Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4151

4151 - أخبرنا أبو بكر بن الحارث الأصبهاني الفقيه أنا أبو الحسين علي بن عمر الحافظ نا أبو عبيد و القاضي أبو عبد الله و ابن مخلد قالوا : نا محمد بن الوليد السري نا وكيع نا خالد بن أبي مخلد و ابن عون عن الشعبي و الأسود بن ميمون عن هارون أبي قزعة عن رجل من آل حاطب عن حاطب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من زارني بعد موتي فكأنما زارني في حياتي و من مات بأحد الحرمين بعث من الآمنين يوم القيامة كذا وجدته في كتابي و قال غيره سوار بن ميمون و قيل ميمون بن سوار و وكيع هو الذي يروي عنه أيضا و في تاريخ البخاري ـ ميمون بن سوار العبدي عن هارون أبي قزعة عن رجل من ولد حاطب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات في أحد الحرمين قال يوسف بن راشد : نا وكيع نا ميمون

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث اصفہانی فقیہ نے ان کو ابو الحسین علی بن عمر حافظ نے ان کو ابو عبید نے اور قاضی ابو عبداللہ اور ابن مخلد نے انہوں نے کہا انہوں نے ان کو ولید سری نے ان کو وکیع نے ان کو خالد بن ابو مخلد نے اور ابن عون نے ان کو شعبی نے اور اسود بن میمون نے ان کو ہارون ابو قزعہ نے ان کو ایک آدمی نے آل حاطب سے ان کو حاطب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ۔ جو میری زیارت کرے میری موت کے بعد وہ ایسے ہے جیسے اس نے میری زیارت کی میری زندگی میں اور جو شخص انتقال کر جائے دو میں سے ایک حرم میں (مکہ یا مدینہ ) وہ قیامت کے روز امن والوں میں اٹھایا جائے گا ۔اسی طرح پایا ہے میں اس کو اپنی کتاب میں اور اس کے ماسوانے کہا سوار بن میمون نے اور کہا گیا ہے کہ میمون بن سوار نے اور وکیع نے وہ وہی ہے جس سے روایت بھی ہے ۔ اور تاریخ بخاری میں ہے کہ میمون بن سوار عبدی نے ہارون ابو قزعہ نے ایک آدمی سے اولاد حآطب سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ جو شخص مر جائے دو میں سے ایک حرم میں ۔ یوسف بن راشد نے کہا ہمیں خبر دی ہے وکیع نے ان کو میمون نے

حَاطِبٍ ← رَجُلٍ مِنْ آلِ حَاطِبٍ ← هارون أبي قزعة ← الشعبي و الأسود بن ميمون ← خالد بن أبي مخلد و ابن عون ← وَكِيعٌ، ← محمد بن الوليد السري ← أبو عبيد و القاضي أبو عبد الله و ابن مخلد ← أبو الحسين علي بن عمر الحافظ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4151

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4152

4152 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن عمر الحافظ نا أحمد بن محمد الحافظ حدثني داود بن يحيى نا أحمد بن الحسن الترمذي نا عبد الملك بن إبراهيم الجدي نا شعبة عن سوار بن ميمون نا هارون بن قزعة عن رجل من آل الخطاب : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من زارني متعمدا كان في جواري يوم القيامة و من سكن المدينة و صبر على بلائها كنت له شهيدا و شفيعا يوم القيامة و من مات في أحد الحرمين بعثه الله من الآمنين يوم القيامة كذا قال من آل الخطاب و رواه أبو داود الطيالسي كما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی علی بن عمر حافظ نے ان کو احمد بن محمد حافظ نے ان کو داؤد بن یحییٰ نے ان کو احمد بن حسن ترمذی نے ان کو عبدالملک بن ابراہیم جدی نے ان کو شعبہ نے ان کو سوار بن میمون نے ان کو ہارون بن قزعہ نے ایک آدمی سے آل خطاب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا : جس نے قصداً میری زیارت کی وہ قیامت میں میرے پڑوس میں ہو گا ۔ اور جو شخص مدینے میں رہائش اختیار کرے اور اس کے مشکلات پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کے لئے گواہ بھی بنوں گا اور سفارشی بھی اور جو شخص دو میں سے ایک حرم میں مر جائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو امن والا اٹھائیں گے ۔ اسی طرح کہا اس نے جو آل خطاب سے تھا ۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو داؤد طیالسی نے ۔

رجل من آل الخطاب ← هارون بن قزعة ← سوار بن ميمون ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ← دَاوُدُ بْنُ يَحْيَى، ← أحمد بن محمد الحافظ ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4152

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4153

4153 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا سوار بن ميمون أبو الجراح العبدي حدثني رجل من آل عمر عن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من زار قبري أو قال : من زارني كنت له شفيعا أو شهيدا و من مات في أحد الحرمين بعثه الله من الآمنين يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سوار بن میمون نے ان کو ابو الجراح عبدی نے ان کو آل عمرمیں سےایک آدمی نے اس نے عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نےسنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے جو شخص میری قبر کی زیارت کرے ۔ یا کہا کہ جو شخص میری زیارت کرے میں اس کے لئے سفارشی یا گواہ ہوں گا اور جو شخص دو میں سے ایک حرم میں مر جائے قیامت کے دن وہ امن والوں میں اٹھے گا ۔

من زار قبري أو ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ، ← رَجُلٍ مِنْ آلِ عُمَرَ ← سوار بن ميمون أبو الجراح العبدي ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4153

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4154

4154 - و روى حفص بن أبي داود و هو ضعيف عن ليث بن أبي سليم عن مجاهد عن ابن عمر مرفوعا : من حج فزار قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي أخبرناه أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا عبد الله بن محمد البغوي نا أبو الربيع الزهراني نا حفص بهذا الحديث

اور روایت کیا ہے حفص بن ابو داؤد نے اور وہ ضعیف ہے لیث بن ابو سلیم سے اس نے مجاہد سے اس نے ابن عمر سے بطور مرفوع روایت ۔ جو شخص حج کرے اور میری قبر کی زیارت کرے میری موت کے بعد ۔ وہ ایسا ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ۔

حفص بهذا الحديث ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← عبد الله بن محمد البغوي، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← ابن عمر مرفوعا من حج فزار قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← و روى حفص بن أبي داود و هو ضعيف

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4154

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4155

4155 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد حدثني محمد بن إسحاق الصفار نا ابن بكار نا حفص بن سليمان : فذكره و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تفرد به حفص و هو ضعيف في رواية الحديث

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو عبداللہ بن محمد بغوی نے ان کو ابو الربیع زہرانی نے ان کو حفص بن سلیمان نے پس اس نے اس کو ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :اس روایت میں حفص متفرد ہے اور وہ ضعیف ہے حدیث کی روایت میں۔

حفص بن سليمان فذكره و ← ابن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4155

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4156

4156 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار املاء نا محمد بن موسى البصري نا عبد الملك بن قريب نا محمد بن مروان و هو يتيم لبني السدي لقيته ببغداد عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد يسلم علي عند قبري إلا وكل الله به ملك يبلغني و كفي أمر آخرته و دنياه و كنت له شهيدا و شفيعا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے بطور املا ء کے ان کو محمد بن موسیٰ بصری نے ان کو عبدالملک بن قریب نے ان کو محمد بن مروان نے اور وہ یتیم ہے اولاد سدی میں سے میں اسے ملا تھا بغداد میں وہ روایت کرتے ہیں اعمش سے وہ ابو صالح سے وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو بھی بندہ مجھ پر سلام بھیجتا ہے میری قبر کے پاس اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کرتے ہیں جو وہ سلامتی میرے اوپر پہنچاتا ہے ۔ اور اس کے دنیا اور آخرت کی ہر حاجت کی کفالت فرمائیں گے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← محمد بن مروان و هو يتيم لبني السدي لقيته ببغداد ← عبد الملك بن قريب ← محمد بن موسى البصري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، إِمْلَاءً، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4156

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4157

4157 - أخبرنا أبو سعيد أبي عمرو نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني سعيد بن عثمان الجرجاني نا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك أخبرني أبو المثنى سليمان بن يزيد الكعبي عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من زارني بالمدينة محتسبا كنت له شهيدا و شفيعا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ہے سعید بن عثمان جرجانی نے ان کو محمد بن اسماعیل بن ابو فدک نے ان کو خبر دی ہے ابو المثی سلیمان بن یزید کعبی نے ان کو انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مدینے میں میری زیارت کرے ثواب طلب کرتے ہوئے میں قیامت کے دن ا س کے لئے گواہ اور سفارشی بنوں گا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو المثنى سليمان بن يزيد الكعبي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← سعيد بن عثمان الجرجاني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد أبي عمرو

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4157

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4158

4158 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى نا أحمد بن عبدوس بن حمدويه الصفار النيسابوري نا أيوب بن الحسن نا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك بالمدينة نا سليمان بن يزيد الكعبي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات في أحد الحرمين بعث من الآمنين يوم القيامة و من زارني محتسبا إلى المدينة كان في جواري يوم القيامة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو احمد بن عبدوس بن حمدویہ صفار نیسا پوری نے ان کو ایوب بن حسن نے ان کو محمد بن اسماعیل بن ابو فدیک نے مدینہ منورہ میں۔ ان کو سلیمان بن یزید کعبی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص دو میں سے کسی ایک حرم میں فوت ہو جائے قیامت کے دن امن والوں میں اٹھے گا اور جو شخص ثواب طلب کرنے کی غرض سے میری زیارت کرے مدینہ میں وہ قیامت کے دن میرے پڑوس میں ہو گا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَزِيدَ الْكَعْبِيِّ، ← محمد بن إسماعيل بن أبي فديك بالمدينة ← أيوب بن الحسن ← أحمد بن عبدوس بن حمدويه الصفار النيسابوري ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4158

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4159

4159 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا محمد بن موسى الحلواني نا محمد بن إسماعيل بن سمرة نا موسى بن هلال عن عبد الله العمري عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من زار قبري وجبت له شفاعتي و قيل عن موسى بن هلال العبدي عن عبيد الله بن عمر

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن موسیٰ حلوانی نے ان کو محمد بن اسماعیل بن سمرہ نے ان کو موسیٰ بن بلال نے ان کو عبداللہ عمری نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔کہا گیا ہے موسیٰ ہلال عبدی نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله العمري ← مُوسَى بْنُ هِلَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4159

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4160

4160 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل محمد بن إبراهيم نا محمد بن زنجويه القشيري نا عبيد الله بن محمد بن القاسم بن أبي مريم الوراق و كان نيسابوري الأصل سكن يغداد نا موسى بن هلال العبدي : فذكره و كذلك رواه الفضل بن سهل عن موسى بن هلال عن عبيد الله و سواء قال : عبيد الله أو عبد الله فهو منكر عن نافع عن ابن عمر لم يأت به غيره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نےان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو محمد بن نجویہ قیثری نے ان کو عبداللہ بن محمد بن قاسم بن ابو مریم وراق نے اور وہ نیسا پوری تھا اصل میں بغداد میں رہائش پذیر تھا ۔ اس کو خبر دی موسیٰ بن ہلال عبدی نے پھر اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے ۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ۔ فصل بن سہل نے موسیٰ بن ہلال سے اس نے عبید اللہ سے اور برابر ہت ،کہا ہے عبید اللہ نے یا عبداللہ نے وہ منکر ہے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر سے اس کو اس کے سوا دوسرا کوئی نہیں لایا ۔

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4160

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4161

4161 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ العدل نا محمد بن أيوب أنا سعيد بن منصور نا مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر : أنه كان يأتي القبر فيسلم على رسول الله صلى الله عليه و سلم و على أبي بكر و عمر و قد مضت الرواية عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من أحد يسلم على إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام بمعناه و الله أعلم إلا و قد رد الله علي روحي فأرد عليه السلام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد عدل نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو مالک بن انس نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے کہ وہ قبر رسول پر آتے تھے اور رسول اللہ پر سلام پڑھتے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ پر ۔ اور روایت گذر چکی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو بھی شخص مجھ پر سلام پڑھے گا اللہ تعالیٰ مجھ پر روح واپس لوٹا دیں گے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں گا اسی حدیث کے معنی میں ۔ واللہ اعلم یوں بھی ہے مگر حال یہ ہے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ مجھ پر میری روح واپس کر چکے ہوں گے لہذا میں اس پر سلام کا جواب دوں گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4161

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4162

4162 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا أحمد بن صالح قال : قرأت على عبد الله بن نافع أخبرني ابن أبي ذئب عن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجعلوا بيوتكم قبورا و لا تجعلوا قبري عيدا و صلوا علي فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو احمد صالح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی عبداللہ بن نافع پر ان کو خبر دی ہے ابن اابو ذئب نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے گھروں کو قبریں مت بناؤ ( بلکہ ان میں نماز اور تلاوت و ذکر اللہ کیا کرو ) اور میری قبر کو عید اور خوشی کی جگہ نہ بناؤ ( بلکہ باعث عبرت و نصیحت و برکت و رحمت بناؤ باعث سیر و تفریح نہیں احترام و عظمت ملحوظ خاطر رہے ) اور مجھ پر صلوات بھیجو بے شک آپ کی صلوات مجھ تک پہنچے گی تم جہاں کہیں ہو گے ۔(یعنی فرشتے رحمت باری کے تحفے لے کر حاضر ہوتے رہیں گے سبحان اللہ کیا عظمت شان ہے ۔)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4162

chevron_left Previous
1…151617…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood