Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3983

3983 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم نا عبيد الله بن عبد الجبار العطاردي نا أبي نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو قال : خلق البيت قبل الأرض بألفي عام ثم دحيت الأرض منه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حا فظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار عطاری نے ان کو ان کے والد نے ان کو جریربن عبدالحمید نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ بیت اللہ زمین سے کوئی ہزار سال قبل پیدا کیا گیا اس کے بعد زمین اسی سے بچھا گئی۔

خلق البيت قبل الأرض بألفي عام ثم دحيت الأرض منه ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبِي ← عبيد الله بن عبد الجبار العطاردي ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 3983

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3984

3984 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي نا عثمان بن سعيد نا سليمان بن عبد الرحمن نا عبد الرحمن بن علي بن عجلان القرشي دمشقي ثقة نا عبد الملك بن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول بقعة وضعت في الأرض موضع البيت ثم مدت منه الأرض و إن أول جبل وضعه الله عز و جل على وجه الأرض أبو قبيس ثم مدت منه الجبال

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نےان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نےان کو عثمان بن سعید نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو عبدالرحمٰن بن علی بن قرشی دمشقی نے جو کہ ثقہ راوی ہیں ۔ ان کو عبدالملک بن جریج نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: پہلا ٹکڑا جو زمین میں رکھا گیا وہ بیت اللہ کی جگہ تھی پھر اسی سے کھینچ کر زمین دراز کی گئی تھی ۔ اور بے شک پہلا پہاڑ اللہ تعالیٰ نے جس کو روئے زمین پر رکھا تھا وہ جبل ابوقبیس تھا ا س کےبعد سارے پہاڑ اسی سے کھینچ کر دراز کئے گئے تھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ← عبد الرحمن بن علي بن عجلان القرشي دمشقي ثقة ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Hadith 3984

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3985

3985 - أخبرنا أبو ذر بن أبي الحسين بن أبي القاسم المذكر و أبو الحسين علي بن محمد بن علي المقرىء قالا نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا محمد بن أحمد بن البراء أنا عبد المنعم بن إدريس حدثني أبي عن جده وهب بن منبه قال : ذكر وهب بن منبه أن آدم لما أهبط إلى الأرض استوحش فيها لما رأى من سعتها و لم ير فيها أحدا غيره فقال يا رب أما لأرضك هذه عامر يسبحك فيها و يقدس لك غيري قال الله إني سأجعل فيها من ذريتك من يسبح بحمدي و يقدس لي و سأجعل فيها بيوتا ترفع لذكري فيسبحني فيها خلقي و سأبوك فيها بيوتا أختاره لنفسي و أخصه بكرامتي و أوثره على بيوت الأرض كلها بإسمي و أسميه بيتي أنظمه بعظمتي و أحوزه بحرمتي و اجعله أحق البيوت كلها و أولاها بذكري و أضعه في البقعة المباركة التي اخترت لنفسي فإني اخترت مكانه يوم خلقت السموات و الأرض و قبل ذلك قد كان بغيتي فهو صفوتي من البيوت و لست أسكنه و ليس ينبغي أن أسكن البيوت و لا ينبغي لها أن تحملني أجعل ذلك البيت لك و لمن بعدك حرما و أمنا أحرم بحرمته ما فوقه و ما تحته فمن حرمه بحرمتي فقد عظم حرمتي و من أحله فقد أباح حرمتي من آمن أهله استوجب بذلك أماني و من أخافهم فقد أخفرني في ذمتي و من عظم شأنه فقد عظم في عيني و من تهاون به فقد صغر عندي و لكل ملك حيازة و بطن ملك حوزتي التي حزت لنفسي دون خلقي فأنا الله ذو بكة أهلها جيرتي و جيران بيتي و عمارها و زوارها وفدي و أضيافي في كنفي و في ضماني و ذمتي و جواري أجعله أول بيت وضع للناس و أعمره بأهل السماء و أهل الأرض يأتونه أفواجا شعثا غبرا على كل ضامر يأتين من كل فج عميق يعجون بالتكبير عجيجا و يرجون بالتلبية رجيجا فمن اعتمره لا يريد غيري فقد زارني و ضافني و وفد إلي و نزل بي فحق لي أن أتحفه بكرامتي و حق الكريم أن يكرم وفده و أضيافه و زواره و أن يسعف كل واحد منهم بحاجته تعمره يا آدم ما كنت حيا ثم تعمره من بعدك الأمم و القرون و الأنبياء من ولدك أمة بعد أمة و قرنا بعد قرن و نبيا بعد نبي حتى ينتهي ذلك إلى نبي من ولدك يقال له محمد و هو خاتم النبيين فاجعله من عماره و سكانه و حماته و ولاته و حجابه و سقاته يكون أميني عليه ما كان حيا فإذا انقلب إلي وجدني قد دخرت له من أجره و فضيلته ما يتمكن به من القربة إلي و الوسيلة عندي و أفضل المنازل في دار المقامة و اجعل اسم ذلك البيت و ذكره و شرفه و مجده و سناءه و مكرمته لنبي من ولدك يكون قبيل هذا النبي و هو أبوه يقال له إبراهيم ارفع له قواعده و اقضي على يديه عمارته و أنيط له سقايته واريه حل و حرامه و مواقفه و اعلمه مشاعره و مناسكه و اجعله أمة واحدا قانتا قائما بأمري داعيا إلى سبيلي اجتبته و أهديه إلى صراط مستقيم ابتليه فيصبر و أعافيه فيشكر و آمره فيفعل فينذر لي فيفي فيعدني فينحر أستجيب دعوته في ولده و ذريته من بعده و اشفعه فيهم و اجعلهم أهل ذلك البيت و ولاته و حماته و سقاته و خدمه و خزانه و حجابه حتى يبتدعوا و يغيروا و يبدلوا فإذا فعلوا ذلك فأنا أقدر القادرين على أن أستبدل من أشاء بمن أشاء و اجعل إبراهيم إمام ذلك البيت و أهل تلك الشريعة يأتم به من حضر تلك المواطن من جميع الجن و الإنس يطأون فيها آثاره و يتبعون فيها سنته و يقتدون فيها بهديه فمن فعل ذلك منهم أوفى بنذره و استكمل نسكه و أصاب بغيته و من لم يفعل ذلك منهم ضيع نسكه و أخطأ بغيته و لم يوف بنذره فمن سأل عني يومئذ في تلك المواطن أين أنا : فأنا مع الشعث الغبر الموفين بنذرهم المستكملين مناسكهم المتبتلين إلى ربهم الذي يعلم ما يبدون و ما يكتمون

ہمیں خبر دی ہے ابو ذر بن ابوالحسین بن ابوالقاسم واعظ نے اور ابوالحسین علی بن محمد بن علی مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کوخبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحاق ان کومحمد بن ا حمدبن براء نے ان کو عبد المنعم بن ادریس نے ان کو ا ن کے والد نے ان کوان کے دادا وھب بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ وھب بن منبہ نے ذکر کیا تھا۔ کہ آدم علیہ السلام جب زمین پر اتارے گئے تو ان کو اس میں وحشت ہونے لگی کیونکہ انہوں نے اتنی بڑی اور فرخ ووسیع زمین پر اپنے آپ کو اکیلا پایا اپنے سوا کسی ایک کو بھی نہ پایا۔ تو اس نے عرض کیا اے رب کیا تیرے اس زمین کو آباد کرنے والا کوئی نہیں ہے جو اس پر تیری تسبیح کرے اور تیری قدوسیت بیان کرے، کیا میرے سوا اور کوئی ہےہی نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں عنقریب اس میں تیری اولاد میں سے وہ لوگ پیدا کروں گا جو میری حمد کے ساتھ تسبیح کریں گے اور میرا تقدس اور پاکیزگی بیان کریں گے۔ اور میں بہت جلدی اس میں ایسے گھر بناؤں گا جو صرف میرے ہی ذکر کے لئے اونچے کئے جائیں گے ان کے اندر میری مخلوق میری تسبیح کر ے گی اور بہت جلد میں اس میں ایسے گھر بناؤں گا جنہیں میں اپنی ذات کےلئے چن لوں گا اور انہیں خالص کرلوں گا اپنی عزت دینے کے ساتھ ایک ایسا گھر جسے میں پوری زمیں پر ہونے والے میرے گھروں پر میں اس کو تر جیح دوں گا اور اپنے نام رکھوالوں گا۔میں اس کو اپنی عظمت کے ساتھ جوڑ دوں گا اور اپنی حرمت کے ساتھ اس کو وابستہ کروں گا ۔ اور میں اس کو اپنے ذکر کےلئے اولیٰ بہتر اور زیادہ حقدار بنادوں گا تمام گھروں میں سے اور میں اس کو زمیں کے مبارک خطے پر قائم کروں گا جو میں نے محض اپنے لئے منتخب کر رکھا ہے میں نے اس کی جگہ اس وقت سے منتخب کر رکھی ہے جب سے میں نے زمین وآسمان کی تخلیق سے قبل بھی وہ مقام میری پسند تھا سب گھروں میں سے وہی میرا منتخب کردہ تھا میں اس میں رہتا نہیں ہوں اور میرے شایاں بھی نہیں ہے کہ میں گھروں میں سکونت کروں اور اس کے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہےکہ وہ میرے رہنے کا متحمل ہو سکے۔ میں اس گھر کو تیرے لئے اور تیرے بعد آنے والوں کے لئے محترم بناؤں گا عزت والا بناؤں گا میں اس حرمت کے بسبب حرمت دے دوں گا اس سب کو جو اس کے اوپر ہوگا اور اس کےنیچے ہوگا۔ جو شخص بھی اس کو محترم سمجھے گا میری حرمت کی وجہ سے اس نے میرں حرمت کو بڑا قراردیا اور جس نے اس کی حرمت بجانہ لائی اس نے میری حرمت کو ختم کیا اور جو شخص اس میں رہنے والوں کو امن دے گا وہ اس کی وجہ سے میری امان کا م مستحق ہوگا اور جو ان کو خوف زدہ کرے گا اس نے میرے ساتھ زیادتی کی ذمہ داری میں ۔جو شخص اس کی شان بڑا سمجھے گا وہ میری نظروں میں بھی عظیم ہوگا۔ جو شخص اس کی عزت کم کرے گا وہ میرے نزدیک چھوٹا اور کم عزت والا ہوگا ہر بادشاہ کی کچھ مخصوص اور محفوظ جگہیں ہوتی ہیں میری بادشاہت کے دائر ے میں میری محفوظات وہ ہیں جو میں نے اپنی ذات کےلئے مخصوص کی ہیں میری مخلوق کے سوا۔ میں اللہ ہوں مکہ کا مالک ہوں، مکے میں رہنے والے میرے ہمسائے ہیں اور میر ے گھر کے پڑوسی ہوں گے،اس کو آباد رکھنے والے اور اس کے زائر میرے پاس آنے والے ہیں مہمان۔ میری حفاظت میں میری ضمانت میں اور میری ذمہ داریوں میں ۔ میں اس کو پہلا گھر بناؤں گا جو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہو گا ۔ میں اہل آسما ن اور اہل زمین دونوں سے اس کو آباد کروں گا،اس میں جماعت در جماعت آئیں گے۔غبارآلود اور بکھرے بالوں والے ہر دبلے اونٹ پر سوار آئیں گے ہر دور دراز راستے سے،میری تکبیر کا شوروغوغا بلند کرنے والے ، تلبیہ کے ساتھ مونڈھے ہلاتے ہوئے (آئیں گے) جو شخص اس گھر کا عمرہ کرےگا جو میرے سوا کسی اورکا ارادہ نہیں کرے گا۔وہ ایسا ہے جیسے اس نے میری زیارت کر لی اور میرا مہمان بن گیا اور جیسے وہ میرے پاس آگیا ۔ اور میرے اوپر حق ہے کہ میں اس کو تحفہ دے دو ں اپنی عزت و کرامت کا اور کریم کےلئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے کا اور اپنے مہمان کا اور اپنے ملنے والے کا اکرام کرے ، اور یہ کہ ان میں سے ہر ایک کی حاجت کے ساتھ جو اس کو آباد کرے گا۔اے جب تک تم زندہ رہوتم اس کو آباد کرنا ۔ پھر تیر ے بعد آباد کریں گے اس کو تیرے بعد کئی کئی امتیں ، اور کئی کئی زمانے اور بہت سارے نبی تیری اولاد میں سے ایک امت کے بعد دوسری امت، ایک زمانے کے بعد دوسرا زمانہ۔ ایک نبی کے بعد دوسرا نبی۔ حتیٰ کہ یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوگا تیری اولاد کےایک ایسے نبی تک جسے کہا جائے گا محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم ۔ وہ تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہوں گے۔ میں اس کو اس گھر کے آباد کرنے والوں میں اور اس کے پاس رہائش کرنے والوں ،اس کے حا میو ں ، اور اس کے سر پر ستو ں ، اس کے محا فظوں ، اس کے بلا نے والوں میں سے بتاؤ ں گا وہ میری طرف سے اس کا امین ہوگا جب تک وہ زندہ رہے گا۔ جب وہ میری طرف لوٹ آئے گا وہ مجھے پائے گا کہ میں نے اس کے لئے اس کے اجر میں سے ذخیرہ کر چکا ہوں گا اور اس کی فضیلت کو جس قدر اس کو مقدر ہوگا میری طرف قربت کےلئے اور میرے پاس وسیلے کے لئے اور اس کے لئےبناؤ آفضل گھر سب گھروں سے بہت بریں میں ۔ اور کردوں گامیں اس کا گھر کا نام اس کا ذکر اس کا شرف اس کی بزرگی ، اس کی رفعت وبلندی اور اس کی عزت ایک نبی کے لئے تیری اولاد میں سے وہ اسی نبی سے قبل آنے والا نبی ہوگا وہی اس کا باپ ہوگا اس کا نام ابراہیم ہوگا ۔ میں اس کے لئے اس گھر کی بنیادیں اٹھاؤں گا اور اسی کے ہاتھ پر اس کی عمارت مکمل کروں گا ، اسی کے ذمے کروں گا میں اس کی سقایتہ اور پانی کی خدمت کو اور میں اسی کو سکھلاؤں گا اس کے حلال اور اس کا حرام اور اس کے مواقف اور معلوم کراؤں میں اس کو اس کے مشاعر اور پہچان کے علامات اور اس کے حج کا احکامات ۔ اور بناؤں گا میں ان کو ایک امت فرمانبرداری کرنے والے۔میرے امر کو قائم کرنے والے ۔ میر ے راستے کی دعوت دینے والے۔ میں اسی کو چن لوں گا اور اسی کو ہدایت دوں گا صراط مستقیم کی۔ میں اس کو آزماؤں تو وہ صبر کرے گا اور میں اس کو عافیت دوں گا تو وہ شکر کرے گا۔ اور میں اس کو حکم دوں گا تو وہ بجالائے گا۔ وہ میرے لئے نذر مانے گا تو وہ اس کو پوری کرے گا وہ مجھے وعدہ وے گا پس وہ قربانی دے گا۔ میں اس کی دعا قبول کروں گا اس کے بیٹے کے بارے میں اور اس کی اولاد کے بارے میں اس کے بعد۔ اور میں اس کو ان کے بارے میں سفارشی بناؤں گا۔ اور میں اس کی اولاد کو اس گھر کے مالک ٹھراؤں گا۔ اور اس کے والی اور اس کے محافظ اس کے ساقی۔ اس کے خادم ان کے چوکیدار حتیٰ کہ وہ نئی باتیں اختراع کر لیں گے تغیروتبدیلی کریں جب یہ کام کریں گے تو میں اقدرالقادرین ہوں اس بات پر کہ میں تبدیل کردوں جس کو چاہوں ۔ اور میں ابراہیم علیہ السلام کو اس کا گھر کا امام بناؤں گا اور اس شریعت والے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی شریعت والے اس کی اقتداء اور اتباع کریں گے جو بھی ان مقامات پر آئے تمام جنوں اور انسانوں میں سے اس وادی میں وہ اسی کےآثارونشانات کو روندیں گے اور اسی پر چلیں گے اور اس میں وہ اسی کی سنت کی اتباع کریں گے اوراس میں اسی سیرت کی اتباع و اقتداء کریں گے۔ان میں سے جو شخص ایسا کرے گا وہ اپنی نذر پوری کرلے گا اور اس کے احکامات کو پورا کر لے گا۔ اور اس کی امر کو پہنچے گا اور ان میں سے جو ایسا نہیں کرے گا وہ اس کے احکامات کو ضائع کرے گا اور اس کی منشاء سے خطاء کرے گا۔ اور اپنی نذر پوری نہیں کرے گا۔ جو شخص اس دن میرے بارے میں پوچھے ان موقعوں پر کہ میں کہاں ہوں؟ تو میں غبارآلود بکھرے ہوئے بالوں والوں کے ساتھ ہوگا جو اپنی نذروں کو پورا کر رہے ہوں گے جو اپنے مناسک کو مکمل کررہے ہوں گے جو اپنے رب کی طرف لگ کر سب سے تعلق توڑ چکےہوں گے وہ رب جو اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ وہ ظاہر کررہے ہوں گے اور جو کچھ وہ چھپارہے ہوں گے۔

جَدِّهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِي ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← و أبو الحسين علي بن محمد بن علي المقرىء ← أبو ذر بن أبي الحسين بن أبي القاسم الم

Hadith 3985

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3986

3986 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار العطاردي نا يونس بن بكير عن سعيد بن ميسرة البكري حدثني أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان موضع البيت في زمن آدم عليه السلام شبرا أو أكثر علما فكانت الملائكة تحج إليه قبل آدم ثم حج آدم فاستقبلته الملائكة قالوا يا آدم من أين جئت ؟ قال : حججت البيت فقالوا : قد حجته الملائكة قبلك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوا لعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے عطار دی نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو سعید بن میسرہ بکری نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : بیت اللہ کی جگہ آدم علیہ السلام کے زمانے میں ایک بالشت تھی یا زیادہ نشان کے اعتبار سے فرشتے اس کی طرف حج کرتے تھے آدم علیہ السلام سے قبل اس کے بعد آدم نے حج کیا اور فرشتوں نے اس کا استقبال کیا تھا ۔ فرشتوں نے پوچھا کہ اے آدم آپ کیسے آئے ہو ؟اس نے جواب دیا کہ میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے ۔ تو فرشتوں ان کو بتایا کہ تجھ سے قبل فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سعيدُ بنُ ميسرةَ البكريُّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 3986

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3987

3987 - و بهذا الإسناد نا يونس عن ثابت بن دينار عن عطاء قال : أهبط آدم بالهند فقال : يا رب ما لي لا أسمع صوت الملائكة كما كنت أسمعها في الجنة ؟ فقال له بخطيئتك يا آدم فانطلق فابن له بيتا تطوف به كما رأيتهم يتطوفون فانطلق حتى أتى مكة فبنى البيت فكان موضع قدمي آدم قرى و أنهارا و عمارة و ما بين خطاه مفاوز فحج آدم عليه السلام البيت من الهند أربعين سنة

اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے یونس نے ان کو ثابت بن دینار نے ان کو عطاء نے اس نے کہا کہ آدم علیہ السلام اتارے گئے تھے ہندوستان میں انہوں نے کہا کہ اے میرے رب کیا بات ہے میں یہاں فرشتوں کی آواز نہیں سن رہا جیسے میں اسے جنت میں سنتا تھا ؟ اے آدم یہ سب تیری خطاء کی وجہ سے ہوا ہے ۔ اب تو جا اس کے لئے ایک گھر تعمیر کر اور اس کا طواف کر جیسے تو نے دیکھے کہ فرشتے اس کا طواف کر رہے ہیں آدم علیہ السلام چل پڑے حتٰی کہ مکے میں آ گئے اور بیت اللہ کو بنایا آدم علیہ السلام کے قدموں کے مقامات پر آج بستیاں آباد یاں اورنہریں یا عمارتیں ہیں اور ان کے قدموں کے درمیان کی جگہ جنگل اور میدان میں آدم علیہ السلام نے ہندوستان سے آکر بیت اللہ کے چالیس سال تک حج کئے ۔

Hadith 3987

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3988

3988 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو محمد السمدي نا محمد بن إسحاق بن خزيمة الإمام عن بعض شيوخه نا أبو بدر شجاع بن الوليد نا زياد بن خيثمة عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن ابن عباس : أن آدم عليه السلام حج على رجليه من الهند أربعين حجة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمن سلمی نے ان کو ابو محمد سمدی نے ان کو محمد بن اسحٰق بن خزیمہ امام نے اپنے بعض شیوخ سے ان کو ابو بدر شجاع بن ولید نے ان کو زیاد بن خثیمہ نے ان کو ابو یحیی ٰ قتات نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے کہ آدم علیہ السلام نے پیدل ہندوستان سے چالیس سال تک حج کئے تھے۔

ابن عباس أن آدم حج على رجليه من الهند أربعين حجة ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← بَعْضِ، شُيُوخِهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ الْإِمَامُ، ← أبو محمد السمدي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 3988

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3989

3989 - أخبرنا أبو ذر بن أبي الحسن بن أبي القاسم المذكر و أبو الحسن علي بن محمد المقرىء قالا نا الحسن بن محمد بن إسحاق المهرجاني أنا محمد بن أحمد بن البراء أنا عبد المنعم بن إدريس حدثني أبي عن جده أبي أمه وهب بن منبه اليماني قال : لما تاب الله على آدم و أمره أن يسير إلى مكة فطوى له الأرض حتى انتهى إلى مكة فلقيته الملائكة بالأبطح فرحبت له و قالت له يا آدم إنا لمستطرك بر حجك أما إنا قد حججنا هذا البيت قبلك بألفي عام و أمر الله جبريل عليه السلام يعلمه المناسك و المشاعر كلها و انطلق به حتى أوقفه في عرفات و المزدلفة و بمنى و على الجمار و أنزل عليه الصلاة و الزكاة و الصوم و الاغتسال من الجنابة و ذكر وهب أن البيت كان على عهد آدم عليه السلام ياقوتة حمراء تلتهب نورا من ياقوت الجنة لها بابان شرقي و غربي من ذهب من تبر الجنة و كان فيها ثلاث قناديل من تبر الجنة فيها نور يلتهب بلهب منظوم بنجوم من ياقوت أبيض و الركن يومئذ نجم من نجومها ياقوتة بيضاء فلم يزل على ذلك حتى كان في عهد نوح عليه السلام و قال في موضع آخر إن خيمة آدم و هي ياقوتة لم تزل في مكانها حتى قبض الله آدم ثم رفعها إليه و بنى بنو آدم في موضعها بيتا من الطين و الحجارة فلما يزل معمورا حتى كان زمن الغرق فرفع من الغرق فوضع تحت العرش و مكثت الأرض خرابا ألفي سنة فلم يزل على ذلك حتى كان زمن إبراهيم عليه السلام فأمره أن يبني بيته فجاءت السكينة إبراهيم عليه السلام كأنها سحابة فيها رأس تتكلم لها وجه كوجه الإنسان فقالت يا إبراهيم : خذ قدر ظلي فابن عليه لا تزد شيئا و لا تنقص فأخذ إبراهيم قدر ظلها ثم بنى هو و إسماعيل البيت و لم يجعل له سقف فكان الناس يلقون فيه الحلي و المتاع حتى إذا كاد أن يمتلىء استعد له خمس نفر ليسرقوا ما فيه فقام كل واحد على زاوية و انقحم الخامس فسقط على رأسه فهلك و بعث الله عند ذلك حية بيضاء سوداء الرأس و الذنب فحرست البيت خمسمائة عام لا يقرب أحد إلا أهلكته فلم يزل كذلك حتى بنته قريش

ہمیں خبر دی ابو ذر بن ابو الحسن بن ابو القاسم واعظ نے اور ابو الحسن علی بن محمد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحٰق مہرجانی نے ان کو محمد بن احمد بن براء نے ان کو خبر دی عبدالمنعم بن ادریس نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو ان کے نانا وہب بن مبہ یمانی نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی اور مکے جانے کا حکم دیا تو زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی وار وہ مکے پہنچ گئے تو فرشتے ملے ان کو وادی ابطح میں انہوں نے ان کوخوش آمدید کہا اور اسے کہا کہ آدم ہم آپ کے حج کی نیکی لکھنے والے ہیں ۔ بہرحال ہم نے اس گھر کا حج کیا تھا دو ہزا رسال قبل تم سے ۔اور اللہ نے جبرائیل علیہ السلام جو حکم دیا تھا کہ وہ آدم علیہ السلام کو حج مناسک اور مشاعر سارے کے سارے سکھلائے اور ساتھ ساتھ لے گئے تھے حتٰی کہ ان کو عرفات میں لا کھڑا کیا اس کو عرفات میں مزدلفہ میں اورمنیٰ میں اور جمرات پر اور ان پر نازل کی نماز ،زکوٰۃ ، روزہ ،غسل جنابت ۔ اور وہب نے ذکر کیا کہ بیت اللہ آدم علیہ السلام کے عہد میں سرخ یاقوت کا بنا ہوا تھا جنت کے یاقوت سے روشنی نکلتی تھی ۔ اس کے دروازے تھے ایک مشرقی دوسرا مغربی دروازہ ٹکڑے جنت کے خالص سونے کے ۔ اور اس میں تین قندیلیں رتھیں جنت کے سونے کی (لالٹین ) ان میں روشنی تھی جو شعلے مارتی تھی جس کی کرنیں ستاروں کی کرنوں سے جڑی ہوئی تھیں ۔ اور وہ یاقوت ابیض سے تھیں اور رکن اس دن ایک ستارہ تھا اسی کے کونوں سے ہے یاقوت سفید ہمیشہ رہا وہ اسی کیفیت پر حتٰی کہ تھا عید نوح علیہ السلام میں اور دوسرے مقام پر کہا ہے کہ بے شک آدم علیہ السلام کا خیمہ یاقوت کا تھا ہمیشہ وہ اپنی جگہ رہتا تھا ۔ حتٰی کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو وفات دے دی پھر اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اولاد آدم نے اس کی جگہ مٹی اور پتھر بنا دیا وہ ہمیشہ آباد رہا یہاں تک کہ غرق کا زمانہ آ گیا۔ پھر وہ غرق ہونے سے اٹھا لیا گیا اور عرش کے پیچھے رکھ دیا گیا ۔ اور دو ہزار سال تک زمین ویران پڑی رہی حتٰی کہ ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آ گیا پھر اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ اللہ کا گھر بنائے پس ایک سکینہ آیا ابراہیم علیہ السلام کے پاس گویا کہ وہ ایک بادل ہے اس میں ایک سر ہے وہ باتیں کرتا ہے اور ایک چہرہ جیسے انسان کا چہرہ اس نے کہا کہ اے ابراہیم میرے سائے کے برابر جگہ لے لو اور اس پر بنیاد رکھو اس سے کم کر اور نہ زیادہ کر کچھ بھی لہذا ابراہیم علیہ السلام نے س کے سائے کے بقدر جگہ لے کر اس پر تعمیر کی وہ اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا ۔ اور اس کی چھت نہیں بنائی لہذا لوگ اس میں زیور اور سامان ڈالتے تھے حتٰی کہ جب بھر جانے کے قریب ہو گیا تو پانچ آدمی اس کو چرانے کے لئے تیار ہو جائے تاکہ جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو چرا لیں ۔ لہذا ہر ایک انسان میں سے اپنے اپنے کونے سے کھڑا ہو گیا پانچواں نے گھسنے کی کوشش کی لہذا وہ سر کے بل گر کر مر گیا ۔اللہ نے اسی وقت ایک سانپ بھیجا جس سر سیاہ تھا ور دم بچی ۔ اس نے پانچ سو سال تک بیت اللہ کی حفاظت کی ۔ جو بھی اس کے قریب آتا وہ اس کو ہلاک کر دیتا ہمیشہ رہا معاملہ اس حالت پر حتٰی کہ قریش نے اس ک بنایا ۔

جده أبي أمه وهب بن منبه اليماني ← أَبِي ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← و أبو الحسن علي بن محمد المقرىء ← أبو ذر بن أبي الحسن بن أبي القاسم الم

Hadith 3989

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3990

3990 - قال : و ذكر عن عطاء عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه سأل كعبا فقال : أخبرني عن هذا البيت ما كان أمره ؟ فقال : إن هذا البيت أنزله الله من السماء ياقوتة مجوفة مع آدم عليه السلام فقال : يا آدم إن هذا بيتي فطف حوله وصل حوله كما رأيت ملائكتي تطوف حول عرشي و تصلي و نزلت معه الملائكة فرفعوا قواعده من حجارة ثم وضع البيت على القواعد فلما غرق الله قوم نوح رفعه الله و بقيت قواعده ذكر وهب أنه قرأ كتابا من الكتب الأولى وجد فيه ذكر أمر الكعبة فذكر أنه ليس من ملك يبعثه الله إلى الأرض إلا أمر بزيارة البيت فينقض من عند العرش محرما يلبي حتى يستلم الحجر ثم يطوف بالبيت أسبوعا ثم يدخل البيت فيركع في جوفه ركعتين ثم يصعد

انہوں نے کہا ۔ اور ذکر کیا گیا ہے عطاء سے اس نے عمر بن خطاب سے کہ انہوں نے حضرت کعب سے پوچھا مجھے اس گھر کے بارے میں بتائیے ۔ اس کا کیا معاملہ تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس گھر کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتار تھا یہ اندر سے خالی یاقوت تھا ۔آدم علیہ السلام کے ساتھ ۔ اللہ نے فرمایا یہ میرا گھر ہے تم اس کے گرد طواف کرنا اور اس کے گرد نماز پڑھنا جیسے تم نے دیکھا کہ فرشتے میرے عرش کے گرد طواف کرتے ہیں ۔ اور نماز پڑھنا ۔ اور اس کے ساتھ فرشتے نازل ہوئے تھے انہوں نے اس کی پتھر کی بنیادیں اٹھائی تھیں ۔ اس کے بعد اس گھر کو ان بنیادوں پر رکھ دیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کیا اللہ نے اس کو اٹھا لیا تھا اور باقی بنیاد یں وہ گئی تھیں ۔وھب نے ذکر کیا کہ اس نے پہلی کتابوں میں سے ایک پڑھی تھی ۔ اس میں اس نے کعبے کے معاملے کا ذکر پایا تھا اس میں یہ مذکور تھا کہ جو فرشتہ بھی زمین پر اترتا ہے تو اس کو حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کرے ۔ لہذا وہ عرش سے احرام باند ھ کر تلبیہ پڑھتے ہوئے اترتا ہے حتٰی کہ حجر اسود کا اتیلام کرتا ہے ۔ پھر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے ایک ہفتے تک اس کے بعد بیت اللہ کے اندر داخل ہوتا ہے اس کے بیچ میں دو رکعت ادا کر کے اوپر چڑھ جاتا ہے ۔

عمر بن الخطاب سأل كعبا ← عَطَاءٍ، ← و،

Hadith 3990

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3991

3991 - أخبرنا أبو نصر عمر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا أبو شعيب الحراني نا داود بن عمرو نا أبو الأحوص سلام بن سليم عن سماك بن حرب عن خالد بن عرعرة قال : أتيت الرحبة فإذا أنا بنفر جلوس قريب من ثلاثين أو أربعين رجلا فقعدت معهم فخرج علينا علي بن أبي طالب رضي الله عنه فما رأيته أنكر أحدا من القوم غيري فقال ألا رجل يسأل فينتفع و ينفع جلساءه قال : فقام رجل فقال : و الذاريات ذروا قال : الريح فما الحاملات وقرا ؟ قال : هي السحاب قال : فما الجاريات يسرا ؟ قال : هي السفن قال : فما المقسمات أمرا ؟ قال : هي الملائكة قال : فما الجواري الكنس ؟ قال : هي الكواكب قال : فما السقف المرفوع ؟ قال : السماء قال : فما البيت المعمور ؟ قال : بيت في السماء يقال له الضراح و هو بحيال الكعبة من فوقها حرمته في السماء كحرمة البيت في الأرض يصلي فيه كل يوم سبعون ألفا من الملائكة لا يعودون فيه أبدا قال : ثم جلس الرجل فقال علي : ألا رجل يسأل فينتفع و ينفع جلساءه ؟ قال : فقام رجل و قال ما العاصفات عصفا ؟ قال : الريح فقال له رجل : ألا تحدثني ماذا البيت أو هو أول بيت وضع في الأرض ؟ قال : لا و لكنه أول بيت وضع فيه البركة مقام إبراهيم و من دخله كان آمنا و إن شئت أنبأتك كيف بني إن الله عز و جل أوحى إلى إبراهيم عليه السلام أن ابن لي بيتا في الأرض فضاق إبراهيم بذلك ذرعا فأرسل الله إليه السكينة و هي ريح حجوج حتى انتهت إلى مكة و تطوفت موضع البيت و أمر إبراهيم أن يبني حيث تستقر السكينة قال : فبنى إبراهيم حيث استقرت السكينة قال : و كان يبني هو و ابنه حتى بلغ موضع الحجر الأسود فقال إبراهيم لابنه ابغني حجرا قال : فذهب الغلام يبني ساقا فقال إبراهيم ابغني حجرا كما أمرتك قال : فذهب الغلام ليلتمس حجرا قال : فأتاه و قد ركب الحجر الأسود و في مكانه فقال له : يا أبه من أتاك بهذا الحجر ؟ قال : أتاني به من لم يتكل على بنائك جاء به جبريل عليه السلام من السماء قال : فبناه فمر عليه الدهر فانهدم فبنته العمالقة قال : فمر عليه الدهر فانهدم فبنته جرهم فمر عليه الدهر فانهدم فبنته قريش و رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ رجل شاب فلما أرادوا أن يرفع الحجر الأسود و اختصموا فيه فقالوا ويحكم بيننا أول رجل يخرج من هذه السكة فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم أول من خرج عليهم فقضى بينهم أن يجعلوه في مرط ثم ترفعه جميع القبائل كلهم

ہمیں خبر دی ابو نصر عمر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن احمد بن حسن سراج نے ان کو شعیب حرزانی نے ان کو داؤد بن عمر نے ان کو احوض سلام بن سلیم نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو خالد بن عر عرہ نے وہ کہتے ہیں میں لان میں آیا تو وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے تقریباً تیس یا چالیس افراد تھے میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا اتنے میں ہمارے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے میرے سوا سب ان کو جانتے تھے اور آکر بولے کیا کوئی آدمی ہے جو کچھ پوچھے؟ وہ خود بھی فائدہ اٹھائے اور اس کے ہم نشین بھی ۔ خالد کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ۔ اس آیت میں کیا مراد ہے ؟ؤالذاریات ذرواً"قسم ہے اڑانے والیوں کی جو اڑاتی ہیں اڑانا"۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔الریح کہ ہوا مراد ہے ۔ پھر اس نے سوال کیا ۔ فلحاملات وقراً کیا چیز ہے ؟ اور قسم ہے بوجھ اٹھانے والیوں کی ۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی السحاب ۔ یہ بادل مراد ہیں ۔ پھر اس بندے نے سوال کیا۔ اس سے کیا مراد ہے ۔ الجاریات یسراًً؟ قسم ہے نرمی اور آسانی سے چلنے والیوں کی ۔اس سے کیا مراد ہے حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی السفن :اس سے کشتیاں مراد ہیں پھر اس نے سوال کیا ۔ اس سے کیا مراد ہے۔المقسمات امراً ؟ قسم ہے امر کو تقسیم کرنے والیوں کی ۔ کیا مراد ہے اس سے ؟ حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی الملائکۃ : یہ فرشتے مراد ہیں۔ پھر اس نے سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ الجواری الکنس ؟ قسم ہے الٹی چلنے والوں کی ۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی الکواکب ۔ یہ ستارے مراد ہیں۔ پھر اس نے سوال کیا ۔اس سے کیا مراد ہے ؟السقف المرفوع ؟قسم ہے اونچی چھت کی ۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔ السماء:آسمان مراد ہے ۔ پھر اس نے سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ البیت المعمور ؟آباد گھر ؟ حضرت علی نے جواب دیا ۔ بیت فی السماء یقال الضراح: یہ آسمانوں میں ایک گھر ہے اس کا نام ضراح ہے وہ عین کعبے کے اوپر سیدھ ہے اور اوپر بالمقابل ہے اس کی حرمت و عزت آسمانوں میں اسی طرح ہے جس طرح زمین پر کعبے کی ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور وہ دوبارہ لوٹ نہیں آتے ۔ یہ سوال کرنے اور ان کے جوابات سننے کے بعد وہ آدمی بیٹھ گیا ۔ اس کے بعد پھر حضرت علی نے کہا اور آدمی ہے جو کچھ پوچھے اور اس کو بھی فائدہ پہنچے اور اس کے ساتھیوں کو بھی ۔ خالد کہتے ہیں کہ پھر ایک آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اور اس نے پوچھا اس آیت سےکیا مراد ہے ۔ فالعاصفات عصفاً ؟ تیروتند چلنے والیاں ۔ اس سے کیا مراد ہے ؟ حضرت علی نے جواب دیا ۔ الریح ۔ ہوا مراد ہے ۔ پھر اس آدمی نے پوچھا کہ کیا مجھے بتائیں گے کہ یہ بیت اللہ کیا ہے ؟ یا یوں کہا کہ کیا پہلا گھر ہے جو زمین پر رکھا گیا ہے ؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ پہلا گھر ہے جس میں برکت رکھی گئی مقام ابراہیم۔ اور ومن دخلہ کان امناً : جو بھی اس میں داخل ہوگا امن میں ہو گا ۔ اگر تم چاہو تو تمہیں میں بتاؤں کہ وہ کیسے بنایا گیا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی کی ۔ کہ میرے لئے زمین پر ایک گھر بناؤ ۔ حضرت ابراہیم کے لئے کام مشکل گذر ا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سکینہ بھیجا نہ ایک گول کرنے اور گھومنے والی ہوا تھی حتٰی کہ وہ مکے میں پہنچی ۔ اور بیت اللہ کے مقام پر گھومنے اور طواف کرنے لگی ۔ اور ابراہیم علیہ السلام کو حکم ملا کہ جس جگہ یہ سکینہ رک جائے پس اسی جگہ وہ بنانا شروع کر دیں ۔ حضرت علی نے فرمایا کہ پھر اسی جگہ ابراہیم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی جہاں وہ ہوا کا بگولا رک گیا تھا ۔ حضرت علی نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل کعبے کو بنانے لگے جب حجر اسود کے مقام تک پہنچے تو حضرت ابراہیم نے بیٹے سے کہا کہ مجھے کوئی پتھر تلاش کر دو ۔ چنانچہ لڑکا جا کر پتھروں کی ایک ڈھیری بنانے لگ گیا ۔ پھر حجرت ابراہیم نے اس سے کہا کہ مجھے پتھر تلاش کر دو جیسا میں نے تمہیں بتایا ہے حضرت علی کہتے ہیں کہ لڑکا تلاش کرنے لگا ۔ جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ حجر اسود اپنے مقام پر دیوار میں رکھا ہوا ہے ۔حضرت اسماعیل نے پوچھا کہ ابا جان یہ پتھر کون لایا ہے آپ کے پاس ؟ حضرت ابراہیم نے جواب دیا میرے پاس اس کو وہ لایا ہے جو تیری بنیاد اور تعمیر پر اسراً نہیں کرتا ۔ اس کو جبرائیل آسمان سے لائے ہیں ۔علی نے کہا کہ اس نے اس کو بنایا اور اس بنا پر ایک زمانہ غزر گیا ۔ پھر وہ عمارت منہدم ہو گئی پھر اس کو قبیلہ جرہم نے تعمیر کیا پھر اس پر زمانہ بیت گیا تھا کہ پھر عمارت منہدم ہو گئی پھر اس کو قریش نے تعمیر کیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم جان آدمی تھے ۔ جب حجر اسود اٹھا کر رکھنے کا وقت آیا تو قریش کا اس بارے میں باہم جھگڑا ہو گیا ۔(حجر اسود کو نصب کرنے کی سعادت ہر قبیلہ خود حاسل کرنا چاہتا تھا ) اور پھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کل جو شخص یہاں ٌپہلے موجود ہو ا وہ نصب کا فیصلہ کرے گا لہذا اگلے دن پہلے شخص رسول اللہ تھے جو وہاں آئے لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ان کے مابین فیصلہ کیا کہ وہ اس کو ایک چادر میں رکھیں پھر اس کو تمام قبائل کے لوگ مل کر اٹھائیں اور اس کو اوپر رکھ دیں چنانچہ سب نے ایسے ہی کیا ۔ جھگڑا ختم ہو گیا اور حجر اسود نصب بھی ہو گیا ۔

خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أبو نصر عمر بن قتادة

Hadith 3991

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3992

3992 - و روينا من وجه آخر عن سماك فقال : فقال في السكينة لها رأس و قال ثم تطوفت موضع البيت تطوف الحية و قال في آخره فرفعوه و أخذه رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعه

اور ہم نے روایت کی ہے دوسرے سے سماک سے انہوں نے کہا کہ سکینہ کیا تھی اس کا ایک سر تھا ۔ وہ گھومنے لگی بیت اللہ کے مقام پر جیسا سانپ کنڈلی مارتا ہے ۔اس روایت کے آخر میں ہے کہ سب نے حجر اسود کو اٹھا اور پھر رسول اللہ نے خود اس کو اٹھا کر اپنی جگہ پر رکھ دیا ۔

ثم تطوفت موضع البيت تطوف الحية و ← في السكينة لها رأس و ← سِمَاكٍ، ← و روينا من وجه آخر

Hadith 3992

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3993

3993 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم بن أبي إياس نا حماد بن سلمة نا ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البيت المعمور في السماء السابعة يدخله كل يوم سبعون ألف ملك ثم لا يعودون إليه حتى تقوم الساعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا کہ بیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتےحتٰی کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 3993

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3994

3994 - و بإسناده نا آدم نا شيبان نا قتادة عن مسلم بن أبي الجعد عن سعدان بن أبي طلحة عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : البيت المعمور بيت في السماء بحيال الكعبة لو سقط سقط عليها يصلي فيه كل يوم سبعون ألف ملك و الحرم حرم بحياله إلى العرش و ما من السماء موضع أهاب إلا و عليك ملك ساجد أو قائم

اور اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے آدم نے ان کو شیبان نے ان کو قتادہ نے ان کو مسلم بن بوالجعد نے ان کو سعدان بن ابو طلحٰہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ بیت العمور ساتویں آسمان پر ایک گھر ہے کعبے کی سیدھ میں اگر گر جائے تو بالکل کعبے کے اوپر گرے گا اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں زمین پر جو حرم سے اس کے بالمقابل اوپر بھی حرم ہے عرش تک اور آسمان میں کہیں ایک چمڑے کی جگہ خالی نہیں مگر وہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدہ کر رہا ہے یا کھڑے ہو کرعبادت کر رہا ہے ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← سَعْدَان بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مسلم بن أبي الجعد ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← و بإسناده

Hadith 3994

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood