شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4055
4055 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر نا إسحاق بن سعيد عن أبيه سعيد قال : اعتمر معاوية فدخل البيت فأرسل إلى عبد الله بن عمر ينتظره حتى جاءه فقال : أين صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم دخل البيت فقال ما كنت معه و لكنني دخلت بعد أن أراد الخروج فلقيت بلالا فسألته أين صلى فأخبرني أنه صلى بين الأسطوانتين فقام معاوية فصلى بينهم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النضر نے ان کو اسحٰق بن سعید نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں حضرت معاویہ نے عمرہ کیا ۔ اور بیت اللہ میں داخل ہوئے ۔ اور عبداللہ بن عمر کو بلا بھیجا وہ ان کا انتظار کرتے رہے حتٰی کہ وہ ان کے پاس آ گئے ۔ تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ نے کس جگہ نماز پڑھی تھی ؟ جس دن کعبے میں داخل ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا میں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے ساتھ نہیں تھا بلکہ بعد میں داخل ہوا تھا ۔جب وہ نکلنا چاہ رہے تھے ۔ میں بلال سے ملا تھا تو میں نے ان سے پوچھا تھا کہ انہوں نے کس جگہ نماز پڑھی ہے بلال نے مجھے خبر دی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے دوستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے لہذا حضرت معاویہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اسی جگہ نماز پڑھی یعنی دوستونوں کے درمیان ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4055
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4056
4056 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا علي بن الحسن الداربجردي نا يعلى بن عبيد ح
و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصفهاني الزاهد إملاء نا أحمد بن يونس الضبي نا يعلى بن عبيد الطنافسي نا محمد بن عون عن نافع عن ابن عمر قال : استقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم الحجر فاستلمه ثم وضع شفتيه عليه يبكي طويلا فالتفت فإذا عمر يبكي فقال : يا عمر ها هنا تسكب العبرات
قال الشيخ أحمد : و في رواية الفقيه طويلا يبكي ثم التفت فإذا بعمر يبكي ثم ذكره تفرد به محمد بن عون و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن حسن داؤد بجری نے ان کو یعلی بن عبید نے "ح" ہمیں خبرف دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ اصفہانی زاہد نے بطور املاء کے ان کو احمد بن یونس ضبی نے ان کو یعلی بن عبید طنافسی نے ان کو محمد بن عون نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم حجر اسود کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو ہاتھ لگایا اور اپنے ہونٹ اس پر رکھے اور لمبی دیر روتے رہے پس متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ حضرت عمر رو رہے تھے آپ نے فرمایا اے عمر اس مقام پر آنسو جھلک ہی جاتے ہیں ۔ شیخ احمد نے کہا کہ فقیہ کی روایت میں ہے کہ لمبی دیر تک روتے رہے پھر واپس پلٹے تو اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو رہے تھے ۔ پھر راوی نے اس کو ذکر کیا ۔اس روایت میں محمد بن عون متفرد ہے ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4056
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4057
4057 - أخبرنا أبو الحسن المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عثمان بن أبي شيبة نا جرير عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن عبد الرحمن بن صفوان أو صفوان بن عبد الرحمن قال : لما افتتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة قلت : لالبسن ثيابي و لأنظر كيف يصنع رسول الله صلى الله عليه و سلم و كانت داري على الطريق فانطلقت فوافقت رسول الله صلى الله عليه و سلم قد خرج من الكعبة هو و أصحابه و قد استلموا البيت من الباب إلى الحطيم و قد وضعوا خدودهم على البيت و رسول الله صلى الله عليه و سلم وسطهم هكذا
ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو جریر نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو عبدالرحمٰن بن صفوان نے ( یا صفوان بن عبدالرحمٰن نے ) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ نے مکہ فتح کیا ۔ تو میں نے کہا البتہ میں ضرور اپنے کپڑے پہنوں گا اور البتہ دیکھوں گا کہ کیسے کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم ۔ اور میرا گھر راستے کے کنارے واقع تھا ۔ میں چلا گیا لہذا میرا ار رسول اللہ کا سامنا ہو گیا وہ اس وقت کعبے سے نکل رہے تھے ۔ خود بھی اور آپ کے اصحاب بھی اور وہ دروازے سے حطیم تک بیت اللہ کا اتیلام کر رہے تھے ( ہاتھ پھیر رہے تھے ۔)اور تحقیق سب اپنے چہرے بیت اللہ پر رکھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم ان کے بیچ میں تھے ۔ اسی طرح ۔
عبد الرحمن بن صفوان أو صفوان بن عبد الرحمن ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن المقرىء،
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4057
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4058
4058 - حدثنا أبو الحسن المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا مسدد نا عيسى بن يونس نا المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن أبيه قال : طفت مع عبد الله فلما جئنا دبر الكعبة قلت له ألا تتعوذ ؟ قال : أعوذ بالله من النار ثم مضى حتى استلم الحجر قام بين الركن و الباب فوضع صدره و وجهه و ذراعيه و كفيه و بسطهما بسطا ثم قال : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة يفعله
ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو مثنی بن صباح نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ کے ساتھ طواف کیا جب ہم کعبے کے پیچھے آئے میں نے ان سے کہا کہ آپ نے کیا تعوذ اور پناہ نہیں طلب کی ؟ تو انہوں نے کہا اعوذ باللہ من النار ۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم سے ۔ اس کے بعد چلے حتٰی کہ حجر اسود کا استیلام کیا اور حجر کے اور دروازے کے درمیان کھڑ ہو گئے اور اپنا سینہ اور چہرہ اور دونوں کلائیاں اور دونوں ہاتھ ( کعبے پر ) رکھ لئے اور ان کو پھیلا دیا اس کے بعد بتایا کہ اسی طرح سے میں نے دیکھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو مکہ میں کہ آپ کرتے تھے ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4058
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4059
4059 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا دعلج بن أحمد أنا محمد بن غالب نا أبو حذيفة نا سفيان عن المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يلزق وجه و صدره بالملتزم
ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو مثنی بن صباح نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا چہرہ اور سینہ ملتزم کے ساتھ لگا لیا تھا۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4059
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4060
4060 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب عن سليمان بن بلال عن إبراهيم بن إسماعيل عن أبي الزبير عن عبد الله بن عباس : أنه كان يلزم ما بين الركن و الباب و كان يقول ما بين الركن و الباب هنا يدعى الملتزم لا يلزم ما بينهما أحد يسأل الله شيئا إلا أعطاه إياه
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو ابراہیم بن اسماعیل نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو عبداللہ بن عباس نے کہ وہ چیک جاتے تھے حجر اسود کے اور باب کعبہ کے درمیان ۔ اور کہتے تھے ۔ کہ حجر اسود کے اور باب کعبہ کے درمیان اس جگہ کو ملتزم پکارا جاتا ہے ۔ ان دونوں کے درمیان جو شخص چپک کر اللہ سے کوئی شئی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور عطا کرتے ہیں ۔
أَبِي الزُّبَيْرِ ← إبراهيم بن إسماعيل ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4060
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4061
4061 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب املاء نا إبراهيم بن محمد نا أحمد بن عبدة الضبي نا سفيان عن عمر عن عطاء عن ابن عباس قال : إنما سعى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبيت و بين الصفا و المروة ليرى المشركين قوته رواه مسلم في الصحيح عن أحمد بن عبدة و رواه البخاري عن علي بن المديني عن سفيان
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے بطور املاء کے ان کو ابراہیم بن محمد نے ان کو احمد بن عبدہ ضبی نے ان کو سفیان نے ان کو عمر نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ نے بیت اللہ اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی تاکہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھائیں ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں احمد بن عبدہ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے علی بن مدینی سے اس نے سفیان سے ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4061
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4062
4062 - و روينا عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم و أصحابه قدموا مكة و قد وهنتهم حمى يثرب فأمرهم النبي صلى الله عليه و سلم أن يرملوا ثلاثة أشواط ليرى المشركين جلدهم و كان ذلك في عمرة القضاء
اور ہم نے روایت کی ہے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کریم اور ان کے اصحاب مکے میں آئے تو ان کے یثرب کے بخار نے کمزور کر دیا تھا لہذا ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے حکم دیا کہ وہ تین باریوں میں (طواف میں ) مونڈھے ہلائیں (رمل کریں ) تاکہ مشرکین ان کی قوت کو دیکھیں ۔ اور یہ واقعہ عمرے کی قضا میں ہوا ان کا
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← و روينا
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4062
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4063
4063 - و روينا عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب أنه قال : مم الرملان الآن و الكشف عن المناكب و قد أظهر الله الإسلام و نفى الكفر و أهله و مع ذلك لا نترك شيئا كنا نصنعه مع رسول الله صلى الله عليه و سلم
ہم نے روایت کی ہے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب سے کہ انہوں نے پوچھا کہ اب مونڈھے ہلانا اور کندھے کھولنا کیوں ہے ؟ حالانکہ ان تو اللہ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو ختم کر دیا ہے مگر اس کے باوجود ہم کسی بھی ایسی شئی کو نہیں چھوڑیں گے جسے ہم رسول اللہ کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔
مم الرملان الآن و الكشف ← أمير المؤمنين عمر بن الخطاب أنه ← و روينا
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4063
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4064
4064 - و روينا في بدء السعي بين الصفا و المروة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : أن إبراهيم عليه السلام جاء بأم إسماعيل و ابنها إسماعيل عليه السلام و هي ترضعه فوضعها عند البيت و ليس بمكة يومئذ أحد و ليس بها ماء و وضع عندهما جرابا فيه تمر و سقاء فيه ماء ثم قفا منطلقا فتبعته أم إسماعيل و قالت : يا إبراهيم أين تذهب و تتركنا بهذا الوادي الذي ليس فيه أنيس و لا شيء قالت : ذلك ثلاث مرات و جعل لا يلتفت فقالت له الله آمرك بهذا قال : نعم قالت : نعم إذا لا يضيعنا ثم رجعت و انطلق إبراهيم حتى إذا كان عند البيت استقبل بوجهه البيت ثم دعا بهذه الدعوات و رفع يده و قال :
{ ربنا إني أسكنت من ذريتي بواد غير ذي زرع عند بيتك المحرم }
فجعلت أم إسماعيل ترضع إسماعيل و تشرب مرة من ذلك الماء حتى إذا نفذ ما في السقاء عطشت و عطش ابنها و جاع و جعلت تنظر إليه يلتوي أو قال يتلبط فانطلقت كراهية أن تنظر إليه فوجدت الصفا أقرب جبل في الأرض يليها فقامت عليه ثم استقبلت الوادي تنظر هل ترى أحدا فلم تر أحدا فهبطت من الصفا حتى إذا بلغت الوادي رفعت طرف درعها و سعت سعي الإنسان المجهود حتى إذا جاوزت الوادي ثم أتت المروة فقامت عليها فنظرت هل ترى أحدا فلم تر أحدا ففعلت ذلك سبع مرات قال النبي صلى الله عليه و سلم :
فذلك سعي الناس بينهما
فلما أشرفت على المروة سمعت صوتا فقالت : صه تريد نفسها ثم سمعت أيضا فسمعت فقال : قد أسمعت إن كان عندك غراث فإذا هي بالملك عند موضع زمزم يبحث بعقبة أو قال : بجناحه حتى ظهر الماء فجعلت تحوطه و جعلت تغرف الماء في سقائها و هي تقوم بقدر ما تغرف قال ابن عباس : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يرحم الله أم إسماعيل لو تركت زمزم أو قال لو لم تغرف من الماء لكانت زمزم عينا معينا فشربت و أرضعت ولدها وقال لها الملك لا تخافي من الضيعة فإن ها هنا بيت الله يبنيه هذا الغلام و أبوه و إن الله لا يضيع أهله و ذكر الحديث بطوله في بناء البيت و غيره و قد ذكرناه في الخامس من دلائل النبوة
اور ہم نے روایت کی ہے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کی ابتداء سعید بن جبیر سے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ ام اسماعیل کو لے کر آئے تھے وہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں ان کو بیت اللہ کے پاس ٹھہرا دیا تھا اس وقت مکہ میں کوئی بھی نہیں تا اور نہ ہی وہاں پانی تھا ان کے پاس ایک کھجوروں کی تھیلی رکھی اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھا پھر واپس الٹے لوٹے پاؤں لوٹ گئے ام اسماعیل ان کے پیچھے گئی اور بولی اے ابراہیم آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جاتے ہیں ؟ ہمیں اس وادی میں تنہا چھوڑ کر کہ جہاں کوئی انسان نہیں اور کوئی شئی نہیں ۔ تین بار اس نے یہی الفاظ دہرائے مگر انہوں نے پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا پھر کہنے لگیں کہ کیا اللہ نے آپ کو اسی بات حکم دیا ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں ۔ ام اسماعیل بولی ہاں ٹھیک ہے پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا واپس لوٹ آئی ۔اورابراہیم علیہ السلام چلے حتٰی کہ جب بیت اللہ کے پاس تھے تو بیت اللہ کی بنیادوں اور انسانوں کی طرف منہ کر کے یہ دعائیں مانگیں اور ہاتھ اٹھا لیا ۔اب انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ایلخ ۔اے میرے رب بے شک میں نےٹھہرایا ہے اپنی اولاد کو ایسی وادی میں جس میں نہ آبادی نہ کھیتی تیرے عزت والے گھر کے پاس ۔تا آخر تک دعائیں کی جو سورۃ ابراہیم میں مذکور ہیں ۔ام اسماعیل بچے کو دودھ پلاتی رہی اور پانی اور کھجور پر گذارہ کرتی رہی ۔ حتیٰ کہ ایک دن مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا اور وہ شدید پیاسی ہو گئی اور بچہ بھی اور بھوکا بھی ماں جب پیاسے بچے کو دیکھتی تو تڑپ جاتی مگر کیا کرتی وہ خود بھی بھوک پیاس سے نڈھال ہو رہی تھی پانی کی تلاش میں قریب ترین پہاڑی جو نظر آئی وہ صفا کی پہاڑی تھی جلدی سے اس پر چڑھ کر دیکھنے لگی وادی میں کہ کوئی نظر آتا ہے مفر اس میں کوئی بھی نظر نہ آیا تو جلدی سے صفا سے اتری جب نیچے وادی میں پینچی اور میض کا دامن اٹھا کر دوڑی جیسی مصیبت زدہ انسان دوڑتا ہے ۔ جب وادی عبور کر گئی تو مروہ تک پہنچ گئیں لہذا اس کے اوپر جا کھڑی ہوئی نظر ماری کہ کوئی نظر آجائے مگر کوئی بھی نظر نہ آیا ۔ اس پریشان حال اللہ کی بندی نے سات مرتبہ ایسا کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ۔ پس یہی سعی ہے لوگوں کی صفا مروہ کے درمیان ۔ آخری بار جب مروہ چڑھی تو اس نے آواز سنی اور بولی رک جا ( اپنے ایک کو بولی ) پھر توجہ سے سنی تو واقعی آواز آ رہی تھی ۔ اس نے خوب کان لگایا تو ۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ تیرے پاس فریاد سننے والا ہے ۔ پس اچانک وہ فرشتہ تھا زم زم کی جگہ جو اپنی ایڑیاں اپنے پر کے ساتھ زمین کھود رہا تھا اس نے اتنی کھودی کہ پانی ظاہر ہو گیا ۔ ام اسماعیل اس کو روکنے لگی اور چلو بھر بھر کے اپنے مشکیزے میں بھرنے لگی اور وہ پانی اور فوارے مارنے لگا جس قدر اس نے چلو بھرے ابن عباس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ۔ اللہ ام اسماعیل کو رحم کرے اگر وہ زم زم کو چھوڑ دیتی یا یوں کہا تھا کہ اگر وہ چلو نہ بھرتی پانی میں سے تو زم زم بیتا ہوا چشمہ بن جاتا ۔ اس نے پیا اور اپنے بچے کو پلایا ۔ اور فرشتے نے اس کہا تم ضائع ہونے کی فکر نہ کرنا یہاں پر اللہ کا گھر ہے یہ لڑکا ( جو تیری گود میں ہے ) اس کو بنائے گا ۔ اور ا کا والد بھی ۔ اور اللہ تعالیٰ یہاں کے رہنے والوں کو ضا ئع نہیں کرے گا ۔ اور حدیث ذکر کی اپنے طول سمیت بیت کی تعمیر کے بارے میں اور علاوہ اس کے بھی اور ہم نے اس کو ذکر کیا دلائل النبوہ کے پانچویں نمبر پر ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← و روينا في بدء السعي بين الصفا و المروة
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4064
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4065
4065 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين بن منصور نا هارون بن يوسف نا ابن أبي عمر نا عبد الرزاق أنا معمر عن كثير بن كثير بن المطلب و أيوب يزيد أحدهما على الآخر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : فذكره و هو مخرج في كتاب البخاري بطوله
ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین بن منصور نے ان کو ہارون بن یوسف نے ان کو ابن ابو عمر نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو کثیر بن کثیر بن مطلب نے اور ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتاہے انہوں نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے پھر اس کو ذکر کیا ہے انہوں نے ۔ اور یہ نخاری کی کتاب میں اپنے طول سمیت درج ہے ۔
ابن عباس فذكره و هو مخرج في كتاب البخاري بطوله ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← كثير بن كثير بن المطلب و أيوب يزيد أحدهما على الآخر ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ ← أبو الحسين بن منصور ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4065
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4066
4066 - حدثنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله نا أبو حامد بن الشرقي نا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم نا سفيان بن عيينة عن سفيان بن سعيد الثوري عن بكير بن عطاء عن عبد الرحمن بن يعمر الديلي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
الحج عرفات الحج عرفات فمن أدرك ليلة جمع قبل أن يطلع الفجر فقد أدرك أيام منى ثلاثة أيام فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه و من تأخر فلا إثم عليه
ہمیں حدیث بیان کی سید ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو عبالرحمن بن بشر بن حکم نے ان کو سفیان بن عینیہ بن سعید ثوری نے ان کو بکیر بن عطاء نے ان کو عبدالرحمن بن یعمر دیلی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ عرفات میں ہے حج عرفات میں ہے جو شخص ایک رات پالے جمع ہو جئے طلوع فجر سے قبل اس نے منیٰ کے ایام پا لئے تین دن ۔ اور جو شخص جلد کرے دو دن میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص پیچھے رہے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے ۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4066