Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4163

4163 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا حامد بن محمد بن عبد الله الهروي نا محمد بن يونس القرشي نا عبد الله بن يونس بن عبيد نا أبي عن محمد بن المنكدر قال : رأيت جابرا و هو يبكي عند قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يقول : ها هنا تسكب العبرات سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما بين قبري و منبري روضة من رياض الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حامد بن محمد بن عبداللہ ہروی نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو عبداللہ بن عبید نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن منکدر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر کو دیکھا کہ وہ قبر رسول کے پاس رو رہے تھے ۔ اور وہ کہہ رہے تھے کہ یہاں پر آنسو جھلک جاتے ہیں ۔ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ فرما رہے تھے جو کچھ جگہ بھی ہے میری قبر کے او ر میرے منبر کے درمیان وہ باغ ہے جنت کے باغوں میں سے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ← محمد بن يونس القرشي ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4163

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4164

4164 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني الحسن بن الصباح نا معن نا عبد الله بن منيب بن عبد الله بن أبي أمامة عن أبيه قال : رأيت أنس بن مالك أتى قبر النبي صلى الله عليه و سلم فوقف فرفع يديه حتى ظننت أنه افتتح الصلاة فسلم على النبي صلى الله عليه و سلم ثم انصرف

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو رعمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حسن بن صباح نے ان کو معن نے ان کو عبداللہ بن منیب بن عبداللہ بن ابو امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک کو دیکھا کہ وہ قبر رسول پر آئے اور کھڑے ہو گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے تو مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ نماز شروع کر رہے ہیں مگر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر سلام پڑھا اس کے بعد وہ ہٹ گئے۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن منيب بن عبد الله بن أبي أمامة ← مَعْنٌ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 4164

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4165

4165 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبي سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني سويد بن سعيد حدثني ابن أبي الرجال عن سليمان بن سحيم قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في النوم قلت : يا رسول الله هؤلاء الذين يأتون فيسلمون عليك أتفقه سلامهم ؟ قال : نعم و أرد عليهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید بن ابو عمرہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو الرجال نے ان کو سلیمان بن سحہبم نے وہ کہتے ہیں کیا آپ ان کا سلام سمجھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں میں ان کو جواب بھی دیتا ہوں ۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في النوم قلت ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو عبد الله الحافظ و أبي سعيد بن أبي عمرو

Hadith 4165

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4166

4166 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصفهاني أنا إبراهيم بن فراس بمكة حدثني محمد بن صالح الرازي نا زياد بن يحيى عن حاتم بن وردان قال : كان عمر بن عبد العزيز يوجه بالبريد قاصدا إلى المدينة ليقرىء عنه النبي صلى الله عليه و سلم السلام

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابراہیم بن فراس نے مکہ مکرمہ میں ۔ حدیث بیان کی ان کو محمد بن صالح نے ان کو زیاد بن یحییٰ نے ان کو حاتم بن وردان نے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز ڈاک یا پیغام روانہ کرتے تھے ۔ حالانکہ وہ ارادہ کرتے تھے مدینہ کا تاکہ ان کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر سلام پڑھا جائے ۔

حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، ← محمد بن صالح الرازي ← إبراهيم بن فراس بمكة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْفَهَانِيُّ،

Hadith 4166

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4167

4167 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا حدثني إسحاق بن حاتم المدائني نا ابن أبي فديك عن رباح بن بشير عن يزيد بن أبي سعيد المقبري قال : قدمت على عمر بن عبد العزيز إذ كان خليفة بالشام فلما ودعته قال : إن لي إليك حاجة إذا أتيت المدينة سترى قبر النبي صلى الله عليه و سلم فأقرئه مني السلام قال محمد بن إسماعيل بن أبي فديك : فحدثت به عبد الله بن جعفر فقال : أخبرني فلان أن عمر كان يرد إليه البريد من الشام

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کوحدیث بیان کی اسحاق بن حاتم مدائنی نے ان کو ابن ابو فدیک نے ان کو رباح بن بشیر نے ان کو یزید بن ابو سعید مقبری نے وہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا جب وہ شام تھے اور خلیفہ وقت تھے ، جب میں ان کو الوداع کرنے لگا تو انہوں نے کہا مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے جب تم مدینہ منورہ جاؤ تو قبر رسول کی زیارت کرنا اور ان کو میری طرف سے سلام کہنا ۔ محمد بن اسماعیل نے ابن ابی فدیک سے کہا کہ میں نے یہ بات عبداللہ بن جعفر کو بیان کی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے فلاں نے کہ عمر بن عبدالعزیز شام سے مدینہ آپ کی طرف پیغام بھیجتے تھے ۔

قدمت على عمر بن عبد العزيز ← يزيد بن أبي سعيد المقبري ← رباح بن بشير ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَدَائِنِيُّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 4167

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4168

4168 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني سعيد بن عثمان نا ابن أبي فديك أخبرني عمر بن حفص أن ابن أبي ملكية كان يقول : من أحب أن يقوم وجاه النبي صلى الله عليه و سلم فليجعل القنديل الذي في القبلة عند القبر على رأسه

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو دنیا نے ان کو سعید بن عثمان نے ان کو ابن ابو فدیک نے ان کو خبر دی عمر بن حفص نے کہ ابن ابی ملیکہ کہتے تھے کہ جو شخص پسند کرے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو وہ اس چراغ کا رخ کرے جو قبلہ کی طرف ہے قبر کے پاس اپنے سر کے قریب ۔

عمر بن حفص أن ابن أبي ملكية كان ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← سعيد بن عثمان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Hadith 4168

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4169

4169 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا سعيد بن أبي عثمان نا ابن أبي فديك قال : سمعت بعض من أدركت يقول بلغنا أنه من وقف عند قبر النبي صلى الله عليه و سلم فتلا هذه الآية : { إن الله و ملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه و سلموا تسليما } صلى الله عليك يا محمد حتى يقولها سبعين مرة فأجابه ملك صلى الله عليك يا فلان لم يسقط لك حاجة قال و

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمر نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو دنیا نے ان کو سعید بن ابو عثمان نے ان کو ابن ابو فدیک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بعض ان سے جس کو میں نے پالیا وہ کہتے تھے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص قبر رسول کے پاس کھڑا ہو جائے ۔اور اس آیت کوپڑھے ۔ان اللہ و ملئکۃ یصلون علی النبی یاایھا الذین امنو صلوا علیہ وسلمو ا تسلیما ۔ اس کے بعد یہ کہے ۔ اللہ رحمت نازل کرے آپ کے اوپر اے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم (صلی اللہ علیک یا محمد ) یہاں تک کہ ستر مرتبہ یہ کہے لہذا اس کو ایک فرشتہ جواب دیتا ہے ۔(صلی اللہ علیک یا فلان لم یسقط لک حاجۃ ) اللہ تجھ پر رحمت کرے اے فلانے تیری کوئی حاجت ساقط نہیں ہو گی ۔

بَلَغَنَا ← بَعْضَ مَنْ أَدْرَكْتُ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← سعيد بن أبي عثمان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 4169

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4170

4170 - أخبرنا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين نا قتيبة بن سعيد أنا ليث بن سعد عن خالد بن يزيد عن ابن أبي هلال عن وهب بن منبه أن كعب الأحبار قال : ما من نجم يطلع إلا نزل سبعون ألفا من الملائكة حتى يحفوا بالقبر يضربون بأجنحتهم و يصلون على النبي صلى الله عليه و سلم حتى إذا أمسوا عرجوا و هبط مثلهم فصنعوا مثل ذلك حتى إذا انشقت الأرض يخرج في سبعين ألفا من الملائكة يوقرونه

ہمیں خبر دی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو ابن ابو ہلال نے ان کو وہب بن منبہ نے یہ کہ کعب الاحبار نے کہا جب بھی کوئی ستارہ طلوع ہوتا تو ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں اور وہ قبر رسول کو گھیر لیتے ہیں وہ اپنے پروں کو ہلاتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر صلوٰت بھیجتے ہیں ( رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں ) یہاں تک کہ جب شام کرتے ہیں وہ اوپر چلے جاتے ہیں اور انہیں کی مثل ( ستر ہزار ) اور نیچے اترتے ہیں اور وہ بھی انہیں کی طرح کرتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین پھٹے گی حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ستر ہزار فرشتوں کی جماعت میں قبر سے نکلیں گے اور وہ فرشتے حضور کی تعظیم بجا لائیں گے ۔

وهب بن منبه أن كعب الأحبار ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَکْرٍ

Hadith 4170

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4171

4171 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان أنا الشافعي أنا الثقات من أصحابنا : أن قبر النبي صلى الله عليه و سلم على يمين الداخل من البيت اللاصق بالجدار و الجدار الذي اللحد تحته قبلة البيت و إن لحده تحت الجدار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو شافعی نے ان کو ہماتے اصحاب کے ثقہ راویوں نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قبر مبارک حجر میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف دیوار کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور وہ دیوار کے لحد جس کے نیچے ہے وہ حجر ے کے قبلہ کے جانب ہے اور بے شک آپ کی لحد دیوار کے نیچے ہے ۔

الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4171

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4172

4172 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي أنا أبو زرعة عبيد الله بن عبد الكريم نا عبد الله بن جعفر بن وردان مولى الفرافصة بن عمير الحنفي في مسجد الرسول صلى الله عليه و سلم حدثني أبي عن أبيه وردان و كان وردان بنى مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم في إمرة عمر بن عبد العزيز قال و قال وردان : كان بيت عائشة سقط شقه الشرقي قال فدعيت فجئت إلى عمر بن عبد العزيز قال وردان : فقلت له : إنا نخاف أن يغلبنا الناس على قبر النبي صلى الله عليه و سلم فأمرت بالعمد فأتيت بها ثم أمرت بالصياصي فجعلت سرادقا عليه فكان ذلك السرادق أول سرادق رئي بالمدينة فسترت عليه فلما أصبحنا قال عمر : ادخل يا وردان فدخلت وحدي و أبناء المهاجرين و الأنصار و العرب يتناولون ما أخرج من التراب حتى وصلت الجدار الذي كان فيه قدم عمر بن الخطاب فلما رأيته قلت : يا أمير المؤمنين قدم قد مدت لي فارتاع لها و ارتاع من معه من قريش و الأنصار و العرب فقال له سالم أيها الأمير لم ترع هذه قدم أبي و أبيك عمر بن الخطاب رضي الله عنه سمعت ابن عمر يقول كان رجلا طوالا فضاق عنه اللحد فحفروا لقدميه في الجدار قال : غيبهما رحمك الله يا وردان قال وردان فبنيت طاقا على قدميه قال عبد الله بن جعفر وصف أبي كما وصف له أبوه وردان هكذا قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو زرعة وصف لي كل قبر بحيال صدر صاحبه قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قبر أبي بكر الصديق قبر عمر بن الخطاب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد بن سعید رازی نے ان کو ابو زرعہ عبیداللہ بن عبدالکریم نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن وردان نےمولیٰ فرافصہ بن عمیر حنفی نے مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں ان کو ان کے والد وردان نے اور ان کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت میں مسجد نبوی کی تعمیر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی ۔ وہ (راوی ) کہتے ہیں کہ وردان نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا مشرقی حصہ ( پراناہو کر ) گرگیا تھا ۔ کہتے ہیں کہ مجھے بلایا گیا اور میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس حاضر ہو گیا ۔ وردان کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا : بے شک ہم ڈرتے ہیں کہ لوگ کہیں ہم سے غالب آجائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قبر پر ( یعنی زیارت کے لئے زبردستی ہجوم کر آئیں دروازے کھولنے اور تعمیر کے وقت ) لہذا میں نے ( اس امر کی پیش بندی کرنے کے لئے ) میں نے ستون منگوائے وہ مجھے لا کر دے دئیے گئے ۔ اس کے بعد میں نے حکم دیا کہ ان ستون کے ساتھ قبر رسول کے گرد حصار بنایا جائے ( وہ بن گیا تو ) میں نے اس پر چاروں طرف خیمہ کی قناعت لگا دی لہذااس طرح مدینے میں یہ قنات اور پردہ کا پہلا خیمہ نما پردہ تھا جو مدینے میں دیکھا گیا لہذا میں نے اس پر یعنی قبر رسول پر یوں پردہ ڈال دیا ۔ (یہ کام رات میں کر لیا یہ کام اس لئے کیا گیا تاکہ قبر رسول کی بے پردگی نہ ہونے پائے ۔)جب ہم نے صبح کی تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ اندر داخل ہو جا اے وردان لہذامیں اکیلا اندر داخل ہوا ۔ اور مہاجرین و انصار کے بیٹے اور دیگر عرب ہاتھوں ہاتھ لیتے گئے وہ مٹی وغیرہ جو میں نکال رہا تھا ، یہاں تک کہ میں اس دیوار تک پہنچ گیا جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قدم تھا ۔میں نے جب اس کو دیکھا تو میں نے کہا اے امیر المؤمنین یہ ایک قدم ہے ایک پیر ہے جو میرے سامنے دراز ہے ۔ لہذا عمر بن عبدالعزیز یہ سن کر گھبرا گئے اور جو لوگ قریش اور انصار میں سے ان کے ساتھ تھے اور عرب سب لوگ گھبرا گئے کہ شاید رسول اللہ کا پیر ہے ۔ چنانچہ حضرت سالم نے ان سے کہا اے امیر المؤمنین آپ نہ گھبرائیے یہ میرے باپ اور آپ کے باپ حضرت عمر بن خطاب کا پیر ہے رضی اللہ عنہ میں نے سنا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے تھے کہ حضرت عمر لمبے آدمی تھے دفن کے وقت ان کی لحد چھوٹی پڑ گئی تھی لہذا ان کے قدموں کے لئے دیوار کے نیچے ان لوگوں نے کھودی تھی جگہ کی کمی کی وجہ سے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا چھپا دے تو ان دونوں کو اے وردان اللہ تجھ پر رحم فرمائے ۔وردان کہتے ہیں کہ میں نے ان کے دونوں قدموں پر طاق اور آلہ بنا دیا ۔ عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے میرے لئے تینوں مبارک قبروں کی کیفیت و صورت ایسے بیان کی تھی جیسے اس کے لئے ان کے والد وردان نے بیان کی تھی کہ اس طرح ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قبر ۔ اور ابو زرعہ نے کہا مجھے یوں تفصیل بتائی گئی ہے کہ ہر قبر برابر ہے اپنے ساتھی کے سینے کے (جن کے محل و قوع کی صورت اس طرح ہے ۔)قبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ۔قبر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ قبر عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Hadith 4172

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4173

4173 - قد روى البخاري في كتابه عن فروة عن علي عن هشام بن عروة عن أبيه قال : لما سقط عنهم الحائط في إمارة الوليد بن عبد الملك أخذوا في بنيانه فبدت لهم قدم ففزغوا فظنوا أنها قدم النبي صلى الله عليه و سلم فما وجدوا أحدا يعرف ذلك حتى قال لهم عروة : لا و الله ما هي قدم النبي صلى الله عليه و سلم ما هي إلا قدم عمر قال الشيخ أحمد : و قد يجوز أن يكون ذلك في إمارة عمر بن عبد العزيز على المدينة من جهة الوليد بن عبد الملك ثم قد يجوز أن يكون عروة و سالم قالاه و لا يكون بين الروايتين خلاف و الله أعلم

بخاری نے اپنی کتاب میں روایت کی ہے فروہ سے اس نے علی سے اس نے ہشام بن عروۃ سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ جب ولید بن عبدالمالک کی حکومت میں ان قبروں سے دیوار گر گئی تھی تو وہ لوگ اس کی بنیاد بنانے لگے تو ان کے لئے قدم ظاہر ہو گیا لہذا وہ گھبرا گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا قدم ہے مگر انہوں نے کوئی ایسا آدمی نہ پایا جو اس کو پہچان سکے یہاں تک کہ ان سے حضرت عروہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم یہ قدم رسول نہیں یہ حضرت عمر کا قدم ہے (پیر ہے ) ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيٍّ، ← فَرْوَۃُ ← قد روى البخاري

Hadith 4173

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4174

4174 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان الأهوازي نا أحمد بن عبيد الصفار نا علي بن الحسين بن بيان المقري نا محمد بن سابق نا ورقا بن عمر عن عمرو بن دينار عن طلق بن حبيب : أن قزعة قال لابن عمر : إني نذرت أن أخرج إلى بيت المقدس فقال : إنما تشد الرحال إلى ثلاث مساجد مسجد بيت المقدس و المسجد الحرام و مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان اہوازی نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو علی بن حسین بن بیان مقری نے ان کو محمد بن سابق نے ان کو ورقاء بن عمر نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو طلق بن حبیب نے کہ قزعہ نے حضرت عمر سے کہا میں نے نذر مانی تھی کہ میں بیت المقدس جاؤں گا ۔ ابن عمر نے فرمایا :یقینی بات ہے کہ رخت سفر باندھا جاتا ہے صرف تین مساجد کی طرف ۔ مسجد بیت المقدس ، مسجد الحرام اور مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ۔

لابن عمر: إني نذرت أن أخرج إلى بيت المقدس. ← طلق بن حبيب؛ أن قزعة ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ورقا بن عمر ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← علي بن الحسين بن بيان المقري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن أحمد بن عبدان الأهوازي

Hadith 4174

chevron_left Previous
1…1617181920
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood