Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4139

4139 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو حامد بن بلال نا أحمد بن الأزهر نا النضر بن شميل أنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو احمد بن ازہر نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو محمد بن عمر نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :میری اس مسجد میں نماز پڑھنا بہتر ہے ایک ہزار سے اس کے ماسوائے مسجد الحرام کے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4139

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4140

4140 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا محمد بن هارون بن حميد نا محمد بن يزيد الآدمي نا سعيد بن سالم القداح عن سعيد بن بشير عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه و سلم و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا محمد بن يزيد بن خالد الأدمي نا سعيد بن سالم عن سعيد بن بشير عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : فضل الصلاة في المسجد الحرام على غيره مائة ألف صلاة و في مسجدي ألف صلاة و في مسجد بيت المقدس خمسمائة صلاة لفظ حديثهما سواء غير أن الصنعاني قال : بخمس مائة عام

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حآفظ نے ان کو محمد ہارون بن حمید نے ان کو محمد بن یزید آدمی نے ان کو سعید بن سالم قداح نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو اسماعیل بن عبیداللہ نے ام درداء سے اس نے ابو درداء سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔ اور ہمیں دی ہے ابو حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو محمد بن یزید بن خالد آدمی نے ان کو سعید بن سالم نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو اسماعیل بن عبیداللہ نے ان کو ام درداء نے ان کو ابو درداء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت دیگر مساجد پر ایک لاکھ نماز کی ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا دیگر مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار نماز کی فضیلت ہے اور بیت المقدس میں پچاس ہزار نماز ہے ۔دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں سوائے اس کے کہ صنعانی نے کہا کہ پانچ سو سال ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ← محمد بن يزيد بن خالد الأدمي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْآدَمَيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ حُمَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4140

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4141

4141 - أخبرنا أبو القاسم إسماعيل بن إبراهيم بن علي بن عروة البندار ببغداد نا أيو سهل بن زياد القطان نا أبو الفضل صالح بن محمد الرازي نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد ح : ـ

ہمیں خبر دی ابو القاسم اسماعیل بن ابراہیم بن علی بن عروہ بندار نے بغداد میں ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو ابو الفضل صالح بن محمد رازی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے "ح"۔

حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أبو الفضل صالح بن محمد الرازي ← أيو سهل بن زياد القطان ← أَبُو الْقَاسِمِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ الْبُنْدَارُ -بِبَغْدَادَ-،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4141

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4142

4142 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عارم نا حماد بن زيد عن حبيب المعلم عن عطاء قال : سمعت عبد الله بن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام و صلاة في المسجد الحرام أفضل من صلاة في مسجدي بمائة صلاة و في رواية سليمان عن عبد الله بن الزبير

اور ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عارم نے ان کو عاد بن زید نے ان کو حبیب معلم نے ان کو عطا ء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن زبیر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ایک ہزار نماز سے اس کے ماسوا میں ۔ سوائے مسجد الحرام کے اور مسجد الحرم میں نماز پڑھنا افضل ہے میری مسجد میں نماز پڑھنے سے ایک لاکھ نماز ۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے عبداللہ بن زبیر سے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء، ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4142

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4143

4143 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا الربيع بن صبيح قال : سمعت عطاء بن أبي رباح يقول : بينما ابن الزبير يخطبنا إذ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام و صلاة في المسجد الحرام تفضل بمائة قال عطاء فكأنه مائة ألف قال : قلت يا أبا محمد هذا الفضل الذي تذكر في المسجد الحرام وحده أو في الرحم قال : لا بل في الحرم فإن الحرم كله مسجد

اور ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد بن ربیع بن صبیح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عطا بن انو رباح سے وہ کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر ہم لوگوں کو وعظ فرما رہے تھے ۔ اچانک انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ میری اس مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ایک ہزار نماز سے اس کی ماسوائے مسجد الحرام کے اور مسجد الحرام کی نماز افضل ہے ۔ ایک سو سے (یعنی سو ہزار یعنی ایک لاکھ )۔۔عطاء فرماتے ہیں کہ گویا کہ کہا ملئۃ الف سو برس وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابو محمدیہ فضلیت جو ذکر کر رہے ہو صرف مسجد الحرام میں ہے یا پورے حرم میں انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ پورے حرم میں اور بے شک پورے کا پورا مسجد ہے ۔

بينما ابن الزبير يخطبنا إذ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4143

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4144

4144 - حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا أبي نا إبراهيم بن أبي يحيى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة في المسجد الحرام مائة ألف صلاة و صلاة في مسجدي ألف صلاة و في بيت المقدس خمسمائة صلاة

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق قاضی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن ابو یحییٰ نے ان کو عثمان بن اسود نے ان کو مجاہد نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنا ایک ہزار نماز ہے اور مسجد الحرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نماز اور بیت المقدس میں پانچ سو نماز ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ← أَبِي ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4144

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4145

4145 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي نا أبو حاتم الرازي نا محمد بن بكار بن بلال حدثني سعيد بن بشير عن قتادة عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر : أنه سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصلاة في بيت المقدس أفضل أو الصلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : صلاة في مسجدي هذا أفضل من أربع صلوات فيه و لنعم المصلى في أرض المحشر و المنشر و ليأتين على الناس زمان و لقيد سوط أو قال قوس الرجل حيث يرى منه بيت المقدس خير له أو أحب إليه من الدنيا جميعا

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ حسن بن ایوب طوسی سے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو محمد بن بکار بن tبلال نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے کہ بے شک اس نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے نماز کے بار ے میں بیت المقدس میں افضل ہے یا نماز پڑھنا مسجد رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں تو انہوں نے فرمایا کہ میری مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے اس میں چار نمازیں پڑھنے سے اور البتہ اچھا نماز پڑھنے والا وہ ہے جو ارض محشر میں یا منشر میں پڑھے ۔ اور لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ ایک چابک کے برابر یاکہا تھا کہ آدمی کی کمان کے برابر جہاں سے بیت المقدس دیکھا جا سکے ۔ اس کے لئے بہتر ہوگا یا اس کی طرف محبوب ہو گا ساری دنیا سے ۔

أبي ذر أنه سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ بِلَالٍ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4145

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4146

4146 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا محمد بن عبيد عن عبد الله بن حبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بين منبري و بيتي روضة من رياض الجنة و منبري على حوضي أخرجاه في الصحيح من حديث عبيد الله بن عمر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے آخرین میں انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کوحسن بن علی بن عفان نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو عبداللہ بن حبیب بن عبدالرحمن نے ان کو حفص بن عاصم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : وہ جگہ جو میری منبر اور میرے گھر کے درمیان ہے وہ جنت کے باغوں میں سےا یک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے ۔(یعنی قیامت کے دن میرا منبر حوض پر بھی بجھایا جائے گا ۔)بخاری و مسلم نے ا س کو نقل کیا ہے عبیداللہ بن عمر کے حدیث سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← عبد الله بن حبيب بن عبد الرحمن ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4146

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4147

4147 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو الحسن محمد بن نافع بن إسحاق الخزاعي أنا المفضل بن محمد نا هارون بن موسى الفروي نا جدي أبو علقمة عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام و الجمعة في مسجدي هذا أفضل من ألف جمعة فيما سواه إلا المسجد الحرام و شهر رمضان في مسجدي هذا أفضل من ألف شهر رمضان فيما سواه إلا المسجد الحرام

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابوالحسن محمد بن نافع بن اسحاق خزاعی نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو ہارون بن موسیٰ فروی نے ان کو ان کے دادا ابو علقمہ نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ایک ہزار نماز سے اس کے ماسوا میں ۔ سوائے مسجد الحرام کے اور میری اس مسجد میں جمعہ پڑھنا افضل ہے ایک ہزار جمعہ سے ماسوا میں سوائے مسجد الحرام کے اور میری اس مسجد میں رمضان گذارنا افضل ہے ایک رمضان سے اس کے ماسوا میں۔سوائے مسجد الحرام کے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← جدي أبو علقمة ← هَارُونُ بْنُ مُوسَی الْفَرَوِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أبو الحسن محمد بن نافع بن إسحاق الخزاعي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4147

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4148

4148 - و حدثنا عبد الله بن يوسف أنا عبد الرحمن بن يحيى القاضي الزهري بمكة نا عبد الله بن سعدويه المروزي نا هارون بن موسى الفروي نا عمر بن أبي بكر عن القاسم بن عبد الله عن عمر عن كثير بن عبد الله المزني عن نافع عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة في مسجدي هذا كألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام و صيام شهر رمضان بالمدينة كصيام ألف شهر فيما سواه و صلاة الجمعة بالمدينة كألف فيما سواه هذا إسناد ضعيف بمرة

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف نے ان کو عبدالرحمٰن بن یحییٰ قاضی زہری نے مکہ مکرمہ میں ان کو عبداللہ بن سعدویہ مروزی نے ان کو ہارون بن موسیٰ مروزی نے ان کو عمر بن ابو بکر نے ان کو قاسم بن عبداللہ نے ان کو عمر نے ان کو کثیر بن عبداللہ مزنی نے ان کو نافع نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا مثل ہزار نماز کے ہے دیگر مساجد کے مقابلے میں ، سوائے مسجد الحرام کے اور مدینے میں ماہ رمضان کے روزہ رکھنا مثل ہزار مہینوں کے روزوں کے ہے ماسوا رمضان کے مقابلے میں ۔ اور مدینے میں نماز جمعہ مثل ہزار جمعہ کے ہے ماسوائے مدینے کے مقابلے میں ۔ یہ اسناد کئی بار ضعیف ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← عُمَرَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← عمر بن أبي بكر ← هَارُونُ بْنُ مُوسَی الْفَرَوِيُّ ← عبد الله بن سعدويه المروزي ← عبد الرحمن بن يحيى القاضي الزهري بمكة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4148

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4149

4149 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف املاء أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن إسماعيل الصائغ نا يحيى بن عبد الحميد أنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الأسفرايني بها أنا عبد الله بن إبراهيم بن أيوب بن ماس نا أبو برزة المفضل بن محمد الحاسب نا يحيى الحماني نا عبد الرحيم بن زيد العمي عن أبيه عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أدرك شهر رمضان بمكة من أوله إلى آخره صيامه و قيامه كتب الله له مائة ألف شهر رمضان في غيرها و كان له بكل يوم مغفرة و شفاعة و بكل ليلة مغفرة و شفاعة و بكل يوم حملان فرس في سبيل الله و له بكل يوم دعوة مستجابة لفظ حديث أبي يوسف لم يذكر الاسفرايني فرس و الباقي سواء عبد الرحمن بن زيد العمي ضعيف يأتي بما لا يتابعه الثقات عليه و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن اسماعیل صائغ نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ان کو ابو الحسن محمد بن ابو المعروف اسفرائنی نے ان کو عبداللہ بن ابراہیم بن ایوب بن ماس نے ان کو ابو برزہ مفضل بن محمد حاسب نے ان کو یحییٰ حمانی نے ان کو عبدالرحیم بن زیدعمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص رمضان المبارک اول سے آخر تک مکے میں پالے روزے بھی رکھے اور قیام بھی کرے تراویح پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک لاکھ رمضان لکھ دے(مکے کے مقابلے میں ) اور ہر یوم اس کے لئے مغفرت ہوگی اور شفاعت ہو گی اور ہر رات کے بدلے میں مغفرت ہوگی اور شفاعت ہو گی ۔ اور ہر روز کے بدلے میں اللہ کی راہ میں مجاہد تیار کر کے روانہ کرنے کا اجر ہو گا اور ہر روز کے لئے ایک مستجاب اور مقبول دعا ہو گی ۔ یہ الفاظ ابو یوسف کی حدیث کے ہیں ۔ اور اسفرائنی نے فرس اور سوار کا ذکر نہیں کیا اور باقی برابر ہیں ۔اور عبدالرحمن بن زید عمی ضعیف ہے ۔ ایسی حدیثیں لاتا ہے جن کی متابع ثقہ راوی نہیں لاتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِيهِ ← عبد الرحيم بن زيد العمي ← يحيى الحماني ← أبو برزة المفضل بن محمد الحاسب ← عبد الله بن إبراهيم بن أيوب بن ماس ← أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الأسفرايني بها ← يحيى بن عبد الحميد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد بن يوسف إملاء،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4149

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4150

4150 - أخبرنا أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهرروي قدم علينا أنا أبو الفضل بن أبي القاسم أنا أحمد بن نجدة نا محمد بن عبد الله بن نمير نا محمد بن بشر نا عبيد الله عن نافع عن ابن عمر : أنه كان إذا قدم من سفر بدأ بقبر النبي صلى الله عليه و سلم فصلى عليه و سلم و دعا له و لا يمس القبر ثم يسلم على أبي بكر ثم قال السلام عليك يا أبه

ہمیں خبر دی ابو ذر عبد بن احمد بن محمد ہروی نے جو کہ ہم لوگوں کے پاس آئے تھے ۔ ان کو خبر دی ابوالفضل بن ابو القاسم نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو محمد بن بشیر نے ان کو عبیداللہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے کہ وہ جب سفر سے آتے تھے تو پہلے پہلے قبر رسول پر جاتے ان پر صلوٰۃ اور سلام پڑھتے اور اپنے لئے دعا مانگتے اور قبر کو ہاتھ لگاتے تھے ۔ اس کے بعد ابو بکر صدیق پر سلام پڑھتے تھے اس کے بعد یوں کہتے تھے السلام علیک یا ابہ آپ کے اوپر سلام ہوا میرے والد محترم ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ، ← أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهرروي قدم علينا

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4150

chevron_left Previous
1…141516…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood