Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4175

4175 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي من أصله نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي يقول : حدثني ربيعة بن مزيد و يحيى بن أبي عمرو الشيباني قالا : نا عبد الله بن فيروز الديلمي قال : دخلت على عبد الله بن عمرو بن العاص فذكر الحديث قال عبد الله بن عمرو : و سمعته يعني النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن سليمان بن داود عليهما السلام سأل ربه فأعطاه اثنين و نحن نرجو أن يكون قد أعطاه الثلاث سأله حكما يصادف حكمه فأعطاه إياه و سأله ملكا لا ينبغي لأحد من بعده فأعطاه إياه و سأله أيما رجل خرج من بيته لا يزيد إلا الصلاة في هذا المسجد يعني بيت المقدس أن يخرج من خطيئته مثل يوم ولدته أمه فنحن نرجو أن يكون قد أعطاه إياه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اسحٰق بن محمد بن یوسف طوسی نے اپنی اصل کتاب سے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن فرید نے ان کو خبر دی ان کے والد نے انہوں نے سنا اوزاعی سے وہ کہتے تھے کہ ان کو حدیث بیان کی ربیعہ بن فرید نے اور یحییٰ بن ابو عمرو شیبانی نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے عبداللہ بن فیروز دیلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا عبداللہ بن عمرو العاص کے پاس ۔ اس نے حدیث ذکر کی ۔ عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ بے شک سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگی تھی اللہ نے اس کو دو عطا کیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ نے اس تینوں عطا کر دی ہو ں گی ۔ انہوں نے اللہ سے یہ مانگا تھا کہ ایسا فیصلہ کرنے کی قوت عطا کر جو اللہ کے حکم کے مطابق ہو اللہ نے یہ چیز ان کو عطا کردی اور یہ مانگا تھا کہ ایسی حکوامت عطا ء کر جو ان کے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو یہ بھی اللہ نے ان کو دے دی اور تیسری یہ دعا مانگی تھی کہ جو آدمی اس کے گھر سے مسجد بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لئے نکلے گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے جیسے اس کو ماں نے ابھی جنا ہے ۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ دعا بھی اللہ نے ان کی مان لی ہو گی ۔

يعني النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الله بن عمرو و ← الْحَدِيثَ. ← دخلت على عبد الله بن عمرو بن العاص ← عَبد الله بن فيروز الديلمي، ← ربيعة بن مزيد و يحيى بن أبي عمرو الشيباني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي من أصله

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4175

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4176

4176 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا عبد الله بن بحر الخلال نا روح بن عطية أبو الوليد نا سعيد بن عبد العزيز الدمشقي و عثمان بن عطاء عن زياد بن أبي سودة عن ميمونة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من لم يأت بيت المقدس فصلى فليبعث بزيت يسرج فيه

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان بغدادی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن بحر ہلال نے ان کو روح بن عطیہ ابو الولید نے ان کو سعید بن عبدالعزیز دمشقی نے اور عثمان بن عطاء نے ان کو زیادہ بن ابو سودہ نے میمونہ زوجہ رسول سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس نہ جا سکے کہ وہاں نماز پڑھے ۔ اسے چائیے کہ وہ تیل بھیج دے جس کے ساتھ اس میں چراغ جلایا جائے ۔

ميمونة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ← سعيد بن عبد العزيز الدمشقي و عثمان بن عطاء ← روح بن عطية أبو الوليد ← عبد الله بن بحر الخلال ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4176

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4177

4177 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد نا محمد بن إسحاق الثقفي قال : سمعت أبا إسحاق القرشي يقول : كان عندنا رجل بالمدينة إذا رأى منكرا لا يمكنه أن يغيره أتى القبر فقال : ( أيا قبر النبي و صاحبيه ألا يا غوثنا لو تعلمونا )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو محمد بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحاق ثقفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو اسحٰق قرشی سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس مدینے میں ایک آدمی تھا وہ جس وقت کوئی غلط اور منکر کام دیکھ لیتا مگر اس کو رد کر دینے اور بدل دینے کی سکت بھی نہ رکھتا تو وہ قبر رسول پر آکر شعر کہتا "ایا قبر النبی وصاحبیہ ""الایاغوثنا لو تعلمون " آگاہ ہو جا اے قبر نبی اور اے قبر رفیقین نبی اگر تم جانتے ہو تو ہماری فریاد سننے والو سنو آگاہ ہو جاؤ ۔

أَبَا إِسْحَاقَ الْقُرَشِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4177

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4178

4178 - أخبرنا أبو علي الروذباري نا عمرو بن محمد بن عمرو بن الحسين بن بقية املاء نا سكر الهروي نا أبو زيد الرقاشي عن محمد بن روح بن يزيد البصري حدثني أبو حرب الهلالي قال : حج أعرابي فلما جاء إلى باب مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم أناخ راحلته فعلقها ثم دخل المسجد حتى أتى القبر و وقف بحذاء وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : السلام عليك يا رسول الله ثم سلم على أبي بكر و عمر ثم أقبل على رسول الله فقال بأبي و أنت و أمي يا رسول الله جئتك مثقلا بالذنوب و الخطايا مستشفعا بك على ربك لأنه قال في محكم كتابه : { ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما } و قد جئتك بأبي و أنت و أمي مثقلا بالذنوب و الخطايا أستشفع بك على ربك أن يغفر لي ذنوبي و أن تشفع في ثم أقبل في عرض الناس و هو يقول : ( يا خير من دفنت في الأرض أعظمه فطاب من طيبه الأبقاع و الأكم ) ( نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه فيه العفاف و فيه الجود و الكرم ) و في غير هذه الراوية فطاب من طيبه القيعان و الأكم

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو عمرو بن محمد بن عمرو بن حسین بن بقیہ نے بطور املاء کے ان کو سکر ہروی نے ان کو ابو زید رقاشی نے ان کو محمد بن روح بن یزید بصری نے ان کو حدیث بیان کی ابو حرب بلال نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے حج کیا جب وہ مسجد نبوی کے دروازے پر آئے تو اس نے اپنی سواری بیٹھائی اور اس کے پیروں میں رسی ڈالی پھر وہ مسجد میں داخل ہو گئے ۔ یہاں تک کہ وہ قبر رسول پر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے چہرے کے بالمقابل کھڑے ہوئے اور بولے السلام علیک یا رسول اللہ ۔ اس کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام کہا اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اس کے بعد وہ رسول اللہ کی طرف منہ کر کے کہنے لگے میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان جائیں یا رسول اللہ میں گناہوں اور خطاؤں کے بوجھ سے لدا ہوا ہوں بوجھل ہو رہا ہوں تیرے رب کے پاس تجھے سفارشی بناتا ہوں کیونکہ اس نے اپنی محکم کتاب میں یہ فرمایا ہے ۔" ولوانھم اذظلمو انفسھم جاؤ ک فاستغفر وا اللہ واستغفر لھم الرسول لو جدو ا اللہ تواباً رحیماً "اگر وہ لوگ جب کہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھے تو تیرے پاس آجاتے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ہی ان کے لئے معافی مانگتا تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پا لیتے ۔اور حال یہ ہے کہ میں بھی آپ کے پاس آیا ہوں میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان میں گناہوں اور خطاؤں سے لدا ہوا ہوں آپ سے شفاعت کا طلب گار ہوں آپ کے رب کے آگے کہ وہ میرے گناہ معاف کر دے اور یہ کہ آپ میرے بارے میں سفارش کریں ۔ اس کے بعد وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا ۔ اور یہ کہہ رہے تھے ۔"یا خیر من دفنت فی الارض اعظمہ ""فطاب من طیبہ الا بقاع والا کم "اے وہ بہترین ہستی زمین میں جس کی ہڈیاں مدفون ہیں زمین کے خطے اور ٹیلے اور پہاڑ ان کی خوشبو سے مہک رہے ہیں ۔"نفسی الفدا ء لقبر انت ساکنہ ""فیہ العفاف وفیہ الجودو الکرم " میری روح فدا ہو جائے اس قبر پر جس میں آپ رہتے ہیں اور حقیقت پاکدامنی ، سخاوت اور مہربانی وہیں آرام فرماہیں ۔ اس روایت کے علاوہ دوسری میں ہے :فطاب من طیبہ القیعان والاکم ۔ان کی خوشبو سے معطر ہیں میدان اور ٹیلے (یا پہاڑ ) ۔

أبو حرب الهلالي ← محمد بن روح بن يزيد البصري ← أبو زيد الرقاشي ← سكر الهروي ← عمرو بن محمد بن عمرو بن الحسين بن بقية ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4178

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4179

4179 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء نا محمد بن يعقوب الأصم نا محمد بن عبيد الله بن المنادي نا شجاع بن الوليد عن هاشم بن هاشم عن أبي صالح مولى الساعديين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجالا يستنفرون بعشائرهم يقولون الخير و الخير و المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون و الذي نفس محمد بيده لا يصبر على لأوائها و شدتها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا أو هما جميعا يوم القيامة و الذي نفس محمد بيده إنها لتنفي خبث أهلها كما ينفي الكير خبث الحديد و الذي نفس محمد بيده لا يخرج منها أحد راغبا فيها إلا أبدلها الله خيرا منه

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو محمد بن یعقوب اصم نے ان کو محمد بن عبیداللہ بن منادی نے ان کو شجاع بن ولید نے ان کو ہاشم بن ہاشم نے ان کو ابو صالح مولی ساعد یین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا بے شک کچھ لوگ نکلتے ہیں اپنے خاندانوں کے ساتھ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم خیر طلب کرتے ہیں حالانکہ خیر اور مدینہ خیر ہے بہتر ہے ان کے لئے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ جو شخص مدینے کی تکلیفوں پر اور اس کی سختی پر صبر کرتاہے میں اس کے لئے گواہ ہوں گا یا کہا تھا کہ میں سفارشی ہوں گا یا دونوں باتیں اکٹھی ہوں گی قیامت کے دن ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی جان ہے جو شخص مدینے سے نکلتا مدینے سے رغبت رکھنے والا اللہ اس کے لئے اس جگہ سے بہتر جگہ اس کے لئے بدل دیتے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي صالح مولى الساعديين ← هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4179

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4180

4180 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي محمد بن أحمد الصواف نا الحسن بن علي بن الوليد الفارسي أنا أبو الحسن خلف بن عبد الحميد نا أبو الصباح عبد الغفور بن سعيد الأنصاري عن أبي هاشم الرهان عن زاذان عن سلمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من مات في أحد الحرمين استوجب شفاعتي و جاء يوم القيامة من الآمنين عبد الغفور هذا ضعيف و روي بإسناد آخر أحسن من هذا كما

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی محمد بن احمد صواف نے ان کو حسن بن علی بن ولید مارسی نے ان کو ابوالحسن خلف بن عبدالحمید نے ان کو ابو الصباح عبدالغفور بن سعید انصاری نے ان کو ابو ہاشم رہان نے ان کو زاذان نے ان کو سلمان نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے آپ نے فرمایا جو شخص دو میں سے ایک حرم میں انتقال کر جائے وہ میری شفاعت کو(اپنے لئے )لازم کر لیتا ہے ۔ یا اپنے لئے واجب کرا لیتا ہے ۔ اور قیامت کے دن آئے گا امن والوں میں سے ۔ عبدالغفور یہ ضعیف ہے ۔اور یہ روایت ایک دوسری اسناد کے ساتھ مروی ہے جو اس سے احسن ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← سَلْمَانَ ← زَاذَانَ ← أبي هاشم الرهان ← أَبُو الصَّبَّاحِ عَبْدُ الْغَفُورِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← أبو الحسن خلف بن عبد الحميد ← الحسن بن علي بن الوليد الفارسي ← أبو علی: محمد بن أحمد الصواف، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4180

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4181

4181 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا أبو الأزهر نا زيد بن الحباب عن عبد الله بن المؤمل المخزومي عن أبي الزبير عن جابر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مات في أحد الحرمين بعث آمنا

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو ابو الازھر نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عبداللہ بن مؤمل مخزومی نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جو شخص دو میں سے ایک حرم میں فوت ہو جائے وہ امن والا اٹھایا جائے گا ۔

من مات في أحد الحرمين بعث آمنا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيِّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4181

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4182

4182 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر القطان نا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي نا عبد الغفار بن عبيد الله القرشي حدثني صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله أنه حدثه عن الصميتة : أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من استطاع أن يموت بالمدينة فليمت فمن مات بالمدينة كنت له شفيعا و شهيدا قال الشيخ أحمد و كذلك رواه إبراهيم بن حميد الطويل عن صالح بن أبي الأخضر

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو علی بن حسین ابو عیسیٰ ہلالی نے ان کو عبدالغفار بن عبداللہ قرشی نے ان کو صالح بن ابو الاخضر نے ان کو زہری نے ان کو عبیدا للہ نے کہا اس نے ان کو حدیث بیان کی ہے صمیتہ سے اس نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ فرماتے تھے ۔ جو شخص استطاعت رکھے کہ وہ مدینے میں مر جائے اسے چائیے کہ وہ مدینے میں ہی مرے اور جو شخص مسلمان مدینے میں مر جائے میں اس کے لئے شفاعت بھی کروں گا اور گواہی بھی دوں گا ۔شیخ احمد بیہقی نے فرمایا اس طرح اس کو روایت کیا ہے ابراہیم بن حمید طویل نے ان کو صالح بن ابو الاخضر نے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← عبد الغفار بن عبيد الله القرشي ← علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4182

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4183

4183 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك و ابن ملحان و اللفظ لابن ملحان نا يحيى بن بكير نا الليث حدثني يونس عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن الصمتية امرأة من بني الليث بن بكر كانت في حجر رسول الله صلى الله عليه و سلم سمعتها تحدث يعني عن صفية بنت أبي عبيد : أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من استطاع منكم أن يموت بالمدينة فليمت فإنه من يمت بها يشفع له أو يشهد له قال : ثم لقيت عبد الله بن عبد الله فسألته عن حديثها فحدثته عن الصميتة قال أحمد لم يضبط إسناده كما ينبغي فقال : عن صفية بنت أبي عبيد و هو خطأ و عبيد الله و عبد الله هما ابنا عبد الله بن عمر بن الخطاب و رواه الداوردي عن أسامة بن زيد عن عبد الله بن عكرمة عن عبد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب عن أبيه غير أنه قال : عن سبيعة الأسلمية و هو خطأ إنما هو عن صميتة و ذكر فيه زيادة الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے علی ابن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ااور ابن ملحان نے اور یہ الفاظ ابن ملحان کے ہیں ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو صمیتہ نے یہ ایک خاتون ہیں ۔ بنو لیث بن بکر سے یہ رسول اللہ کی پرورش میں تھی ۔ اس نے سنا تھا اس کو حدیث بینا کرتی تھی صفیہ بنت ابو عبید سے کہ اس نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے : تم میں سے جو شخص استطاعت رکھ سکتا ہے کہ وہ مدینے میں فو ت ہو تو اس کو مدینے میں فوت ہونا چائیے ۔ اس لئے کہ جو مدینے میں فوت ہو گا اس کی شفاعت کی جائے گی یا کہا کہ گواہی دی جائے گی ۔وہ کہتے ہیں کہ پھر میں ملا عبداللہ بن عبداللہ سے پھر میں نے اس سے پوچھا اس کی حدیث کے بارے میں لہذا اس نے ان کو حدیث بیان کی صمیتہ سے ۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا کہ اس کی اسناد ضبط نہیں کی گئی۔ جیسے مناسب ہے بس اس نے کہا کہ اس نے روایت کی ہے صفیہ بنت ابو عبید سے ۔ حالانکہ وہ غلط ہے اور عبداللہ اور عبداللہ دونوں بیٹے ہیں عبداللہ بن عمر بن خطاب کے اور اس کو روایت کیا ہے دراوردی نے اسامہ بن زید سے اس نے عبداللہ بن عکرمہ سے اس نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے ۔ اس نے اپنے والد سے ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ مروی ہے سبیعہ اسلمیہ سے حالانکہ وہ غلط ہے بلکہ وہ مروی ہے صمیتہ سے اور اس نے اس میں زیادہ کو ذکر کیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4183

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4184

4184 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصبعي نا الحسين بن علي بن زياد حدثني ابن أبي أويس حدثني عبد العزيز بن محمد الدراوردي و أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا يحيى بن محمد الحارثي نا عبد العزيز بن محمد عن أسامة بن زيد عن عبد الله بن عكرمة عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن سبيعة الأسلمية : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من استطاع منكم أن يموت بالمدينة فليمت فإنه لن يموت بها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة قال الشيخ أحمد و في رواية إسماعيل بن أبي أويس عن عبد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب قال : فإنه لا يموت فيها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحاق صبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیادہ نے ان کو ابن ابواویس نے ان کو عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے اور ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو عبداللہ بن محمد اسحاق فاکھی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مرہ نے ان کو یحییٰ بن محمد حارثی نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو اسامہ بن زید نے ان کو عبداللہ بن عکرمہ نے ان کو عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر نے اس نے اپنے والد سے اس نے سبیعہ اسلمیہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جو شخص تم میں سے استطاعت رکھتا ہے کہ وہ مدینے میں جا کر مرے تو اسے چائیے کہ وہاں جا کر انتقال کرے اس لئے کہ جو بھی مدینے میں انتقال کرے گا اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا قیامت کے دن سفارشی بنوں گا قیامت کے دن ۔شیخ احمد بیہقی نے فرمایا کہ ایک روایت میں ہے اسماعیل بن ابو اویس سے اس نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جو بھی مدینے میں انتقال کرے گا میں اس کا گواہ یا اس کا قیامت کے دن سفارشی ہوں گا ۔

سبيعة الأسلمية ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي و ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ← أبو العباس محمد بن إسحاق الصبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4184

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4185

4185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن السماك نا عبد الرحمن بن محمد بن منصور نا معاذ بن هشام نا أبي عن أيوب عن نافع عن ابن عمر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من استطاع أن يموت بالمدينة فليمت فإني أشفع لمن يموت بها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو معاذ بن ہشام نے ان کو ان کے والد نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ رسول اللہ نے فرمایا :جو استطاعت رکھے مدینے میں انتقال کرنے کی وہ وہاں انتقال کرے بے شک اس کے لئے شفاعت کروں جو وہاں انتقال کرے گا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4185

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4186

4186 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر نا أحمد بن الحسين بن نصر الحدا نا الصلت بن مسعود نا سفيان بن موسى و كان ثقة قال أيوب : عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استطاع أن يموت بالمدينة فليمت فإنه من مات بالمدينة شفعت له يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو احمد بن حسین بن نصر الحدا نے ان کو صلت بن مسعود نے ان کو سفیان بن موسیٰ نے اور وہ ثقہ راوی تھے اور ایوب نے کہا انہوں نے نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جو شخص یہ کر سکتا ےہ کہ مدینے میں انتقال کرے ۔ اسے چائیے کہ وہ ضرور کرے بے شک جو شخص مدینے میں انتقال کرے قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سفيان بن موسى و كان ثقة ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ← أحمد بن الحسين بن نصر الحدا ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4186

chevron_left Previous
1…17181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood