Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4007

4007 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه نا إبراهيم بن إسماعيل العنبري نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن منصور عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الفتح فتح مكة : إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السموات و الأرض فهو حرام حرمة الله إلى يوم القيامة لا يختلى خلاها و لا يعضد شجرها و لا ينفر صيدها و لا يلتقط لقطتها إلا من عرفها قال العباس : إلا الإذخر فإنه لقينهم و بيوتهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إلا الإذخر رواه البخاري في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة عن جرير و رواه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو النضر فقیہ نے ان کو ابراہیم بن اسماعیل عنبری نے ان کو اسحاق بن انراہیم نے ان کو جریر نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو طاؤس نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا فتح مکہ کے دن ۔ بے شک اس شہر کو اللہ نے محترم بنایا ہے جس سے اللہ نے زمین آسمان بنائے ہیں ۔ وہ حرمت والا ہے ، اللہ نے اس کو قیامت تک محترم بنا دیا ہے۔ نہ تو اس کا گھانس توڑا جائےگا ۔ اور نہ ہی اس کا درخت کاٹا جائے گا ۔ اور نہ اس کے شکار کو ڈرایا جائے گا اور نہ ہی اس میں گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے گا مگر شخص جو اس کی شناخت کروائے ۔ حضرت عباس نے کہا کہ سوائے اذخر کے وہ اس کے لوہاروں یا سناروں کے لئے ہے ۔ اور ان کے گھروں کے لئے ہے پھر رسول اللہ نے فرمایا سوائے اذخر کے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ۔ صحیح میں عثمان بن ابو شیبہ سے اس نے جریر سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4007

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4008

4008 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن الوليد بن مزيد البيروتي حدثني أبي نا الأوزاعي و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد و محمد بن عبد الله بن صالح قالا : نا محمد بن إسحاق نا أبو قدامة و محمد بن منصور و عبد الله بن محمد الزهري قالوا : نا الوليد بن مسلم حدثني الأوزاعي حدثني يحيى بن أبي كثير حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن حدثني أبو هريرة قال : لما فتح على رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة قام في الناس فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : إن الله تعالى حبس عن مكة الفيل و سلط عليها رسوله و المؤمنين و أنها لن تحل لأحد قبلي و إنما أحلت لي ساعة من نهار و أنها لا تحل لأحد بعدي و لا ينفر صيدها و لا يختلى شوكها و لا تحل ساقطتها إلا لمنشد فقال العباس : إلا الإذخر يا رسول الله فإنا نجعله في قبورنا و بيوتنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إلا الإذخر فقام أبو شاة رجل من أهل اليمن فقال : اكتبوا لي يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اكتبوا لأبي شاة قلت للأوزاعي و ما قوله اكتبوا لي يا رسول الله فقال : هذه الخطبة التي سمعها من رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه مسلم في الصحيح عن أبي قدامة و في حبس الله الفيل عن مكة و إهلاك أهله من أبين الدلالة على شرفها و فضيلتها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے آخرین میں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید بیرونی نے ان کو میرے والد نے ان کو اوزاعی نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اس کو خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن زیاد اور محمد بن عبداللہ بن صالح نے دونوں نے کہا ہے کہ ان کو خبر دی ہے محمد بن اسحاق نے ان کو ابو قدامہ نے اور محمد بن منصور نے اور عبداللہ بن محمد زہری نے انہوں نے کہا ہم کو خبر دی ہے ولید بن مسلم نے ان کو اوزاعی نے ان کو حدیث بیان کی ہے یحیی بن کثیر نے ان کو ابو مسلمہ بن عبدالرحمن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ کے لئے مکہ فتح ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم لوگوں کو خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہو ئے اور آپ نے حمدو ثنا کی اس کے بعد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ ہاتھیوں کو روک لیا تھا اور آج اپنے رسول کو اور اہل ایمان کو غلبہ عطا کیا ہے بے شک یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا تھا ۔ میری ایک ساعت کے لئے دن میں حلال کیا گیا ہے ۔ اور میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہیں کیا جائے گا ( یعنی اس کی حرمت کی پابندی کچھ دیر کے لئے اللہ نے اٹھالی تھی ۔)اس میں شکار کے جانور ڈرایا اور بھگایا نہیں جائے گا اور اس کی جھاڑ کانٹا وغیرہ نہیں کاٹا جائے گا اور اس میں گری ہوئی چیز کو استعمال کیا نہیں اٹھایا جائے گا مگر اعلان کرنے کے لئے ۔ اتنے میں حضرت عباس نے کہا کہ سوائے اذخر گھانس کے یا رسول اللہ (یعنی یا رسول اللہ اس کی اجازت دے دیں ) بے شک ہم اس کو اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں ۔ لہذا رسول اللہ نے فرمایا کہ سوائے اذخر گھانس کے ( یعنی وہ کانٹے کی اجازت ہے ) اتنے میں ابو شاہ جو یمن کے ایک آدمی تھی وہ کھڑے ہو گئے ۔ا ور کہا کہ مجھے یہ باتیں لکھ دو حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے حکم دیا کہ ابو شاہ کے لئے لکھ دو ۔ میں نے اوزاعی سے پوچھا ۔ کیا مراد ہے اس قول سے میرے لئے لکھ دو یا رسول اللہ ۔ اوزاعی نے بتایا کہ یہی خطبہ جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا تھا ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو قدامہ سے اور مکہ سے اللہ کے ہاتھوں کو روک لینے میں اور ہاتھی والوں کو ہلاک کرنے میں واضح ترین دلیل ہے مکہ کے شرف کی اور فضیلت کی ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أبو قدامة و محمد بن منصور و عبد الله بن محمد الزهري ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عبد الله بن محمد بن زياد و محمد بن عبد الله بن صالح ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← الأَوْزَاعِيُّ، وَ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Hadith 4008

