شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4079
4079 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري نا عبيد بن السكن عن إسماعيل بن عياش عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : إنما سميت تروية و عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أتاه الوحي في منامه أن يذبح ابنه فروى في نفسه أمن الله هذا أم من الشيطان ؟ فأصبح صائما فلما كان ليلة عرفة أتاه الوحي فعرف أنه الحق من ربه فسميت عرفة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو القاسم مفسر نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو درداء نے ان کو ہاشم بن محمد انصاری نے ان کو عبید بن سکن نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے کلبی سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ سوا اس کے نہیں کہ ترویہ اور عرفہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس خواب میں وحی آئی تھی ۔ کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں ۔ تو انہوں نے دل میں شک کیا تھا کہ کیا یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے ؟ لہذا انہوں نے صبح کو روزہ رکھا اب جو عرفہ کی رات آئی تو ان کے پاس وحی آئی لہذا انہوں نے جان لیا کہ وہ خواب حق ہے اس کے رب کی طرف سے ہے لہذا وہ نام رکھا گیا عرفہ ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عبيد بن السكن ← أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4079
