Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4019

4019 - أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت الحسين بن أحمد يقول : قال أبو عمرو الزجاجي : كنت أول ما دخلت الحرم أطوف في كل يوم و ليلة سبعين أسبوعا و أعتمر عمرتين 4019 - مكرر ـ و قد روينا عن عبد الله بن عمر : أنه كان له فسطاطان أحدهم في الحرم و الآخر في الحل فكان إذا عاتب أهله عاتبهم في الحل

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسین بن احمد سے وہ کہتے تھے کہ ابو عمروز جاجی نے کہا میں پہلا شخص ہوتا تھا جو حرم میں داخل ہوتا تھا ہر دن اور رات طواف کرتا تھا اور ستر طواف کرتا تھا ہفتے میں دو عمرے کرتا تھا ۔ مکرر ہے اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے عبداللہ بن عمر سے کہ ان کے لئے دو خیمے تھے ایک حرم میں اور دوسرا حل میں جب اپنے گھر والوں کو سرزنش کرتے تو حل میں جا کر کرتے ۔

الحسين بن أحمد، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 4019

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4020

4020 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي نا محمد بن يحيى الذهلي نا عبد الرزاق أنا الثوري عن ابن أبي لبيد عن المطلب بن حنطب عن خلاد بن السائب عن زيد بن خالد الجهني قال : جاء جبريل عليه السلام إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : مر أصحابك أن يرفعوا أصواتهم بالتلبية فإنها شعار الحج و رواه عبد الملك بن أبي بكر عن خلاد بن السائب عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو حامد بن مشرقی نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ثوری نے ان کو ابن ابو لبید نے ان کو مطلب بن خطب نے ان کو خلاد بن سائب نے ان کو زید بن خالد جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے اصحاب کو حکم دیجئے کہ تلبیہ کے ساتھ اپنی آواز بلند کردیں بے شک وہ حج کا شعار اس کی پہچان ہے ۔ اس کو روایت کیا ہے عبدالملک بن ابو بکر نے ان کو خلاد بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ۔

مر أصحابك ← جاء جبريل الى النبي صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطِبٍ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4020

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4021

4021 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد حدثني محمد بن الفضل بن جابر نا الهيثم بن خارجة و نا عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله المزني نا أحمد بن نجدة بن العربان نا يحيى بن عبد الحميد الحماني قالا نا إسماعيل بن عياش عن عمارة بن غزية عن أبي حازم عن سهل بن سعد : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : و في رواية ابن عبدان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من ملبي إلا لبى عن يمينه و شماله من حجر أو شجر أو مضر حتى تنقطع الأرض من ها هنا و من ها هنا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو ہیثم بن خارجہ نے ان کو عبدالملک بن محمد بن ابراہیم زاہد نے ان کو ابو عبداللہ محمدبن عبداللہ مزنی نے ان کو احمد بن نجدہ بن عربان نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید حمانی نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عمارہ بن غزیہ نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے وہ کہتے ہیں کہ ابن عبدان کی روایت میں ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کوئی تلبیہ کہنے والے ایسے نہیں مگر تلبیہ کہتے ہیں اس کی دائیں طرف سے اور بائیں طرف پتھر اور درخت یا گھر حتٰی کہ ٹوٹ جائے زمین یہاں نے اور یہاں سے (یعنی پوری زمین پر ۔)

و في رواية ابن عبدان ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← أحمد بن نجدة بن العربان ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله المزني ← عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد ← الهيثم بن خارجة و ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4021

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4022

4022 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا محمد نا ابن أبي فديك المزني قال : و أخبرنا أحمد بن عبيد حدثني محمد بن يعقوب الصفار نا يحيى بن المغيرة حدثني ابن أبي فديك عن الضحاك بن عثمان عن ابن المنكدر عن عبد الرحمن بن يربوع عن أبي بكر الصديق : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل أي الأعمال أفضل ؟ قال العج و الثج لفظ حديثه محمد بن يعقوب زاد عبيد في روايته العج التلبية و الثج النحر

ہمیں خبر دی علی ابن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو یحییٰ بن مغیرہ نے ان کو ابن ابو فدک نے ان کو ضحاک بن عثمان نے ان کو ابن منکدر نے ان کو عبدالرحمن بن یر بوع نے ان کو ابو بکر صدیق نے یہ کہ رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا کہ العج والثج ۔(جس میں زور سے تلبیہ پڑھا جائے اور قربانی کی جائے ۔)اس حدیث کے الفاظ محمد بن یعقوب سے عبید نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ العج تلبیہ ہے اور الثج قربانی ہے ۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← محمد بن يعقوب الصفار ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← و، ← ابن أبي فديك المزني ← مُحَمَّدٍ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4022

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4023

4023 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد بن موسى بن عبد الرحمن العبدي اليوشنجي نا أحمد بن حنبل نا هشيم أنا داود عن أبي العالية عن ابن عباس قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بوادي الأزرق فقال : أي وادي هذا ؟ فقالوا : وادي الأزرق قال : كأني انظر إلى موسى بن عمران هابط من الثنية له جؤار إلى الله عز و جل بالتلبية ثم أتى على ثنية هرشي فقال : أي ثنية هذه ؟ قالوا : ثنية هرشي قال : كأني أنظر إلى يونس بن متى على ناقة حمراء جعدة عليها جبة صوف خطام ناقته خلبة و هو يلبي قال هيثم يعني ليف قال أبو عبد الله : و معنى التلبية إذا قال الملبي لبيك اللهم لبيك إنما هو جواب من الملبي لقوله حين نادى إبراهيم عليه السلام بالحج عن أمر الله عز و جل بقوله : { و أذن في الناس بالحج } و يروى أن من حج فهو ممن أجاب إبراهيم عليه السلام في أصلاب الرجال و بطون الأمهات فأجابوه بلبيك اللهم لبيك فكانت شعار تلك الإجابة من كل حاج و معتمر فصارت جوابا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن احمد نے سعید حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابراہیم بن سعید بن موسیٰ بن عبدالرحمن عبدی بوشنجی نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو ہیثم نے ان کو داؤد نے ان کو ابو العالیہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم وادی ازرق سے گذرے تو پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے ؟ صحابہ نے کہ وادی ازرق ہے فرمایا ایسے لگ رہا ہے حضرت موسیٰ بن عمران کو دیکھ رہا ہوں جو گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور وہ اللہ کی بار گاہ میں شور بلند کئے ہوئے ہیں تلبیہ کا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم گھاٹی ہر شئی پر آئے تو پوچھا کہ یہ کون گھاٹی ہے ؟ صحابہ نے بتایا یہ ثنیہ ہر شئی ہے فرمایا ایسے لگا جیسے حضرت یونس بن متیٰ کو دیکھا سرض اونٹنی پر جس کے گگھونگھرالے بال ہیں سوار ہیں انہوں نے اون کا جبہ زیب تن کر رکھا ہے ان کو اونٹنی کی مہار خلبہ کھجور کی مونج ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں ۔ ہیثم نے کہا کہ لیث نے ۔ ابو عبداللہ نے کہا تلبیہ کا معنی کہ جب تمبیہ کہنے والا کہے لبیک اللہم لبیک ۔ تو بے شک وہ تلبیہ کہنے والے کی طرف سے جواب ہوتا ہے اسی قول کا جب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے حج کی آواز لگائی تھی ۔واذن فی الناس بالحج "لوگوں میں حج کا اعلان کر دو " اور روایت کیا گیا ہے کہ جس نے بھی حج کیا وہ ان میں سے ہے جس نے ابراہیم کی پکار کا جواب دیا تھا ۔ مردوں کی پیٹھوں میں اور ماؤں کے رحؐوں میں ۔ ان سب نے اس کو جواب دیا تھا لبیک اللہم لبیک کے ساتھ پس تھا شعار اور پہچان اس اجابت کی ہر حج کرنے اور عمرہ کرنے والے کی طرف سے تو یہ جواب بن گیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4023

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4024

4024 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا عبد الله نا محمد بن إبراهيم قال : سمعت ابن عائشة يقول : معنى التلبية ـ ها أنا إذ جئتك سريعا ها أنا ذا عندك قال : و نادى أعرابي غلاما له فأبطأ عليه في الإجابة ثم أجاب فقال : لبيك فقال الأعرابي : لب عمود جنبيك أي لزق به قال الملبي : ها أنا ذا عندك في القرب بالإجابة كلزق العصا جنب المضروب قال الشيخ أحمد : قد رواه مسلم عن أحمد بن حنبل

ہمیں خبر دی خبر دی ابو نصرہ بن قتادہ نے ان کو عبداللہ نے ان کو محمد بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابن عائشہ سے کہتے ہیں تلبیہ کا معنی یہ ہے آگاہ رہو میں جب آؤں گا تیرے پاس تو میں جلدی کروں گا ۔ متوجہ ہو جاؤ میں یہ ہوں آپ کے پاس ابن عائشی کہتی ہیں کہ ایک دیہاتی نے اپنے لڑکے کو آواز لگائی اس نے جواب دینے میں اس پر کچھ دیر کی اس کے بعد اس نے جواب دیا اور کہا کہ لبیک دیہاتی اعربی نے کہا کہ لب ستون یا لاٹھی ہے تیری پہلوؤں میں یعنی اس کے ساتھ لگا ہوا ہے چمٹا ہوا ہے گویا تلبیہ کہنے والا کہتا ہے ہوشیار خبردار یہ ہوں تیرے پاس ہوں قریب ہونے میں اجابت کے ساتھ مثل چپکنے لاٹھی کے لپٹے ہوئے کے پہلوں کے ساتھ ۔شیخ احمد نے کہا کہ تحقیق روایت کیا ہے اس کو مسلم نے احمد بن حنبل سے ۔

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← الشيخ أحمد قد رواه مسلم ← ذا عندك في القرب بالإجابة كلزق العصا جنب المضروب ← الملبي ها ← الأعرابي لب عمود جنبيك أي لزق به ← لَبیَّکَ ← و نادى أعرابي غلاما له فأبطأ عليه في الإجابة ثم أجاب ← ذا عندك ← إذ جئتك سريعا ها ← معنى التلبية ها ← ابْنُ عَائِشَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4024

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4025

4025 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا ابن صاعد نا العباس بن أبي طالب و الحسين بن بحر البيروتي أنا محمد بن جعفر بن أبي المواتيه العبدي العلاف نا جابر بن نوح عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من تمام الحج أن تحرم من دويرة أهلك قال الشيخ أحمد : تفرد به جابر بن نوح و هذا إنما يعرف عن علي موقوفا و قد استحب بعض السلف تأخيره إلى الميقات لما في تقديمه من خوف التقصير في القيام بشرائطه

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ، ان کو احمد بن عبدی حافظ نے ان کو ابن صاعد نے ان کو عباس بن ابو طالب نے اور حسن بن بحر بیروتی نے ان کو محمد بن جعفر بن ابو المواقیہ عبدی علاف نے ان کو جابر بن نوح نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :بے شک حج کے پورے ہونے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم احرام باندھو اپنے گھر کی ڈیوڈی سے ۔شیخ احمد نے کہا کہ اس کے ساتھ منفرد جابر بن نوح اور یہ روایت پہچانی گئی ہے علی سے بطور موقوف روایت تحقیق مستحب قرار دیا ہے بعض سلف نے اس کے مؤخر کرنے کو میقات تک جو اس لئے کہ اس کی تقدیم میں خوف ہے کوتاہی کرنے کا اس کے شرائط کو پورا کرنے میں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← جَابِرُ بْنُ نُوحٍ، ← محمد بن جعفر بن أبي المواتيه العبدي العلاف ← العباس بن أبي طالب و الحسين بن بحر البيروتي ← ابْنُ صَاعِدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4025

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4026

4026 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن أيوب الرازي أنا عياش بن الوليد الرقام نا عبد الأعلى نا محمد بن إسحاق نا سليمان بن سحيم عن يحيى عن أم حكيم بنت أبي أمية عن أم سلمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أهل بعمرة أو حجة من بيت المقدس غفر الله له ما تقدم من ذنبه و رواه ابن أبي فديك عن عبد الله بن عبد الرحمن بن يحنس عن يحيى بن أبي سفيان بن سعيد بن الأخنس عن جدته حكيمة أنها سمعت أم سلمة تقول : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من أهل بالحج و العمرة من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تأخر و وجبت له الجنة

ہمیں خبر دی ابو نصرہ بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ،محمد بن ایوب رازی نے ان کو عیاش بن ولید رقام نے ان کو عبدالاعلیٰ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو سلمان بن سحیم نے ان کو یحییٰ نے ان کو ام حکیم بنت ابو امیہ نے ان کو ام سلمہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حج یا عمرے کا احڑام بیت المقدس سے باندھے اللہ اس کے لئے بخش دے اس کے سابقہ گناہ ۔ اس کو روایت کیا ہے ابن فدیک نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمن بن حسن نے ان کو یحییٰ بن ابو سفیان بن سعید بن اخنس نے ان کو ان کی دادی حکیمہ نے کہ اس نے سنا تھا ام سلمہ سے وہ کہتی ہے میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے وہ فرماتے تھے جو شخص مسجد اقصیٰ سے مسجد الحرام کے لئے حج اور عمرے کا احرام باندھے اللہ اس کے سابقہ گناہ معاف کردے گا اور جو کچھ مؤخر کرے اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أم حكيم بنت أبي أمية ← يَحْيَى ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4026

