Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10235

10235 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ رحمه الله قال : أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي قال : نا سعيد بن مسعود قال : نا عبيد الله بن موسى قال : نا إسرائيل عن أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعثت أنا و الساعة كهاتين أخرجه البخاري في الصحيح من حديث أبي حصين و أخرجاه من حديث أنس بن مالك و سهل بن سعد و في بعض حديثهم و أشار بالسبابة و الوسطى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی سعید بن مسعود نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عبیداللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی اسرائیل نے ان کو ابو حسین نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثت انا والساعۃ کھاتین میں بھیجا گیا ہوں اور قیامت ایسے جیسے یہ دو انگلیاں ہیں۔بخاری نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں ابو حصین کی روایت سے۔ اور بخاری مسلم دونوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت سے۔ اور ان کی بعض روایت میں ہے۔ کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اور درمیان والی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے دیکھایا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10235

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10236

10236 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن ملاعب نا عاصم بن علي نا شعبة بن الحجاج عن أبي التياح و قتادة أنهما سمعا أنس بن مالك يقول : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : بعثت أنا و الساعة هكذا و أشار بأصبعيه السبابة و الوسطى قال : و كان قتادة يقول : كفضل أحديهما على الأخرى أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو جعفر رزاز نے ان کو احمد بن ملاعب نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو شعبہ بن حجاج نے ان کو ابو التیاح نے اور قتادہ نے کہ ان دونوں نے سنا تھا حضرت انس بن مالک سے وہ فرماتے تھے کہ مروی ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: بعثت انا والساعۃ ھکذا كہ بھیجا گیا ہوں میں اور قیامت اس طرح ہے۔ اور آپ نے یہ فرما کر اپنی دو انگلیوں شہادت والی اور بیچ والی کے ساتھ اشارہ فرمایا تھا۔ ابو التیاح کہتے ہیں کہ حضرت قتادہ فرماتے تھے۔ کفضل احدیھما علی الاخریٰ مثل فضیلت ایک کے دوسری پر۔ اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں شعبہ کی روایت سے۔

كفضل أحديهما على الأخرى أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة ← و كان قتادة ← و الساعة هكذا و أشار بأصبعيه السبابة و الوسطى ← بُعِثْتُ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي التياح و قتادة أنهما سمعا أنس بن مالك ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 10236

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10237

10237 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا محمد بن حماد نا أنس بن عياض الليثي عن أبي حازم و لا أعلمه إلا عن سهل بن سعد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بعثت أنا و الساعة كهاتين و قرب بين أصبعيه الوسطى و التي تلي الإبهام ثم قال : مثلي و مثل الساعة كفرسي رهان ثم قال : مثلي و مثل الساعة كمثل رجل بعثه قوم طليعة فلما خشي أن يسبق الأخ بثوبه أتيتم أتيتم ثم يقول النبي صلى الله عليه و سلم : أنا ذاك أنا ذاك

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو انس بن عیاض لیثی نے ان کو ابو حازم نے میں نہیں جانتا اس کو مگر سہل بن سعد سے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھیجا گیا اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ( یہ بتاتے ہوئے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور وہ جو انگوٹھے کے برابر میں ہے قریب کیا ) پھر فرمایا کہ میری مثال اور قیامت کی مثال مقابلے میں نے دوڑ والے دو گھوڑوں جیسی ہے۔ اس کے بعد پھر فرمایا کہ میری مثال اور قیامت اس آدمی جیسی ہے جس کو کچھ لوگ دشمن کا حال معلوم کرنے کے لئے قافلے کے آگے بھیجے۔ اس نے جب خوف کھایا کہ اس کا ساتھی اس سے سبقت کر کے اس کے کپڑے لے جائے گا۔ تم لوگ آگئے ہو تم لوگ آگئے ہو۔ اس کے بعد نبی کریم فرمانے لگے میں وہی ہوں میں وہی ہوں۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أبي حازم و لا أعلمه إلا ← أَنَسُ بْنُ عِيَاضِ اللَّيْثِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 10237

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10238

10238 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا محمد بن الخراساني ببغداد نا يحيى بن جعفر أنا أبو بكر الحنفي نا كثير بن زيد قال : سمعت المطلب قال : بينما ابن عمر واقف بعرفات حين تدلت الشمس إلى الغروب فبكى قال : فاشتد بكاؤه ثم قال : ذكرت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو بمكاني الذي أنا فيه واقف فنظر إلى الشمس كهيئتها الآن صاح أيها الناس إنه لم يبق من أجلكم هذا فيما مضى إلا كما بقي من يومكم هذا

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے کو ابو محمد بن خراسانی نے بغداد میں ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو ابو بکر صنبلی نے ان کو کثیر بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مطلب سے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر عرفات میں وقوف کر رہے تھے ( کھڑے تھے ) جس وقت سورج ڈھل چکا تھا غروب کی طرف (مائل ہو چکا تھا ) حضرت عبداللہ بن عمر رو پڑے۔ مطلب کہتے ہیں کہ ان کا روزہ شدید ہو گیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم یاد آ گئے تھے ۔ ( وہ وقت یاد آ گیا اور وہ منظر میری نظروں میں گھوم گیا ) جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے جس جگہ میں کھڑا ہوں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تھا، وہ اسی حالت میں تھا جیسے اس وقت ہے۔ لہٰذا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے چیخ کر فرمایا تھا:ایھا الناس انہ لم یبق من اجلکم فیما مضیٰ الاکما بقی من یومکم ھذا اے لوگو بے شک حال کچھ اس طرح ہے کہ تمہاری مدت دنیا کی گذشتہ مدت کے متابے میں ایسے ہو گئی ہے جیسے تمہارا آج کا دن کم رہ گیا ہے (صبح سے اب تک گزرنے والے وقت کے مقابلے میں ۔ )

ذكرت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو بمكاني الذي ← فاشتد بكاؤه ثم ← بينما ابن عمر واقف بعرفات حين تدلت الشمس إلى الغروب فبكى ← الْمُطَّلِبِ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← محمد بن الخراساني ببغداد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 10238

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10239

10239 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا إبراهيم بن الحارث البغدادي نا يحيى بن أبي بكر قال : نا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم خطبة إلى مغيربان الشمس و قال : ألا إن ما بقي من الدنيا فيما مضى منه كمثل ما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ نہیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ نہیں خطبہ ارشاد فرمایا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہونے سے تھوڑا سا قبل تک اور فرمایا: الا ان مابقی من الدنیا فیما مضی منہ کمثل مابقی من یومکم ھذا فیما مضی منہخبردار ہوشیار رہو بے شک دنیا کا جو وقت باقی رہ گیا ہے وہ اس وقت کے مقابلے میں جو گزر پا لیا ہے اس طرح ہے جس طرح تمہارے آج والے دن کا بڑا حصہ اس وقت گزر چکا ہے اور باقی جو رہ گیا ہے وہ کم رہ رہ گیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 10239

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10240

10240 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا الفضل بن جعفر بن عبد الله نا وهب بن بيان نا يحيى بن سعيد القطان نا أبو سعيد خلف بن حبيب عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل هذه الدنيا مثل ثوب شق من أوله إلى آخره فبقي متعلقا بخيط في آخره فيوشك ذلك الخيط أن ينقطع

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابو الدنیا نے ان کو فضل بن جعفر بن عبداللہ نے ان کو وہب بن بیان نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو ابو سعید خلف بن حبیب نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے جیسی ہے جس کو شروع سے آخر تک پھاڑ دیا گیا ہو اور وہ اس کا صرف میں ایک دھاگہ باقی ہو وہ کپڑا جس کے ساتھ لٹکا رہ جائے۔ اور و ہ دھاگہ بھی کٹ جانے کے قریب قریب ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو سعيد خلف بن حبيب ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ← الفضل بن جعفر بن عبد الله ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 10240

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10241

10241 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا : فذكره بإسناده مثله

ہمیں خبر دی ابو عبیداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ ہمارے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے اس نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے اسی کی مثل۔

أبو بكر بن أبي الدنيا فذكره بإسناده مثله ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 10241

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10242

10242 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس هو الأصم نا يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي نا يحيى بن صالح حدثني أبو إسماعيل شيخ من السكون سمعت مالك بن أدا يقول : سمعت النعمان بن بشير على المنبر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه لم يبق من الدنيا إلا مثل الذباب تمور في جوها الله الله في إخوانكم من أهل القبور فإن أعمالكم تعرض عليهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی عباس اصم نے ان کو یزید بن محمد بن عبدالصمد دمشقی نے ان کو یحییٰ بن صالح نے ان کو حدیث بیان کی ابو اسماعیل شیخ نے السکون سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناما لک بن ادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نعمان بن بشیر سے منبر پر وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حال یہ ہے کہ دنیا میں باقی نہیں رہ کیا مگر اتنا جتنی دیر مکھی فضا کے اندر ایک حرکت کرتی ہے (اڑان اڑتی اور بھنبھناتی ہے) اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو اپنے اہل قبور کے بھائیوں میں سے بے شک تمہارے اعمال ان پر پیش کئے جاتے ہیں۔ (واللہ اعلم مامر ادہ بذالک الروایۃ صحیحہ ام لا)

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← مالك بن أدا ← أبو إسماعيل -شيخٌ من السكون-، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Hadith 10242

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10243

10243 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا إبراهيم بن مسعود الهمداني نا عبد الله بن نمير نا الأعمش و حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله إملاء قال : نا أبو حامد بن الشرقي أملاه علينا من حفظه نا محمد بن يحيى الذهلي نا عبد الرحمن بن مهدي نا سفيان ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن غالب نا أبو حذيفة نا سفيان عن منصور و سليمان الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الجنة أقرب إلى أحدكم من شراك نعله و النار مثل ذلك لفظ حديثهما سواء رواه البخاري في الصحيح عن أبي حذيفة و في رواية الفقيه قال عن شقيق بن سلمة عن عبد الله بن مسعود

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو ابراہیم بن مسعود ہمدانی نے ان کو عبداللہ بن نمیر نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی رحمتہ اللہ علیہ نے بطور املاء کے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو حامد ان شرقی نے بطور املاء کے ہمارے لئے اپنے حافظے سے ان کومحمد بن یحییٰ ذیلی نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان رحمتہ اللہ علیہ نے اور ہمیں خبر دی سے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو ابو محمد بن غالب نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے منصور سے اور سلیمان اعمش سے ان کو ابو وائل نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت ہمارے ایک کے پاس اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور جہنم بھی اسی کی مشکل ہے دونوں راویوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں۔ اور بخاری نے اس صحیح میں روایت کیا ہے ابو حذیفہ سے اور فقیہ کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا مروی ہے شقیق بن سلمہ سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← منصور و سليمان الأعمش ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو حامد بن الشرقي أملاه علينا من حفظه ← أبو الحَسَن محمد بن الحُسَين بن داود العلوي إملاء ← الأَعْمَشِ، وَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← إبراهيم بن مسعود الهمداني ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 10243

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10244

10244 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي نا الأعمش عن مجاهد عن ابن عمر قال : و كان ابن عمر يقول : إذا أصبحت فلا تنتظر المساء و إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح و خذ من صحتك لمرضك و خذ من حياتك لموتك

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن صفادی نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ آپ جب صبح کریں تو شام کا انتظار نہ کریں۔ اور آپ جب شام کریں تو صبح کا انتظار نہ کیا کریں۔ اور آپ اپنی صحت میں سے اپنی بیماری کے ایام کے لئے ہاتھ لے لیا کریں۔ اور اپنی زندگی کے ایام سے ہاتھ اپنی موت کے لئے لیا کریں۔

و كان ابن عمر ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ ← و،

Hadith 10244

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10245

10245 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو علي الحسين بن علي بن يزيد الحافظ نا محمد بن محمد بن سليمان نا علي بن المديني نا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي أبو المنذر و كان ثقة عن سليمان الأعمش قال : حدثني مجاهد عن ابن عمر قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بمنكبي فقال : كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل قال : و قال ابن عمر : إذا أصبحت فلا تنتظر المساء و إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح و خذ من حسناتك لمساوئك رواه البخاري في الصحيح عن علي بن المديني غير أنه قال في آخر الحديث : ما في حديث محمد بن أبي بكر و لم يذكر قوله و خذ من حسناتك لمساوئك

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی الحسین بن علی بن یزید حافظ نے ان کو محمد بن محمد بن سلیمان نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی ابو المنذر نے جو کہ ثقہ راوی تھے وہ روایت کرتے ہیں سلیمان اعمش سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے مجاہد نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا تھا۔ کن فی الدنیا کانک غریب اوعابر سبیل۔ دنیا میں ایسا ہو جاؤ جیسے کہ تم مسافر ہو یا راستہ کو عبور کرنے والے ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو اور جس وقت شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور اپنی نیکیوں میں سے اپنی برائیوں کے لئے کچھ پکڑو۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں علی بن مدینی ہے۔ سوائے اس کے کہ اس نے حدیث کے آخر میں کہا ہے جو محمد بن ابو بکر کی حدیث میں ہے اور اس نے جملہ بھی ذکر نہیں کیا کہ اپنی نیکیوں میں ہے اپنی بدیوں کے لئے یعنی ان کو منانے کے لئے لیجئے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← محمد بن عبد الرحمن الطفاوي أبو المنذر و كان ثقة ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← محمد بن محمد بن سليمان، ← أبو علي الحسين بن علي بن يزيد الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 10245

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10246

10246 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سليمان الموصلي نا علي بن حرب الموصلي سنة أربع و ستين و مائتين نا أبو معاوية نا الليث و هو ابن أبي سليم ح و حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي نا عبد الله بن هاشم نا وكيع نا سفيان عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ببعض جسدي فقال : يا عبد الله كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل و عد نفسك مع الموتى و في حديث أبي معاوية قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم و قال في آخره من أهل القبور

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان موصلی نے ان کوعلی بن حرب موصلی نے ۲۶۴ ھ میں ان کو ابو معاویہ نے ان کو لیث نے وہ ابن ابو سلیم ہیں ۔۔ (ح) اور ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسین محمد بن حسین علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو وکیع نے ان کو سفیان نے ان کو لیث نے مجاہد سے اس نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے میرے بعض جسم سے پکڑ کر فرمایا تھا اے عبداللہ کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل و عد نفسك مع الموتیٰ۔ دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ تم مسافر ہو یا راستہ کو عبور کرنے والا اور اپنے نفس کو مردوں کے ساتھہ شمار کرو اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور ان کے آخر میں کہا ہے من اہل القبور یعنی اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرنا۔

أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ببعض جسدي ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ ← و، ← الليث و هو ابن أبي سليم ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← علي بن حرب الموصلي سنة أربع و ستين و مائتين ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10246

chevron_left Previous
1234…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood