شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4067
4067 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد قالا نا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى الكوفي بها نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة الغفاري أنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب : أن رجلا من اليهود قال لعمر يا أمير المؤمنين آية في كتاب الله تقرؤنها لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيدا قال : أي آية قال : { اليوم أكملت لكم دينكم و أتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الإسلام دينا } فقال عمر قد عرفنا ذلك اليوم و المكان الذي أنزلت فيه نزلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفات يوم الجمعة أخرجاه في الصحيح من حديث جعفر بن عون
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو الحین بن فضل قطان نے بغداد میں دونوں نے کہا کہ ان کو ابو الحسن علی بن عبدالرحمن بن عیسیٰ کوفی نے کوفے میں ۔ ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ غفاری نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابوالعمیس نے ان کو قیس بن مسلم نے طارق ابن شہاب سے کہ یہود میں سے ایک آدمی نے حضرت عمر سے کہا اے امیر المؤمنین کتاب اللہ میں ایک آیت ہے جسے تم لوگ پڑھتے ہو اگر وہ ہم لوگوں جماعت یہود پر اترتی تو ہم لوگ ا دن کو عید کا دن ٹھہراتے ۔ عمر نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے ۔ بولا کہ : الیوم اکملت لکن دینک واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً " میں نے آج کے دن تمہارا دین مکمل کر دیا ہے ۔ اور تمہارے اوپر تمہاری نعمت پوری کر دی ہے اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا : تحقیق ہم اچھی طرح جانتے ہیں اس دن کو بھی اور اس مقام کو بھی جہاں یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔ جب رسول اللہ پر یہ آیت نازل ہوئی جمعہ کا دن تھا ۔ اور عرفات کا میدان تھا ۔(گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودی کو یہ جواب دے کر بتا دیا کہ ہمیں الگ سے اپنی مرضی سے عید منانے کی ضرورت نہیں ہے اول تو یوم جمعہ مسلمانوں کا مقدس دن اور اجتماعی عبادت کا اور تقرب الہی کا دن اس پر مستزادیہ کہ عرفات کا میدان مقدس مقام پھر یہ کہ حج کا مبارک اجتماع اور مسلمانوں کی سالانہ اجتماعی عبادت اور مغفرت کا دن جو کہ نظریاتی اعتبار سے عید سے کسی طرح کم نہیں ۔ چوتھے کہ اگلے دن تمام ان اجتماعی عبادات کی خوشی اور شکرانے کا طور پر عید قربان ہے ۔) بخآری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث جعفر بن عون سے ۔
طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ← أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى الكوفي بها ← أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن الفضل القطان
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4067
