Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4091

4091 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هاني نا جعفر بن محمد بن الحسين نا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما و الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو النضر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعبنی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے ۔ اور ہمین خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو جعفر بن محمد بن حسین نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں میں نے پڑھا مالک پر اس نے سمی سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسو اللہ نے فرمایا کہ ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک ( عمرہ ) کفارہ ہوتا ہے دونوں کے مابین مدت کے لئے اور حج مبرور تو ایسا ہے کہ اس کی جزا تو جنت ہی ہے ۔ اس کے سوا کچھ نہیں ۔ اس کو بخاری نے نقل کیا صحیح میں عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے اور اس کو روایت کیا مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← القعنبي فيما قرأ على مالك و ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4091

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4092

4092 - و أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي نا أبو علي سختويه بن ماذيار نا حماد بن مسعدة عن ابن عجلان عن سمي مولى أبي بكر : فذكره بمثله

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو ابو علی سختویہ بن ماذیار نے ان کو حماد بن مسعدہ نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سمی مولیٰ ابو بکر نے پھر حدیث کو ذکر کیا گیا ہے مذکور کی مثل۔

سمي مولى أبي بكر فذكره بمثله ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← أبو علي سختويه بن ماذيار ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4092

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4093

4093 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو مروان عبد الملك بن محمد القاضي بمدينة الرسول نا عبد الله بن زيدان البجلي نا الحسن بن علي نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن أيوب السختياني عن عبيد الله بن عمر قال : ثم لقيت عبيد الله بن عمر فحدثني عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرتان تكفران ما بينهما و الحج المبرور ليس له ثواب أو قال : جزاء إلا الجنة قال و زاد أيوب في حديثه و ما سبح الحاج من تسبيحة و لا هلل من تهليلة و لا كبر من تكبيرة إلا بشر بها تبشيرة

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو مروان نےعبدالملک بن محمد قاضی نے مدینہ الرسول میں ۔ ان کو عبداللہ زیدان بجلی نے ان کو حسن بن علی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب سختیانی نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں ملا عبیدا للہ بن عمر سے اس نے مجھے حدیث بیان کی سمی سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : دو عمرے مٹا دیتے ہیں ان گناہوں کو جوان دونوں کے درمیان ہیں ۔ اور حج مقبول کی جزا تو جنت ہی ہے (لفظ جزا کہا یا ثواب کہا ) کہتے ہیں کہ زیاد ہ کیا ہے ایوب نے اپنی حدیث میں ۔ حاجی جو بھی تسبیح کہتا ہے یا کوئی تہلیل یا کوئی تکبیر مگر اس کے ساتھ بشارت دیا جاتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← ثم لقيت عبيد الله بن عمر فحدثني ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ الْبَجَلِيُّ ← أبو مروان عبد الملك بن محمد القاضي بمدينة الرسول ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4093

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4094

4094 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان الموصل نا علي بن حرب الموصلي نا سفيان عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تابعوا بين الحج و العمرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان موصلی نے ان کو علی بن حرب موصلی نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم بن عبداللہ نے ان کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر بن خطاب ن وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نےفرمایا کہ حج اور عمرے کو ایک دوسرے کے پیچھے کرو ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← أحمد بن سلمان الموصل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4094

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4095

4095 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه نا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان عن عاصم بن عبيد الله العمري عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تابعوا بين الحج و العمرة فإن متابعه بينهما يزيدان في الأجل و ينفيان الفقر كما ينفي الكير الخبث قال سفيان : هذا الحديث حدثناه عبد الكريم الجزري عن عبدة عن عاصم فلما قدم عبدة أتينا نسأله عنه فقال : إنما حدثنيه عاصم فهذا عاصم حاضر فذهبنا إلى عاصم فسألناه عنه فحدثنا به هكذا ثم سمعته منه بعد ذلك فمرة يقفه على عمر و لا يذكر فيه عن أبيه و أكثر ذلك كان يحدثه عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم بن عبیداللہ عمری نے ان کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :حج اور عمرے کے درمیان تسلسل کرو اس لئے کہ دونوں میں تسلسل اضافہ کرتے ہیں عمر میں اور فقر محتاجی کو ختم کرتے ہیں ۔ جیسی بٹھی ختم کر دیتی ہے میل کو ۔سفیان نے کہا کہ یہ حدیث ہمیں بیان کی ہے عبدالکریم جزاری نے ان کو عبدہ نے ان کو عاصم نے پس جیسا عبدہ آیا تو ہم ان کے پاس پوچھنے کےلئے آئے اور ان سے پوچھا ۔ تو اس نے کہا کہ سوا اس کے نہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عاصم نے ۔ اور عاصم یہ حاضر ہے لہذا ہم عاصم کے پاس گئے اور اس سے پوچھا اس حدیث کے بارے میں تو اس نے ہم لوگوں کو اسی طرح حدیث بیان کی ۔ پھر میں نے اس کو اس سے سنا اس کے بعد تو وہ ایک بار تو اس کو موقوف کرتے تھے عمر پر ۔ اور اس میں اپنے والد سے ذکر نہیں کرتے تھے۔ اور اکثر اس کا وہ بیان کرتے تھے اس کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے عمر بن خطاب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عاصم بن عبيد الله العمري ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4095

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4096

4096 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصفهاني نا أبو عمرو همام بن محمد بن النعمان بن عبد السلام نا عبد الحميد بن عبد السلام نا عبد الحميد بن صالح نا محمد بن صبيح بن السماك عن عائذ العجلي عن محمد بن عبد الله البصري عن عطاء عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات في هذا الوجه حاجا أو معتمرا لم يعرض و لم يحاسب و قيل له ادخل الجنة و قالت عائشة : إن الله عز و جل يباهي بالطائفين و رواه حسين الجعفي عن ابن السماك فقصر بإسناده و كذلك يحيى بن أيوب العابد

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ اصفہانی نے ان کو ابو عمر اور ھمام بن محمد بن نعمان بن عبدالسلام نے ان کو عبدالحمید بن عبدالسلام نے ان کو عبدالحمید بن صالح نے ان کو محمد بن صبیح بن سماک نے ان کو عائد عجلی نے ان کو محمد بن عبداللہ نصری نے ان کو عطاء نے ان کو عائشہ نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ۔ جو شخص اس صورت پر مر جائے حج کرنے والا یا عمرہ کرنے والا نہ ہی پیش کیا جائے گا اور نہ ہی حساب لیا جائے گا اس سے بلکہ اس کو کہا جائے گا کہ تو جنت میں داخل ہو جا ۔ اور سیدہ عائشہ کہتی ہیں بے شک اللہ عزوجل فخر کرتے ہیں طواف کرنے والوں کے ساتھ ۔ اور اس کو روایت کیا ہے حسین جعفی نے ابن سماک سے تو اس نے کوتاہی کی ہے اسناد میں اور اسی طرح کیا ہے یحییٰ بن ایوب عابد نے ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيِّ، ← عَائِذٍ الْعِجْلِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صُبَيْحِ بْنِ السَّمَّاكِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ ← عبد الحميد بن عبد السلام ← أبو عمرو همام بن محمد بن النعمان بن عبد السلام ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصفهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4096

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4097

4097 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد يحيى بن موسى نا أبو العباس محمد الأصم نا أحمد بن عبد الحميد الحارثي نا حسين بن علي الجعفي عن محمد بن السماك عن عائذ عن عطاء عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خرج في هذا الوجه بحج أو عمرة فمات فيه لم يعرض و لم يحاسب و قيل ادخل الجنة قال : و قالت عائشة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يباهي بالطائفين قال و حدثنا حسين عن سفيان بن عيينة عن رجل عن عطاء عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله و هكذا روي عن الثوري و عن محمد بن الحسن الهمداني عن عائذ عن عطاء عن عائشة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو حسین بن علی جعفی نے ان کو محمد بن سماک نے ان کو عائذ نے ان کو عطاء نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص اسی صورت پر نکلا حج کے ساتھ یا عمرے کے ساتھ اور اسی دوران مر گیا نہ ہیش ہو گا اور نہ ہی اس کا حساب ہو گا اور اسے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جا ۔ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ فخر کرتے ہیں طواف والوں کے ساتھ "ح" کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسین بن سفیان بن عینہ سے اس نے ایک آدمی سے اس نے عطاء سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے (مذکور )کی مثل ۔ اور اسی طرح روایت کیا گیا ہے ثوری سے اور محمد بن حسن ھمدانی سے اس نے عائذ سے اس نے عطاء سے اس نے سیدہ عائشہ سے ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← عائذ ← محمد بن السماك ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أبو العباس محمد الأصم ← أبو عبد الله الحافظ و محمد يحيى بن موسى

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4097

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4098

4098 - أخبرنا أبو الحسن الأهوازي نا أحمد بن عبيد نا علي بن حشيش نا علي بن المديني نا يحيى بن يمان عن عائذ بن بشير عن عطاء عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات في طريق مكة لم يعرضه الله يوم القيامة و لم يحاسبه و كذلك رواه غيره عن يحيى بن يمان عن عائذ

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن اہوازی نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو علی بن حشیش نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو عائذ بن بشر نے ان کو عطاء نے ان کو عائشہ نے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جو شخص مکے کے راستے میں مر جائے ( حج عمرے کی نیت کے ساتھ ) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ اس کو پیش کریں گے اور نہ ہی اس کا حساب کریں گے ۔اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے دیگر نے یحییٰ بن یمان سے اس نے عائذ سے۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← عَائِذِ بْنِ بَشِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← علي بن حشيش ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن الأهوازي

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4098

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4099

4099 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي حامد بن محمد الرفا قالا نا محمد بن يونس أنا موسى بن هارون بن أبي الجراح بن خالد بن عثمة نا يحيى بن محمد المديني نا صفوان بن سليم عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الملائكة لتصافح ركاب الحجاج و تعتنق المشاة و في رواية ابن قتادة ركاب الحاج هذا إسناد فيه ضعف

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن احمد بن اسحٰق طیبی نے "ح" اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو علی حامد محمد رفا نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یونس نے ان کو موسیٰ بن ہارون بن ابو الجراح بن خالد بن عثمہ نے ان کو یحییٰ بن محمد مدینی نے ان کو صفوان بن سلیم نے ان کو عروہ بن زبیر نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول اللہ نے کہ بے شک فرشتے البتہ مصافحہ کرتے ہیں سواری پر سوار حجاج کے ساتھ اور معانقہ کرتے ہیں(گلے ملتے ہیں ) پیدل حاجیوں کے ساتھ ۔ اور ابن قتادہ کی ایک روایت میں ہے رکاب الحاج ۔ یہ ایسی اسناد ہے جس میں ضعف ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← يحيى بن محمد المديني ← موسى بن هارون بن أبي الجراح بن خالد بن عثمة ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أبو علي حامد بن محمد الرفا ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4099

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4100

4100 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن جابر السقطي نا الحسين بن عبد الأول نا أبو معاوية نا محمد بن إسحاق عن حميد عن عطاء عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خرج حاجا أو معتمرا أو غازيا ثم مات في طريقه كتب الله له أجر الغازي و الحاج و المعتمر إلى يوم القيامة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن جابر سقطی نے ان کو حسین بن عبدالاول نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو حمید نے ان کو عطاء نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ نے جو شخص نکلا حج کرنے والا یا عمرہ کرنے والا ۔ جہاد کرنے والا پھر وہ اپنے راستے میں مر گیا اللہ تعالیٰ قیامت تک اس لئے غازی کا اور حج کرنے والے کا اور عمرہ کرنے والےکا اجر لکھتے رہیں گے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْأَوَّلِ، ← ابن جابر السقطي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4100

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4101

4101 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ حدثني محمد بن صالح بن هانىء نا السري بن خزيمة نا موسى بن إسماعيل نا وهيب عن سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن مرداس عن كعب قال : الوفود ثلاثة الغازي في سبيل الله وافد على الله و الحاج إلى بيت الله و المعتمر وافد على الله ما أهل مهل و لا كبر مكبر إلا قيل ابشر قال مرداس بماذا ؟ قال بالجنة

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو وہیب نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو مرداس نے ان کو کعب نے انہوں نے فرمایا کہ وفود تین طرح کے ہوتےہیں ۔ یعنی اللہ کی بار گاہ میں آنے والے : (1)۔۔۔۔اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اللہ کے پاس آنے والا ہے ۔ (2)۔۔۔۔اور بیت اللہ کا حج کرنے والا ۔ (3) اور عمرہ کرنے والا اللہ کے پاس آنے والے ہیں ۔ جب محرم احرام باندھتا ہے یا تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے خوش ہو جا ۔ مرداس نے پوچھا کہ کس چیز کے ساتھ ؟ کعب نے کہا کہ جنت کے ساتھ ۔

کَعْبٍ ← مِرْدَاسُ ← أَبِيهِ ← سهيل ابن أَبِي صَالِحٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن صالح بن هانىء ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4101

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4102

4102 - و روي عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : مرفوعا وفد الله ثلاثة الغازي و الحاج و المعتمر قال الشيخ أحمد : قد أخرجته في كتاب السنن في آخر كتاب المناسك

اور روایت ہے سہیل سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے بطور مرفوع روایت کے ۔ تین لوگ اللہ کے کام سے چلتے ہیں ۔ مجاہد۔اور حج کرنے والا ۔ اور عمرہ کرنے والا۔ شیخ احمدنے کہا ہے کہ میں نے اس کو نقل کیا ہے کتاب السنن میں کتاب المناسک کے آخر میں ۔

الشيخ أحمد قد أخرجته في كتاب السنن في آخر كتاب المناسك ← أبي هريرة مرفوعا وفد الله ثلاثة الغازي و الحاج و المعتمر ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← و روي

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4102

chevron_left Previous
1…101112…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood