شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 319
319 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد آبادي أنا العباس بن محمد ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله بن مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إني لأعلم آخر أهل الجنة دخولا و آخر أهل النار خروجا من النار رجل يخرج حبوا فيقول له ربه : ادخل الجنة فيقول : أرى الجنة ملأى فيقول له ذلك ثلاث مرات كل ذلك يعيد : الجنة ملأى فيقول إن لك مثل الدنيا عشر مرات رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن خالد عن عبيد الله و أخرجاه من حديث جرير عن منصور قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا هذه الأخبار في كتاب البعث و النشور و بعضهما في أبواب الشفاعة و بعضها في أبواب آخر من يخرج من النار وذكرنا معها غيرها و فيما ذكرناه ها هنا كفاية و بالله التوفيق
ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو طاہر محمد آبادی نے کہ خبر دی ہے عباس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبیداللہ بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل نے منصور سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا : بے شک میں جانتا ہوں جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے انسان کو اور جہنم میں سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو وہ ایسا آدمی ہو گا جو گھٹنوں کے بل دوڑ کر جہنم سے نکلے گا اور اس سے اس کا رب کہے گا جا تو جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا میں نے دیکھ لیا ہے جنت بھر چکی ہے(یعنی اب میرے لئے جگہ باقی نہیں ہے) اللہ تعالیٰ اس کو تین بار یہی حکم دیں گے اور وہ ہر دفعہ یہی جواب دے گا کہ جنت بھر چکی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے فرمائیں گے تیرے دنیا سے دس گنا بڑی جنت ہے۔ اس کوبخاری نے صحیح میں محمد بن خالد نے اس نے عبید اللہ سے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم دونوں نے اس کو جریر بن منصور کی روایت سے بھی نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہم نے یہ اخبار کتاب البعث والنشور میں نقل کر دی ہے ۔ لیکن اان میں سے بعض ابواب شفاعت میں اور بعض دوسرے بابوں میں خصوصاً اس باب میں ہیں۔ جہنم سے آخر کون نکالا جائے گا؟ ہم نے اس کے ساتھ اوربھی ذکر کی ہیں مگر یہاں پر جو کچھ ذکر کیا ہے اتنا ہی کافی ہے اور توفیق کاملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Hadith 319