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4009

4009 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو نا عبد الله بن علي الغرال نا علي بن الحسن بن شقيق أنا عبد الله بن المبارك أنا عمرو بن سعيد بن أبي الحسين أخبرني ابن أبي ملكية عن عبيد بن عمير عن ابن عباس قال : أقبل تبع يريد الكعبة حتى إذا كان بكراع العميم بعث الله عليه ريحا لا يكاد القائم يقوم إلا عسقه و ذهب القائم يقعد و يصرع و قامت عليهم و لاقوا منها عناء قال : و دعا تبع حبريه فسألهما ما هذا الذي بعث علي قالا : أو تؤمننا قال : أنتم آمنون قالا : فإنك تريد بيتا يمنعه الله ممن أراده قال : فما يذهب هذا عني قالا : تجرد في ثوبين ثم تقول : لبيك لبيك ثم تدخل فتطوف بذلك البيت و لا تهيج أحدا من أهله قال : فإن اجتمعت على هذا ذهبت هذه الريح عني قالا : نعم فتجرد ثم لبى قال ابن عباس : فأدبرت الريح كقطع الليل المظلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس قاسم بن قاسم سیاری نے مر میں ان کو عبداللہ بن علی غزال نے ان کو علی بن حسن بن شفیق نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو عمرو بن سعید بن ابی الحسین نے ان کو خبر دی ابن ابی ملیکہ نے ان کو عبید بن عمیر نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا کہ اہل تبع آیا وہ کعبہ ڈھانے کا ارادہ رکھتا تھا جب وہ کراع العمیس کے پاس پہنچا اللہ نے اس پر ایک ایسی ہوا بھیجی جس میں کھڑا ہونے والا کھڑا نہیں ہو سکتا تھا مگر وہ اس کو گرا دیتی تھی چنانچہ کھڑا ہونے والے بیٹھ جاتے اور گر جاتے جو ان پر مسلط رہی جس سے وہ سخت مشقت کا شکار ہوئے ۔ لہذا تبع نے اپنے دو عالموں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ یہ کیا مصیبت ہے جو مجھ پر بھیجی گئی ہے دونوں نے کہا کیا آپ ہمیں امان دیں گے اس نے کہا کہ تمہیں امان ہے ۔ دونوں نے کہا کہ آپ نے ایک ایسے گھر کے ساتھ غلط ارادہ کیا ہے اللہ جس کی حفاظت کرتا ہے ہر اس شخص سے جو اس کے ساتھ نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے ۔ اس نے پوچھا کہ پھر کون سی چیز اس کو مجھ سے ہٹائے گی دونوں نے کہا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنا لباس اتار کر صرف دو کپڑوں میں آجائیں ( احرام کے طور پر ) پھر آپ یہ پکاریں لبیک لبیک پھر مکہ میں داخل ہو جااور جا کر اس گھر کا طواف کر اور وہاں رہنے والوں کے ساتھ لڑائی اور جنگ بھی نہ کر ا س نے کہا اگر میں دل سے اس باے کا تہیہ کر لوں تو مجھ سے یہ وہوا دور ہو جائے گی دونوں نے کہا کہ بالکل ۔ لہذا ا نے اپنا لباس اتار کر احرام پہن کر تلبیہ پڑھا ۔ ابن عباس نے کہا کہ لہذا وہ ہوا پیچھے ہو گئی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ( یعنی رات تاریک چھٹ جاتی ہے ۔)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← ابن أبي ملكية ← عمرو بن سعيد بن أبي الحسين ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغرال ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4009

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4010

4010 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني نا جدي نا عبد الله بن صالح نا الليث بن سعد عن عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن الزهري عن محمد بن عروة بن الزبير عن عمه عبد الله بن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما سمى الله البيت العتيق لأنه أعتقه من الجبابرة و لم يظهر عليه جبار قط و روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم قد قال : سنة لعنتهم لعنهم الله ـ و كل نبي مجاب ـ : المكذب بقدر الله و الزائد في كتاب الله و المتسلط بالجبروت يذل من أعز الله و يعز من أذل الله و المستحل لحرم الله و المستحل من عترتي ما حرم الله و التارك لسنتي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد فضل شعرانی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو عبدالرحمن بن خالد بن مسافر نے ان کو زہری نے ان کو محمد بن عروہ بن زبیر نے ان کو ان کے چچا عبداللہ بن زبیر نے وہ کہتے کہ رسول اللہ نے فرمایا سوائے اس کےنہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام بیت العتیق رکھا ہے اس لئے کہ اس کو اللہ نے آزاد کیا ہے جابروں سے اس پر کوئی جبار اور سر کش کبھی مسلط نہیں ہوا ۔ اور ہم نے روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے تحقیق آپ نے فرمایا :جھ قسم کے لوگ ہیں میں ان کو لعنت کرتا ہوں اللہ ان کو لعنت کرے اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے ۔(1)اللہ کی تقدیر کی تکذیب کرنے اور اس کو جھٹلانے والا ۔(2)کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا ۔(3) زبردستی مسلط ہو کر حکومت کرنے والا جو اس کو ذلیل کر دے جس کو اللہ عزت دے اور اس کو عزت دے جس کو اللہ ذلیل کرے ۔(4)اللہ کے حرم کی حرمت ریزی کرنے والا ۔(5)میری عزت کی حرمت ریزی کرنے والا۔(6)میری سنت کو ترک کرنے والا ۔

عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4010

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4011

4011 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن المؤمل نا الفضل بن محمد الشعراني نا قتيبة بن سعيد نا ابن أبي الموال نا عبيد الله بن موهب القرشي عن عمرة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن مؤمل نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو ابن ابوالموال نے ان کو عبیداللہ بن موھب قرشی نے ان کو عمرہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا پھر مذکور کو ذکر کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عبيد الله بن موهب القرشي ← ابن أبي الموال ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4011

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4012

4012 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن الفرج الأزرق نا محمد كناسة نا مسعر عن عمرو بن مرة عن طلق بن حبيب عن عمر قال : قال عمر رضي الله عنه : يا أهل مكة اتقوا الله في حرمكم هذا أتدرون من كان ساكن حرمكم هذا من قبلكم ؟ كان فيه بنو فلان فأحلوا حرمته فهلكوا و بنو فلان فأحلوا حرمته فهلكوا حتى عده إن شاء الله ثم قال : و الله لأن أعمل عشر خطايا بغيره أحب إلي من أن أعمل واحدة بمكة

ہمیں خبر دی اعلی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن فرج ازرق نے ان کو محمد بن کناسہ نے ان کو مسعر نے ان کو عمرہ بن مرہ نے ان کو طلق بن حبیب نے ان کو حضرت عمر نے وہ کہتے ہیں کہ اے اہل مکہ اللہ سے ڈرو اپنے اس حرم میں کیا تم جانتے ہو کہ تم لوگوں سے قبل تمہارے حرم میں رہنے والا کون تھا ؟ اس میں بنو فلاں تھے انہوں نے اس کی حرمت کو پامال کیا تھا وہ ہلاک ہو گئے تھے ۔اور بنو تھے انہوں نے س کی حرمت کو ختم کیا تھا وہ ہلاک ہو گئے تھے حتٰی کہ اس کو گنا انشاء اللہ اس کے بعد فرمایا اللہ کی قسم البتہ اگر میں دس گناہ کروں حرم سے ہٹ کر وہ مجھے پسند ہے اس سے کہ میں ایک گناہ کروں مکہ میں ۔

عُمَرَ، ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← محمد كناسة ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 4012

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4013

4013 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن علي الشيباني نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة نا أبو نعيم نا زهير عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة : ما أطيبك من بلدة و أحبك إلي و لولا أن قومك أخرجوني ما سكنت غيرك

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی شیبانی نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو زبیر نے عبداللہ بن عثمان بن خیثم سے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا مکہ کے بارے میں ۔ کتنی پاکیزہ ہے تو اے مکہ اور کتنی زیادہ محبوب ہے تو میری طرف اگر تیری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے علاوہ کسی اور شہر میں نہ رہتا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4013

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4014

4014 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد السلمي نا جعفر عن محمد بن سوادة نا الحسين بن منصور نا حفص بن عبد الرحمن نا شبل بن عباد عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال : لما نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة فقال : مرحبا بك من بيت ما أعظمك و أعظم حرمتك و للمؤمن أعظم عند الله حرمة منك

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عمرو بن اسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو جعفر نے ان کو محمد بن اسوادہ نے ان کو حسین بن منصور نے ان کو حفص بن عبدالرحمن نے ان کو شبل بن عباد نے ان کو ابن نجیح نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ نے کعبہ کی طرف نظر ماری تو فرمایا مبارک اور خوش آمدید ہو تجھ کو بیت اللہ کتنی عظیم ہے تو اور کتنی عظیم ہے تیری حرمت البتہ مؤمن کی حرمت اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہے تیری حرمت سے ۔

لما نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← محمد بن سوادة ← جَعْفَرٌ، ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 4014

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4015

4015 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا سعيد عن قتادة : في قول الله عز و جل : { الذي جعلناه للناس سواء العاكف فيه و الباد } قال العاكف أهل مكة و الباد من يعتكفه من أهل الآفاق { و من يرد فيه بإلحاد بظلم نذقه من عذاب أليم } قال قتادة من لجأ إلى الحرم ليشرك فيه عذبه الله و في قوله : { إن أول بيت وضع للناس للذي ببكة مباركا } قال : إن الله بك الناس جميعا فيصلي النساء أمام الرجال و لا يصلح ذلك ببلد غيره 4015 - مكرر ـ و عن قتادة عن نوف بن عمرو البكالي عن عبد الله بن عمر قال : إن الحرم محرم إلى السماء السابعة و البيت المعمور بحيال الكعبة يدخل كل يوم سبعون ألف ملك إذا خرجوا منه لم يعودوا فيه آخر ما عليهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو وہاب بن عطاء نے ان کو خبر دی سعید نے ان کو قتادہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔(1)الذی جعلنا للناس سواء العاکف فیہ والباد "جیسے ہم نے بنایا ہے ۔ برابر ہے اس میں مقامی طور پر رہنے والا اور باہر سے آنے والا ۔ فرمایا کہ عاکف اہل مکہ میں اور باد وہ ہے جو باہر سے آکر اس میںاعتکاف کرے ۔(2)ومن یردفیہ بالحاد بظلم تذقۃ من عذاب الیم "جو شخص ارادہ کرے حرم میں بے دینی کا ارتکاب کرنے کا بسبب ظلم و زیادتی کے ہم ا س کو چکھائیں گے درد ناک عذاب ۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب ہے کہ جو شخص حرم میں اس لئے گھسا رہے تاکہ اس میں شرک کرے اس کو اللہ عذاب دے گا ۔(3) ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا"بے شک پہلا گھر جو رکھا گیا زمین البتہ وہ ہے جو مکہ میں مبارک ہے ۔ قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے گردنیں توڑ رکھیں ہیں لوگوں کی سب کی ( دیکھا نہیں کہ ) عورتیں مردوں کے سامنے نماز پڑھتی ہیں ۔ جب کہ اس کے علاوہ کسی اور شہر میں ممکن نہیں ہے ۔ مکرر ہت قتادہ سے مروی ہے س نے نوف (بن عمرو ) سے بکالی سے اس نے عبداللہ بن عمر سے وہ فرماتے ہیں ۔ بے شک حرم محترم ہے ساتویں آسمان تک ۔ اور بیت المعمور کعبے کے متوازی سید ھ میں ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ۔جب اس میں سے وہ نکلتے ہیں تو دوبارہ لوٹ کر اس میں نہیں آتے۔

سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4015

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4016

4016 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا إبراهيم بن الحارث نا يحيى بن بكير نا شعبة عن سلمة بن كهيل قال : سمعت مجاهدا يقول : إنما سميت بكة لأن الناس يبك بعضهم بعضا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو محمد بن حسین قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو شعبہ نے ان کو سلمہ بن کھیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا مجاہد سے وہ کہتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ س کا نام بکہ رکھا گیا ہے کیونکہ لوگ بعض بعض کو دباتے ہیں ۔

إنما سميت بكة لأن الناس يبك بعضهم بعضا ← مُجَاهِدًا، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 4016

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4017

4017 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال : بلغني أنهم وجدوا في مقام إبراهيم ثلاثة صفوح في كل صفح منها كتاب في الصفح الأول أنا الله ذو بكة صغتها يوم صغت الشمس و القمر و حففتها بسبعة أملاك حنفاء و باركت لأهلها في اللحم و اللبن و في الصفح الثاني أنا الله ذو بكة خلقت الرحم و شققت لها من اسمي من وصلها وصلته و من قطعها بتته و في الثالث أنا الله ذو بكة خلقت الشر و الخير فطوبى لمن كان الخير على يديه و ويل لمن كان الشر على يديه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ابو کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے مکہ میں ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ بے شک انہوں نے مقام ابراہیم میں تین تین پہلو یا تین تختیاں پائی تھیں ایک پر کچھ تحریر لکھی ہوئی تھی ۔ ایک پر یہ لکھا تھا ۔ میں اللہ ہوں مکہ والا بنایا ہے میں نے اس کو جس دن میں نے شمس و قمر کو بنایا ہے اور میں اس کو ہلکا کیا ہے سات املاک کے ساتھ یکسو ہو کر ۔ اور میں نے اس کے رہنے والوں کے لئے برکت دی ہے گوشت میں اور دودھ میں اور دوسرے پہلو پر لکھا تھا میں اللہ ہوں مکے والا میں رشتہ داری کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اپنا نام چیرا ہے جو اس کو ملائے گا میں اس کو ملاؤں گا اور جو اس کو کاٹے گا میں اس کو کاٹ دوں گا ۔اور تیسری طرف لکھا تھا ۔ میں اللہ ہوں صاحب مکہ میں نے شر کو اور خیر کو پیدا کیا ہے مبارکباد دی ہے اس کے لئے جس کے ہاتھو ں میں خیر ہوگی اور ہلاکت ہے جس کے ہاتھوں پر شر ہو گا ۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Hadith 4017

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4018

4018 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي في ذكر أبي عمرو محمد بن إبراهيم الزجاجي قال : يقول إنه لم يبل و لم يتغوط في الحرم أربعين سنة كان يخرج كل يوم بعمرة خارج الحرم فيبول و يتغوط ثم يرجع فلا يبول و لا يتغوط إلى عند ذلك الوقت في اليوم الثاني

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمن سلمی اور ابو عمرو کے ذکر میں اور محمد بن ابراہیم زجاجی نے وہ کہتے تھے کہ وہ حرم کے حدود میں پیشاب پاخانہ نہیں کیا تھا چالیس سال تک ۔ بلکہ ہر روز عمرے کے لئے نکلتے تو حرم سے باہر چلے جاتے پیشاب پاخانہ باہر کر لیتے ۔ پھر اگلے روز اسی وقت تک حرم میں قضاء حآجت نہیں کرتے تھے ۔

أبي عمرو محمد بن إبراهيم الزجاجي ← أبو عبد الرحمن السلمي في

Hadith 4018

chevron_left Previous
12345…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood