Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3971

3971 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا عبد الله بن صالح نا معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس أنه قال : في قوله : { ومن كفر فإن الله غني عن العالمين } يقول من كفر بالحج فلم ير حجه برا و لا تركه مأثما قال الشخ أحمد : و روينا معناه عن مجاهد و روينا من وجه آخر عن مجاهد في قوله { و من يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه } قال : لما نزلت هذه الآية قال أهل الملل كلهم نحن مسلمون فأنزل الله { و لله على الناس حج البيت } يعني على الناس كلهم فحج المسلمون و ترك المشركون و روينا عن عكرمة قال : { و من كفر } يعني أهل الملل { فإن الله غني عن العالمين } قال الحليمي رحمه الله : و يحتمل أن يكون معنى قوله { و من كفر } أي من فعل ما يفعله الكفار فجلس و لم يحج فإن الله غني عن العالمين

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالحسن طرئفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے ان کو ابن عباس نے کہ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ ومن کفر فان اللہ غنی عن العٰلمین"جو شخص کفرکرے بے شک اللہ بے پرواہ ہے جہان والوں سے ۔ابن عباس کہتے کہ جو شخص کفر کرے حج کے ساتھ ( یعنی حج کا انکار کرے ) یعنی نہ تو حج کرنے کو نیکی سمجھے نہ اس کے ترک کرنے کو گناہ سمجھے ۔شیخ احمد نے کہا ہے کہ ہم نے روایت کیا ہے اسی کا مفہوم مجاہد سے بھی اور ہم نے روایت کیا ہے ایک دوسرے طریق سے مجاہد سے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ " جو شخص اسلام کے سوا کوئی ور دین تلاش کرے ہر گز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ مجاہس کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو تمام اہل ملل نے کہا کہ ہم تو مسلمان ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ۔ وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً"لوگوں پر اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے ۔ یعنی سب لوگوں پر پس مسلمانوں نے حج کئے اور مشرکوں نے اس کو ترک کر دیا اور ہم نے روایت کیا ہے عکرمہ سے انہوں نے کہا کہ ومن کفر ۔ جس نے کفر کیا یعنی اہل ملل میں سے :فان اللہ غنی عن العٰلمین "بے شک اللہ بے پرواہ ہے جہا ن والوں سے ۔شیخ حلیمی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ احتمال ہے کہ ومن کفر کا معنی یہ ہو کہ جو شخص کفار والا فعل کرے یعنی کفار کی طرح جو شخص بیٹھ گیا اور حج نہ کیا بے شک اللہ غنی ہے جہان والوں سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3971

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3972

3972 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ نا يحيى بن محمد بن يحيى نا أحمد بن يونس نا عاصم بن محمد يعني ابن زيد قال : سمعت أبي يحدث عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و حج البيت و صوم رمضان أخرجه مسلم من وجه آخر عن عاصم بن محمد

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب بن یوسف حافظ نے ان کو یحیی بن محمد بن یحیی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عاصم بن محمد ابن زید نے انہوں نے سنا اپنے والدسے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد رکھی ہے پامنچ چیزوں سے یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبو د نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اور نماز قائم کرنا ۔اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کا روزہ رکھنا ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے عاصم بن محمد سے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← عاصم بن محمد يعني ابن زيد ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3972

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3973

3973 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا يونس بن محمد نا معتمر بن سليمان عن أمية عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول : بينما نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاء رجل فقال يا محمد ما الإسلام ؟ قال : أن تشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و أن تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تحج البيت و تعتمر و تغتسل من الجنابة و تتم الوضوء و تصوم رمضان قال : فإن فعلت هذا فأنا مسلم ؟ قال نعم قال : صدقت و ذكر الحديث أخرجه مسلم في الصحيح من حديث يونس بن محمد

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبیداللہ نے ان کو مناوی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو امیہ نے ان کو یحییٰ بن یعمر نے ان کو ابن عمر نے انہوں نے سنا عمر بن خطاب سے وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ رسول اللہ کے پاس بیٹھےہوئے تھے ۔ اچانک ایک آدمی آیا اور آ کر کہنے لگا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآل وسلم )اسلام کیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے جواب دیا یہ کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وآل وسلم ) اللہ کے رسول ہیں ۔اور یہ کہ تم نماز قائم کرو اور یہ کہ تم زکوٰۃ ادا کرو اور تم بیت اللہ کا حج کرو اور تم عمرہ کرو اور جنابت و ناپاکی سے غسل کرو اور وضو کو پورا کرو اور تم رمضان کے روزے رکھو ۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں یہ سارے کام کروں تو میں مسلمان ہوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا جی ہاں ۔ اس سائل نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا ہے اور حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں یونس بن محمد کی حدیث سے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أُمَيَّةَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3973

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3974

3974 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا أبو حذيفة نا سفيان عن إبراهيم الخوزي عن محمد بن عباد بن جعفر المخزومي عن ابن عمر قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن قول الله عز و جل { و لله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا } قال : الزاد و الراحلة و قيل له ما الحاج ؟ قال الشعث الغبر التفل و سئل أي الحج أفضل ؟ قال العج و الثج و بهذا الإسناد سواء عن ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و من كفر بالله و اليوم الآخر

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابراہیم خوذی نے ان کو محمد بن عباد بن جعفر مخزومی نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے پوچھا گیا تھا اس آیت کے بارے میں :وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد زاداور راحلہ ہے یعنی سواری کا انتظام ہو اور سفر کے اخراجات کا اتظام ہو ۔ پھر آپ سے پوچھا گیا کیا حج کرنے والا کیسے ہوگا؟ فرمایا کہ بال بکھرے غبار آلود نڈھال ہوگا ۔پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے فرمایا (عج اور ثج )۔اور اسی اسناد کے ساتھ برابر ہے ۔ ابن عمر سے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ومن کفر باللہ والیوم الاخر" جو شخص کفر کرے اللہ کے ساتھ اور آخرت کے دن کے ساتھ "۔

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3974

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3975

3975 - أخبرنا أبو زكريا بن المزكى و أبو عبد الرحمن السلمي قالا أنا أبو القاسم علي بن المؤمل بن الحسن الماسرجسي نا محمد بن أيوب عن يحيى بن الضريس الرازي أنا محمد بن الصباح نا سعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أوصني فقال : تعبد الله و لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصوم شهر رمضان و تحج و تعتمر و تسمع و تطيع و عليك بالعلانية و إياك و السر قال الشيخ أحمد : خالفه محمد بن بشر فرواه عن عبيد الله عن يونس بن عبيد عن الحسن قال : جاء أعرابي إلى عمر فسأله عن الدين فذكره موقوفا

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن مزکی نے اور عبدالرحمٰن سلمی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالقاسم علی بن مؤمل بن حسن ماسر حبسی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو یحییٰ بن ضریس رازی نے نا کو محمد بن صباح نے ان کو سعید بن عبدالرحمن حمجی نے ان کو عبید اللہ بن عمر نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیے ۔ انہوں نے فرمایا تم اللہ کی عبادت کرو اور اطاعت کرو ( یا اپنے امید کی بات ) چھپ کر ہو یا ظاہر ہو تم اس کی لازم پکڑو۔شیخ احمد نے کہا اس کی مخالفت کی ہے محمد بن بشر نے پس روایت کیا ہے انس نے اس کو عبیداللہ سے اس نے یونس بن عبید سے اس نے جس سے کہا کہ ایک اعرابی حضرت عمر کے پاس آیا اس نے ان سے دین کے بارے میں پوچھا پھر محمد بن بشر نے اس کو بطور موقوف روایت کے ذکر کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← يحيى بن الضريس الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو القاسم علي بن المؤمل بن الحسن الماسرجسي ← أبو زكريا بن المزكى و أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3975

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3976

3976 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت علي بن عيسى يقول : سمعت الحسين بن محمد بن زياد القباني يقول نا محمد بن رافع نا محمد بن بشر حدثنيه عبيد الله بن عمر العمري عن يونس بن عبيد عن الحسن قال : جاء أعرابي إلى عمر فسأله عن الدين فقال يا أمير المؤمنين علمني الدين قال تشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصوم رمضان و تحج البيت و عليك بالعلانية و إياك و السر و إياك و كل شيء يستحى منه قال : و إذا لقيت الله قل أمرني بهذا عمر بن الخطاب فقال يا عبد الله خذ بهذا فإذا لقيت الله فقل ما بدا لك قال القباني : قلت لمحمد بن يحيى أيما المحفوظ حديث يونس عن الحسن عن عمر أو نافع عن ابن عمر فقال محمد بن يحيى حديث الحسن أشبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نےانہوں نے سنا علی بن عیسیٰ سے انہوں نے سنا حسین بن محمد بن زیاد القبانی سے ان کو خبر دی محمد بن رافع نے ان کو محمد بن بشر نے ان کو عبیداللہ بن عمر عمری نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ایک عرابی حضرت عمر کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے دین کے بارے میں بتائیے یا کہا اے!امیر المؤمنین مجھے دین سکھائیے انہوں نے اس کو بتایا کہ تم شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم اس کے رسول ہیں ۔اور تم نماز قائم کرو۔زکوٰۃ ادا کرو رمضان کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو ظاہر اور پوشیدہ ہر حال میں (ان باتوں کی مخالفت و نافرمانی سے بچو ) اور ہر اس چیز سے جس سے حیا کی جاتی ہے ۔ اور جب تم اللہ سے ملو تو کہنا مجھے عمر بن خطاب انہیں چیزوں کا حکم دیا تھا ۔ اور کہا تھا اے اللہ کے بندے پکڑ لو اسی کو جب تم اللہ سے ملو تو اس وقت کہہ دینا جو ظاہر باہر تیرے لئے ۔ القبانی نے کہا ہے کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے کہا کہ کون سی روایت محفوظ ہے ؟َحدیث یونس حسن سے اس نے عمر سے ۔ یا یہ روایت جو نافع سے ابن عمر سے ہے انہوں نے کہا کہ محمد بن یحییٰ حدیث حسن زیادہ مناسب ہے ۔

