ چپ ہو جا۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھافرماتے تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ متقی پرہیز گار غنی آدمی کو اور پوشیدہ آدمی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عباس بن عبد العظیم سے اس نے ابو بکر خفی سے۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَبد الْكَبِيرِ بْنُ عَبد المجيد، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10370

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10371

10371 - أخبرنا أبو محمد المؤملي نا أبو عثمان البصري نا أبو أحمد الفراء نا يعلي بن عبيد نا الأعمش و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن غالب حدثني عبيد بن عبيدة نا معتمر عن أبيه عن سليمان عن عمرو بن مرة عن خيثمة عن عبد الله قال : تكون أمور مشتبهات فعليكم بالتؤدة فإن أحدكم أن يكون تابعا في الخير خير من أن يكون رأسا في الشر و في رواية يعلي بن عبيد قال : قال عبد الله : إنها ستكون أمور مشتبهات فعليكم بالتؤدة فإنك أن تكون تابعا في الخير خير من أن تكون رأسا في الشر

ہمیں خبر دی ابو محمد موملی نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو احمد فراء نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے اور ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن غالب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عبید بن عبیدہ نے ان کو معتمر نے ان کو ان کے والد نے ان کو سلیمان نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو خثیمہ نے ان کو عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مشتبہ امور ہوں گے لہذا تم لوگ اپنے اوپر سنجیدگی اور متانت کو لازم کر لینا۔ بے شک ایک آدمی تم میں سے اگر خیر میں رہ کر کسی کے تابع اور پیچھے بھی رہے تو یہ اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ شر میں رہتے ہوئے سردار ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← خيثمة ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُلَیْمَانَ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← الأَعْمَشِ، وَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10371

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10372

10372 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا أبو الأشهب عن عمرو بن عبيد التميمي العبشمي عن ثوبان مولى النبي صلى الله عليه و سلم : قال يوشك أن تداعي عليكم الأمم كما تداعي القوم على قصعتهم قال : قيل : من قلة من قال لا و لكنه غثاء كغثاء السيل يجعل الوهن في قلوبكم و ينزع الرعب من قلوب عدوكم بحبكم الدنيا و كراهيتكم الموت هكذا روي بهذا الإسناد موقوفا و قد رويناه من وجه آخر عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابوالا شہب نے ان کو عمرو بن عبید تمیمی عبشمی نے ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں قریب ہے کہ تمہارے خلاف تو میں اس طرح مد عو کی جائیں گی جیسے ایک قوم کھانے کے اوپر بلائی جاتی ہے کہتے ہیں کہ پوچھا گیا کہ کیا یہ کیفیت ہماری قلت اور تعداد میں کمی کی وجہ سے ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ لوگ جھاگ ہوں گے جیسے سیلاب کی جھاگ ہوتی ہے۔ تمہارے دلوں میں کمزوری واقع کر دی جائے گی۔ اور تمہارے دشمن کے دل سے تمہارا رعب کھینچ لیا جائے گا اور یہ سب کچھ تمہاری دنیا سے محبت اور موت سے کراہت اور نا پسندی کی وجہ سے ہوگا یہ اسی طرح مروی ہے اسی اسناد کے ساتھ بطور موقوف روایت اور تحقیق ہم نے اس کو ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے ثو ہان سے اس نے نبی کریم سے بطور مرفوع روایت کے۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10372

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10373

10373 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا حسن بن موسى الأشيب نا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة عن خليد بن عبد الله العصري عن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما طلعت شمس قط إلا بعث بجنبتيها ملكان يناديان إنهما يسمعان من على الأرض غير الثقلين يا أيها الناس هلموا إلى ربكم فإن ما قل و كفى خير مما كثر و ألهى و لا آبت شمس قط إلا بعث بجنبتيها ملكان يناديان اللهم أعط منفقا خلفا و أعط ممسكا تلفا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو حسن بن موسیٰ اشیب نے ان کو شیبان بن عبدالرحمٰن نے قتادہ سے اس نے خلید بن عبد اللہ عصری سے اس نے ابو درداء سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عالیہ وسلم نے فرمایا : نہیں طلوع ہوتا ہر گز کسی بھی دن کا سورج مگر اس کے دونوں پہلوں کے ساتھ دوفرشتے بھیجے جاتے ہیں وہ دونوں اعلان کرتے ہیں اور وہ دھرتی پر رہنے والی تمام مخلوقات کو سنواتے ہیں جن و انس کے سوا۔ اے لوگو تم آ جاؤ اپنے رب کی طرف بے شک جو چیز قلیل ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہوتی ہے اس چیز سے جو کثیر ہو اور غافل کر دے اور غروب نہیں ہوتا کوئی سورج ہر گز مگر اس کے دونوں طرف دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو اعلان کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اے اللہ خرچ کرنے والے کو خرچ کر دینے کے بعد مزید عطا فرما اور روک کر رکھنے والے کا مال تلف اور ضائع فرما۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10373

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10374

10374 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو محمد الحسن بن علي بن عفان العامري نا قبيصة بن عقبة عن سفيان ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بكر بن سهل الدمياطي نا محمد بن أبي السري نا وكيع بن الجراح عن سفيان الثوري عن الحجاج بن فرافعة عن مكحول عن أبي هريرة قال في رواية قبيصة : و أراه رفعه و قال في رواية وكيع قال : قال رسول الله : من طلب الدنيا حلالا مفاخرا مكاثرا مرائيا لقي الله و هو عليه غضبان و من طلب الدنيا حلالا استعفافا عن المسلألة و سعيا على عياله و تعطفا على جاره لقي الله يوم القيامة و وجهه كالقمر ليلة البدر و رواه مهران بن أبي عمر الرازي عن الثوري كما رويناه في رواية وكيع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابومحمد حسن بن علی بن عفان عامری نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بکر بن سہل دمیاطی نے ان کو محمد بن ابو السری نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو حجاج بن فرافعہ نے ان کو مکحول نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ۔ راوی کہتے ہیں کہ قبیصہ کی ایک روایت میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کو مرفوع بیان کیا ہے۔ اور کہا کہ وکیع کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا کو طلب کرتا ہے۔ حلال طریقے پر ایک دوسرے پر فخر کرتے ہوئے۔ ایک دوسرے سے کثرت اور بڑھوتری کرتے ہوئے ریا کاری کرتے ہوئے وہ شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر شدید ناراض ہوگا۔ اور جو شخص دنیا کو حلال اور جائز طریقے پر طلب کرتا ہے۔ سوال اور بھیک سے بچنے کے لئے اور اپنے عیال اور بچوں کے لئے سعی کرنے کے لئے اور اپنے پڑوسی پر شفقت کرنے کے لئے وہ قیامت کے دن اللہ تعالی ٰکو اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی مثل روشن ہوگا ۔ اور چمکتا ہوا ہوگا۔ اور اس کو روایت کیا ہے مہران بن ابو عمر رازی نے ثوری سے جیسے ہم نے اس کو روایت کیا ہے وکیع کی روایت میں۔

في رواية وكيع ← في رواية قبيصة و أراه رفعه و ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَكْحُولٌ ← الحجاج بن فرافعة ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10374

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10375

10375 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف الفريابي قال : ذكر سفيان عن الحجاج بن فرافعة عن رجل عن أبي هريرة قال : أظنه مرفوعا قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من طلب الدنيا حلالا استعفافا عن مسألة و سعيا على أهله و تعطفا على جاره يوم القيامة و وجهه كالقمر ليلة البدر و من طلب الدنيا مفاخرا مكاثرا مرائيا لقي الله و هو عليه غضبان

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف فریابی نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ہے حجاج بن فرافعہ سے اس نے ایک آدمی سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں میں اس کو مرفوع ہی خیال کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جو شخص دنیا کو حلال طریقے پر طلب کرے سوال اور بھیک سے بچنے کے لئے اور اپنے اہل کے لئے سعی کرنے کے لئے اور اپنے پڑوسی پر شفقت کرنے کے لئے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی مثل روشن ہوگا اور جو شخص دنیا کو طلب کرے فخر کرنے اور ایک دوسرے پر زیادہ مال جتلانے کے لئے اور ریا کاری کرنے کے لئے وہ اللہ کو ملے گا اس حال میں کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا ۔

أظنه مرفوعا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَجُلٌ: ← الحجاج بن فرافعة ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10375

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10376

10376 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلي بن عبيد نا إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد و عبد الملك بن عمير عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه ليس شيء يقربكم من الجنة و يباعدكم من النار إلا قد أمرتكم به و ليس شيء يقربكم من النار و يباعدكم من الجنة إلا قد نهيتكم عنه و أن الروح الأمين نفث في روعي أنه لن تموت نفسي حتى تستوفي رزقها فاتقوا الله و اجملوا في الطلب و لا يحملنكم استبطاء الرزق أن تطلبوه بمعاصي الله فإنه لا يدرك ما عند الله إلا بطاعته

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو عبد اللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد اللہ نےان کو یعلی ٰبن عبید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے زید سے اور عبد الملک بن عمیر سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی چیز نہیں جو تم لوگوں کو جنت کے قریب کر سکے اور تمہیں جہنم سے دور کر سکے مگر میں نے تم لوگوں کو اس کا حکم دے دیا ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تم لوگوں کو جہنم کے قریب کر دے اور تمہیں جنت سے دور کر دے مگر میں نے تم لوگوں کو اس سے منع کر دیا ہے۔ اور بے شک جبرائیل علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی ہے کہ بے شک کوئی ذی روح ہر گز نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ اپنا رزق پورا پورا حاصل کرے گا اس لئے اللہ سے ڈرتے رہو اور رزق کو طلب کرنے میں اختصار سے کام لو اور خوبصورت طریقے سے کام لو اور رزق کی تاخیر ہونا تم لوگوں کو اس بات پر نہ اکسا دے کہ تم اس کو اللہ کی نافرمانیوں کے ساتھ طلب کرنے لگ جاؤ۔ بے شک جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کو صرف اور صرف اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زبيد و عبد الملك بن عمير ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10376

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10377

10377 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا السري بن يحيى نا أحمد بن عبد الله نا روح بن عمرو نا أيوب عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : بينما نحن جلوس مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ طلع علينا شاب من الثنية فلما رأيناه بأبصارنا قلنا : لو أن هذا الشاب جعل شبابه و نشاطه و قوته في سبيل الله عز و جل قال : فسمع مقالتنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و ما سبيل الله إلا من قتل من سعى على والديه ففي سبيل الله و من سعى على عياله ففي سبيل الله و من سعى على نفسه ليعفها ففي سبيل الله و من سعى على التكاثر فهو في سبيل الشيطان

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبد اللہ نے ان کو روح بن عمرو نے ان کو ایوب نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک گھاٹی سے ہم لوگوں پر ایک جوان نمودار ہوا ہم نے جب اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو ہم لوگوں نے کہا اگر یہ نو جوان اپنے شباب اور جوانی کو اور اپنی تاز گی کواور قوت کو اللہ کی راہ میں لگادیتا ( تو کیا ہی اچھا ہوتا ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری یہ گفتگو سن لی۔ اور فرمایا : اللہ کی راہ صرف یہی نہیں جو قتل ہو جائے بلکہ جس نے والدین کے لئے سعی کی بس وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے اور جس نے اپنے عیال کے لئے سعی کی وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے اور جس نے اپنے نفس کے لئے سعی کی تا کہ اسے پاک رکھے وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے۔ اور ہاں جس نے سعی کی محض مال و دولت بڑھانے کے لئے وہ شیطان کی راہ میں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← روح بن عمرو ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10377

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10378

10378 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلي بن عبيد نا إسماعيل بن أبي خالد عن نفيع و هو أبو داود و أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن إسماعيل عن أبي داود عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من ذي غنى إلا سيود يوم القيامة لو كان إنما أوتي في الدنيا قوتا و في رواية يعلي : ما من أحد غني و لا فقير إلا سيود يوم القيامة أنه أوتي في الدنيا قوتا

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبد اللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو نفیع نے وہ ابو داؤد ہیں۔ اور ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اسماعیل نے ان کو ابو داؤد نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کوئی صاحب دولت مگر وہ عنقریب قیامت کے دن یہ پسند کرے گا کاش کہ وہ ایسا ہوتا کہ اس کو دنیا میں صرف بقدر زندگی بچانے کے روزی دی جاتی ۔ اور یعلی کی ایک روایت میں ہے۔ نہیں کوئی ایک انسان خواہ وہ غنی ہو یا فقیر ہو مگر وہ عنقریب قیامت کے دن یہ پسند کرے گا اور چاہے گا کہ وہ دنیا میں زندگی بچانے کی مقدار روزی دیا جاتا۔

أَنَسٍ، ← أَبِي دَاوُدَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← نفيع و هو أبو داود و ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10378

chevron_left Previous
1…111213…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood