شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4115
4115 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن غالب حدثني محمد بن مخلد الحضرمي نا إبراهيم بن صالح بن درهم الباهلي قال : سمعت أبي يقول : سافرنا إلى مكة فلما انتهينا إلى البطحاء إذا رجل يستقبل الحاج فقال لنا من أنتم ؟ قال : قلت له نحن من أهل العراق قال : من أي العراق أنتم ؟ قلنا : من أهل البصرة قال : ما جاء بكم ؟ قال : قلنا جئنا نؤم البيت العتيق قال : فما جاء بكم حاجة غيرها أو تجارة ؟ قال : قلنا : لا قال : فابشروا فإني سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم يقول من جاء يؤم البيت الحرام و ركب بعيره فما يرفع البعير خفا و لا يضع خفا إلا كتب الله له بها حسنة و حط عنه بها خطيئة و رفع له بها درجة حتى إذا انتهى إلى البيت فطاف به و طاف بين الصفا و المروة ثم حلق أو قصر إلا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه فهلم نستأنف العمل ثم ذكر الحديث في رجوعهم إليه عشاء و قوله من الذي يضمن لي منكم أن أصلي في مسجد العشاء يعني بالإيلة ركعتين أو أربعة يقول هذه عن أبي هريرة قال : قلنا فلم ذاك يرحمك الله قال : إني سمعت خليلي أبا القاسم رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء إلا يقوم مع شهداء بدر غيرهم تفرد به إبراهيم بن صالح بن درهم
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو محمد بن مخلد حضرمی نے ان کو ابراہیم بن صالح بن درہم باھلی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے فرماتے تھے کہ ہم لوگوں نے مکہ کا سفر کیا جب ہم لوگ وادی بطحاء میں پہنچے ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی آگے حاجیوں کا استقبال کرتا ہے اس نے ہم سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ ہم اہل عراق میں سے ہیں ۔ پوچھا کہ کون سے عراق سے ہو تم ہم نے کہا کہ ہم اہل بصرہ سے ہیں ۔ اس نے پوچھا کہ تم کو کون سی حاجت لے آئی ہے ہم آئے ہیں ہم ارادہ کرتے ہیں بیت العتیق کا ۔اس نے پوچھا کہ کیا واقعی تمہیں یہی حاجت لائی ہے یا اور بھی کوئی حاجت ہے یا تجارت وغیرہ ؟ ہم نے کہا کہ بالکل نہیں کہنے لگا کہ پھر تم خوش ہو جاؤ ۔ میں نے سنا تھا ابو القاسم محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے جو شخص آئے صرف بیت اللہ کا ارادہ کر کے اور اپن اونٹ پر سوار ہو تا ہے تو اس کا اونٹ جو بھی پیراٹھاتا یا جو بھی پیر رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹاتا ہے ۔ اور ایک درجہ بلند کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بیت اللہ میں پہنچ جائے اور بیت اللہ کا طواف کرتا ہے اور صفا مروہ کی سعی کرتا ہے ۔ پھر حلق یا قصر کراتا ہے وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو آج جنم دیا ہے ۔ پھر آئیے اب نئے سرے سے عمل شروع کیجئے ۔ پھر اس نے حدیث کو ذکر کیا ان لوگوں نے عشاء کے وقت بیت اللہ کی طرف آنے کی بارے میں ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ قول کرنا کہ کون ضمانت دیتا ہے مجھ کو نماز پڑھنے کی مسجد عشاء میں یعنی ابلہ میں دو رکعت یا چار رکعت ۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ ابو ہریرہ سے مروی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یہ کیونکر ہے اللہ تجھ پر رحم کرے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ مسجد العشاء سے قیامت کے دن شہداکو اٹھائے گا ان کے سوا اور کوئی شہید بدر کے شہدا کے ساتھ نہیں اٹھے گا۔متفرد ہے اس کے ساتھ ابراہیم بن صالح بن درہم ۔
أَبِي ← إبراهيم بن صالح بن درهم الباهلي ← محمد بن مخلد الحضرمي ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4115