تشهد ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، عَلِّمْنِي الدِّينَ، ← الدِّينِ. ← جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3976

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3977

3977 - و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا الجنيدي قال : ـ قال البخاري هذا بإرساله أصح يعني حديث الحسن عن عمر مرسلا لأن الحسن لم يدرك عمر و هذا أصح من حديث سعيد بن عبد الرحمن الجمحي

اور ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو جنیدی نے وہ کہتے ہیں کہ بخاری نے کہا کہ یہ اپنے مرسل ہونے کے باوجود زیادہ صحیح ہے یعنی حدیث حسن عمر سے مرسلاً ۔ کیونکہ حسن نے حضرت عمر کو نہیں پایا اور یہ زیادہ صحیح ہے سعید بن عبدالرحمٰن جمعی کی حدیث سے ۔

البخاري هذا بإرساله أصح يعني حديث الحسن ← الجنيدي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3977

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3978

3978 - أخبرنا أبو القاسم علي بن الحسن بن علي الطهماني نا أحمد بن عبدوس الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا مسلم بن إبراهيم نا هلال بن عبد الله عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ملك زادا و راحلة يبلغ به إلى بيت الله فلم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا أو نصرانيا و ذلك أن الله تعالى قال : { و لله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا } تفرد به هلال أبو هاشم مولى ربيعة بن عمرو عن أبي إسحاق

ہمیں خبر دی ابوالقاسم علی بن حسن بن علی طہمانی نے ان کو احمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہلال بن عبداللہ نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو حارث نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص سفر کے خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو جس کے ساتھ وہ بیت اللہ تک پہنچ سکے لیکن وہ اس کے باوجود حج نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کے ذمے کچھ نہیں ہے کہ وہ بندہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر ۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمادیا ہے : وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً "لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے لازم ہے بیت اللہ کا حج کرنا ہر اس شخص کے لئے جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے "متفرد ہے اس روایت میں ہلال ابو ہاشم مولیٰ ربیعہ بن عمرو ابو اسحاق سے ۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← هلال بن عبد الله ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن عبدوس الطرائفي ← أبو القاسم علي بن الحسن بن علي الطهماني

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3978

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3979

3979 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر نا سهل بن عمار نا يزيد بن هارون نا شريك عن ليث عن عبد الرحمن بن سابط عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من لم تحبسه حاجة ظاهرة أو مرض حابس أو سلطان جائر و لم يحج فليمت إن شاء يهوديا و إن شاء نصرانيا قال الشيخ : و هذا إن صح فإنما أراد و الله أعلم إذا لم يحج و هو لا يرى تركه إثما و لا فعله برا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص تاجر نے ان کو سہل بن عمار نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو شریک نے ان کو لیث نے ان کو عبدالرحمن بن سابط نے ان کو ابو امامہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے آپ نے فرمایا جس شخص کو حج کرنے سے (یہ چیزیں مانع نہ ہوں ) کو ظاہری ضرورت یا روکنے والی بیماری یا ظالم بادشاہ ( پھر بھی وہ) حج نہ کرے اسے چاہئے کہ پھر وہ مر جائے اگر چاہے تو یہودی ہو کر چاہے تو نصرانی ہو کر۔ شیخ فرماتے ہیں کہ یہ روایت اگر صحیح ہے ۔ تو اس سے یہ ارادہ کیا ہے اور مراد لیا ہے کہ جب اس نے حج نہیں کیا اور اس نے فرض ہونے کے باوجود اس کے ترک کرنے کو بھی گناہ سمجھا اور نہ اس پر عمل کرنے کو نیکی سمجھا ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← لَيْثٌ، ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3979

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3980

3980 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا أبو عميس عن ابن حلحلة عن محمد بن عطاء قال : ـ علي بن عباس حجرة خالته ميمونة بعد الجمعة فجاء سائل فقام على الباب فقال : السلام عليكم أهل البيت و رحمة الله و بركاته و صلاته و مغفرته فقال ابن عباس : عباد الله انتهوا بالتحية إلى ما قال الله عز و جل و رحمة الله و بركاته ثم قال ابن عباس ما آسى على شيء فاتني من الدنيا إلا أني لم أحج ماشيا حتى أدركني الكبر أسمع الله تعالى يقول : { يأتوك رجالا و على كل ضامر }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابو اعمس نے ان کو ابن حلحلہ نے ان کو محمد بن عطاء نے انہوں نے کہا کہ علی بن عباس کی خالہ میمونہ جمعہ کے بعد مسجد سے نکلی تو دروازے پر سائل آ کر کھڑا ہو گیا اور بولا : السلام علیکم اہل بیت ورحمۃاللہ و برکاتہ، وصلاتہ ، ومغفرتہ،"اے اہل بیت تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اس کی برکت اس کی صلوٰۃ اوراس کی مغفرت ہو ۔ابن عباس نے کہا اللہ کے بندو سلام کرنے میں وہاں تک رک جایا کرو جہاں تک اللہ نے فرمایا ہے ورحمۃاللہ و برکاتہ ، اس کے بعد ابن عباس نے فرمایا کہ مجھے دنیا سے کسی چیز کے رہ جانے اور فوت ہوجانے کا کوئی افسوس نہیں ہے سوائے اس یک خواہش کے کہ مجھے بڑھاپا آ گیا ہے مگر میں پیدل چل کر حج نہیں کر سکا میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سن رکھا ہے وہ فرماتے ہیں ۔ یاتوک رجالاً وعلی کل ضامر ۔ پیدل چل کر تیرے پاس آئیں اور ہر دبلے اونٹ پر ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنِ حَلْحَلَةَ ← أَبُو عُمَيْسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3980

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المناسك · حديث 3981

3981 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو علي الحسين بن علي الحافظ نا محمد بن الحسين الخثعمي نا علي بن سعيد الكندي نا عيسى بن سوادة عن إسماعيل بن أبي خالد عن زاذان قال : مرض ابن عباس مرضا فدعا ولده فجمعهم فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من حج من مكة ماشيا حتى يرجع إلى مكة كتب الله عز و جل بكل خطوة سبعمائة حسنة مثل حسنات الحرم قيل و ما حسنات الحرم قال : بكل حسنة مائة ألف حسنة تفرد به عيسى بن سوادة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان محمد بن حسن خثعمی نے ان کو علی بن سعید کندی نے ان کو عیسئ بن سوادہ نے ان کو اسما عیل بن ابو خالد نے ان کو زاذان نے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس بیمار ہو گئے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور سب کو جمع کر لیا پھر فرمایا کہ میں نے سنا تھا کہ رسول اللہ فرما رہے تھے ۔ جو شخص پیدل چل کر مکے سے حج کرے پھر مکے واپس لوٹ آئے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر قدم کے بدلے میں سات سو نیکی لکھیں گے حرم کی نیکیوں کی مثل ۔ پوچھا گیا کہ حسنات الحرم حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا کہ ہر ایک کے بدلے میں ایک لاکھ نیکی ۔ اس روایت میں عیسٰی بن سوادہ متفرد ہے ۔

زَاذَانَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عيسى بن سوادة، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← محمد بن الحسين الخثعمي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › And it is a door in the rituals · Hadith 3981

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3982

3982 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا أبو معاوية نا الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال : قلت يا رسول الله أي مسجد وضع في الأرض أول ؟ قال : المسجد الحرام قال : ثم قلت : ثم أي ؟ قال : ثم المسجد الأقصى قال : قلت كم كان بينهما ؟ قال : أربعون سنة فأينما أدركت الصلاة فصل فهو مسجد رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب و غيره عن أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابومعاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم تیمی نے ان کو ان کے والد نےان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ کون سی مسجد سب سے پہلے زمین پر قائم کی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجدالحرام ۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کو ن سی ؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ ۔ کہتےہیں کہ میں نے پھر سوال کیاکہ دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟ فرمایا کہ چالیس سال ۔ جہاں نماز کا وقت ہو جائے پس نماز پڑھ لے وہی جگہ مسجدہے۔ اس کو مسلم نے صیحح میں روایت کیاہے ابوکریب وغیرہ سے اس نے ابومعاویہ سے۔اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3982

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood