Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4079

4079 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري نا عبيد بن السكن عن إسماعيل بن عياش عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : إنما سميت تروية و عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أتاه الوحي في منامه أن يذبح ابنه فروى في نفسه أمن الله هذا أم من الشيطان ؟ فأصبح صائما فلما كان ليلة عرفة أتاه الوحي فعرف أنه الحق من ربه فسميت عرفة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو القاسم مفسر نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو درداء نے ان کو ہاشم بن محمد انصاری نے ان کو عبید بن سکن نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے کلبی سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ سوا اس کے نہیں کہ ترویہ اور عرفہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس خواب میں وحی آئی تھی ۔ کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں ۔ تو انہوں نے دل میں شک کیا تھا کہ کیا یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے ؟ لہذا انہوں نے صبح کو روزہ رکھا اب جو عرفہ کی رات آئی تو ان کے پاس وحی آئی لہذا انہوں نے جان لیا کہ وہ خواب حق ہے اس کے رب کی طرف سے ہے لہذا وہ نام رکھا گیا عرفہ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عبيد بن السكن ← أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4079

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4080

4080 - أخبرنا أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي قدم علينا أنا أبو حكيم محمد بن إبراهيم بن السري بن يحيى الدارمي بالكوفة حدثني أبي أبو القاسم إبراهيم بن السري نا أبو عبيدة السري بن يحيى التميمي نا عثمان بن زفر نا صفوان بن أبي الصهباء عن بكير بن عتيق قال : حججت فتوسمت رجلا اقتدي به فإذا مصفر لحيته و إذا هو سالم بن عبد الله و إذا هو في الموقف يقول : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد بيده الخير و هو على كل شيء قدير لا إله إلا الله إلها واحدا و نحن له مسلمون لا إله إلا الله و لو كره المشركون لا إله إلا الله ربنا و رب آبائنا الأولين قال : فلم يزل يقول هذا حتى غربت الشمس ثم نظر إلي فقال : قد رأيت لودانك بي اليوم ثم قال : حدثني أبي عن أبيه عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله تبارك و تعالى من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين قال الشيخ أحمد رضي الله عنه قد ذكرت في باب المحبة و ما يتصل بها من ذلك أخبارا و حكايات في هذا المعنى

ہمیں خبر دی ابو ذر عبد بن احمد بن محمد ہروی نے جو کہ ہمارے پاس آئے تھے ۔ ان کو ابو حکیم محمد بن ابراہیم بن سری بن یحییٰ دارمی نے کوفے میں۔ان کو ان کے والد نے ان کو ابو القاسم ابراہیم بن سری نے ان کو ابو عبیدہ سری بن یحییٰ تمیمی نے ان کو عثمان بن زفر نے ان کو صفوان بن ابو الصہبا ء نے ان کو بکیر بن عتیق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کیا اور میں نے ایک آدمی کی نشانی پہچان رکھی کہ میں اس کے پیچھے پیچھے رہوں گا ، وہ ایسا آدمی تھا جس کی داڑھی پتلی تھی اور دیکھا تو وہ سالم بن عبداللہ تھا ۔ اور وہ موقف پر آیا تو یوں دعا کر رہا تھا ۔لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ الملک ولہ الحمد بیدہ الخیر وھو علی کل شئی قدیر لا الہ الا اللہ الھا واحد اونحن لہ مسلمون لا الہ الا اللہ ولو کرہ المشرکون ۔ لا الہ الا اللہ ربنا ورب اباءنا الاولین ۔ہمیشہ دعا کرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ اس کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور کہا مجھے دیکھا ہے تم نے آج ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے والد نے ان کو ان کے والد نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس کو میرا ذکر روک دے مجھ سے سوال کرنے سے میں اس کو سوال کرنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا ۔شیخ احمد نے کہا ہے تحقیق میں نے ذکر کیا ہے باب محبت میں اور جو اس کے متصل ہے کئی احادیث اور حکایات اس مفہوم میں ۔

بُكَيْرِ بْنِ عُتَيْقٍ ← صفوان بن أبي الصهباء ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← أبو عبيدة السري بن يحيى التميمي ← أبي أبو القاسم إبراهيم بن السري ← أبو حكيم محمد بن إبراهيم بن السري بن يحيى الدارمي ← أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4080

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4081

4081 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي نا علي بن عبد العزيز نا إبراهيم نا سفيان عن عبد الله بن أبي زياد قال : سمعت القاسم بن محمد عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما جعل الطواف بالبيت و السعي بن الصفا و المروة و رمي الجمار لإقامة ذكر الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمن سلمیٰ نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابراہیم نے ان کو سفیان نے ان کو عبداللہ بن ابو زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا قاسم بن محمد سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا یقینی بات ہے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے دمیان سعی کرنا اور جمرات پر رمی کرنا یہ بنائے گئے ہیں ذکر اللہ کو قائم کرنے کے لئے ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4081

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4082

4082 - أخبرنا أبو أسامة محمد بن أحمد بن محمد بن القاسم المقرىء الهروي قرآة عليه في المسجد الحرام قال : سمعت منصور بن أحمد بن جعفر الحرملي يقول : سمعت أحمد بن محمد بن صالح البحراني يقول : حدثني خالي عمر الجمال الصوفي يقول : سمعت أبا بكر أحمد بن محمد بن الحجاج قال : سمعت أيوب الحمال يقول : وقف بعرفة و معي نفقتي فأحببت أن أسأل الله عز و جل و ليس معي من الدنيا شيء فوضعتها بين يدي و دعوت الله إلى وقت الإفاضة ثم أفضت و نسيت النفقة فلما أبعدت ذكرتها فقلت ارجع فلعلي أن أصيبها فرجعت فإذا الموقف أبدان كله سود بلا رؤوس فتعجبت من ذلك فهتف بي هاتف أتعجب من هذا هذه ذنوب بني آدم رحلوا و تركوها و أصبت نفقتي فأخذتها

ہمیں خبر دی ابو اسامہ محمد بن احمد بن محمدبن قاسم مقری مروی نے اس طرح کہ ان کے سامنے پڑھی گئی ۔ مسجد الحرام میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا منصور بن احمد بن جعفر حرملی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے احمد بن محمد بن صالح بحرائی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے ماموں عمر جمال صوفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا ابو بکر احمد بن محمد ب ن حجاج سے وہ کہتے ہیں کہ میں نےسنا ایوب جمال سے وہ کہتے ہیں کہ میں عرفات میں کھڑا ہوا تھا اور میرے ساتھ میرا سامان تھا میں نے چاہا کہ میں اللہ سے دعا کروں تو میرے پاس دنیا کی کوئی چیز نہ ہو ۔ لہذا میں نے اس کو اپنے سامنے رکھ دیا اور واپسی کے وقت تک میں دعا کرتا رہا اس کے بعد میں واپس چلا آیا اور سامان کو وہیں بھول کر آ گیا ۔ میں جب کچھ دور آ گیا تو مجھے سامان یاد آیا تو میں نے سوچا کہ واپس جا کر لے آتاہوں شاید پڑا ہوا مل جائے میں جب واپس گیا تو کیا دیکھتا ہوں –پورے عرفات میں وجود ہی وجود بھرے ہوئے ہیں مگر بغیر سر کے میں حیران پریشان ہو گیا تو اتنے میں ایک غیبی آواز سنائی دی کہ کیا تم اس منظر سے حیران ہو یہ اولاد آدم کے گناہ ہیں وہ خود چلے گئے ہیں اور گناہوں کو یہاں چھوڑ گئے ہیں خیر مجھے میرا نفقہ مل گیا میں نے اس کو لے لیا ۔

أيوب الحمال، ← أبا بكر أحمد بن محمد بن الحجاج ← خالي عمر الجمال الصوفي ← أحمد بن محمد بن صالح البحراني ← منصور بن أحمد بن جعفر الحرملي

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4082

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4083

4083 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت عمر بن جعفر البصري يقول : سمعت أبا القاسم بن منيع يقول : سمعت جدي أحمد بن منيع يقول : حججت سنة من السنين و كنت عديل أبي عبيد القاسم بن سلام فلما ذهبنا إلى عرفات وضعت الرحل عند أبي عبيد و ذهبت إلى عكاظ اغتسل في تلك الحياض و كان في وسطي هميان فيه جملة من الدراهم فوضعت همياني خلف الحجارة و اغتسلت و ذهبت إلى أبي عبيد و نسيت الهميان فلم أذكر إلى نصف الليل فلما كان نصف الليل نزلت في الكبيسة فغدوت إلى عرفات فلما بلغت عرفات وجدت الأرض و الجبال ملآن قرودا كبارا و صغارا يمينا و شمالا يقعدون و يقفزون فتحيرت و هممت أن أرجع ثم تلوت آي من كتاب الله حتى جزتهم فلما ذهبت إلى عكاظ وجدت الهميان في الموضع الذي وضعت فيه ثم رجعت فرأيت القردة بعرفات مثل ذلك و هم يقفزون كبارا و صغارا منهم مثل البقر و منهم مثل الظبي و منهم مثل الشاة فقرأت القرآن و تعوذت حتى رجعت إلى أبي عبيد فقال : ما صنعت ؟ فأخبرته ثم ذكرت له القرود التي رأيتها فقال أبو عبيد : ذلك ذنوب بني آدم قد وضعوها عن رقابهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حاظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن جعفر بصری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابو القاسم بن منیع سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے دادا احمد بن منیع سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک سال حج کیا تھا ۔ اور میں ابو عبید قاسم بن سلام کے برابر میں تھا ہم لوگ جب عرفات میں گئے تو میں نے اپنا سامان ان کے پاس رکھ دیا اور میں عکاظ کی طرف گیا تاکہ میں ان حوضوں میں غسل کیا اور واپس چلا گیا ابو عبید کے پاس اور ہمیانی بھول گیا وہ مجھے آدھی رات تک یاد نہ رہی جب آدھی رات ہو گئی تو میں کبیسہ یا کنیہ میں اترا ۔ اور میں صبح صبح عرفات میں گیا جب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں زمین اور پہاڑ چھوٹے بڑے بندروں سے بھرے ہوئے ہیں دائیں بائیں بھی وہ اچھل کود کر رہے ہیں میں دیکھ کر حیران پریشان ہوا میں نے ارادہ کیا کہ میں واپس لوٹ جاؤں اس کے بعد میں نے قرآن مجید کی کچھ آیات تلاوت کیں ۔ یہاں تک کہ میں ان سے گذر گیا ۔ اب جو میں عکاظ کی طرف گیا تو دیکھتا ہوں کہ میری ھمیانی اسی جگہ رکھی ہوئی ہے جہاں پر میں نے اسے رکھا تھا ۔ اس کے بعد میں لوٹ آیا۔ پھر دیکھتا ہوں تو عرفات میں پہلے کی طرح بندر بھرے ہوئے ہیں ۔ وہ ایک کے پیچھے ایک بھاگ رہے ہیں ان میں کچھ بڑے ہیں اور کچھ چھوٹے ہیں بعض بعض تو گائے کے برابر ہیں ۔ اور بعض ہرن کے برابر ان میں سے بکری کے برابر میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا اور اعوذ باللہ پڑھی ۔ اور میں ابو عبید کے پاس لوٹ آیا انہوں نے پوچھا کہ کیا کرتے رہے ؟ میں نے ان کو ساری بات سنائی اور ان کے سامنے بندروں کا ذکر کیا جنہیں میں نے دیکھا تھا ابو عبید نے کہا کہ یہ بنی آدم کے گناہ ہیں جو انہوں نے اپنی گردن سے اتار کر رکھے ہیں۔

جدي أحمدُ بنُ منيعٍ ← أبا القاسم بن منيع ← عُمَرُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4083

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4084

4084 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن عبد الله بن الجراح العدل بمرو نا عيسى بن عبد الله القرشي نا صدقة بن حرب الدينوري نا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان الدارمي عبد الرحمن بن أحمد بن عطية قال : سئل علي بن أبي طالب رضي الله عنه عن الوقوف بالجبل و لم لم يكن في الحرم ؟ قال : لأن الكعبة بيت الله و الحرم باب الله فلما قصدوه وافدين وقفهم بالباب يتضرعون قيل يا أمير المؤمنين ما الوقوف بالمشعر ؟ قال : لأنه لما أذن لهم بالدخول وقفهم بالحجاب الثاني و هو المزدلفة فلما أن طال تضرعهم أذن لهم بتقريب قربانهم بمنى فلما أن قضوا تفثهم و قربوا قربانهم فتطهروا بها من الذنوب التي كانت لهم أذن لهم بالوفادة إليه على الطهارة قيل : يا أمير المؤمنين فمن أين حرم صيام أيام التشريق ؟ قال : لأن القوم زوار الله و هم في ضيافته و لا يجوز للضيف أن يصوم دون إذن من أضافه قيل : يا أمير المؤمنين فتعلق الرجل بأستار الكعبة لأي معنى هو ؟ قال : مثل الرجل بينه و بين صاحبه جناية فتعلق بثوبه و يبهل إليه و يستجدي له ليهب له جنايته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن جراح عدل نے مقام مرو میں ان کو عیسیٰ بن عبداللہ قرشی نے ان کو صدقہ بن حرب دینوری نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو سلیمان دارمی سے ان کو عبدالرحمٰن بن احمد عطیہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا تھا جبل رحمت کے ساتھ وقوف کے بارے میں اور یہ کہ وہ حرم میں کیوں نہیں ہے انہوں نے فرمایا ۔ اس لئے کہ کعبہ بیت اللہ ہے ۔ اور حرم باب اللہ ہے ۔ جب لوگوں نے اس کی طرف جانے کا قصد کیا تو ان کو دروازے پر روک لیا گیا کہ وہاں وہ خوب گڑ گڑائیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ اے امیر المؤمنین۔یہ مشعر الحرام کا وقوف کیا ہے ؟ یا کیوں ہے ؟ فرمایا کہ یہ اس لئے ہے کہ جب اس کو داخل ہونے کی اجازت مل گئی تو ان کو حجاب ثانی پر روک دیا وہ مزدلفہ ہے ۔ پس جب ان کا گڑ گڑانا لمبا ہو گیا تو ان کی اجازت دیدی اپنی قربانیاں پیش کرنے کی منیٰ میں جب وہ اپنی حآجت اور کام پورا کر چکے اور قربانیاں پیش کر چکے تو وہ ان کے ذریعے ان گناہوں سے پاک ہو گئے جو ان کے تھے تو ان کو اپنی بارگاہ میں حاضری کی اجازت دے دی طہارت کے بعد ۔ پوچھا گیا اے امیر المؤمنین کس وجہ سے حرام ہے روزہ ایام تشریق کا ؟ انہوں نے فرمایا اس لئے کہ یہ قوم ( حجاج کرام ) اللہ کے زائرین ملنے والے ہیں اور وہ اس کی ضیافت میں ہیں اور مہمان کےلئے جائز نہیں ہوتا کہ وہ اپنے میزبان کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے پوچھا گیا کہ اے امیر المؤمنین انسان کا غلاف کعبہ کے ساتھ لٹک جانا کس معنی میں ہے ؟ فرمایا کہ یہ مثال ہےاس انسان کی جس کے درمیان اور اس کے متعلق دوسرے آدمی کے درمیان کوئی حق ہو لہذا لینے والا اس کے کپڑوں میں لٹک جائے اور جھول جائے تاکہ وہ اس کا حساب اور حق اس کو دے دے ۔

الوقوف بالجبل و لم لم يكن في الحرم ← سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبا سليمان الدارمي عبد الرحمن بن أحمد بن عطية ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← صدقة بن حرب الدينوري ← عيسى بن عبد الله القرشي ← محمد بن عبد الله بن الجراح العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4084

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4085

4085 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان سعيد بن عثمان الحناط يقول : سمعت عبد البارىء يسأل ذا النون فقال له : يا أبا الفيض لم صير الموقف بالمشعر ؟ يريد عرفات و لم يصير بالحرم ؟ فقال له ذو النون لأن الكعبة بيت الله و الحرم حجابه و المشعر بابه فلما أن قصد الوافدون أوقفهم بالباب الأول يتضرعون إليه حتى إذا أذن لهم بالدخول أوقفهم بالحجاب الثاني و هو مزدلفة فلما نظر إلى تضرعهم أمر بتقريب قربانهم فلما أن قربوا قربانهم و قضوا تفثهم و تطهروا من الذنوب التي كانت لهم حجابا من دونه أمرهم بالزيارة على الطهارة فقال له : يا أبا الفيض لم كره صيام أيام التشريق ؟ قال : لأن القوم هم زوار الله و هم في ضيافته و لا ينبغي لضيف أن يصوم عند من أضافه إلا بإذنه فقيل له يا أبا الفيض فما معنى الرجل يتعلق بأستار الكعبة قال : مثله مثل رجل بينه و بين صاحبه جنابة فهو يتعلق به و يستجدي له رجاء أن يهب له جرمه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سعید بن عثمان حناط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالباری سے ۔ جوذوالنون سے پوچھ رہے تھے ۔ اے ابو الفیض موقف مشعر میں کیوں بنایا گیا ہے ؟ اس سے ان کی مراد عرفات کی تھی اور حرم میں کیوں نہیں بنایا گیا ؟ ذوالنون نے ان کو جواب دیا کہ اس لئے کہ کعبہ بیت اللہ ہے ۔ اور حرم اس کا حجاب اور حفاظت ہے اور مشعر اس کا دروازہ ہے جب آنے والوں نے ارادہ کیا تو ان کو پہلے دروازے پر روک لیا کہ وہ اس کے آگے گڑ گڑائیں ۔ حتٰی کہ جب ان کو داخل ہونے کی اجازت دی تو ایک کو حجاب ثانی پر روک لیا اور وہ مزدلفہ ہے ۔ جب ان کے تضرع اور عاجزی کو دیکھا تو اور گناہوں سے پاک ہو چکے جو کہ ان کے لئے اس کے آگے حجاب تھے ۔ تو ان کوحکم فرمایا زیارت طہارت کے ساتھ ۔ سائل نے کہا اے ابو الفیض ایام تشریق کے روزسے مکردہ کیوں ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ اس لئے کہ حجاج اللہ کے زائر ہیں ملنے والے ہیں ۔ اور وہ اللہ کی ضیافت میں ہیں ۔ اور یہ مناسب نہیں ہوتا کسی مہمان کے لئے ۔ کہ وہ روزہ رکھے اپنے مہمان نواز کے ہاں مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ پس ان سے کہا گیا کہ اے ابو الفیض اس کا کیا مطلب ہے کہ کوئی آدمی غلاف کعنہ کے ساتھ لٹکتا ہے انہوں نے جواب دیا کہ اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کا کسی کے پاس حق ہے وہ اس کے ساتھ لٹک جاتا ہے ۔ اور اس سے مانگتا ہے اس امید کے ساتھ وہ حاجت اس کو ہبہ کر دے ۔

له يا أبا الفيض لم صير الموقف بالمشعر يريد عرفات و لم يصير ← عبد البارىء يسأل ذا النون ← أبا عثمان سعيد بن عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4085

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4086

4086 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا أبو جابر نا هشام بن الغاز عن نافع عن ابن عمر قال : وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم النحر عند الجمرات في حجة الوداع فقال : أي يوم هذا ؟ قالوا : يوم النحر قال : فأي بلد هذا ؟ قالوا : البلد الحرام قال : فأي شهر هذا ؟ قالوا : الشهر الحرام قال : هذا يوم الحج الأكبر فدماؤكم و أموالكم و أعراضكم عليكم حرام كحرمة هذا البلد في هذا اليوم ثم قال : هل بلغت ؟ قالوا : نعم فطفق رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم اشهد ثم ودع الناس فقالوا هذه حجة الوداع قال الشيخ أحمد : استشهد به البخاري في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکھی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو ابو جابر نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے یوم النحر (دسویں کو ) میں جمرات کے پاس حجۃالوداع میں وقوف کیا تھا اور کہاتھا کہ یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ نے کہا کہ یوم النحر ہے ۔ اور فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ صحانہ نے کہا کہ بلاد الحرام ہے ۔ پھر پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ صحابہ نے کہ شہر الحرام ہے ۔ فرمایا یہ یوم حج اکبر ہے پس تمہارے خون تمہارے مال تمہاری عزتیں تمہارے اوپر حرام ہیں اس شہر کی حرمت کی طرح اس دن میں اس کے بعد کہا کہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیاہے ۔ صحابہ نے کہا جی ہاں پہنچا دیا ہے ۔پھر رسول اللہ نے کہنا شروع کیا ۔ اللہم اشہداے اللہ تو گواہ ہو جا ۔ اس کے بعد لوگوں سے الوداع کہا لوگوں نے کہاکہ یہ حجۃ الوداع ہے شیخ احمدنے فرمایا ۔ بخاری صحیح میں اس کا شاہد لائے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← أَبُو جَابِرٍ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4086

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4087

4087 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة نا أبو الفضل العباس بن محمد بن نصر نا سعيد بن يحيى بن يزيد نا مصعب بن عبد الله حدثني إبراهيم بن سعد ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا منصور بن أبي مزاحم نا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الأعمال أفضل ؟ قال : إيمان بالله و رسوله قيل : ثم ماذا ؟ قال : الجهاد في سبيل الله قيل : ثم ماذا ؟ قال : حماد بن سلمة مبرور لفظهما سواء غير أنه في رواية ابن نظيف ثم الجهاد و قال ثم حج مبرور رواه البخاري عن أحمد بن يونس و غيره عن إبراهيم و رواه مسلم عن منصور بن أبي مزاحم و غيره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو الفضل عباس بن محمد نصر نے ان کو سعید بن یحییٰ بن یزید نے ان کو مصعب بن عبداللہ نے ان کو ابرہیم بن سعد نے "ح" اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو منصور بن مزاحم نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پوچھا گیا تھا کہ عمل کون سا افضل ہے ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ ایمان اور رسول کے ساتھ پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا ؟ فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ ۔ پوچھا گیا کہ اس کے بعد کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ حج مقبول ۔ نیکیوں والا حج ۔دونوں روایتوں کے الفاظ برابر ہیں ۔ سوائے اس کے کہ ابن نظیف کی روایت میں ہے ۔ کہ پھر جہاد اور کہا کہ پھر نیکیوں والا حج اور روایت کیا اس کو بخاری نے احمد بن یونس سے اور دیگر سے انہوں نے ابراہیم سے ۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے منصور بن ابو مزاحم وغیرہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مصعب بن عبد الله ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4087

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4088

4088 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا علي بن عبد العزيز نا أبو نعيم نا مسعر عن منصور عن أبي حازم عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حج فلم يرفث و لم يفسق رجع كيوم ولدته أمه

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابراہیم نے ان کو مسعر نے ان کو منصور نے ان کو ابو حازم نے ان کو ابو ہریرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے حج نہ کیا گناہ کیا اور نہ ہی نافرمانی کی واپس لوٹے گا تو اس طرح ہو گا جیسے اس کو اس کی ماں نے آج ہی اس کو جنا ہے ۔

من حج فلم يرفث و لم يفسق رجع كيوم ولدته أمه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4088

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4089

4089 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا أبو الأزهر نا عمرو بن محمد العنقري عن مسعر و سفيان عن منصور عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حج فلم يرفث و لم يفسق ثم رجع رجع كما ولدته أمه أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان و أخرجه مسلم من حديث مسعر

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو ابوالازہر نے ان کو عمر بن محمد عنقری نے ان کو مسعر نے اور سفیان نے منصور سے اس نے ابو حازم سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص حج کرے نہ گناہ کرے اور نہ ہی نافرمانی کرے اس کے بعد لوٹ جائے تو وہ اس دن کی طرح لوٹے گا جیسے اس کو اس کی ماں نے آج ہی جنا ہے ۔ اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث سفیان سے اور اس کومسلم نے نقل کیا ہے حدیث مسعر سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← مسعر و سفيان ← عمرو بن محمد العنقري ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4089

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضل الحج و العمرة · حديث 4090

4090 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا شعبة نا سيار أبو الحكم قال : سمعت أبا حازم يقول : سمعت أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من حج فلم يرفث و لم يفسق رجع مثل يوم ولدته أمه رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس و أخرجه مسلم من حديث هشيم عن سيار

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو سیار نے ان کو ابوالحکم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابو حازم سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جو شخص حج کرے نہ بیہودہ گوئی کرے نہ ہی نا فرمانی کرے لوٹے گا مثل اس دن کی جو جنا تھا اس کو اس کی ماں نے ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے آدم بن ابو ایاس سے اور مسلم نے نقل کیا ہے حدیث ہیثم سے اس نے سیار سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا حَازِمٍ، ← سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Preferred Hajj and Umrah · Hadith 4090

chevron_left Previous
1…91011…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood