شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 395
394 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه إملاء ثنا أبو بكر محمد بن إبراهيم مربع الحافظ ببغداد ثنا يحيى بن معين ثنا مروان بن معاوية الفزاري ثنا الفضل بن يزيد الثمالي عن ابن العجلان المحاربي قال : سمعت عبد الله بن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الكافر ليجر لسانه فرسخين يوم القيامة يتوطأه الناس
ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے بطور املاء کے، ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم مربع حافظ نے بغداد میں، ان کو یحییٰ بن معین نے، ان کو مروان بن معاویہ فزاری نے ، ان کو فضل بن یزید شمالی نے، ان کو عجلان محاربی نے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کافر قیامت کے دن اپنی زبان کو دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اس کو روندتے جائیں گے۔ فصل:۔۔۔۔ عذاب قبر کی بحث آخرت میں ہر ایک کو عذاب ہو گا، خواہ وہ کافر ہو یا مؤمن (ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو عذاب نہیں ہو گا)۔ کس کو عذاب ہو گا؟ اور کس کونہیں ہو گا؟ اس میں فرق اور تمیز اس وقت ہو گی: (1)۔۔ جب فرشتے اس کی روح کو قبض کرنے کےلئے اس پر اتریں گے۔ (2)۔۔۔۔ اور قبض کرنے کی حالت میں۔ (3)۔۔۔ اور اس مقام اور جگہ میں جس کی طرف اس کی روح لے جائی جاتی ہے یا جہان جا کر رہتی ہے۔ (4)۔۔۔ اور دفن کے بعد۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (1)۔۔۔ ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو ا الخ (فصلت 30) اہل ایمان و اہل استقامت سے بوقت موت فرشتوں کی بشارت اور تسلی تحقیق جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے ، پھر اسی پر قائم رہے۔ ان پر اترتے ہیں فرشتے کہ تم مت ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تم سے وعدہ تھا۔ ہم میں تمہاری رفیق دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے وہاں ہے جو چاہے جی تمہارا اور تمہارے لئے وہاں ہے جو کچھ مانگو۔ مہربانی ہے اس بخشنے والے مہربان کی طرف سے۔ مجاہد کا قول: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ (مذکورہ بات ہو گی) موت کے وقت۔ کفار کو روح قبض کرتے وقت فرشتے مارتے ہیں اور آگ کے عذاب کی دھمکی دیتے ہیں (2) ۔۔۔ اور کفار کے بارے میں فرمایا: "ولو تریٰ اذا الظالمون فی غمرات الموت والملائکۃ باسطو ا ایدیھم " (الانعام 93 الایۃ) اگر تو دیکھے جس وقت ظالموں کو موت کی سختیوں میں اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو بدلے میں ملے گا ذلت کا عذاب اس واسطے کہ تم کہتے تھے اللہ پر جھوٹی باتیں۔ اور اس کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔ یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کفار پر ان کے ارواح کو کھینچنے اور ان کے نفس کو نکالنے کے وقت ان پر سخت ڈانٹ پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ذلت اور شدید عذاب کے لئے جا رہے ہیں اور ایسے میں مومنوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں بشارت دی جاتی ہے کہ وہ امن اور دائمی نعمتوں پر آئے ہیں۔ دنیاوی اور اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مضبوط کرتا ہے (4)۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: " یثبت اللہ الذین امنو ا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ویضل اللہ الظالمین ویفصل اللہ مایشاء " (ابراہیم 27) مضبوط کر تا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور بچلا دیتا ہے اللہ بے انصافوں کو اور کرتا ہے اللہ جو چاہے۔ (1)۔۔ہم نے حضرت براء بن عازب سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت مؤمن کے بارے میں ہے، جب قبر میں اس سے سوال ہو گا۔ (2)۔۔۔ اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ (3)۔۔۔ اور اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر میں بھی آیا ہے۔ (5)۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : "وحاق بال فرعون سوءالعذاب النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلو ا اٰل فرعون اشدا العذاب (غافر 45) اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب ۔ وہ آگ ہے کہ دکھلا دیتے ہیں ان کو صبح و شام اور جس دن قائم ہو گی قیامت۔ حکم ہو گا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ صبح و شام ان کو عذاب دکھلاتے ہیں ۔ یعنی جب تک دنیا قائم ہے ۔ اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ان کے کہا جاتا ہے اے آل فرعون۔ یہ ہیں تمہارے ٹھکانے ، یہ ان کو بطور ڈانٹ کے بطور ذلت کے بطور ناراضگی اور غصے کے کہا جاتا ہے۔ (6)۔ اور اللہ تعالیٰ منافقوں کے بارے میں فرماتے ہیں: "سنعذبھم مرتین ثم یردون الیٰ عذاب عظیم " (توبہ) ان کو ہم عذاب دیں گے دوبار ہ پھر وہ لوٹا ئے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ایک عذا ب تو قبر میں ہو گا اور دوسرا عذاب جہنم میں۔ (7) ۔ اور جو شخص اللہ کے ذکر (یعنی قرآن) سے اعراض کرے گا اس کے بارے میں فرماتے ہیں: "ومن اعرض عن ذکری فانہ لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (طٰہٰ 124) جس نے منہ پھیر ا میری یاد سے ( یا میرے قرآن سے) تو اس کو ملنی ہے گذر ان تنگی کی اور لائیں گے ہم اس کو قیامت کے اندھا اور وہ کہے گا اے میرے رب اٹھا لایا تو مجھے اندھا اور میں تو تھا دیکھنے والا۔ اور ہم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مرفوع اور ان دونوں تک موقوف دونوں طرح کی روایت کی ہے اور پھر اسی طرح حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کا قول روایت کیا ہے کہ یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں ہے۔ اور ہم نے حضرت عطاء سے روایت کی ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں: "(8)۔ اذا لا ذقنک ضعف الحیوات وضعف الممات "(الاسراء 75)تب تو ضرور چکھاتے ہم تجھ کو دو نامزہ زندگی میں اور دو نا مزہ مرنے میں۔ عطاء نے فرمایا ضعف الممات ، عذاب قبر ہے۔ اور ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں روایت کی ہے۔ (9)۔ "وان للذین ظلمو ا عذابا دون ذالک " اور بے شک ظالموں کے لئے ایک اور عذاب ہے اس عذاب کے سوا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ اس باب میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ہم نے انہیں کتاب عذاب القبر میں ذکر کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب یہاں انکو مکمل ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کچھ مقدار ذکر کر دیتےہیں جس سے اس باب کا مقصود واضح ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← ابن العجلان المحاربي ← الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أبو بكر محمد بن إبراهيم مربع الحافظ ببغداد ← أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه إملاء، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 395
