Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4199

4199 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الحسن أحمد بن إسماعيل الصرام يقول : سمعت أحمد بن سلمة يقول : رأيت أعرابيا يطوف بالكعبة حتى إذا جاوز البيت رفع طرفه إلى السماء فقال : إليك مددت يديه و فيما عندك عظمت رغبتيه فاقبل توبتيه فعرضت على أبي عبد الله الزوزني فقال : لغة جيدة { ما أغنى عني ماليه * هلك عني سلطانيه }

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو الحسن احمد بن اسماعیل صرام سے انہوں نے سنااحمد بن سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک اعرابی کو دیکھا جو بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ۔ جب وہ بیت اللہ سے ہٹا تو اپنی نظر یں آسمان کی طرف اٹھا لیں ۔ اور کہنے لگا میں نے تیری طرف اپنے ہاتھ پھیلائے ہیں ۔ تیرے پاس جو کچھ اسکی طرف مجھے بہت اشتیاق ہے لہذا تو میری توبہ قبول کر میں نے اس کی یہ عربی دعا عبداللہ زوزنی کو پیش کی تو وہ بولے بڑا عمل لغت ہے ۔ جیسے یہ ہے :مااعنی مالیہ ھلک عنی سلطانیہ "

أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبا الحسن أحمد بن إسماعيل الصرام ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4199

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4200

4200 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق الأسفرائني نا أبو عثمان سعيد بن عثمان حدثني أبو نعيم الأنصاري قال : سمعت معروف الكرخي يقول ودع رجل البيت فقال : اللهم لك الحمد عدد عفوك عن خلقك ثم حج من قابل فقالها فسمع صوتا ما أحصيناها منذ قلتها عام أول

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد اسحٰق اسفرائنی نے ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان نے ان کو ابو نعیم انصاری نے ان کو معروف کرخی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے گھر کو الوداع کہا اور دعا کی اے اللہ سب تعریف تیرے لئے ہے اس قدر کہ جتنی تو اپنی مخلوق کو معاف کرے ۔ پھرت اگلے سال اس نے حج کیا ۔ تو پھر وہی بات کہی ۔ لہذا اس نے ایک روز سنی نہیں شمار کیا تھا ہم نے اس کو جب سے تم نے کہا پہلے سال ۔

صوتا ما أحصيناها منذ قلتها عام أول ← خلقك ثم حج من قابل فقالها ← اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدَ عَدَدَ عَفْوِكَ ← وَدَّعَ رَجُلٌ الْبَيْتَ ← معروف الكرخى ← أبو نعيم الأنصاري ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، ← الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4200

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4201

4201 - أبو حازم عمر بن أحمد الحافظ نا الإمام أبو بكر إسماعيلي أنا أبو بكر أحمد بن محمد بن الحسن نا عباد بن الوليد ( ) نا محمد بن الحكم السمان قال : قال سفيان الثوري سمعت سواد بعرفة يقول : يا حسن الصحبة أسألك بسترك الذي لا تهتكه الرياح و لا تخرقه الرماح

کہتے ہیں ابو حازم عمر بنن احمد حافظ نے ان کو خبر دی امام ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابو بکر احمد بن محمد بن حسن نے ان کوعباد بن ولید نے ان کو محمد بن حکم سمان نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری نے کہا میں نے سواد سے سنا وہ عرفہ میں کہہ رہے تھے ۔ اے خوبصورت دوستی والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزت والے پردے کی برکت کے ساتھ جس کو نہ تو ہوائیں اڑا سکتی ہیں اور نہ ہی اس کو تیر پھاڑ سکتے ہیں ۔

سواد بعرفة ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← محمد بن الحكم السمان ← عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ← الإمام أبو بكر إسماعيلي ← أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ

Hadith 4201

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4202

4202 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول سمعت أبا عبد الله العبدوي يقول حدثني أبو عمر عبد الرحمن بن أبي قرصافة بعسقلان قال : سمعت أبا القاسم البزار يقول : قال لي علي بن الموفق حججت نيفا و خمسين حجة فجعلت ثوابها للنبي صلى الله عليه و سلم و أبي بكر و عمر و عثمان و علي و لأبي و بقيت حجة واحدة قال : فنظرت إلى الموقف بعرفات و إلى ضجيج أصواتهم فقلت اللهم إن كان في هؤلاء أحد لم تقبل حجة فقد وهبت له هذه الحجة ليكون ثوابها له قال وبت تلك الليلة بالمزدلفة فرأيت ربي تبارك و تعالى في المنام فقال لي يا علي بن الموفق علي تتسخى قد غفرت لأهل الموقف و مثلهم و مثلهم و أضعاف ذلك و شفعت كل رجل في أهل بيته و خاصته و جيرانه و أنا أهل التقوى و أهل المغفرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ عبدوی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو عمر عبدالرحمن بن ابو قرصافہ نے عسقلان میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو القاسم بزار سے وہ کہتے ہیں کہ ان کو کہاہے علی بن موفق نے میں نے پچاس کے قریب حج کئے ۔ اور میں نے ان کو ثواب حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو اور ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اور علی المرتضیٰ کے لئے وقف کر دیا ہے ۔ اور اپنے والد کے لئے بھی ۔ اور باقی رہ گیا تھا ایک حج کہتے ہیں کہ میں نے عرفات کے میدان میں نظر ماری اور لوگوں کے شور کی آواز سنی تو میں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر ان تمام لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جس کا تو نے حج قبول نہیں کیا تو میں نے یہ حج اس کے لئے ہبہ کر دیا اور بخش دیا ہے تاکہ اس کا ثواب اس کو مل جائے ۔ کہتے ہیں وہ رات جب میں نے مزدلفہ میں گزاری تو میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی زیارت کی خواب میں ۔ اس نے مجھ سے کہا اے علی بن موفق سخاوت مجھ پر لازم ہے ۔ میں نے پورے اہل موقف کو بھی پورے اہل عرفات کو معاف کر دیا ہے اور اس کے برابر اور ۔ اور ان کے برابر اور ۔اور اسی طرح کئی کئی کو نہ اور میں نے شفاعت قبول کر لی ہے ہر آدمی کی اس کے اہل بیت میں ۔ اور اس کے دوستوں میں اور اس کے پڑوسیوں میں ۔ اور میں ہی تقوے کا مالک ہوں اور میں ہی بخشش اور مغفرت کا مالک ہوں ۔

أبا القاسم البزار ← أبو عمر عبد الرحمن بن أبي قرصافة ← أبا عبد الله العبدوي ← أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4202

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4203

4203 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد بن نصير حدثني أبو العباس بن مسروق قال : سمعت علي بن الموفق يقول : كان فتى من أصحابنا يكثر الحج و قد كان حج سبعين أو ثمانين حجة قال : فقال : رأيت ليلة فيما يرى النائم كأني أقول هل قبل حج الخلق فكأن قائلا يقول قد قبل حج الخلق كلهم غير رجل واحد قال : فقلت تقبل حجتي قال : قد قبلت حجتك قال : فقلت في يومي يا رب يا رب قد وهبت له حجتي حتى لا يخيب قال : فهتف بي هاتف علي تتسخى قال قد رددت عليك حجتك و قبلت حجته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو ابو العباس بن مسروق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن موفق سے وہ کہتے تھے ہمارے احباب میں ایک نوجوان تھا جو کثرت کے ساتھ حج کرتا تھا ۔ اس نے ستر یا اسی حج کر ڈالے علی کہتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ میں کہہ رہاہوں کہ کیا مخلوق کا حج قبول ہو رہا ہے یانہیں گویا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ تمام لوگوں کا حج قبول ہو گیا ہے مگر ایک آدمی کا قبول نہیں ہوا ۔ میں نے کہا کہ میرا حج قبول فرما ۔ جواب ملا کہ تیراحج میں نے قبول کر لیا ہے ۔ دن ہوا تو میں نے کہا اے اللہ اے میرے رب ،اے میرے رب میں نے اپنا حج اس کو ہبہ کر دیا ہے حتیٰ کہ وہ رسوانہ کیا جائے ۔ کہتے ہیں مجھے ایک ہاتف غیبی کی آواز آئی سخاوت کرنا مجھ پر لازم ہے میں نے تیرا حج تجھے واپس کر دیا ہے اور اس کا حج بھی قبول کر لیا ہے ۔

عَلِيُّ بْنُ الْمُوَفَّقِ ← أبو العباس بن مسروق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4203

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4204

4204 - أخبرنا أبو عبد الله و أبو بكر بن الحسن قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم الرملي نا عتيق بن يعقوب بن صديق بن موسى بن عبد الله بن الزبير نا يحيى بن محمد بن عروة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا قدم أحدكم على أهله من سفر فليهل لأهله فليطرقهم و لو كان حجارة تفرد به عتيق عن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اور ابو بکر بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم رملی نے ان کو عتیق بن یعقوب بن صدیق بن موسیٰ بن عبداللہ بن زبیر نے ان کو یحییٰ بن محمد بن عروہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی آدمی سفر سے اپنے گھر میں آئے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے لئے دعا کرے اور اسے چاہئے ان کو کوئی چیز بطور تحفہ دے (اگرچہ پتھر کی طرح کم قمیت ہو ۔)اس روایت میں عتیق یحیی سے متفرد ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يحيى بن محمد بن عروة ← عتيق بن يعقوب بن صديق بن موسى بن عبد الله بن الزبير ← محمد بن عبد الله بن عبد الحكم الرملي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله و أبو بكر بن الحسن

Hadith 4204

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood