Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3995

3995 - و بإسناده نا آدم نا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله : { مثابة للناس } يقول لا يقضون منه وطرا أبدا { وأمنا } يقول لا يخاف من دخله

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے آدم نے ان کو ورقاء نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ مثابۃللناس : کہتے ہیں کہ نہیں پوری کریں گے اس سے اپنی خواہش کبھی بھی ( یعنی دل نہیں بھرے گا کبھی بھی ۔)وامنا ً: کہتے ہیں کہ مطلب ہے کہ جو اس میں داخل ہوگا اس کو کوئی خوف نہیں ہوگا ۔

لا يخاف من دخله ← لا يقضون منه وطرا ابدا وأمنا ← مجاهد في قوله مثابة للناس ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← و بإسناده

Hadith 3995

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3996

3996 - و بإسناده نا آدم نا أبو الربيع السمان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : لو أن إبراهيم عليه السلام خليل الرحمن كان قال : فاجعل أفئدة الناس تهوي لحجه اليهود و النصارى و لكن قال : فاجعل أفئدة من الناس فخص به المؤمنين

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے آدم نے ان کو ابوالربیع سمان نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں اگر ابراہیم علیہ السلام خلیل الرحمٰن یوں دعا میں کہہ دیتے فاجعل انئدہ الناس تھوی سب لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا دے جو جھک جائیں اس کی طرف ۔ تو یہود و نصاریٰ بھی کعبے کا حج کرتے مگر انہوں نے یوں کہا تھا دعا میں فاجعل افئدہ من الناس بعض لوگوں یا کچھ لوگوں کے دل ۔ایسے ایسے کر دینا گویا کہ انہوں نے اس دعا کے ذریعے مؤمنوں کو مخصوص کر لیا تھا ۔

فاجعل أفئدة من الناس فخص به المؤمنين ← فاجعل أفئدة الناس تهوي لحجه اليهود و النصارى و لكن ← لو أن إبراهيم خليل الرحمن كان ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو الربيع السمان ← آدَمُ، ← و بإسناده

Hadith 3996

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3997

3997 - أخبرنا أبو زيد بن أبي هاشم العلوي و عبد الواحد بن محمد بن إسحاق المقريء بالكوفة أنا محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم نا عمرو بن حماد عن أسباط عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس : أن في السماء بيتا يقال له الضراح و هو فوق البيت العتيق من حياله حرامة في السماء كحرمة هذا في الأرض يلجه في كل ليلة سبعون ألف ألف ملك يصلون فيه لا يعودون إليه أبدا غير تلك الليلة

ہمیں خبر دی ہے زید بن ابو ہاشم علوی نے اور عبدلرحمٰن بن محمد اسحاق مقری نے کوفے میں ان کو محمد بن علی دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عمرو بن حماد نے ان کو اسباط نے ان کو سماک نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ آسمان میں ایک گھر ہے اس کو ضراح کہا جاتا اور وہ بیت العتیق (کعبے )کے اوپر ہے اس کی سیدھ میں اس کا حرم آسمان میں کعبے حرم کی مانند جو زمین میں ہے ۔ ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں وہ دوبارہ لوٹ کر واپس نہیں آتے ہمیشہ سوائے اس رات کے ۔

عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَسْبَاطٍ ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ،

Hadith 3997

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3998

3998 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : لما بنى إبراهيم عليه السلام البيت أوحى الله تبارك و تعالى إليه أن أذن في الناس بالحج قال فقال إبراهيم ألا إن ربكم قد اتخذ بيتا و أمركم أن تحجوه فاستجاب له ما سمعه من حجر أو شجر أو أكمة أو تراب لبيك اللهم لبيك

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کو بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی یہ کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ کہتے ہیں ، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا خبردار بے شک ہمارے رب نے ایک گھر کو مقرر کر دیا ہے اور تم لوگوں کو حکم دیا ہے کہ تم اس کا حج کرو چنانچہ اس پکار کا جواب ان کو ہر چیز نے دیا جہاں تک اس کو سنا خواہ وہ پتھر ہو یا درخت یا ٹیلہ یا مٹی یوں کہا : لبیک الھم لبیک " میں حاضر ہوا اے اللہ میں حاضر ہوں "

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 3998

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3999

3999 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور ثنا جرير عن منصور عن مجاهد : في قوله : { و أذن في الناس بالحج } قال : لما فرغ إبراهيم عليه السلام من بناء البيت فقيل له ناد في الناس بالحج فقال : كيف أقول يا رب ؟ قال : قل يا أيها الناس استجيبوا لربكم فقالها فوقرت في قلب كل مؤمن

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو جریر بن منصور نے ان کو مجاہد نے اللہ نے اس قول کے بارے میں ۔ واذن فی الناس بالحج ۔ اعلان کر دیں لوگوں میں حج کا وہ کہتے ہیں جب ابراہیم علیہ السلام تعمیر کر چکے بیت اللہ کو تو ان سے کہا گیا کہ آپ اعلان کر دیجئے لوگوں میں حج کا ۔ انہوں نے کہا اے رب میں کیسے کہوں ؟ اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو ۔ اے لوگو اپنے رب کی بات مانو ۔چنانچہ انہوں نے ایسے کہا تو ہر مؤمن کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی ۔

كَيْفَ أَقُولُ يَا رَبِّ؟، ← لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ، فَقِيلَ لَهُ: نَادِ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، ← مجاهد في قوله و أذن في الناس بالحج ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 3999

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4000

4000 - قال : و نا سعيد نا سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال : لما فرغ إبراهيم عليه السلام أمر أن يؤذن في الناس فقام على المقام فقال : يا عباد الله أجيبوا فأجابوه لبيك اللهم لبيك فمن حج فهو ممن أجاب دعوة إبراهيم عليه السلام و روينا من وجه آخر عن ابن عباس في كتاب السنن و غيره

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سعید نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے انہوں نے کہا کہ جب ابراہیم علیہ السلام تعمیر سے فارغ ہوگئے تو حکم دئیے گئے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں لہذا وہ مقام ابراہیم پر کھڑے ہو ئے اور بولے اے اللہ کے بندو اللہ کی بات کا جواب دو ۔ چنانچہ سب نے اس کا جواب دیا لبیک اللھم لبیک ، جو شخص حج کرتا ہے پس وہ ان میں سے ہوتا ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام کی پکار کا جواب دیا تھا ۔ اور ہم نے ایک اور طریق سے روایت کیا ہے ابن عباس سے کتاب السنن وغیرہ میں ۔

لما فرغ إبراهيم أمر ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدٌ، ← و،

Hadith 4000

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4001

4001 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا أحمد بن عبد الجبار نا يونس بن بكير عن ابن إسحاق عن عطاء بن أبي رباح عن كعب الأحبار قال : شكت الكعبة إلى ربها و بكت إليه فقالت : أي رب قل زواري و جفاني الناس فقال الله لها إني محدث لك إنجيلا و جاعل لك وزيرا يحنون إليك حنين الحمامة إلى بيضانها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو ابن اسحٰق نے ان کو عطاء بن ابو رباح نے ان کو کعب الاحبار نے وہ کہتے تھے کہ کعبے نے اللہ کی بارگاہ میں رو رو کر شکایت کی تھی اے رب میری زیارت کرنے والے کم ہیں ۔ اور لوگوں نے مجھ سے زیادتی کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کہ بے شک میں بیان کرنے والا ہوں تیری ایسی کشش اور جاذبیت اور بنانے والا ہوں ایسے زائرین جو رو رو کر تیرے گرد گھومیں گے اور ایسے آئیں گے جیسے کبوتی اپنے انڈوں کی جگہ پر گرتی ہے ۔

أي رب قل زواري و جفاني الناس ← شكت الكعبة إلى ربها و بكت إليه ← كعب الأحبار ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4001

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4002

4002 - و روينا عن عروة بن الزبير أنه قال : ما من نبي إلا و قد حج البيت إلا ما كان من هود و صالح فلما بوأه الله لإبراهيم حجه ثم لم يبق نبي بعده إلا حجه كذا قال و قد

اور ہم نے روایت کی ہے عروہ بن زبیر سے کہ اس نے کہا کوئی نبی خالی نہیں گیا سب نے بیت اللہ کا حج کیا ہے ۔ مگر وہ جو قوم ہود سے تھے اور صالح سے جب اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اس کا ٹھکانہ دیا تو اس نے اس کا حج کیا پھر کوئی بھی نبی کریم باقی نہیں رہا اس کے بعد مگر سب نے اس کا ایسے ہی حج کیا ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← و روينا

Hadith 4002

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4003

4003 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا إسماعيل بن أحمد الخلالي أنا ابن زيدان نا أبو كريب نا وكيع عن زمعة بن صالح عن سلمة بن وهرام عن عكرمة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما حج مر بوادي عسفان فقال : لقد مر بهذا الوادي هود و صالح و موسى عليهم السلام على بكرات حمر خطمهم الليف و عليهم العباء و أرديتهم النمار يحجون البيت العتيق

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمن سلمی نے ان کو اسماعیل بن احمد خلالی نے ان کو ابن زید ان نے ان کو ابو کریب نے ان کو دکیع نے انکو زمعہ بن صالح نے ان کو سلمہ بن وھرام نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے جب حج کیا اور ودی عسفان سے گذرے تو آپ نے فرمایا کہ اس وادی سے گذرےتھے حضرت ھود ، حضرت صالح اور موسیٰ علیہ السلام سرض اونٹوں پر ان کی مہاریں کھجور کی مویخ (کبال ) کی تھیں اور ان پر عباء تھیں اور ان کی اوپر اوڑنے کی چادریں شیر رنگی موٹے کپڑے کی تھیں ۔ وہ حج کر رہے تھے بیت العتیق کا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← ابْنُ زَيْدَانٍ، ← إسماعيل بن أحمد الخلالي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4003

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4004

4004 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ إملاء و قراءة نا أبو بكر أحمد بن إسحاق نا بشر بن موسى نا الحسن بن موسى الأشيب نا حماد بن سلمة عن داود بن أبي هند عن أبي العالية عن عبد الله بن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى على وادي الأزرق فقال ما هذا ؟ قالوا : وادي الأزرق فقال : كأني أنظر إلى موسى بن عمران منهبطا له جؤار إلى الله عز و جل بالتلبية ثم أتى على ثنية فقال : ما هذه الثنية ؟ قالوا : ثنية كذا و كذا فقال : كأني أنظر إلى يونس بن متى على ناقة حمراء جعدة خطامها ليف و هو يلبي و عليه جبة صوف أخرجه مسلم من حديث داود بن أبي هند

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے بطور املاء کے اور بطور قرات کے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حسن بن موسیٰ اشیب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو ابو العالیہ نے ان کو عبداللہ بن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم وادی ازرق پر آئے تو فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ وادی ارزق ہے ۔ تو فرمایا کہ ایسے لگ رہا ہے جیسے میں موسیی بن عمران علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ڈھلوان سے اترتا ہوا ۔ وہ اللہ کی بار گاہ میں تلبیہ کے ساتھ التجاء کر رہے ہیں اور گڑ گڑا رہے ہیں ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم ثنیہ گھاٹی پر آئے تو پوچھا کہ یہ کون سی گھاٹی ہے ؟ بتایا گیا کہ فلاں فلاں گھاٹی ہے تو فرمایا ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے میں یونس بن متیٰ کو دیکھ رہا ہوں جو کہ سرخ اونٹنی پر سوار ہے سواری کے بال گھونگھریالے ہیں ۔ اس ی مہار بھی کھجوانی مونچ ( کیال ) کی ہے وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں اور اس پر اون کا جبہ ہے ۔اس کو مسلم نے داؤد بن ابو ہند کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أبو عبد الله الحافظ إملاء و قراءة

Hadith 4004

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4005

4005 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن حنظلة الأسلمي أنه سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم من فج الروحاء بالحج أو بالعمرة أو ليثنيهما أخرجه مسلم من أوجه أخر عن الزهري

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو حنظلہ اسلمی نے کہ انہوں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ البتہ تلبیہ کہے گا ابن مریم رحاء کے تنگ راستے سے حج یا عمرے کے ساتھ یا ان دونوں کی تعریف کرے گا ۔ اس کو مسلم نے تخریج کی کئی طریقوں سے ایک اور طریقہ سے زہری سے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← حنظلة الأسلمي أنه ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 4005

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4006

4006 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق حدثني عمي أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل نا يحيى بن سليمان عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن عبد الرحمن بن سابط عن عبد الله بن ضمرة السلولي قال : ما بين المقام إلى الركن إلى بئر زمزم إلى الحجر قبر سبعة و سبعين نبيا جاءوا حاجين فماتوا فقبروا هنالك قال أبو عبد الله لم أسمع من يحيى بن سليم غير هذا الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عمر بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو ان کے چچا نے ابو عبداللہ احمد بن محمد نے ان کو یحییٰ بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے ان کو عبدالرحمن بن سانط نے ان کو عبداللہ بن خمرہ سلولی نے وہ کہتے ہیں کہ وہ جگہ جو مقام ابراہیم اور رکن کے درمیان ہے (یعنی حجر اسود تک یا کسی رکن تک ) بیر زم زم تک ستتر انبیاء کی قبریں ہیں ۔ حج کرنے آئے تھے لہذا وہ فوت ہو گئے اور یہاں دفن کر دئیے گئے ۔ ابو عبداللہ نے کہا میں نے یحییٰ بن سلیم سے نہیں سنا سوائے اسی حدیث کے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ← عمي أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4006

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood