Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4187

4187 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا إسماعيل الصفار نا سعدان بن نصر نا سفيان بن عيينة عن عبد الله بن دينار قال : لم يكن ابن عمر يصلي الضحى إلا أن يأتي مسجد قباء يصلي فيه لأن النبي صلى الله عليه و سلم كان يأتيه كل سبت أخرجه مسلم في الصحيح من حديث سفيان دون ذكر صلاة الضحى

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عبداللہ بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ چاشت کی نماز مسجد قبا میں ہی پڑھتے اس کے علاوہ نہیں پڑھتے تھے اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہر ہفتے کے روز قبا میں ہی تشریف لاتے تھے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ۔ صحیح میں حدیث سفیان سے مگر صلوٰۃ ضحیٰ کا ذکر نہیں کیا ۔

لم يكن ابن عمر يصلي الضحى إلا ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 4187

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4188

4188 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا محمد بن عبيد عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأتي قباء ماشيا و راكبا أخرجاه في الصحيح من حديث عبيد الله بن عمر و زاد فيه عبد الله بن نمير عن عبيد الله بن عمر فصلى ركعتين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے آخر ین میں ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو عبیداللہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مسجد قباء میں پیدل بھی تشریف لاتے تھے اور سواری پر بھی ۔ بخاری و مسلم نے ا س کو نقل کیا ہے ۔ عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے ۔ اور انہوں نے اس میں زیادہ کیا ہے عبداللہ بن نمیر کو ۔ عبیداللہ بن عمر سے انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھی ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ ← و،

Hadith 4188

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4189

4189 - أخبرنا أبو ذر الهروي نا محمد بن عبد الله بن محمد بن حميرويه نا محمد بن عبد الله بن نمير نا أبي نا عبيد الله : فذكره بزادته غير أنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتي مسجد قباء أخرجاه في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو ذر ہروی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد حمیرویہ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن غیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا اپنے اضافے کے ساتھ سوائے اس کے کہ اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مسجد قبا تشریف لاتے تھے ۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے ۔

عبيد الله فذكره بزادته غير أنه ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← محمد بن عبد الله بن محمد بن حميرويه ← أَبُو ذَرٍّ الْهَرَوِيُّ،

Hadith 4189

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4190

4190 - أخبرنا أبو ذر الهروي أنا العباس بن الفضل بن زكريا نا الحسين بن إدريس نا هارون بن عبد الله البغدادي نا أبو أسامة حدثني عبد الحميد بن جعفر حدثني أبو الأمرد مولى بني خطمة أنه سمع أسيد بن ظهير الأنصاري : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صلاة في مسجد قباء كعمرة قال الشيخ و قد أخرجته عاليا في آخر كتاب الحج من كتاب السنن و روي ذلك عن ابن عمر و سهل بن حنيف عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو ذر ہروی نے ان کو عباس بن فضل بن زکریا نے ان کو حسین بن ادریس نے ان کو ہارون بن عبداللہ بغدادی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عبدالحمید بن جعفر نے ان کو ابو الامردمولیٰ بنی خطمہ نے کہ انہوں نے سنا تھا اسید بن ظہیر انصاری سے انہوں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے : مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرہ کرنے کی مثل ہے ۔شیخ احمد بیہقی نے کہا کہ میں اس روایت کو نقل کیا ہے مسند عالی کے ساتھ کتاب الحج کے آخر میں ۔۔ کتاب السنن میں اور یہ روایت کیا گیا ہے ابن عمر سے اور سہل بن حنیف سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

أبو الأمرد مولى بني خطمة ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← هارون بن عبد الله البغدادي ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← العباس بن الفضل بن زكريا ← أَبُو ذَرٍّ الْهَرَوِيُّ،

Hadith 4190

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4191

4191 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين محمد بن أحمد القنطري ببغداد و عبد الله بن الحسين القاضي بمرو قالا : نا الحارث بن أبي أسامة نا محمد بن عيسى الطباع نا مجمع بن يعقوب حدثني محمد بن سليمان الخزامي قال : سمعت أبا أمامة بن سهل بن حنيف يحدث عن أبيه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من خرج حتى يأتي هذا المسجد يعني مسجد قباء فيصلي فيه كانت كعدل رقبة و رواه يوسف بن طهمان عن أبي إمامة بن سهل عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه و زاد فمن خرج على طهر لا يريد إلا مسجدي هذا يريد مسجد المدينة ليصلي فيه كانت له بمنزلة حجة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو امامہ بن سہل نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اسی کے مفہوم میں اور زیادہ کیا ہے جو شخص وضو کے ساتھ نکلا اور اس کا ارادہ صرف میری اسی مسجد میں آنے کا تھا ( مسجد مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے ) اس میں نماز پڑھنے کے لئے وہ نماز اس کے لئے بمنزلہ حج کے ہو گی ۔

أَبِيهِ ← أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخِزَامِيُّ، ← مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عيسى الطباع ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أبو الحسين محمد بن أحمد القنطري ببغداد و عبد الله بن الحسين القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4191

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4192

4192 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا أبو أحمد الفرا نا جعفر بن عون أنا المعلى بن عرفان قال : سمعت أبا وائل يقول : سمعت أبا هريرة يقول : ركاب كثير و حاج قليل

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو ابو احمد فراء نے ان کو جعفر بن عون ان کو معلیٰ بن عرفان نے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا ابو واثل سے انہوں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے سوار تو بہت ہیں مگر حقیقت میں حج کرنے والے کم ہیں ۔

ركاب كثير و حاج قليل ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْمُعَلَّى بْنِ عُرْفَانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أبو أحمد الفرا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 4192

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4193

4193 - أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ نا محمد بن عبد الله الشافعي نا محمد بن يونس نا الأصمعي قال : دعا أعرابي بمكة فقال اللهم لا تمنعني خير ما عندك بسوء ما عندي و إن كنت لم تقبل تعبي و نصبي فلا تحرمني أجر المصاب على مصيبته

ہمیں خبر دی ابو الفتح محمد بن احمد بن ابو الفوارس حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو محمد یونس اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مکے میں دعا کر رہے تھے ۔ اے اللہ میرے پاس جو برائی ہے اس کی وجہ سے اس خیر کو مجھ سے تم نہ روک لینا جو تیرے پاس ہے اور اگر تو میری مشقت کو قبول نہیں کرتا تو تو مجھے اس اجر سے محروم نہ کر جو اس کی مصیبت پر ملتا ہے ۔

دعا أعرابي بمكة ← الْأَصْمَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← محمد بن عبد الله الشافعي ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ

Hadith 4193

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4194

4194 - و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة نا أبو العباس أحمد بن الحسن بن إسحاق الداري إملاء نا علي بن محمد بن إسماعيل بن يونس الرقاشي نا عبد الملك بن قريب الأصمعي قال : سمعت إعرابيا بعرفات يقول اللهم لا تحرمني أجر تعبي و نصبي فإن حرمتني ذلك فلا تحرمني أجر المصاب على مصيبته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو العباس احمد بن حسن بن اسحٰق داری نے بطور املاء کے ان کو علی بن محمد بن اسماعیل بن یونس رقاشی نے ان کو عبدالملک بن قریب اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک اعرابی سے جو کہ عرفات میں کہہ رہے تھے ۔ اے اللہ میری تکلیف اور مشقت کرنے کی اجر سے مجھے محروم نہ کر اگرتو محروم نہ کر جو اس کی مصیبت جھیلنے پر مجھے ملنا ہے ۔

إعرابيا بعرفات ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، ← علي بن محمد بن إسماعيل بن يونس الرقاشي ← أبو العباس أحمد بن الحسن بن إسحاق الداري إملاء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظَيفٍ بِمَكَّةَ، ← و،

Hadith 4194

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4195

4195 - قال : و نا الأصمعي قال : قال أعرابي : اللهم اغفر لي ما سلف من ذنوبي و إن عدت إلى شيء من معاصيك فعد علي برحمتك إنك أهل ذلك

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے دعا کی اے اللہ میرے سابقہ گناہ معاف کر دے اور اگر میں دوبارہ تیری کوئی نافرمانی اور گناہ کروں تو دوبارہ بھی میری مغفرت کر اپنی رحمت کے ساتھ بے شک آپ اس کے اہل ہیں ۔

الْأَصْمَعِيُّ ← و،

Hadith 4195

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4196

4196 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا إبراهيم بن أحمد بن فراس بمكة نا الفضل بن محمد نا إسحاق بن إبراهيم الطبري قال : وقفت مع الفضيل بن عياض بعرفات فلم أسمع من دعائه شيئا إلا أنه واضع يده على خده و اضع رأسه يبكي خفيا فلم يزل كذلك حتى أفاض الإمام فرفع رأسه إلى السماء و قال : و اسوأتاه و الله منك و إن عفوت ثلاث مرات

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابراہیم بن احمد بن فراس نے مکہ میں ان کو فضل بن محمد نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم طبری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کے دوران حضرت فضیل بن غیاض کے ساتھ عرفات کا وقوف کیا میں نے ان کی دعامیں سے کچھ نہ سنا مگر وہ اپنا ہاتھ اپنے رخسار پر رکھے اپنا سر جھکائے خاموش رونا روتے رہے برابر ایسے ہی رہے حتیٰ کہ امام حج نے واپس منیٰ کی طرف روانگی کی ۔لہذا انہوں نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگے ۔ ہے اس کو بس میری برائیاں اللہ کی قسم تجھ سے امید ہے اگر تو معاف کر دے تین بار یہی کہا ۔

إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّبَرِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إبراهيم بن أحمد بن فراس ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 4196

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4197

4197 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو سعيد أحمد بن محمد الترمذي نا محمد بن يوسف البخاري قال : سمعت عباد بن الوليد يقول : سمعت محمد بن الحكم يقول : سمعت ابن عيينة يقول : سمعت أعرابيا بعرفة يقول : عجت الأصوات بلغات مختلفات يسألونك الحاجات و حاجتي إليك أن تذكرني عند البلى إذا نسيني أهل الدنيا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید احمد بن محمد ترمذی نے ان کو محمد بن یوسف بخاری نے انہوں نے سنا عباد بن ولید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن حکم سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابن عینیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک اعرابی سے سنا عرفہ میں وہ کہہ رہا تھا ۔ مختلف زبانوں میں آوازوں کا شور ہے سب کے سب تجھ سے حاجات طلب کر رہے ہیں ۔ اور میری حاجت بھی تیرے آگے پیش ہے وہ یہ ہے کہ تم مصیبت کے وقت مجھے یاد رکھنا جب مجھے دنیا والے بھلا دیں ۔

أعرابيا بعرفة ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَکَمِ ← عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ← محمد بن يوسف البخاري، ← أبو سعيد أحمد بن محمد الترمذي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4197

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4198

4198 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر إسماعيل بن محمد الضرير بالري يقول : سمعت ( ) يقول سمعت الأصمعي يقول : رأيت أعرابيا متعلقا بأستار الكعبة و هو يقول : اللهم إن كان حلق وجهي عندك لكثرة معاصي لك فهبني لمن رضيت من خلقك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو بکر اسماعیل بن محمد ضریر سے ری میں انہوں نے سنا اصمعی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ وہ کعبہ کے پردے سے لٹکے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے اے اللہ اگر میری طرف سے میری کثرت نافرمانی کی وجہ سے تیرے نزدیک میری عزت ختم ہو چکی ہے تو اپنی مخلوق میں تو جس کو پسند کرے مجھے اس کو ہبہ کر دے اور دے دے ۔(یقیناً آپ کا مجھ کو کسی کے حوالے کرنا آپ کو پسند نہیں ہو گا ۔ )

رأيت أعرابيا متعلقا بأستار الكعبة و هو ← الْأَصْمَعِيُّ ← أبا بكر إسماعيل بن محمد الضرير بالري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4198

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood