شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 307
307 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثا الزعفراني ثنا عفان بن مسلم ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا المختار بن فلفل ثنا أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أكثر الأنبياء يوم القيامة تبعا يجيء النبي و ليس معه مصدق غير رجل واحد و أنا أول شافع و أول مشفع أخرجه مسلم من وجه آخر عن المختار قال البيهقي رحمه الله : و قد روينا في معناه عن جابر بن عبد الله و عبد الله بن سلام و أبي بن كعب و أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و هذا لأن النبي صلى الله عليه و سلم يختص يوم القيامة بالشفاعة لأهل الجمع حتى يريحهم الله عز و جل من مكانهم الذي أقيموا فيه ثم يشارك غيره من الأنبياء و الملائكة و الصديقين في الشفاعة لأحاد المسلمين و قد قيل إنه يكون مخصوصا أيضا من بينهم بالشفاعة لأهل الكبائر من أهل التوحيد
ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یونس نے کہ خبر دی ہے ابو سعید بن اعراہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زعفرانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عفان بن مسلم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالواحد بن زیاد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مختار بن فلفل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں تابعدار وں کے اعتبار سے سب نبیوں سے زیادہ ہوں گا قیامت کے دن (یعنی میرے تابعدار سب سے زیادہ ہوں گے) کوئی نبی ایسا بھی آئے گا کہ اس کی تصدیق کرنے والا ایک آدمی کے سوا کوئی نہیں ہو گا اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ایک دوسرے طریق سے مختار سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا مفہوم جابر بن عبداللہ سے اور عبداللہ بن سلمہ سے اور ابی بن کعب سے اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن مخصوص کئے جائیں گے اجتماعی شفاعت کے لئے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اجتماعی طور پر سب کو ایک جگہ سے چھٹکارا عطا فرمائیں گے جہاں وہ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد دیگر انبیاء اور فرشتے اور صدیقین شفاعت کے عمل میں شریک ہوں گے اور یہ شفاعت انفرادی اور مسلمانوں کے افراد کے لئے ہو گی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی مخصوص کئے جائیں گے ان سب میں سے اہل توحید میں سے اہل کبائر کی شفاعت کے لئے انبیاء ، ملائکہ و صدیقین میں سے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أبو سعيد بن الأعرابي ثا الزعفراني ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Hadith 307
