Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4067

4067 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد قالا نا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى الكوفي بها نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة الغفاري أنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب : أن رجلا من اليهود قال لعمر يا أمير المؤمنين آية في كتاب الله تقرؤنها لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيدا قال : أي آية قال : { اليوم أكملت لكم دينكم و أتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الإسلام دينا } فقال عمر قد عرفنا ذلك اليوم و المكان الذي أنزلت فيه نزلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفات يوم الجمعة أخرجاه في الصحيح من حديث جعفر بن عون

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو الحین بن فضل قطان نے بغداد میں دونوں نے کہا کہ ان کو ابو الحسن علی بن عبدالرحمن بن عیسیٰ کوفی نے کوفے میں ۔ ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ غفاری نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابوالعمیس نے ان کو قیس بن مسلم نے طارق ابن شہاب سے کہ یہود میں سے ایک آدمی نے حضرت عمر سے کہا اے امیر المؤمنین کتاب اللہ میں ایک آیت ہے جسے تم لوگ پڑھتے ہو اگر وہ ہم لوگوں جماعت یہود پر اترتی تو ہم لوگ ا دن کو عید کا دن ٹھہراتے ۔ عمر نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے ۔ بولا کہ : الیوم اکملت لکن دینک واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً " میں نے آج کے دن تمہارا دین مکمل کر دیا ہے ۔ اور تمہارے اوپر تمہاری نعمت پوری کر دی ہے اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا : تحقیق ہم اچھی طرح جانتے ہیں اس دن کو بھی اور اس مقام کو بھی جہاں یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔ جب رسول اللہ پر یہ آیت نازل ہوئی جمعہ کا دن تھا ۔ اور عرفات کا میدان تھا ۔(گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودی کو یہ جواب دے کر بتا دیا کہ ہمیں الگ سے اپنی مرضی سے عید منانے کی ضرورت نہیں ہے اول تو یوم جمعہ مسلمانوں کا مقدس دن اور اجتماعی عبادت کا اور تقرب الہی کا دن اس پر مستزادیہ کہ عرفات کا میدان مقدس مقام پھر یہ کہ حج کا مبارک اجتماع اور مسلمانوں کی سالانہ اجتماعی عبادت اور مغفرت کا دن جو کہ نظریاتی اعتبار سے عید سے کسی طرح کم نہیں ۔ چوتھے کہ اگلے دن تمام ان اجتماعی عبادات کی خوشی اور شکرانے کا طور پر عید قربان ہے ۔) بخآری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث جعفر بن عون سے ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ← أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى الكوفي بها ← أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن الفضل القطان

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4067

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4068

4068 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا أحمد بن محمد بن عيسى نا أبو نعيم نا مرزوق عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كان يوم عرفة فإن الله تبارك و تعالى يباهي بهم الملائكة فيقول انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا ضاجين من كل فج عميق أشهدكم دون أني قد غفرت لهم فتقول الملائكة فيهم فلانا مرائيا و فلانا قال : يقول الله تعالى : قد غفرت لهم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فما من يوم أكثر عتيقا من النار من يوم عرفة زاد فيه غيره عن أبي الزبير يسألوني رحمتي و لم يروني و يتعوذون من عذابي و لم يروني 4068 - مكرر ـ و روينا في الحديث الثابت عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من يوم أكثر أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو مرزوق نے ان کو ابوالزبیر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہیں کہ دیکھو میرے بندوں کو بکھرے بالوں اور پراگندہ بالوں کے ساتھ غبار آلود چہروں کے ساتھ میرے پاس آئے ہیں ۔ تبیوں کا شورو غوغا بلند کرتے ہوئے ہر دور دراز راستے سے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں بے شک میں نے تحقیق ان کو بخش دی ہے ۔ پس فرشتے کہتے ہیں ان میں فلاں آدمی ریا کار ہے اور فلاں ایساہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تحقیق میں نے ان کو معاف کر دیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : کوئی ایسا دن نہیں ہے جو یوم عرفہ سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرنے والا ہو ۔ اس کے علاوہ دیگر نے روایت کیا ہے ابو الزبیر سے کہ مجھ سے سوال کرتے ہیں میری رحمت کا حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ۔ اور وہ میرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ۔ مکرر ہے ۔ اور ہم نے روایت کیا ہے اس حدیث میں جو ثابت ہے سیدہ عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا یوم عرفہ سے زیادہ جہنم سے بندوں کو آزاد کرنے والا اللہ جس میں کثرت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں کوئی دوسرا دن نہیں ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَرْزُوقٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4068

