Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3961

3961 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد أنا أبو الوليد حسان بن محمد القرشي نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد البوشنجي نا يوسف بن عدي نا أبو بكر بن عياش و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا أبو بكر بن أبي شيبة و هناد بن السري قالا : نا أبو بكر عن أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعتكف عشرا في رمضان و في رواية الزاهد يعتكف من كل رمضان عشرة أيام فلما كان العام المقبل الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما رواه البخاري في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة

ہمیں حدیث بیان کی ابوسعید عبدالملک بن ابوعثمان زاہد نے ان کو ابوالولید حسان بن قرشی نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بن سعید بوشنجی نے ان کو یوسف بن عدی نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے "ح"۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعباللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بکر بن ابوشیبہ نے اور ہناد بن سری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے ابوبکر بن ابوحصین نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم رمضان میں دس دن اعتکاف بیٹھتے تھے ۔ اور زاہد کی روایت میں ہے آپ اعتکاف کرتے تھے ہر رمضان میں دس دن کا جب آنے والا سال آیا جس میں آپ کا انتقال ہوا انہوں نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صیحح میں ابوبکر بن ابوشیبہ سے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أبو بكر بن أبي شيبة و هناد بن السري ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3961

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3962

3962 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى نا الليث عن عقيل عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله ثم اعتكف أزواجه من بعده و السنة في المعتكف أن لا يخرج إلا للحاجة التي لا بد منها و لا يعود مريضا و لا يمس امرأة و لا يباشرها و لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة و السنة في المعتكف أن يصوم أخرجاه في الصحيح من حديث الليث دون قوله و السنة في المعتكف إلى آخره فقد قيل إنه من قول عروة و الله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحیی نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عروہ بن زبیر نے ان کو سیدہ عائشہ زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم اعتکاف میں بیٹھتے تھے رمضان کے آخری عشروں میں ۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو وفات دی اس کے بعد ان کی بیوی نے اعتکاف کیا آپ کے بعد ۔ اور معتکف کے لئے سنت اور طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی اعتکاف گاہ سے (مسجد سے ) نہ نکلے مگر اس کی حاجت کے لئے جس کے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ اور طبع پرسی کرے مریض کی اور نہ ہاتھ لگائے بیوی کو اور نہ مباشرت کرے اس سے اور اعتکاف نہیں ہو سکتا مگر اس مسجد میں جس میں با جماعت نماز ہوتی ہو اور معتکف کے لئے سنت ہے کہ وہ روزہ رکھے ۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے حدیث لیث سے سوائے اس لفظ کے کہ السنۃ فی المعتکف ہے آخر تک تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ کہ عروہ کا قول ہے ۔ واللہ اعلم ۔

عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3962

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3963

3963 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي نا أحمد بن الأزهر بن منيع من أصله نا يزيد بن أبي حكيم نا سفيان حدثني عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال : قال عمر بن الخطاب : نذرت أن أعتكف في المسجد الحرام فلما أسلمت سالت النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال أوفي بنذرك أخرجاه من حديث عبد الله بن عمر

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالحسن محمدبن حسین علوی نے ان کو ابوحامد بن شرقی نے ان کو احمد بن ازھر بن منیع نے اپنی اصل کتاب سے ان کو خبر دی یزید بن ابوالحکیم نے ان کو سفیان نے ان کو حدیث بیان کی ہے عبیداللہ بن عمر نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے کہا کہ میں نے (اسلام سے قبل ) نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں اعتکاف بیٹھوں گا جب میں مسلمان ہو گیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے پوچھا اس بارے میں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنی منت پوری کروں ۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے عبداللہ بن عمر کی حدیث سے ۔

عمر بن الخطاب نذرت ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ ← أحمد بن الأزهر بن منيع من أصله ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3963

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3964

3964 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني خلف بن محمد البخاري نا سهيل بن شاذوية نا إسحاق بن حمزة نا عيسى بن موسى عن عبيدة بن بلال العمي البخاري عن فرقد السبخي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في المعتكف : إنه معتكف الذنوب و يجري له من الأجر كأجر عامل الحسنات كلها و قد رواه أيضا أبو زرعة الرازي عن محمد بن أمية عن عيسى بن موسى غنجار و هو يتفرد بإسناده هذا و فيه ضعف و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے خلف بن محمد بخاری نے انکو سہیل بن شاذویہ نے ان کو اسحٰق بن حمزہ نے ان کو عیسٰی بن موسیٰ نے ان کو عبیدہ بن بلال عمی بخاری نے ان کو فرقد سنجی نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : معتکف کے بارے میں کہ وہ گناہوں سے رکا ہوا ہے اور اس کے لئے اجر بھی ہے مثل اجر تمام نیکیاں کرنے والے کے اور تحقیق روایت کیا ہے اس کو ابوزرعہ رازی نے بھی محمد بن امیہ سے اس نے عیسیٰ بن موسیٰ غنجار سے اور وہ متفرد ہے اس اسناد کے ساتھ اور اس میں ضعف ہے ۔واللہ اعلم۔

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3964

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3965

3965 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا دعلج بن أحمد نا الحسين بن إدريس الهروي نا أحمد بن خالد الخلال البغدادي نا الحسن بن بشر قال : و جاء بكتاب أبيه و لم يسمعه منه قال : نا عبد العزيز بن أبي رواد عن عطاء عن ابن عباس : أنه كان معتكفا في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتاه رجل فسلم عليه ثم جلس فقال له ابن عباس يا فلان أراك مكتئبا حزينا قال نعم يا ابن عم رسول الله لفلان علي حق و لا و حرمة صاحب هذا القبر ما أقدر عليه قال ابن عباس أفلا أكلمه فيك قال إن أحببت قال : فانتعل ابن عباس ثم خرج من المسجد فقال له الرجل أنسيت ما كنت فيه قال لا و لكني سمعت صاحب هذا القبر صلى الله عليه و سلم و العهد به قريب فدمعت عيناه و هو يقول من مشى في حاجة أخيه و بلغ فيها كان خيرا من اعتكاف عشر سنين و من اعتكف يوما ابتغاء وجه الله تعالى جعل الله بينه و بين النار ثلاث خنادق أبعد ما بين الخافقين

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو حسین بن ادریس ہروی نے ان کو احمد بن خالد خلال بغدادی نے ان کو حسن بن بشر نے وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کی کتاب لائے مگر اس نے اس روایت کو ان سے سنا نہیں تھا ۔وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے عبدالعزیز بن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ درداء نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے کہ وہ مسجد رسول اللہ میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے چنانچہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اس نے سلام کیا پھر وہ بیٹھ گیا حضرت ابن عباس نے اس سے پوچھا کہ اے فلانے میں تجھے گھٹا ہوا اور غمگین دیکھ رہا ہوں اس نے جواب دیا جی ہاں اے ابن عباس چچائے رسول کے بیٹے ۔ فلاں آدمی کا مجھ پر قرض ہے اس قبر والے کی (رسول اللہ کی ) عزت کی قسم میں اس کو ادا نہیں کر سکتا حضرت ابن عباس نے کہا کیا میں اس سے تیرے بارے میں بات کروں اس نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ضرور کریں ۔کہتے ہیں حضرت ابن عباس نے جوتے پہنے اور مسجد سے نکل گئے اس آدمی نے کہا کہ کیا آپ اعتکاف بھول کر باہر آگئے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ نہیں (بھولا نہیں ہوں ) بلکہ میں اس قبر والے سے سنا تھا او ر کچھ زیادہ عرصہ بھی اس کو نہیں گذرا ہے اور ابن عباس کی آنکھوں میں آنسو جھلک پڑے کہ حضور فرما رہے تھے ۔ جو شخص چلے اپنے کسی بھائی کی کسی حاجت میں اور اس میں کامیابی کرنے یہ بہتر ہو گا بیس سال کے اعتکاف سے اور جو شخص ایک دن اعتکاف کرے اللہ کی رضا جوئی کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان تین خندقیں بنا دے گا ۔جن کا فاصلہ مشرق و مغرب کے برابر ہو گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← و جاء بكتاب أبيه و لم يسمعه منه ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← أحمد بن خالد الخلال البغدادي ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْهَرَوِيُّ، ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن بن بشران

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3965

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3966

3966 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي نا أحمد بن يوسف السلمي نا سعيد بن سليمان نا هياج نا عنبسة بن عبد الرحمن بن سعيد بن العاص عن محمد بن زاذان عن علي بن حسين عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من اعتكف عشرا في رمضان كان كحجتين و عمرتين و إسناده ضعيف و ما قبله فيه ضعف و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو ہیاج نے ان کو عنبسہ بن عبدالرحمٰن بن سعید بن عاص نے ان کو محمد بن زاذان نےان کو علی بن حسین نت ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرے اس کا ثواب ایسے ہوگا جیسے اس نے دو حج یا عمرے کئے ہوں ۔اس کی اسناد ضعیف ہے اور جو اس سے پہلے مذکور ہے اس میں ضعف ہے ۔واللہ اعلم ۔

أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← محمد بن زاذان ← عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← هياج ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3966

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3967

3967 - أخبرنا أبو بكر القاضي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا سعيد بن سليمان نا هياج بن بسطام نا عنبسة بن عبد الرحمن بن عنبسة بن سعيد بن العاص عن محمد بن سليم عن علي بن حسين عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اعتكف عشرا في رمضان حجتين و عمرتين يعني كان كحجتين و عمرتين كذا قال محمد بن سليم و الصواب محمد بن زاذان و هو متروك قال البخاري لا يكتب حديثه

ہمیں خبر دی ہے ابوبکر قاضی نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صناعی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو ہیاج بن بسطام نے ان کو عنبسہ بن عبدالرحمن بن عنبسہ بن سعید بن عاص نے ان کو محمد بن سلیم نے ان کو علی بن حسین نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جو شخص رمضان میں دس دن اعتکاف میں بیٹھے دو حج دو عمرہ ہیں (یعنی اس کا اجر مثل دو حج اور دو عمرے کرنے کے ہے ۔)ایسے ہی کہا ہے محمد بن سلیم نے۔ اور درست جو ہے وہ محمد بن زاذان نے وہ راوی متروک ہے۔بخاری نے کہا ہے کہ اس کی حدیث نہ لکھی جائے ۔

أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمٍ ← عنبسة بن عبد الرحمن بن عنبسة بن سعيد بن العاص ← هَيَّاجِ بْنِ بِسْطَامٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر القاضي و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3967

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3968

3968 - أخبرنا أبو محمد السكري ببغداد أنا أبو بكر الشافعي نا جعفر بن محمد بن الأزهر نا المفضل بن غسان قال : و قال يحيى بن معين نا علي بن الحسن بن شقيق عن سعيد بن عبد العزيز قال : بلغت عن الحسين قال للمعتكف كل يوم حجة هذا القول الذي روي عن الحسن البصري و أحب إلي من رواية محمد بن زاذان و لا يقوله الحسن إلا عن بلاغ بلغه

ہمیں خبر دی ابومحمد سکری نے بغدادی میں ان کو ابوبکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد ازہر نے ان کو مفضل بن غسان نے انہوں نے نے کہا کہ یحیی بن معین نے کہا ہمیں خبر دی ہے علی بن حسن بن شفیق نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے پہنچا ہے حسین سے انہوں نے کہا اعتکاف بیٹھے والے کے لئے ہر روز ایک حج ہوتا ہے یہ وہی قول ہے جو حسن نصری سے مروی ہے اور میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے محمد بن زاذان کی روایت سے رضی اللہ عنہ اور حسن اس کی نہیں کہتے مگر کسی پہچانے والے سے جس نے ان کو پہنچائی ہے ۔

الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3968

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3969

3969 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب نا زكريا بن يحيى بن صبيح نا زياد بن السكن قال : كان زبيد اليامي وعد جماعة إذا كان يوم النيروز و يوم المهرجان اعتكفوا في مساجدهم ثم قالوا إن هؤلاء قد اعتكفوا على كفرهم و اعتكفنا على إيماننا فاغفر لنا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو زکریا بن یحییٰ بن صبیح نے ان کو زیاد بن سکن نے وہ کہتے ہیں کہ زبیند یامی ، انہوں نے وعدہ لے رکھا تھا ایک جماعت سے کہ جب نیروز کا دن ہو یا مہر جان کا وہ لوگ اپنی اپنی مساجد می اعتکاف بیٹھا کریں ۔ پھر انہوں نے دعا کی بے شک یہ لوگ تحقیق اعتکاف بیٹھتے تھے اپنے کفر کے باوجود اور ہم اعتکاف بیٹھیں گے ایمان پر لہذا اللہ تو ہمیں معاف فرما ۔(ایرانیوں کی عیدوں کے دن ۔)

زياد بن السكن ← زكريا بن يحيى بن صبيح، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3969

شعب الإيمان · الرابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الاعتكاف · حديث 3970

3970 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا عبد الله بن علي بن الجارود نا محمد بن كيسان نا علي بن الحسن بن شفيق عن عبد الله بن المبارك عن عثمان بن عطاء عن أبيه قال : إن مثل المعتكف مثل المحرم ألقى نفسه بين يدي الرحمان فقال و الله لا أبرح حتى ترحمني آخر كتاب الصوم و الاعتكاف

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو عبداللہ بن علی ابن جارود نے ان کو محمد بن کیسان نے ان کو علی بن حسن بن شفیق نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو عثمان بن عطاء نے ان کو ان کے والد نے اس نے کہا کہ بے شک اعتکاف بیٹھنے والے کی مثال احرام باندھنے والے جیسی ہے جو اپنے آپ کو رحمٰن کے آگے پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی قسم نہیں ہٹوں گا یہاں سے یہاں تک کہ تو مجھ پر رحم کر ے ۔کتاب الصوم اور اعتکاف پر ختم ہوا ۔

إن مثل المعتكف مثل المحرم ألقى نفسه بين يدي الرحمان ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← علي بن الحسن بن شفيق ← محمد بن كيسان ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-fourth of the people of faith › And it is the door in i'tikaaf · Hadith 3970

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood