شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4031
4031 - و رواه أحمد بن شبيب عن أبيه عن يونس و قال في متنه : إن الركن و المقام من ياقوت الجنة و لولا ما مسهما من خطايا بني آدم لأضاء ما بين المشرق و المغرب و ما مسهما من ذي عاهة و لا سقيم إلا شفي
اور اس کو روایت کیا ہے احمد بن شبیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو یونس نے اور اس کے متن میں کہا ہے۔ کہ رکن اور مقام جنت یاقوت میں سے ہیں اگر وہ بات نہ ہوتی جو کچھ لگ گئی ہیں ان دونوں کو بنی آدم کے گناہ تو یہ مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کر دیتے اور نہ کوئی صاحب مصیبت اور بیمار کو ہاتھ لگاتا مگر وہ شفایاب ہو جاتا ۔
يونس و ← أَبِيهِ ← و رواه أحمد بن شبيب
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4031
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4032
4032 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا الأسفاطي نا أحمد بن شبيب نا أبي عن يونس عن الزهري حدثني مسافع الحجبي سمع عبد الله بن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسفاطی نے ان کو احمد بن شبیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو یونس نے ان کو زہری نے ان کو مسافع حجی نے اس نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ۔ پھر اسی مذکور کو ذکر کیا ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4032
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4033
4033 - أخبرنا علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا مسدد نا حماد بن زيد عن ابن جريج عن عطاء عن عبد الله بن عمر رفعه قال : لولا ما مسه من أنجاس الجاهلية ما مسه ذو عاهة إلا شفي و ما على الأرض شيء من الجنة غيره
ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ابن حریج نے ان کو عطاء نے ان کو عبداللہ بن عمر نے انہوں نے اس مرفوع بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر جاہلیت کی نجاستیں جو اس کو لگ گئی تھیں وہ نہ ہوتیں تو جو کوئی آفت زدہ یا جو بیمار ہوتا وہ شفایاب ہو جاتا اور زمین پر جنت کی چیزوں میں سے اس کے سوا اور کوئی شئی نہیں ہے ۔
عبد الله بن عمر رفعه ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← علي بن محمد المقرىء
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4033
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4034
4034 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا محمد بن يحيى بن الحسين العمي نا عبيد الله العيشي سنة ثمان و عشرين و مائتين نا حماد بن سلمة نا عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال :
الحجر الأسود من الجنة و كان أشد بياضا من الثلج حتى سودته خطايا أهل الشرك
ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافط نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسین عمی نے ان کو عبید اللہ عیشی نے سنہ 228میں ۔ ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کوابن عباس رضی اللہ عنہ مے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا کہ حجر اسود جنت میں سے ہے اور وہ برف سے زیادہ صاف تھا یہاں تک کہ سیاہ کر دیا ہے اس کو اہل مشرک کے گناہوں نے ۔
النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبيد الله العيشي سنة ثمان و عشرين و مائتين ← محمد بن يحيى بن الحسين العمي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4034
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4035
4035 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عبد الصمد بن علي البزار ببغداد نا جعفر بن محمد بن شاكر نا الحسن بن موسى الأشيب نا ثابت بن يزيد عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن لهذا الحجر للسانا و شفتين يشهد لمن استلمه يوم القيامة بحق
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالصمد بن علی بزار نے بغداد میں ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو حسن بن موسیٰ اشیب نے ان کو ثابت بن یزید نے ان کو عبداللہ بن عثمان بن خیثم نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ۔ بے شک قیامت کے دن حضر اسود کی زبان ہو گی اور دو ہونٹ ہوں گے وہ شہادت دے گا حق کے ساتھ ہر اس کے لئے جس نے اس کا استیلام کیا ہوگا اور ہاتھ لگایا ہو گا ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4035
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4036
4036 - و أخبرنا مجالد بن عبد الله بن مجالد بالكوفة نا مسلم بن محمد التميمي نا الحضرمي نا سعيد بن عمرو الأشعثي نا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الله بن عثمان بن خيثم : بهذا الإسناد غير أنه قال : ليأتين هذا الحجر الأسود يوم القيامة له عينان يبصر بهما و لسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق و كذلك رواه حماد بن سلم عن ابن خيثم
اور ہمیں خبر دی ہے مجالد بن عبداللہ بن مجالد نے کوفہ میں ان کو مسلم بن محمد تیمی نے ان کو حضرمی نے ان کو سعید بن عمراشجعی نے ان کو عبدالرحیم بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن عثمان خثیم نے اسی اسناد کے ساتھ سوائے اس کے کہ اس نے کہا البتہ ضرور آئے گا یہ حجر اسود قیامت کے دن اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن کے ساتھ وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہو گی جس کے ساتھ بولے گا اس کے لئے شہادت دے گا حق کے ساتھ جو اس کا استیلام کر گا ۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے حماد بن سلمہ نے اس نے ابن خیثم سے ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4036
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4037
4037 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسحاق بن الحسن الحربي نا عفان نا حماد بن سلمة نا عبد الله بن عثمان بن خثيم : فذكره غير أنه قال : ليبعثن الله الحجر يوم القيامة
ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ان کو حمادبن سلمہ نے ا ن کو عبداللہ بن عثان بن خیثم نے پھر اس نے مذکورہ کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ حجر کو قیامت کے روز ضرور اٹھائے گا ۔
ليبعثن الله الحجر يوم القيامة ← عبد الله بن عثمان بن خثيم فذكره غير أنه ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4037
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4038
4038 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا مسدد نا عبد الواحد بن زياد نا عاصم الأحول عن عبد الله بن سرجس قال : رأيت الأصيلع يعني عمر بن الخطاب رضي الله عنه انتهى إلى الحجر الأسود فقال :
إني لأقبلك و إني لأعلم أنك حجر لا تضر و لا تنفع و إن الله عز و جل رب و لولا إني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبلك ما قبلتك
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو مسدد نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عاصم احول نے ان کو عبداللہ بن سرجس نے وہ کہتے ہیں کہ میں اصلیع کو دیکھا یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو رک گئے تھے حجر اسود کے پاس اور کہا تھا : بے شک میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں بے شک جانتا ہوں کہ تم پتھر ہو نہ نقصان پہنچا سکتے ہو نہ فائدہ پہنچاتے ہو بے شک اللہ عزوجل رب ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا ھتا تجھے بوسہ دیتے ہوئے تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔
رأيت الأصيلع يعني عمر بن الخطاب انتهى إلى الحجر الأسود ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرىء
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4038
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4039
4039 - قال : و حدثنا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا حماد بن زيد عن عاصم الأحول : بإسناده نحوه و حديث عبد الواحد أتم أخرجه مسلم في الصحيح من حديث حماد بن زيد و أخرجاه من وجه آخر عن عمر
اور ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عاصم احول نے اس کی اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل ۔اور حدیث عبدالواحد مکمل ہے۔اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حمادبن زید سے اور بخاری و مسلم دونوں نے اس کو کیا ہے دوسرے طریق سے حضرت عمر سے۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4039
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4040
4040 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العدل من أصل كتابه نا محمد بن صالح الكنليني نا محمد بن يحيى بن أبي عمر العدني نا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن أبي هارون العبري عن أبي سعيد الخدري قال : حججنا مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه فلما دخل الطواف استقبل الحجر فقال إني أعلم أنك حجر لا تضر و لا تنفع و لولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قبلك ما قبلتك ثم قبله فقال له علي بن أبي طالب رضي الله عنه بلى يا أمير المؤمنين إنه يضر و ينفع قال : ثم ؟ قال : بكتاب الله عز و جل قال : و أين ذلك من كتاب الله قال : قال الله عز و جل :
{ و إذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم }
إلى قوله :
{ بلى }
خلق الله آدم و مسح على ظهره فقرره بأنه الرب و أنهم العبيد و أخذ عهودهم و مواثيقهم و كتب ذلك في رق و كان لهذا الحجر عينان و لسان فقال له : افتح قال : ففتح فاه فالتقمه ذلك الرق فقال : اشهد لمن وافاك بالموافاة يوم القيامة و إني أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يؤتى يوم القيامة بالحجر الأسود و له لسان ذلق يشهد لمن يستلمه بالتوحيد فهو يا أمير المؤمنين يضر و ينفع فقال عمر : أعوذ بالله أن أعيش في قوم لست فيهم يا أبا حسن قال الشيخ أحمد : أبو هارون العبدي غير قوي فإن صح فأمير المؤمنين عمر رضي الله عنه كان قد عبد الحجر فحين أهوى إلى الركن كأنه هاب ما كان عليه في الجاهلية فتبرأ من كل شيء سوى الله و أخبره بأنه حجر لا يضر و لا ينفع يريد ما كان على هيئته حجرا و إنه يقبله متابعة للسنة و قول أمير المؤمنين علي أنه يضر و ينفع يريد به إذا خلق الله تعالى فيه حياة وأذن له في الشهادة و ذلك أنه يعلم بخبر الرسول صلى الله عليه و سلم وكان عنده في ذلك خبر فأخبر به فقبله عمر رضي الله عنهما
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبدا للہ بن محمد موسیٰ عدل نے اپنی اصل کتاب سے ان کو محمد بن صالح کنلینی نے ان کو محمد بن یحییٰ بن ابو عمر عدنی نے ان کو عبدالعزیز بن عبد الصمدعمی نے ان کو ابو ہارون عبری نے ان کو ابو سعید حذری نے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حج کیا حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب وہ طواف میں داخل ہوئے تو حجر اسود کے سامنے آئے اور فرمایا بیشک میں جانتا ہوں کہ تم پتھر ہونہ نقصان دیتے ہو نہ نفع اگر نہ ہوتی یہ بات کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھا تھا کہ انہوں نے تجھے بوسہ دیا تھا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔ اس کے بعد اس کو بوسہ دیا ۔ لہذا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان س کہا اے امیر المؤمنین ہاں وہ نقصان بھی دیتا ہے اور نفع بھی اس کے بعد کہا پھر ؟ کہا کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ۔ انہوں نے پوچھا کہ کہاں ہے یہ کتاب اللہ میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ واذاخذ ربک من بنی آدم من ظھور ھم ذریتم و اشھد ھم علیٰ انفسھم الست بربکم قالو ابلیٰ"وہ وقت یاد کرو جب تیرے رب نے اولاد آدم سے عہد لیا تھا ان کی پیٹھوں میں ان کی اولادوں سے اور ان کو ان کے تقدیر گواہ کیا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے کہا ہاں تو ہی ہمارا رب ہے ۔اللہ نے آدم کو پیدا یا اور اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا چنانچہ اس نے اقرار کیا بایں طور کہ وہی رب ہے اور وہ سب بندے ہیں ان سے وعدے اور میثاق لئے اور اس عہد و اقرار کو ایک ورق میں لکھ لیا اور اس حجر کی دو آنکھیں تھیں اور ایک زبان تھی اللہ نے اس سے کہا کہ کھول اس نے اپنا منہ کھولا اور اللہ نے اس کو وہ ورق دیا اس نے اس کو نگل لیا اللہ نے فرمایا کہ تم گواہی دینا اس کے لئے جو تجھ سے وعدہ پورا کرے قیامت کے دن وفا کرتے ہوئے اور بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ البتہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے فرماتا تھے قیامت کے دن حجر اسود کو لایا جائے گا اس کے لئے پھسلنے والی زبان ہو گی وہ اس شخص کے لئے گواہی دے گا جو توحید کے ساتھ اس کا استلام کرے گا ۔ اے امیر المؤمنین وہ یوں فائدہ بھی دے گا اور نقصان بھی ۔لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں زندہ ہوں ایسے لوگوں میں ، میں جن میں نہیں ہوں اے ابو الحسن ، شیخ احمد فرماتے ہیں کہ ابو ہارون راوی غیر قوی ہے ۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ( پھر ان دونوں اصحاب کی قول کی یہ توجیہ کی جائے گی ) کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ جاہلیت میں پتھروں کی عبادت کر چکے تھے لہذا وہ جب رکن کو بوسہ دینے کے لئے جھکے تو فوراً وہ ڈر گئے وہ کیفیت شرک یا د کر کے جاہلیت میں جس پر تھے لہذا انہوں نے فوراً ہر شئی سے جو اللہ کے ماسواہے فوراً بیزاری کی اور اظہار برات کیا اور اسے خبر دی کہ وہ پتھر ہے نہ نقصان دیتا ہے نہ نفع جب تک وہ اسی ہیئت و صورت پر ہے کہ پتھر اور وہ اس کو بوسہ دے رہے ہیں سنت رسول کی متابعت کرتے ہوئے ( مشکل کشا اور حآجت روا سمجھ کر نہیں ۔) امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول کہ وہ نقصان دیتا ہے اور نفع بھی ان کی مراد اس سے یہ تھی جب اللہ تعالیٰ اس میں حیات پید اکر دیں گے اور اس کو شہادت دینے کی اجازگت دے دیں گے ۔ اور یہ بات انہوں نے جانی تھی خبر رسول سے ۔ اور ان کے پاس اس بارے میں خبر تھی لہذا انہوں نے وہ ان وک سنا دی ۔ اور حضرت عمر نے اس کو بوسہ بھی دے دیا ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4040
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4041
4041 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني أنا يونس بن حبيب أنا أبو داود الطيالسي نا همام عن عطاء بن السائب عن عبد الله بن عبيد بن عمير الليثي عن أبيه قال : قلت لابن عمر : أراك تزاحم على مسح هذين الركنين فقال : إني أفعل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
إن مسحهما يحطان الخطايا
و بإسناده عن أبيه عن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
من طاف بالبيت سبعا يحصيه كتب الله له بكل خطوة حسنة و محيت عنه سيئة و رفعت له به درجة و كان له عدل رقبة
ہمیں خبر دی ابو بکر بن فور ک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہا نی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد طیالسی نے ان کو ہمام نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو عبداللہ بن عبیدبن عمیر لیثی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نےابن عمر سے کہا میں دیکھتا ہوں کہ آپ ان دونوں رکنوں کے چھونے پر مزاحمت کا سا منا کرتے ہیں ۔ انہوں نےفرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ ان دونوں کو ہاتھ لگا نے سے وہ دونوں گناہوں کو مٹا دیتے ہیں ۔
من طاف بالبيت سبعا يحصيه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← إن مسحهما يحطان الخطايا و بإسناده ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إني أفعل فإني ← قلت لابن عمر أراك تزاحم على مسح هذين الركنين ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4041
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4042
4042 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو محمد عبد الله بن شعيب البزمهراني نا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن عطاء بن السائب عن عبد الله بن عمير الليثي عن عبد الله بن عمر بن الخطاب قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
من طاف بالبيت سبعا و ركع ركعتين كان كعتاق رقبة
ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن شعیب بز مہرانی نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو عبداللہ بن عمیر لیثی نے ان کو عبداللہ بن عمر بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے فرماتے تھے ۔ جو شخص سات بار بیت اللہ کا طواف کرے اور دو رکعت پڑھے اس کا ثواب ایسے ہو گا جیسے ایک گردن آزاد کرانا ۔
من طاف بالبيت سبعا و ركع ركعتين كان كعتاق رقبة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبو محمد عبد الله بن شعيب البزمهراني ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4042