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4069

4069 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن منقذ الخولاني نا أيوب بن سويد حدثني ابن أبي عبلة أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني نا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي نا محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن بكير نا مالك بن إبراهيم بن أبي عبلة عن طلحة بن عبد الله بن كريز : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما رؤي الشيطان يوما هو فيه أصغر و لا أدحر و لا أحقر و لا أغيظ منه يوم عرفة و ما ذلك إلا مما يرى من تنزل الرحمة و تجاوز الله عن الذنوب إلا ما رأى يوم بدر لفظ حديث مالك و في رواية أيوب ما رأى إبليس يوما هو فيه أصغر و لا أدحر و لا أغيظ من يوم عرفة و ذلك لما يرى من تنزل الرحمة و تجاوز الله عن الذنوب العظام إلا ما رأى من يوم بدر قالوا يا رسول الله و ما الذي رؤي من يوم بدر قال : رؤي جبريل يزع الملائكة يعني يسدد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن منقذ خولانی نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو ابن ابو عبلہ نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہرجانی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک بن ابراہیم بن ابو عبلہ نے ان کو طلحہ بن عبداللہ بن کرپز نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا :شیطان اس قدر ذلیل و رسوا اور چھوٹا اور اس سے زیادہ غصے میں کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ جس قدر یوم عرفہ کے دن ہوتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ کس قدر اللہ کی رحمت نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ گناہوں سے در گذر کر رہے ہیں ۔رضی اللہ عنہ ہاں جنگ بدر والے دن بھی ذلیل و رسوا دیکھا گیا تھا ۔ یہ الفاظ حدیث مالک کے ہیں ۔اور ایوب کی روایت میں اسی طرح ہے کہ ۔ انہوں نے ابلیس کو اس قدر زیادہ چھوٹا زیادہ پریشان اور زیادہ غصے میں یوم عرفہ کے علاوہ نہیں دیکھا یہ اس لئے ہے کہ اس نے دیکھ لی ہے اللہ کی رحمت نازل ہوتے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا بڑے بڑے گناہوں سے در گذر فرمانا مگر جو کچھ دیکھا تھا بدر والے دن ۔ مگر بدر کے دن جو دیکھا تھا ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ۔ یوں بد ر میں دکھایا گیا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا شیطان نے دیکھا تھا کہ جبرئیل فرشتوں کو ڈانٹ رہے تھے یعی ان کی صفیں درست کروا رہے تھے ۔ ( تو یہ دیکھ کر اس دن بھی بہت رسو ہوا تھا ۔)

طلحة بن عبد الله بن كريز ← مالك بن إبراهيم بن أبي عبلة ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4069

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4070

4070 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ في موضوع آخر قال : و قد كتبناه من حديث أبي الدرداء متصلا قال أبو علي الحافظ أخبرناه عبد الله بن وهب الدينوري نا أحمد بن أيوب بن سويد عن أبيه عن إبراهيم بن أبي عبلة عن طلحة عن أبي الدرداء : ـ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ( ایک دوسرے موضوع میں ) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو دیکھا ہے ابو درداء کی حدیث سے بطور متصل روایت کے ۔ کہا ہے ابو علی حافظ نے ان کو خبر دی ہے عبداللہ بن وہب دینوری نے ان کو احمد بن ایوب بن سوید نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن عبلہ نے ان کو طلحہ نے ان کو ابو درداء نے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← طَلْحَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← أَبِيهِ ← أحمد بن أيوب بن سويد ← عبد الله بن وهب الدينوري ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← و قد كتبناه من حديث أبي الدرداء متصلا ← أبو عبد الله الحافظ في موضوع آخر

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4070

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4071

4071 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا يحيى بن إسحاق السيلحيني نا سكين بن عبد العزيز و أخبرنا أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله النخعي بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن دحيم نا أحمد بن حازم نا عبيد الله بن موسى أنا سكين بن عبد العزيز عن أبيه عن ابن عباس قال : كان الفضل بن العباس ردف النبي صلى الله عليه و سلم يوم عرفة و جعل الفتى يلاحظ النساء و ينظر إليهن و جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يصرف بيده و وجهه خلفه و جعل الفتى يلاحظهن فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن هذا يوم من ملك فيه سمعه و بصره و لسانه غفر له و في رواية أبي عبد الله عن الفضل بن عباس أنه كان رديف النبي صلى الله عليه و سلم بعرفة قال : و كان الفتى يلاحظ النساء قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم ببصره هكذا و صرفه و قال : يا ابن أخي هذا يوم من ملك بصره إلا من حق و سمعه إلا من حق و لسانه إلا من حق غفر له

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یحییٰ بن اسحٰق سیلخینی نے ان کو خبر دی سکین بن عبدالعزیز نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو منصور محمد بن محمد بن عبداللہ نخعی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر محمد بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو سکین بن عبدالعزیز نے اپنے والد سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ فضل بن عباس سواری پر حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے یوم عرفہ کے دن چنانچہ یہ نوجوان عورتوں کی طرف دیکھنے لگا ۔ اور عورتیں اس کو دیکھنے لگیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے چہرے کو اس کے پیچھے کی طرف پھیر دیتے تھے ۔ اور وہ دوبارہ دیکھنے لگتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ۔ بے شک یہ ایسا دن ہے کہ آج جو شخص اپنے کانوں پر ار اپنی زبان پر کنٹرول کر لے اس کی بخشش بڑھ جائے گی ۔ اور ابو عبداللہ کی ایک روایت میں فضل بن عباس سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن سواری پر رسول اللہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ اور فضل خوبصورت جوان تھا عورتوں کو دیکھنے لگا ۔ فضل کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ا س کو آنکھ کے اشارے سے ایسے کیا یعنی اس کو اس کیفیت سے ہٹایا اور فرمایا : اے بھتیجے یہ ایسادن ہے جو شخص اپنی آنکھوں پر کنٹرول کر لے مگر حق کے ساتھ ۔ اور جو اپنی سماعت پر کنٹرول کر لے مگر اس کے حق کے ساتھ اور جو اپنی زبان پر کنٹرول کر لے مگر حق کے ساتھ اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← سكين بن عبد العزيز ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أبو جعفر محمد بن دحيم ← أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله النخعي ← سكين بن عبد العزيز و ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4071

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4072

4072 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سليمان الموصلي ببغداد نا علي بن حرب الموصلي نا عبد الرحمن بن يحيى المدني نا مالك بن أنس عن سمي مولى أبي بكر عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة و أفضل قولي و قول الأنبياء قبلي لا إليه إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد يحيي و يميت بيده الخير و هو على كل شيء قدير هكذا رواه أبو عبد الرحمن بن يحيى و غلط فيه إنما رواه مالك في الموطأ مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان موصلی نے بغداد میں ان کو علی بن حرب موصلی نے ان کو عبدالرحمن بن یحییٰ مدنی نے ان کو مالک بن انس نے ان کو سمی مولی ا بو بکر نے ان کو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : سب سے افضل دعا یوم عرفہ کی دعا ہے اور میرے قول میں سے افضل مجھ سے پہلے والے انبیاء کا قول ہے اور وہ یہ ہے ۔لال الہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت بیدہ الخیر وہو علی کل شیء قدیر ۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو عبدالرحمن بن یحییٰ نے اور اس میں غلطی کی ہے ۔ علاوہ ازیں اس کو روایت کیا ہے ۔ مالک نے مؤطاء میں بطور مرسل روایت کے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ← مالک بن أنس ← عبد الرحمن بن يحيى المدني ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن سليمان الموصلي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4072

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4073

4073 - أخبرنا الإمام أبو عثمان أنا أبو طاهر بن خزيمة أنا جدي نا يوسف بن موسى نا عبيد الله بن موسى عن قيس بن الربيع عن الأغر عن خليفة بن حصين عن علي بن أبي طالب قال : كان أكثر دعاء رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة اللهم لك الحمد كالذي تقول و خيرا مما تقول اللهم لك صلاتي و نسكي و محياي و مماتي و إليك مآبي رب ندائي اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر و وسوسة الصدر و شتات الأمر اللهم إني أسألك من خير ما تجيء به الريح و أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح

ہمیں خبر دی ہے امام ابو عثمان نے ان کو ابو طاہر بن خزیمہ نے ان کو ان کے دادا نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو قیس بن ربیع نے ان کو اغر نے ان کو خلیفہ بن حصین نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی اکثر دعا عرفہ کے شام یہ تھی ۔ اللھم لک الحمد کا لذتقول و خیرا مما نقول اللھم لک صلاتی و نسکی و محیای ومماتی والیک ما آبی ۔ ولک رب ندائی ۔ اللھم انی اعوذ بک من عذاب القبر ، ووسوسۃالصدر وشتات الامر ، اللھم انی اسئلک من خیر ماتجیئ بہ الریح واعوذبک من شرما تجیئ بہ الریح ۔اے اللہ سب تعریفیں تیرے واسطے ہیں جیسے آپ خود فرماتے ہیں ۔ اور اس سے بہتر جو ہم کہتے ہیں ۔ اے اللہ میری نماز تیرے لئے میری قربانی تیرے لئے میری زندگی تیرے لئے میری موت تیرے لئے ۔ میری جائے پناہ تیرے پاس ۔ اے میرے مالک میری پکار تیرے لئے ۔ اے اللہ بے شک تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور دل کے وسوسہ سے ۔ اور معاملہ کے بکھرنے سے ۔ اے اللہ میں تجھ سے اس خیر کو مانگتا ہوں ج کو ہوا لاتی ہے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جس کو ہوا لاتی ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْأَغَرِّ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← جَدِّي، ← أبو طاهر بن خزيمة ← الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4073

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4074

4074 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الأسدي الحافظ بهمدان نا علي بن الحسين بن عبد الصمد الطيالسي علان الحافظ نا أبو إبراهيم الترجماني نا عبد الرحمن بن محمد الطلحي نا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن محمد بن سوقة عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يقف عشية عرفة بالموقف فيستقبل القبلة بوجهه ثم يقول : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير مائة مرة ثم يقرأ قل هو الله أحد مائة مرة ثم يقول اللهم صل على محمد كما صليت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد و علينا معهم مائة مرة إلا قال الله تعالى يا ملائكتي ما جزاء عبدي هذا سبحني و هللني و كبرني و عظمني و عرفني و أثنى علي و صلى على نبي اشهدوا ملائكتي أني قد غفرت له و شفعته في نفسه و لو سألني عبدي هذا لشفعته في أهل الموقف كلهم قال الشيخ أحمد هذا متن غريب و ليس في إسناده من ينسب إلى الوضع و الله أعلم و رواه أحمد بن عبيد الصفار عن علان بن عبد الصمد ببعض معناه غير أنه قال عبد الله بن محمد الطلحي و كذا قال غيره عن محمد بن بشر بن مطر عن أبي إبراهيم عن عبد الله بن محمد الطلحي و روي عن غير الطلحي أيضا عن المحاربي

ہمیں خبر دی ہے محؐد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید بن ابراہیم سدی حافظ نے ہمدان میں ان کو علی بن حسین بن عبدالصمد طیالسی علان الحافظ نے ان کو ابراہیم ترجمانی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محؐد طلحی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد مجاربی نے ان کو محمد بن سوقہ نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو مسلمان بھی عرفہ کی شام کو موقف میں کھڑا ہو جائے اور قبلہ رخ ہو یہ دعا کرے : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ الملک ولہ الحمد وھو عی کل شئ قدیر ۔ ایک سو بار ۔ اس کے بعد پڑھے قل ھو اللہ احد ایک سو بار ۔ اس کے بعد یہ پڑھے: اللھم صلی علی محمد کما صلیت علی ابراھیم وال ابراھیم انک حمید مجید و علینا معھم ۔ ایک سو بار ۔ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں اے میرے فرشتوں میرے اس بندے کی کیا جزا ہے ۔ اس نے میری تسبیح کی ہے میری تہلیل کی ہے میری تکبیر کی ہے اور میری تعظیم کی ہے میری تعریف و ثنا کی ہے اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ہر رحمت مانگی ہے تم گواہ ہو جاؤ بے شک میں نے اس کو معاف کر دیا اور میں نے اس کے بارے میں اس کی شفاعت مان لی ہے اگر میرا یہ بندہ مجھ سے دعا مانگتا تو میں اہل موقف کے لئے اس کی دعا قبول کر لیتا ۔ شیخ احمد کہتے ہیں کہ یہ عبارت یہ متن خوب ہے ۔ اور اس کی اسناد میں کوئی ایسا اور بھی نہیں ہے جو وضع کی طرف منسوب ہو ( یعنی جھوٹی حدیث گھڑتا ہو ) واللہ اعلم ۔ اور اس کو روایت کیا احؐد بن عید صفار نے ان کو علان بن عبدالصمد نے مذکورہ کے بعض اور کچھ مفہوم میں ۔ سوائے اس کے انہوں نے کہا ہے محمد بن بشر بن مطر نے ان کو ابو ابراہیم نے ان کو عبداللہ بن محمد طلحی نے اور یہ روایت کی گئی ہے غیر طلحی سے بھی محاربی سے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← عبد الرحمن بن محمد الطلحي ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ← علي بن الحسين بن عبد الصمد الطيالسي علان الحافظ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ، بِهَمْدَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4074

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4075

4075 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا أبو حذيفة نا سفيان عن ابن أبي ليلى عن ابن أبي ملكية عن عبد الله بن عمرو قال : أفاض جبريل عليه السلام بإبراهيم عليه السلام فصلى بمنى الظهر و العصر و المغرب و العشاء و الصبح ثم غدا به من منى إلى عرفة فصلى به الصلاتين الظهر و العصر ثم وقف به حتى غابت الشمس ثم دفع به حتى أتى المزدلفة فنزل به فبات فصلى الصبح كأعجل ما يصلي أحد من المسلمين ثم وقف به كأبطأ ما يصلي أحد من المسلمين ثم دفع به إلى منى فرمى ثم ذبح فأوحى الله عز و جل إلى محمد صلى الله عليه و سلم { ثم أوحينا إليك أن اتبع ملة إبراهيم حنيفا و ما كان من المشركين } هذا هو المحفوظ موقوف

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو بو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے ان کو ابن ابو ملیکہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے انہوں نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلے تھے اور ان کو منیٰ میں ظہر اور عصر پڑھوائی تھی اور مغرب و عشاء اور فجر پھر ان کو منیٰ سے عرفات لے گئے تھے وہاں اس نے دو نمازیں ظہر اور عصر پڑھئی تھی اس کے بعد ان کو وقوف کروایا ( کھڑے رہے ) حتٰی کہ سورج غروب ہو گیا پھر وہ ان کو مزدلفہ لےآئے وہاں اترے رات ہاں گذاری اور صبح کی نماز پڑھائی جیسے مسلمانوں میں کوئی جلدی پڑھتا ہے اس کے بعد ان کو وہاں وقوف کراا دیا جیسے کوئی مسلمان تاخیر کے ساتھ نماز پڑھتا ہے ۔ اس کے بعد وہان کو منیٰ واپس لے گئے تھے اور جمرات کی رمی کی ۔ اس کے بعد انہوں نے قربانی کی پس اللہ نے عحی کی محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی طرف ۔ ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین :ہم نے تیری طرف وحی کی یہ کہ اتباع کریں آپ ملت ابراہیم کی جو یکسو ہونے والا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا ۔ یہی محفوظ اور موقوف وصیت ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابن أبي ملكية ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4075

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4076

4076 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الطيب محمد بن علي الزاهد نا سهل بن عمار نا عبيد الله بن موسى نا ابن أبي ليلى ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا يونس بن بكير عن ابن أبي ليلى و ابن أبي أنيسة عن عبد الله بن أبي ملكية عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نزل جبريل على إبراهيم عليهما السلام فراح به و ذكر الحديث بنحوه و زاد ثم أفاض به حتى أتى به الجمرة فرماها ثم ذبح و حلق ثم أتى به البيت و طاف به قال ابن أبي ليلى : ثم رجع به إلى منى فأقام فيها تلك الأيام ثم أوحى الله إلى محمد صلى الله عليه و سلم { أن اتبع ملة إبراهيم حنيفا } لم يذكر أبو الطيب رجوعه إلى منى

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کوخبر دی ہے ابو الطیب محمد بن علی زاہد نے ان کو سہل بن عمار نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے"ح" اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو یونس بن بکیرے نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے اور ابن ابی انیسہ نے ان کو عبیداللہ بن ابو ملیکہ نے ان کو عبداللہ بن عمر وبن العاص نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ابرا ہیم علیہ السلام پر جبرائیل اترے اور ان کے ساتھ چلتے رہے ۔ اور راوی نے حدیث کو ذکر کیا ہے اسی کی مثل اور۔ یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر واپس بھی ان کو ساتھ لائے حتیٰ ا ن کو وہ جمرہ پر لے آئے اور اس کو پتھر مارے۔ اس کے بعد قربانی کی۔ اور سر منڈھوایا پھر ان کو بیت اللہ میں لائے اور اس کا طواف کیا۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ان کومنیٰ واپس لے آئے اور ان کو اس میں ٹھہرایا یہ ایام ۔پھر اللہ نے وحی کی محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو اے محمد اتباع کر تو ملت ا براہیم کی وہ یکسو ہونے والا تھا۔ مگر ابوالطیب نے ان کا منیٰ کی طرف واپس ہونا ذکر نہیں کیا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عبد الله بن أبي ملكية ← ابن أبي ليلى و ابن أبي أنيسة ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو الطيب محمد بن علي الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4076

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4077

4077 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن يحيى بن الحسن العمي نا ابن عائشة نا حماد بن سلمة نا أبو عاصم الغنوي عن أبي الطفيل قال : قلت لابن عباس يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم طاف بين الصفا و المروة على بعير و إن ذلك سنة قال : صدقوا و كذبوا قال : قلت ما صدقوا و كذبوا ؟ قال : صدقوا طاف رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصفا و المروة على بعير و كذبوا ليس بسنة كان الناس لا يدفعون من رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا يصدون فطاف على بعير ليسمعوا كلامه و ليروا مكانه و لا تناله الأيدي قلت و يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رمل بالبيت و ذلك سنة قال : صدقوا و كذبوا قلت ما صدقوا و كذبوا ؟ قال قد صدقوا قد رمل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبيت و كذبوا ليس بسنة إن قريشا قالت زمن الحديبية دعوا محمد و أصحابه حتى يموتوا موت النغف قال ابن عائشة : ديدان تكون في مناخر الشاة فما صالحوه على أن يجيئوا من العام المقبل فيقيموا بمكة ثلاثة أيام قال : فقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم و المشركون من قبل بقيقعان قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارملوا بالبيت ثلاثا و ليس بسنة قلت و يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سعى بين الصفا و المروة و أن ذلك سنة قال : صدقوا إن إبراهيم عليه السلام لما ابتلى بصبر المناسك عرض له شيطان عند المسعى فسابقه إبراهيم فسبقه إبراهيم ثم ذهب به جبريل إلى الجمرة فعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم عرض له شيطان عند الجمرة الوسطى فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم تله للجبين و على إسماعيل قميص أبيض فقال : يا أبه إنه ليس لي ثوب تلفني فيه فعالجه ليخلعه فنودي من خلفه { أن يا إبراهيم * قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين } قال : فالتفت إبراهيم إذا هو بكبش أقرن أعين أبيض فذبحه قال ابن عباس فلقد رأيتنا نبيع ذلك الضرب من الكباش فلما ذهب به جبريل إلى الجمرة القصوى تعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم ذهب به جبريل إلى منى فقال : هذا مناخ الناس ثم أتى به جمعا فقال هذا المشعر الحرام ثم ذهب به إلى عرفة قال : فقال ابن عباس هل تدري لم سميت العرفة عرفة قلت : و لم ؟ قال : إن جبريل عليه السلام قال لإبراهيم هل عرفت ؟ قال : نعم قال ابن عباس : فمن ثم سميت عرفة ثم قال : فهل تدري كيف كانت التلبية ؟ قلت و كيف كانت ؟ قال : لإن إبراهيم لما أمر أن يؤذن في الناس بالحج فخفضت له الجبال بروؤسها و رفعت له القرى فأذن في الناس بالحج قال الشيخ أحمد : قول ابن عباس في الرمل و ليس بسنة يشبه أن يكون أراد ليس بسنة يفسد الحج بتركه أو يجب على من تركه شيء و الله أعلم و قد روينا عن عمر بن الخطاب ما يدل على أنه بقي هيئته في الطواف مع زوال سببه و في رمل النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بعد زوال السبب دلالة على بقائه مشروعا و روينا عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس رفعه قال : لما أتى إبراهيم خليل الرحمن المناسك عرض له لشيطان عند الجمرة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض ثم عرض له عند الجمرة الثانية فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض ثم عرض له في الجمرة الثالثة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض قال ابن عباس : الشيطان ترجمون و ملة أبيكم تتبعون

ہمیں خبر دی ابونصربن قتادہ نے ا ن کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسن عمی نے ان کو ابن عا ئشہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو عا صم غنوی نے ان کو ابو الطفیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا تیری قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اونٹ پر اور یہ سنت ہے۔انہوں نے کہا کہ سچ کہتے ہیں وہ اور جھوٹ بو لتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ کہا ہے؟جھوٹ: انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے طواف کیا تھا صفاء اور مروہ کے درمیان اونٹ پر ۔ اور جھوٹ کہا ہے سنت نہیں ہے لوگ رسول اللہ سے لوگوں کو ہٹاتے نہیں تھے۔ اور نہ ہی روکتے تھے ۔ حضور نے طاف کیا تھا اونٹ پر اس لئے تاکہ لوگ آسانی کے اتھ آپ کا کلام آپ کی بات سن سکیں ۔ اور ان کو دیکھ بھی سکیں اور لوگوں کے ہاتھ بھی ان تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ میں نے کہا کہ تیری قوم یہ کہتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بیت اللہ میں رمل کیا تھا ۔ اور یہ بھی سنت ہے ابن عباس نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی کہا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا س کہا اور کیا جھوٹ کہا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ نے رمل کیا تھا بیت اللہ کے پاس ۔ اور جھوٹ کہا ہے وہ سنت نہیں ہے ۔ بے شک قریش نے کہا تھا صلح حدیبیہ کے زمانے میں کہ چھوڑ دو محمد کو اور اس کے ساتھیوں کو وہ اپنے آپ مر جائیں گے نغف کی موت (بکریوں کی موت ) ( جیسے بکریوں میں انک کے جراثیم کی بیماری آتی ہے اور وہ مر جاتیں ہیں ۔) ابن عائشہ نے کہا یہ ایک کیڑا ہے جو بکریوں کی ناک میں ہوتا ہے ۔ جب مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے صلح کر لی اس شرط پر کہ (اس سال واپس چلے جائیں )اور آئندہ سال آئیں اور مکہ میں صرف تین دن رہیں ( ار پھر مکے سے واپس نکل جائیں ) کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم آئے اور مشرکین پہلے سے (وادی ) قیقعان میں پہنچے ہوئے تھے ۔ لہذا رسول اللہ نے فرمایا کہ تم لوگ رمل کر و تین بار اور یہ سنت نہیں ہے ۔میں نے کہا تیری قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ سن ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سچ کہتے ہیں بے شک ابراہیم علیہ السلام جب مناسک حج کے صبر کے ساتھ آزمائے گئے تو ان کے پاس سعی کے مقام پر شیطان سامنے آیا ۔ انہوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہاں تک وہ چلا گیا ۔ پھر شیطان ان کے سامنے آیا جمرہ وسطی کے پاس ۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہاں تک کہ وہ چلا گیا ۔ پھر لٹا دیا اس کو ماتھے کے بل ( یا کروٹ کے بل ) اور حضرت اسماعیل کے جسم پر سفید قمیض تھی ۔ انہوں نے کہا اے ابا جان بے شک میرے لئے کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے لپٹیں گے ۔ انہوں نے کوشش کی تاکہ اس کو اتار لیں لہذا پیچھے سے آواز لگائی گئی ۔ ان یا ابراھیم قد صدقت الروبا انا کذالک نجزی المحسنین ۔اے ابراہیم بے شک آپ نے خواب سچا کر دکھلایا ہے ۔ بے شک ہم اسی طرح جزا دیں گے نیکو کاروں کو ۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اچانک بڑے سینگوں والا بڑی آنکھوں والا سفید رنگ والا مینڈھا ان کے پاس موجود تھا لہذا انہوں نے اس کو ذبح کیا ۔ ابن عباس نے کہا کہ البتہ تحقیق نایاب ہو گئی مینڈھوں کی یہ قسم ۔ جب جبرائیل ان کو جمرہ آکری پر لے گئے تو پھر شیطان ان کے سامنے آیا پھر انہوں نے اس کو ساتھ کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا ۔ پھر جبرائیل ان کو منیٰ میں لے گئے ۔ اور کہا کہ یہ لوگوں کے سواریاں بیٹھانے کی جگہ ہے ۔پھر وہ ان کو اکٹھے لے گئے اور کہا کہ یہ مشعر الحرام ہے ۔ اس کے بعد پھر وہ ان کو عرفہ لے گئے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ عرفے کا نام کیوں دیا گیا ۔ میں نے کہا کہ کیوں دیا گیا ؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم سے کہا کیا آپ نے پہچان لیا ؟ انہوں نے کہ کہ جی ہاں ۔ ابن عباس کہتے ہیں اسی وجہ سے نام رکھا گیا پھر ابن عباس نے کہا تم جانتے ہو کہ کیسے تلبیہ کا آغاز ہوا ؟ میں نے کہا کہ کیسے ہوا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اس طرح ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں تو پہاڑوں نے اس کے لئے اپنے سر جھکا دئیے اور اٹھ کھڑی ہوئیں بستیاں انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا ۔ شیخ احمد نے کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا رمل کے بارے میں کہ وہ سنت نہیں ہے مناسب یہ ہے کہ یوں تاویل و توجیہ کی جائے کہ ان کی مراد ہے ایسی سنت نہیں ہے جس کے ترک سے حج فاسد ہو جائے یا اس کے ترک کرنے پر کوئی سئی وجب ہو جائے ۔ واللہ اعلم ۔ تحقیق ہم نے روایت کی ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے وہ جو دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ طواف میں اس کی شکل باقی رہ گئی ہے باوجود یہ کہ اس کا سبب زائل ہو گیا ے ۔ ور سبب زائل ہو جانے کہ باوجود حجۃالوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے رمل کرن میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل مشروع ہے اور باقی ہے ۔ اور ہم نے روایت کی ہے سالم بن ابوالجعد سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا مرفوع ہونا ۔ وہ کہتے ہیں جب ابراہیم خلیل اللہ احکامات و مناسک حج ادا کرنے آئے تو شیطان ان کے پاس جمرے کے پاس آیا انہوں نے سات کنکریاں ان کو ماریں حتٰی کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر ان کے سامنے آیا جمرہ ثانی کے پاس پھر انہوں نے ان کو ساتھ کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔پھر وہ سامنے آیا جمرہ ثالثہ کے پاس پھر انہوں نے اس کو ساتھ کنکریاں ماریں تو وہ پھر زمین میں دھنس گیا ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ رمی کر کے تم لوگ شیطان کو سنگسار کرتے ہو اور تم اپنے باپ ( ابراہیم ) کی ملت کی اتباع کرتے ہو۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ابْنُ عَائِشَةَ ← محمد بن يحيى بن الحسن العمي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4077

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4078

4078 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هاني نا محمد بن أحمد بن أنس نا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان نا الحسن بن عبيد الله عن سالم بن أبي الجعد : فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو محمد بن احمد بن انس نے ان کو حفص بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو حسن بن عبیدا للہ نے ان کو سالم، بن ابو الجعد نے ۔ پھر اسی حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

سالم بن أبي الجعد فذكره ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4078

chevron_left Previous
1…8910…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood