شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 327
327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا محمد بن المنهال ثنا يزيد بن زريع ح و أخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري و اللفظ له ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : لما نزلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم : { لله ما في السموات و ما في الأرض } الآية فاشتد ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتوا رسول الله ثم بركوا على الركب ثم قالوا أي رسول الله كلفنا من الأعمال ما نطيق : الصلاة و الصيام و الزكاة و الصدقة و قد نزلت عليك هذه الآية و لا نطيقها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتريدون أن تقولوا كما قال أهل الكتابين من قبلكم : سمعنا و عصينا بل قولوا { سمعنا و أطعنا غفرانك ربنا و إليك المصير } قالوا : { سمعنا و أطعنا غفرانك ربنا و إليك المصير } فلما قرأها القوم و ذلك بها ألسنتهم أنزل الله عز و جل في أثرها : { آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه و المؤمنون } إلى قوله : { غفرانك ربنا و إليك المصير } فلما فعلوا ذلك نسخها الله فأنزل الله عز و جل : { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت و عليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا } قال نعم { ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا } قال نعم { ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به } قال نعم { و اعف عنا و اغفر لنا و ارحمنا أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين } قال نعم رواه مسلم في الصحيح عن أمية بن بسطام و محمد بن المنهال
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو نضر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن منھال نےکہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن زریع نے اور خبر دی ہے ہمیں ابوعبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زکریایحیی ٰ بن محمد عنبری نے اور یہ لفظ اسی کے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم عبدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے امیہ بن بسطام نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن زریع نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے روح بن قاسم نے علاء سے، اس نے اپنے والد سے، اس نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت اتری: "للہ ما فی السموات والارض وان تبدو ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ (البقرہ 284) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ اللہ کاہے جو کچھ تمہارے دل میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لے گا۔ (اس میں ہے کہ جو بات دل میں ہے اس کا بھی حوالہ دینا پڑے گا)۔ یہ بات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری، لہذا سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے ادب سے دو زانوں ہو کر بیٹھے۔ پھر سوال کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اعمال میں ایسی تکلیف دئیے گئے ہیں جس کی ہمیں استطاعت ہے،جیسے نماز ہوئی ، روزہ اور زکوٰۃ اور صدقہ ہوئے اور اب آپ کے اوپر یہ آیت جو اتری ہے ہمیں اس عمل کی طاقت نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا تم یہی چاہتے ہو کہ تم وہی کہو جو کچھ تم سے پہلے اہل کتاب یہود ونصاریٰ نے کہا تھا کہ ہم نے سنا ہے اور اس پر ہم نے نافرمانی کر لی ہے، بلکہ تم یوں کہو کہ سمعنا واطعنا کہ ہم نے سنا ہے اور ہم نے اطاعت کی ہے۔ ہم تجھ سے تیری مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب تیری طرف ہی لوٹنا ہے ۔اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ہی کہا:"سمعنا واطعنا غفرانک والیک المصیر" ہم نے سنا ہے اور اطاعت کر لی ہے ، ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری طرف ہی رجوع کرنے کی جگہ ۔ "آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون کل امن باللہ وملائکتہ ورسلہ لانفرق بین احد من رسلہ وقالو سمعنا واطعنا غفرانک ر بنا والیک المصیر" رسول ایمان لایا ہے اس کتاب کے ساتھ جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف اتاری گئی ہے اور مؤمن بھی ہر ایک ایمان لایا ہے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور ا س کی کتاب پر اور اس کے رسولوں پر۔ (وہ کہتے ہیں) ہم (ایمان لائے ہیں) کوئی فرق نہیں کرتے کسی ایک کے ساتھ بھی اس کے رسولوں میں سے اور مؤمنوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ہم آپ سے آپ کی مغفرت کا سوال کرتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری طرف ہے جائےرجوع۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کام کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کے اس حکم کو منسوخ فرما دیا ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: "لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا ماکتسبت ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا واخطئنا" نہیں تکلیف دیتا اللہ تعالیٰ کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق اسی کے فائدے کے لئے جو اس نے نیک کام کیا اور اس کے اوپر وبال ہے جو اس نے غلط کام کیا۔ اے ہمارے رب ہمیں گرفت نہ کرنا اگر ہم سے بھول ہو جائے یا چوک ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں یہ دعا قبول کر لی۔ "ربنا ولا تحمل علینا اصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا " اے ہمارے رب ہمارے اوپر ایسا بوجھ نہ رکھنا جیسے کہ آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بار رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں میں نے دعا قبو ل کر لی ہے۔ "ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ " اے ہمارے رب ہم سے وہ ذمہ داری نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں میں نے یہ دعا قبول کر لی ہے۔ "واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین" ہمیں معاف فرما ، ہماری مغفرت فرما ، ہمارے اوپر رحم فرما۔ توہی ہمارا مالک ہے اور کافروں کے اوپر ہماری مدد فرما۔ (سورۃ بقرہ ۔286) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں میں نے یہ دعا قبول کر لی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے امیہ بن بسطام اور محمد بن منھال سے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري و اللفظ له ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 327