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4027

4027 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي الحمصي نا ابن أبي فديك أخبرني أحمد : فذكره و رواه أحمد بن مالح عن ابن أبي فديك و قال في متنه بحجة أو عمرة و قال غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تأخر أو وجبت له الجنة شك عبد الله أيتيهما قال

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابو عتبہ احمد بن فرج حجاز ی حمصی نے ان کو ابن فدیک نے ان کو عبداللہ نے پھر مذکورہ حدیث کو اس نے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے احمد بن صالح نے ان کو ابن فدیک نے ۔ اور اس نے اس کے متن میں کہا ہے بحجۃاو عمرۃ۔ اور کہا ہے اللہ اس کے سابقہ اور بعد والے گناہ معاف کر دے گا ۔ یا یوں کہا ہے کہ اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ۔ یہ شک عبداللہ کاہے کہ دونوں میں سے کیا کہا تھا ۔

في متنه بحجة أو عمرة و ← ابن أبي فديك و ← أحمد فذكره و رواه أحمد بن مالح ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي الحمصي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4027

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4028

4028 - حدثنا علي بن أحمد بن عبدان نا أبو القاسم سليمان بن أحمد اللخمي نا عبدان بن أحمد نا محمد بن بكار العيشي نا جعفر بن عون نا سفيان بن سعيد و عبد الله بن عمر عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ضحى مؤمن حتى تغرب الشمس إلا غابت بذنوبه حتى تعود كما هي قال أبو القاسم يعني المحرم ينكشف للشمس و لا يستظل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابوالقاسم سلیمان بن احمد لخمی نے ان کو عبدان بن احمد نے ان کو محمد بن بکار عیثی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو سفیان بن سعید نے اور عبداللہ بن عمر نے ان کو عاصم بن عبداللہ نے ان کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا نہیں سورج کی روشنی میں آتا کوئی مؤمن حتٰی کہ سورج غروب ہو جائے مگر سورج اس کے گناہوں کو غائب کر دیتا ہے حتٰی وہ لوٹتا ہے واپس جیسا کہ تھا ابو القاسم نے کہا ہے کہ یعنی محرم جو سورج کے سامنے رہتا ہے سایہ حاصل نہیں کرتا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← سفيان بن سعيد و عبد الله بن عمر ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو القاسم سليمان بن أحمد اللخمي، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4028

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4029

4029 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني نزيل بيهق أنا أبو بكر الاسماعيلي نا أبو بكر محمد بن هارون بن حميد المجدر نا محمد بن أبان البلخي نا عبد الرزاق نا سفيان عن محمد بن المنكدر عن محرز عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أهل مهل قط إلا آبت الشمس بذنوبه

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور نے احمد بن علی دامغانی نزیل بیہق نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابو بکر محمد بن ہارون بن حمید مجدر نے ان کو محمد بن ربان بلخی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو سفیان نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو محرز نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : نہیں تلبیہ کہتا کوئی تلبیہ کہنے والا مگر لے جاتا ہے سورج اس کے گناہوں کو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← محرز ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ← أبو بكر محمد بن هارون بن حميد المجدر ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني نزيل بيهق

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4029

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4030

4030 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد نا يونس بن يزيد عن الزهري عن مسافع الحجبي عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الركن و المقام ياقوتتان من يواقيت الجنة طمس الله نورهما و لولا ذلك لأضاءتا ما بين المشرق و المغرب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو یونس برید نے زہری سے اس نے مسافع حجیی سے اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : رکن ( حضر اسود ) اور مقام ۔ (ابراہیم)دونوں یاقوت ہیں جنت کے یاقوتوں میں سے ۔ اللہ نے ان دونوں کا نور مٹا دیا ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو وہ مشرق و مغرب کا درمیان روشن کر دیتے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُسَافِعٍ الْحَجَبِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4030

chevron_left Previous
1…456…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood