Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4115

4115 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن غالب حدثني محمد بن مخلد الحضرمي نا إبراهيم بن صالح بن درهم الباهلي قال : سمعت أبي يقول : سافرنا إلى مكة فلما انتهينا إلى البطحاء إذا رجل يستقبل الحاج فقال لنا من أنتم ؟ قال : قلت له نحن من أهل العراق قال : من أي العراق أنتم ؟ قلنا : من أهل البصرة قال : ما جاء بكم ؟ قال : قلنا جئنا نؤم البيت العتيق قال : فما جاء بكم حاجة غيرها أو تجارة ؟ قال : قلنا : لا قال : فابشروا فإني سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم يقول من جاء يؤم البيت الحرام و ركب بعيره فما يرفع البعير خفا و لا يضع خفا إلا كتب الله له بها حسنة و حط عنه بها خطيئة و رفع له بها درجة حتى إذا انتهى إلى البيت فطاف به و طاف بين الصفا و المروة ثم حلق أو قصر إلا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه فهلم نستأنف العمل ثم ذكر الحديث في رجوعهم إليه عشاء و قوله من الذي يضمن لي منكم أن أصلي في مسجد العشاء يعني بالإيلة ركعتين أو أربعة يقول هذه عن أبي هريرة قال : قلنا فلم ذاك يرحمك الله قال : إني سمعت خليلي أبا القاسم رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء إلا يقوم مع شهداء بدر غيرهم تفرد به إبراهيم بن صالح بن درهم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو محمد بن مخلد حضرمی نے ان کو ابراہیم بن صالح بن درہم باھلی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے فرماتے تھے کہ ہم لوگوں نے مکہ کا سفر کیا جب ہم لوگ وادی بطحاء میں پہنچے ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی آگے حاجیوں کا استقبال کرتا ہے اس نے ہم سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ ہم اہل عراق میں سے ہیں ۔ پوچھا کہ کون سے عراق سے ہو تم ہم نے کہا کہ ہم اہل بصرہ سے ہیں ۔ اس نے پوچھا کہ تم کو کون سی حاجت لے آئی ہے ہم آئے ہیں ہم ارادہ کرتے ہیں بیت العتیق کا ۔اس نے پوچھا کہ کیا واقعی تمہیں یہی حاجت لائی ہے یا اور بھی کوئی حاجت ہے یا تجارت وغیرہ ؟ ہم نے کہا کہ بالکل نہیں کہنے لگا کہ پھر تم خوش ہو جاؤ ۔ میں نے سنا تھا ابو القاسم محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے جو شخص آئے صرف بیت اللہ کا ارادہ کر کے اور اپن اونٹ پر سوار ہو تا ہے تو اس کا اونٹ جو بھی پیراٹھاتا یا جو بھی پیر رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹاتا ہے ۔ اور ایک درجہ بلند کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بیت اللہ میں پہنچ جائے اور بیت اللہ کا طواف کرتا ہے اور صفا مروہ کی سعی کرتا ہے ۔ پھر حلق یا قصر کراتا ہے وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو آج جنم دیا ہے ۔ پھر آئیے اب نئے سرے سے عمل شروع کیجئے ۔ پھر اس نے حدیث کو ذکر کیا ان لوگوں نے عشاء کے وقت بیت اللہ کی طرف آنے کی بارے میں ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ قول کرنا کہ کون ضمانت دیتا ہے مجھ کو نماز پڑھنے کی مسجد عشاء میں یعنی ابلہ میں دو رکعت یا چار رکعت ۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ ابو ہریرہ سے مروی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یہ کیونکر ہے اللہ تجھ پر رحم کرے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ مسجد العشاء سے قیامت کے دن شہداکو اٹھائے گا ان کے سوا اور کوئی شہید بدر کے شہدا کے ساتھ نہیں اٹھے گا۔متفرد ہے اس کے ساتھ ابراہیم بن صالح بن درہم ۔

أَبِي ← إبراهيم بن صالح بن درهم الباهلي ← محمد بن مخلد الحضرمي ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4115

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4116

4116 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الأسفاطي نا عقبة بن مكرم نا يونس أخبرني أبو سليمان عن عطاء عن عبيد بن عمير عن ابن عمر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ما يرفع إبل الحاج رجلا و لا يضع يدا إلا كتب الله له بها حسنة أو محا عنه سيئة أو رفعه بها درجة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسفاطی نے ان کو عقبہ بن مکرم نے ان کو یونس نے ان کو خبر دی ہے ابو سلیمان نے عطاء سے ان کو عبید بن عمر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ کہتے ہیں حج کرنے والے کی سواری کا اونٹ جو بھی اگلا یا پچھلا قدم اٹھاتا اور رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتے ہیں اور اس کی ایک برائی مٹاتے ہیں اور اس کا ایک درجہ بلند کرتے ہیں ۔

الله له بها حسنة أو محا عنه سيئة أو رفعه بها درجة ← ما يرفع إبل الحاج رجلا و لا يضع يدا إلا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← أَبُو سُلَيْمَانَ، ← يُونُسَ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4116

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4117

4117 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن أنا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا شعبة نا حبيب بن الزبير الأصبهاني قال : قلت لعطاء بن أبي رباح أبلغك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يستأنفون العمل يعني الحاج فقال لا و لكن بلغني عن عثمان بن عفان و أبي ذر الغفاري أنهما قالا : يستقبلون العمل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو حبیب بن زبیر اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا عطاء بن ابو رباح سے کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا :نئے سرے سے شروع کریں عمل یعنی حاجی ۔ اس نے کہا کہ نہیں بلکہ مجھے خبر پہنچی ہے حضرت عثمان بن عفان سےاو ر ابو ذر غفاری سے کہ وہ دونوں کہتے ہیں کہ حاجی نئے سرے سے عمل شروع کرتے ہیں ۔

قلت لعطاء بن أبي رباح أبلغك ← حبيب بن الزبير الأصبهاني ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4117

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4118

4118 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر نا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا الحكم بن موسى نا يحيى بن حمزة عن محمد بن الوليد الزبيدي عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة : أن رجلا مر بعمر بن الخطاب و قد قضى نسكه فقال له عمر أحججت ؟ قال : نعم قال : اجتنبت ما نهيت عنه فقال : ما قصرت ما ألوت قال عمر : استقبل عملك

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو یحییٰ بن حمزہ نے ان کو محمد بن ولید زبیری نے ان کو زہری نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور وہ حج کے احکام پورے کر چکا تھا حضرت عمر نے اس سے پوچھا کیا تم نے حج کر لیا ؟ اس نے کہا جی ہاں : کیا تم نےاجتناب کیااس چیز سے جس سے تمہیں منع کیا گیا تھا ۔ اس نے کہا میں نے اپنی طرف سے تو کوئی کمی کوتاہی نہیں کی ۔ حضرت عمر نے فرمایا پھر تو نئے سرے سے اپنے عمل شروع کر ۔

عمر استقبل عملك ← ما قصرت ما ألوت ← اجتنبت ما نهيت عنه ← نَعَمْ ← لَهُ عُمَرُ أَحَجَجْتَ؟ ← أبي هريرة أن رجلا مر بعمر بن الخطاب و قد قضى نسكه ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4118

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4119

4119 - حدثنا السيد أبو الحسن العلوي نا أبو بكر محمد بن حبان المذكر و أنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار قالا : نا محمد بن منده الأصبهاني نا بكر بن بكار نا محمد بن ثابت البناني عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حج مبرور و في رواية العلوي الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة قيل يا رسول الله و في رواية العلوي فقالوا : يا رسول الله ما بر الحج ؟ قال : طيب الكلام و إطعام الطعام

ہمیں حدیث بیان کی سید ابوالحسین علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن حبان واعظ نے اور ان کی خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن مندہ اصفہانی نے ان کو بکر بن بکار نے ان کو محمد بن ثابت بنانی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ حج مقبول اور علوی کی روایت میں ہے الحج المبرور ۔کی جزا جنت ہی ہے ۔ کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور علوی کی روایت میں ہے کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ حج مبرور جو فرمایا گیا ہے صبر و بر سے بنا ہے اور اس کا معنی اسے نیکی تو حج کی نیکی کیا ہے؟فرمایا کہ پاکیزہ بات کرنا اور کھانا کھلانا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن ثابت البناني ← بكر بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ الأَصْبَهَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← أبو بكر محمد بن حبان المذكر و ← السيد أبو الحسن العلوي

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4119

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4120

4120 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد السوسي و أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم نا العباس بن محمد الدوري نا يحيى بن إسماعيل الواسطي نا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله : أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل ما بر الحج ؟ قال : إطعام الطعام و إفشاء السلام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اسحاق بن محمد موسی نے اور احمد بن حسن قاضی نے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب اصم نے ان کو عباس بن محمدددری نے ان کو یحییٰ بن اسماعیل واسطی نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو سفیان بن حسین نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حج کی نیکی کیا ہے ؟ فرمایا کھانا کھلانا اور سلام کو عا م کرنا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4120

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4121

4121 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر نا محمد بن أيوب الرازي نا محمد بن كثير العبدي نا سفيان الثوري عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن زيد بن خالد الجهني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من جهز حاجا أو جهز غازيا أو خلفه في أهله أو أفطر صائما فله مثل أجره من غير أن ينقص من أجره شيئا

اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو محمد بن کثیر عبدی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے ان کو عطا ء نے ان کو زید بن خالد جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص حاجی کی تیاری کروائے یا مجاہد کی تیاری کروائے یا اس کے گھر میں اس کا نائب بنے یا روزہ دار کا روزہ کھلوائے اس کے لئے برابر کا اجر ہوگا اور اس کا اپنا اجر بھی کم نہیں ہو گا ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4121

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4122

4122 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عثمان بن عمر نا مسدد نا أبو عوانة عن محمد بن عبد الرحمن عن عطاء عن زيد بن خالد الجهني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فطر صائما أو أحج رجلا أو جهز غازيا أو خلفه في أهله فله مثل أجره

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو مسدد نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو عطاء نے ان کو زید بن خالد جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :جو شخص روزہ دار کا روزہ کھلوائے یا کسی کو حج کروائے یا کجاہد کا سامان تیار کر دے یا اس کے گھر میں دیکھ بھال کرے اس کے لئے برابر کا اجر ہو گا ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4122

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4123

4123 - و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا الفضل بن محمد الحيدي نا سلمة نا عبد الرزاق عن أبي معشر بن شبيب و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا علي بن الحسن بن أبي عيسى نا إسحاق أظنه ابن عيسى نا أبو معشر بن شبيب عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل ليدخل بالحجة الواحدة ثلاثة نفر الجنة الميت و الحاج عنه و المنفذ ذلك يعني الوصي

اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عبدی نے ان کو مفضل بن محمد حیری نے ان کو سلمہ نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ابو معشر بن شبیب نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو علی بن حسن بن ابو عیسیٰ نے ان کو اسحٰق نے میرا خیال ہے کہ ابن عیسیٰ نے ان کو خبر دی ہے ابو معشر بن شبیب نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کا جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بے شک اللہ عزوجل البتہ ایک حج کے بدلے میں تین افراد کو جنت میں داخل کریں گے مرنے والا اور میت کی طرف سے حج کرنے والا اور میت کی طرف سے حج کرانے والا ۔یعنی حج کی وصیت کرانے والا )۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أبو معشر بن شبيب ← إسحاق أظنه ابن عيسى ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← أبي معشر بن شبيب و ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← سَلَمَةَ، ← الفضل بن محمد الحيدي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4123

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4124

4124 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس المحبوبي بمرو نا محمد بن الليث نا عبد الله بن عثمان عن أبي جمرة عن عطاء بن السائب عن أبي زهير عن عبد الله بن بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : النفقة في الحج كالنفقة في سبيل الله مائة ضعف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محبوبی سے مرو میں ان کو محمد بن لیث نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو ابو حمزہ نے عطاء بن سائب سے ان کو ابو زہیر نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ حج میں خرچ کرنا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا سو گونا دوہرا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِي زُهَيْرٍ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ، ← أبو العباس المحبوبي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4124

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4125

4125 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا الدينوري محمد بن عبيد الله بن مهران نا سعيد بن سليمان نا منصور عن عطاء بن السائب عن أبي زهير الضبي : فذكره غير أنه قال : مثل النفقة في سبيل الله الدرهم سبعمائة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید دینوری محمد بن عبیداللہ بن مہران نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو منصور نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابو زہیر ضبی نے ۔ ہھر اس کو ذکر کیا ہے سوا اس کے کہ اس نے کہا ہے مثل نفقہ فی سبیل اللہ کے ہے درہم سات سو کے برابر ہوگا ۔

مثل النفقة في سبيل الله الدرهم سبعمائة ← أبي زهير الضبي فذكره غير أنه ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مَنْصُورٌ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الدينوري محمد بن عبيد الله بن مهران ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4125

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4126

4126 - و أخبرنا علي نا أحمد نا خلف بن عمرو نا معافى بن سليمان نا موسى بن أعين عن عطاء بن السائب عن علقمة بن مرثد عن ابن بريدة عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فذكره مثل حديث منصور بن أبي الأسود

اور ہمیں خبر دی ہے علی نے ان کو احمد نے ان کو خلف بن عمرو نے ان کو معافی بن سلیمان نے ان کو موسیٰ بن اعین نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو ابو بریدہ نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : پھر انہوں نے ذکر کیا ہے حدیث مثل حدیث منصور بن ابوالاسود کے ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ← خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَحْمَدُ، ← عَلِيٍّ، ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4126

chevron_left Previous
1…121314…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood