Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 307

307 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثا الزعفراني ثنا عفان بن مسلم ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا المختار بن فلفل ثنا أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أكثر الأنبياء يوم القيامة تبعا يجيء النبي و ليس معه مصدق غير رجل واحد و أنا أول شافع و أول مشفع أخرجه مسلم من وجه آخر عن المختار قال البيهقي رحمه الله : و قد روينا في معناه عن جابر بن عبد الله و عبد الله بن سلام و أبي بن كعب و أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و هذا لأن النبي صلى الله عليه و سلم يختص يوم القيامة بالشفاعة لأهل الجمع حتى يريحهم الله عز و جل من مكانهم الذي أقيموا فيه ثم يشارك غيره من الأنبياء و الملائكة و الصديقين في الشفاعة لأحاد المسلمين و قد قيل إنه يكون مخصوصا أيضا من بينهم بالشفاعة لأهل الكبائر من أهل التوحيد

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یونس نے کہ خبر دی ہے ابو سعید بن اعراہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زعفرانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عفان بن مسلم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالواحد بن زیاد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مختار بن فلفل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں تابعدار وں کے اعتبار سے سب نبیوں سے زیادہ ہوں گا قیامت کے دن (یعنی میرے تابعدار سب سے زیادہ ہوں گے) کوئی نبی ایسا بھی آئے گا کہ اس کی تصدیق کرنے والا ایک آدمی کے سوا کوئی نہیں ہو گا اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ایک دوسرے طریق سے مختار سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا مفہوم جابر بن عبداللہ سے اور عبداللہ بن سلمہ سے اور ابی بن کعب سے اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن مخصوص کئے جائیں گے اجتماعی شفاعت کے لئے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اجتماعی طور پر سب کو ایک جگہ سے چھٹکارا عطا فرمائیں گے جہاں وہ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد دیگر انبیاء اور فرشتے اور صدیقین شفاعت کے عمل میں شریک ہوں گے اور یہ شفاعت انفرادی اور مسلمانوں کے افراد کے لئے ہو گی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی مخصوص کئے جائیں گے ان سب میں سے اہل توحید میں سے اہل کبائر کی شفاعت کے لئے انبیاء ، ملائکہ و صدیقین میں سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أبو سعيد بن الأعرابي ثا الزعفراني ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 307

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 308

308 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا هشام عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يجمع المؤمنون يوم القيامة فيهتمون فيقولون لو استشفعنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا فيأتون آدم عليه السلام فيقولون يا آدم أنت أبو الناس خلقك الله بيده و أسجد لك ملائكته و علمك أسماء كل شيء اشفع لنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول إني لست هناكم و يذكر لهم خطيئته التي أصاب و لكن ائتوا نوحا عليه السلام أول رسول بعثه الله عز و جل فيأتون نوحا عليه السلام خليل الرحمن فيأتون إبراهيم عليه السلام لست هناكم و يذكر لهم خطاياه و لكن ائتوا موسى عليه السلام عبدا آتاه الله التوراة و كلمه تكليما فيأتون موسى عليه فيقول إني لست هناكم و يذكر لهم خطيئته التي أصاب و لكن ائتوا عيسى عبد الله و رسوله و كلمة الله و روحه فيأتون عيسى عليه السلام فيقول لست هناكم و لكن ائتوا محمد عليه السلام عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تأخر فيأتوني فأنطلق فأستأذن على ربي عز و جل فيؤذن لي عليه فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال ارفع محمد و قل يسمع و سل تعطه واشفع تشفع فأحمد ربي بمحامد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أرجع فإذا رأيت ربي تبارك و تعالى وقعت له ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال ارفع محمد و قل يسمع و سل تعطه و اشفع تشفع فأحمد ربي بمحامد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أرجع فإذا رأيت ربي وقعت له ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال : ارفع محمد و قل تسمع و سل تعطه و اشفع تشفع فأحمد ربي بمحامد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة حتى أرجع فأقول يا رب ما بقي في النار إلا من حبسه القرآن أي وجب عليه الخلود رواه البخاري و مسلم من حديث هشام الدستوائي و غيره و في حديث أبي عوانة عن قتادة يجمع الله الناس يوم القيامة و في حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة قال : يجمع الله يوم القيامة الأولين و الآخرين في صعيد واحد فيسمعهم الداعي و ينفذهم البصر و تدنو الشمس و يبلغ الناس من الغم و الكرب ما لا يطيقون و ما لا يحتملون ثم ذكر هذه القصة قال البيهقي رحمه الله : و هذا الحديث يجمع شفاعة النبي صلى الله عليه و سلم لأهل الجمع حتى يريحهم من مكانهم الذي بلغوا فيه من الغم و الكرب ما لا يطيقون من طول القيام في الشمس ثم شفاعته لأهل الذنوب من أمته و في رواية معبد بن هلال عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة ما دل أن ذلك لأهل الكبائر من أمته فإنه قال في حديث : فأقول ربي أمتي أمتي فيقال انطلق فمن كان في قلبه مثقال حبة من برة أو شعيرة من إيمان فأخرجه منها و قال في المرة الثانية : مثقال حبة خردل من إيمان و في المرة الثالثة : فمن كان في قلبه أدنى أدنى أدنى من مثقال حبة من خردل من إيمان فأخرجه من النار

ہمیں خبر دی ہے استاذ ابو بکر بن فورک نے کہ خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن حبیب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تمام اہل ایمان جمع کئے جائیں گے اور فکر مند ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ کاش کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ میں سفارش کروائیں، یہاں تک کہ وہ ہمیں اس جگہ سے اور اس حالت میں سے چھٹکارا دے دے۔ چنانچہ وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں کہ اے آدم، آپ سب لوگوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا تھا اور آپ کے سامنے فرشتوں کو جھکایا تھا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھلائے تھے، آپ ہمارے لئے ہمارے رب کے آگے سفارش کر دیجئے کہ وہ ہمیں اس حالت سے چھٹکارا دے دے۔ وہ کہیں گے میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہوں اور لوگوں کے آگے اپنی غلطی کا تذکرہ کریں گے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ لیکن تم لوگ جاؤ نوح علیہ السلام کے پاس وہ پہلے رسو ل ہیں جن کی اللہ نے بعثت فرمائی تھی۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور اپنی مجبوری بتائیں گے۔ وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہوں اور وہ بھی اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جو انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ تم جاؤ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس وہ رحمٰن کے خلیل ہیں۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہون وہ بھی اپنی خطا کا ذکر کریں گے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ لیکن تم جاؤ موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ ایسا بندہ ہے جسے اللہ نے توراۃ عطا فرمائی تھی اور اسے ہمکلامی کا شرف بخشا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہوں وہ بھی اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ لیکن تم لوگ جاؤ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ اللہ کا بندہ، رسول اور کلمۃ اللہ ہے۔ روح اللہ ہے۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں تمہارے اس کام کےلائق نہیں ہوں۔ لیکن تم جاؤ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وہ ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے پہلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ لہذا سب لوگ میرے پا س آئیں گے۔ میں جاؤں گا اور میں اپنے رب سے کچھ کہنے کی اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت ملے گی۔ جس وقت میں اپنے رب کو دیکھوں گا تواس کی ہیبت و عظمت کے پیش نظر سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے (کمال بے پرواہی کے ساتھ ) جب تک چاہیں گے چھوڑ دیں گے(میں کمال عجز سے سجدے میں رہوں گا۔ کچھ کہنے کے لئے سر اٹھانے کی جرات نہیں کروں گا) پھر کمال و عنایت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اٹھئے اے محمد اور کچھ کہے آپ کی بات سنی جائے گی اور کچھ مانگئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی۔ آپ سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ لہذا میں اپنے رب کی تعریفیں کروں گا جو اللہ مجھے سکھائے گا ۔ پھر میں سفارش کروں گا لہذا میرے لئے (قبول ہونے کی) ایک حد مقرر کی جائے گی تو میں ان کو جنت میں داخل کروں گا۔ اس کے بعد پھر میں اپنے رب کی طرف رجوع کروں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا (تواس کے جلال و عظمت کے آگے) سجدے میں گر جاؤں گا۔ لہذا جب تک اللہ تعالیٰ مجھے اسی حالت میں چھوڑنا چاہے گا چھوڑ دے گا (کمال بے پرواہی کے ساتھ) پھر محض اس کی رحمت و عنایت سے یہ کہا جائے گا کہ اٹھئے اے محمد ! کہئے تیری بات سنی جائے گی۔ سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا۔ سفارش کیجئے تیری سفارش قبول کی جائےگی۔ پھر میں اپنے رب کی تعریفیں کروں گا جن کی تعلیم وہ خود مجھے دے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا ، پھر میرے لئے (تعداد کی) ایک حدمقرر کی جائے گی۔ میں ان کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں اپنے رب کی طرف رجوع کروں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو اس کے لئے سجدہ میں گر جاؤں گا ۔ پھر وہ مجھے جب تک چاہے گا جنت میں چھوڑ دے گا (بے نیازی کے ساتھ) پھر کہا جائے گا اٹھئے اے محمد کہئے آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ پھر میں اپنے رب کی حمد بیان کروں گا جو مجھے سکھلائے گا،پھر میں سفارش کروں گا، پھر میرے لئے (لوگوں کی بخشش) کی حد مقرر کی جائے گی۔ لہذا میں اتنے لوگوں کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں کہوں گا اے میرے رب: "مابقی فی النار الا من حسبہ القرآن (ای وجب علیہ الخلود)" جہنم میں صرف وہ باقی رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے۔ یعنی جس پر جہنم میں ہمیشہ رہا واجب ہو چکا ہے۔ ازروئے قرآن یعنی مشرک باقی رہ گئے ہیں۔ اس کو بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے اور مسلم ، ھشام ، دستوائی وغیرہ کی روایت سے ابو عوانہ کی حدیث میں قتادہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کریں گے۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قصہ میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام پہلوں اور تمام پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کریں گے اور ان کو بلانے والا سنوائے گا( یعنی تاحد آواز لوگ جمع ہوں گے) اور گذرے گی ان سب سے نظر (یعنی تاحد نگاہ لوگ ہوں گے) اور قریب آ جائے گا سورج اور لوگ غم اور کرب کے مارے ا سکی تاب نہیں رکھیں گے اور برداشت نہیں کر پائیں گے۔ پھر آپ نے بھی مذکورہ قصہ ذکر کیا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ حدیث جامع ہے مسئلہ اجتماعی شفاعت نبی علیہ السلام کے لئے جس کے نتیجے میں آپ تمام لوگوں کو اس مقام پر اس غم اور کرب سے نجات دلائیں گے سورج کے سامنے طویل قیام کی وجہ سے لوگ جس کی تاب نہ لا سکیں گے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے گناہگاروں کے لئے سفارش کرنا اس کے بعد ہو گا۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو طرح کی شفاعت کا اعزاز حاصل ہو گا۔ پہلی اجتماعی شفاعت جس کو شفاعت کبریٰ کہتے ہیں جو کہ تمام لوگوں اور امتوں کے لئے بلا امتیاز ہو گی اور دوسری شفاعت انفرادی جو صرف آپ کی امت کے گناہگاروں کے لئے ہو گی۔ اس کو شفاعت صغریٰ کہتے ہیں ۔ (از مترجم) اہل کبائر کے لئے شفاعت: اور معید بن ھلال کی روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قصہ میں وہ بات بھی ہے جودلالت کرتی ہے کہ یہ شفاعت صغریٰ آپ کی امت کے اہل کبائر کے لئے ہو گی۔ یعنی جو کبیرہ گناہ کے مرتکب تھے۔ آپ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا کہ میں یہ کہوں گا کہ اے میرے رب میری امت۔۔ میری امت۔۔ لہذا مجھے کہا جائے گا کہ آپ جائیے ، دیکھئے جہنم میں جو ایسے لوگ ہیں جن کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہو ان کو بھی جہنم سے نکال لیجئے۔ اور دوسری بار یہ فرمایا کہ مجھے کہا جائے گا کہ جائیے جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوان کو بھی جہنم سے نکال لیجئے اور تیسری بات میں کہا جائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کم تر سےکم تر سے کم تر مقدار میں ایمان ہو ان کو بھی نکال لیجئے۔ (ظاہر ہے ایسی لوگ اہل کبائر ہی ہو سکتے ہیں ، لہذا یہ شفاعت اہل کبائر کے لئے ہو گی۔ مترجم)۔ اہل کبائر کے لئے رحمت عالم کی شفاعت: ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن مقری نے کہ خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالےسے ، انہوں نے فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت کریں گے، یہاں تک کہ جہنم سے ہر وہ آدمی نکال لیں گے جس کے دل میں جو کے دانہ کے برابر خیر ہو گی۔ پھر آپ شفاعت کریں گے یہاں تک کہ ہر اس انسان کو جہنم سے نکال لیں گے جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا۔ اس کے بعد پھر آپ شفاعت کریں گے، یہاں تک کہ جہنم سے ہر اس انسان کو نکال لیں گے جس کے دل میں رائی کے دانہ کے نصف سے بھی کم خیر ہو گی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان تمام مذکورہ روایات میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے اہل کبائر کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 308

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 309

309 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن أنس قال : يشفع محمد صلى الله عليه و سلم حتى يخرج من النار من كان في قلبه مثقال شعيرة من خير ثم يشفع محمد صلى الله عليه و سلم حتى يخرج من النار من كان في قلبه مثقال خردلة من خير ثم يشفع محمد صلى الله عليه و سلم حتى يخرج من النار من كان في قلبه مثقال أدنى من شطر خردلة من خير قال البيهقي رحمه الله : و في كل ذلك دلالة على أنه يشفع لأهل الكبائر من أمته

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے کہ خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہئ محمد بن ابی بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، انہوں نے فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کیں گے ، یہاں تک کہ جہنم سے ہر وہ آدمی نکال لیں گے جس کے دل میں جو کے برابر دانہ ایمان ہوگا، پھر آپ شفاعت کریں گے یہاں تک کہ ہر اس انسان کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں ایک رائی کے کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا، اس کے بعد پھر آپ شفاعت کریں گے یہاں تک کہ جہنم سے ہر اس انسان کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ سے نصف کم خیر ہو گی۔امام بقیہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان تمام مزکوراہ بالا روایات میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے اہل کبائر کے لیئے شفاعت کریں گے۔

أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Hadith 309

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 310

310 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد آبادي و أبو بكر القطان قالا حدثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد أنا عبد الرزاق أنا معمر عن ثابت عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي و روي ذلك عن أشعث الحداني و مالك بن دينار و ثابت و قتادة و زياد النميري و يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو طاہر محمد آبادی نے اور ابو بکر قطان نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یوسف سلمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرزاق نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے مکہ مکرمہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم عباد نے کہ ہمیں خبر دی ہے عبدالرزاق نے کہ خبر دی ہے معمر نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''شفاعتی لا ھل الکبائر من امتی" میری شفاعت میری امت کے لئے اہل کبائر کے لئے ہو گی۔ یہ حدیث اشعث حدانی سے اور مالک بن دینار سے اور ثابت سے اور قتادہ سے اور زیاد نمیری سے یزید رقاشی سے انس بن مالک سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو طاهر المحمد آبادي و أبو بكر القطان ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 310

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 311

311 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا أبو حفص عمرو بن أبي سلمة ثنا زهير بن محمد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي قال البيهقي رحمه الله : و كذلك رواه الوليد بن مسلم عن زهير بن محمد و زاد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تلا قوله تعالى : { و لا يشفعون إلا لمن ارتضى } فقال إن شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسن علوی نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن شرقی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یوسف سلمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو حفص عمرو بن ابی سلمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زہیر بن محمد نے جعفر بن محمد سے، اس نے اپنے باپ سے ، اس نے جابر سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: "شفاعتی لا ھل الکبائر من امتی" میری شفاعت میری امت کے اہل کبائر کے لئے ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: اس حدیث کو ولید بن مسلم نے زہیر بن محمد سے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا تھا: "ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ " (الانبیاء 38) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Hadith 311

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 312

312 - أخبرناه أبو عبد الله ثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن أحمد المزكي ثنا محمد بن إبراهيم العبدي ثنا يعقوب بن كعب الحلبي قال : حدثنا الوليد بن مسلم : فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر محمد بن جعفر بن احمد مزکی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابراہیم عبدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن کعب حلبی نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ولید بن مسلم نے، پھر اسی حدیث کو ذکر کیا ہے۔

الوليد بن مسلم فذكره ← يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Hadith 312

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 313

313 - و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية قال : و أخبرني أبو عمرو ثنا عبد الله بن محمد ثنا أبو كريب ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل نبي دعوة مستجابة فتعجل كل نبي دعوته و إني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة فهي نائلة إن شاء الله تعالى من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب قال البيهقي رحمه الله : و كذلك رواه عمرو بن أبي سفيان عن أبي هريرة و بمعناه روى أبو ذر و معاذ بن جبل و أبو موسى و عوف بن مالك و غيرهم عن النبي صلى الله عليه و سلم

خبر دی ہے ہمیں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبدالجبار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے ابو عمرو نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو کریب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے اعمش سے ابی صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کر لی ہے اور میں نے اپنی مقبول دعا اپنی امت کے لئے قیامت میں شفاعت کرنے کے لئے چھپا رکھی ہے۔ انشاء اللہ وہ ملنے والی ہے اس شخص کو جس اس حال میں مر گیا میری امت میں سے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں کرتا تھا کسی بھی شے کو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو کریب سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عمرو بن ابی سفیان نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ اس کے معنی کو روایت کیا ہے ابو ذر اورمعاذ بن جبل اور ابو موسیٰ اور عوف بن مالک وغیرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَمْرٍو ← و، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← و،

Hadith 313

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 314

314 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا عارم بن الفضل ثنا حماد بن زيد عن عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج قوما من النار بالشفاعة فينبتون كأنهم الثعارير قال : قيل لعمرو و ما الثعارير ؟ قال : الضغابيس قال حماد و كان سقط فيه قال : حماد قلت لعمرو يا أبا محمد سمعت جابر بن عبد الله يقول إن الله عز و جل : يخرج قوما من النار بالشفاعة قال : نعم رواه البخاري في الصحيح عن عارم و رواه مسلم عن أبي الربيع عن حماد و روه أيضا عمران بن حصين و غيره عن النبي صلى الله عليه و سلم ببعض معناه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عارم بن فضل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے حضرت جابر بن عبداللہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک قوم شفاعت کے سبب سے جہنم سے نکلے گی اور وہ اُگیں گے گویا کہ وہ پودے میں اور بیلیں ہیں (تعاریر) کا لفظ استعمال فرمایا۔ پوچھا گیا کہ وہ کیا ہوتا۔ آپ نے (ضغابیس) کے ساتھ اس کا مفہوم واضح کا۔ (ضغابیس) جمع ہے ضغبوس کی جو عصفور کے وزن پر ہے۔ کھیرے اور ککڑی کے بیج کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسے اگیں گے جیسے کھیرے ککڑی کے بیج سیلاب کے کنارے پراگتے ہیں۔ حماد نے کہا وہ اس میں ساقط تھا۔ حماد نے کہا کہ میں نے عمرو سے کہا اے ابو محمد میں نے سنا تھا جابر بن عبداللہ سے فرماتے تھے کہ ایک قوم آگ سے باہر آئے گی شفاعت کی بدولت۔ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عارم سے اوراس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو ربیع سے حماد سے اور روایت کیا ہے اس کو عمران بن حصین وغیرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بعض معنی کے ساتھ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 314

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 315

315 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين ثنا أبو عاصم محمد بن أبي أيوب الثقفي ثنا يزيد الفقير قال : كنت قد شغفني رأي من رأي من رأي الخوارج و كنت رجلا شابا فخرجنا في عصابة ذوي عدد نريد الحج ثم نخرج على الناس فمررنا على المدينة فإذا جابر بن عبد الله يحدث القوم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا إلى سارية و إذا قد ذكر الجهنميين فقلت له يا صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم و ما هذا الذي تحدثون ؟ و الله تعالى يقول : { إنك من تدخل النار فقد أخزيته } { كلما أرادوا أن يخرجوا منها من غم أعيدوا فيها } فما هذا الذي تقولون ؟ فقال : أي بني تقرأ القرآن ؟ فقلت نعم فقال هل سمعت بمقام محمد صلى الله عليه و سلم المحمود الذي يبعثه الله فيه ؟ قلت : نعم قال فإنه مقام محمد المحمود الذي يخرخ الله به من يخرج من النار قال : ثم نعت وضع الصراط و مر الناس عليه فأخاف أن لا أكون حفظت ذلك غير أنه زعم أن قوما يخرجون من النار بعد أن يكونوا فيها قال : فيخرجون كأنهم عيدان السماسم فيدخلون نهرا من أنهار الجنة فيغتسلون فيه قال : فيخرجون كأنهم القراطيس البيض قال : فرجعنا فقلنا و يحكم أترون هذا الشيخ يكذب على رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : فرجعنا فو الله ما خرج منا رجل واحد رواه مسلم في الصحيح عن حجاج بن الشاعر عن الفضل بن دكين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو احمد بکر بن محمد صیرنی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحاق بن حسن حربی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نعیم فضل بن دکین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عاصم محمد بن ایوب ثقفی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید الفقیر نے، اس نے کہا کہ مجھے خارجیوں کی آراء میں سے ایک رائے دل کو لگ گئی تھی۔ میں جوان آدمی تھا ہم لوگ ایک گروہ کی صورت میں حج کے ارادے سے نکل گئے ۔ پھر ہم لوگوں کی ملاقاتوں کے لئے نکلے۔ جب مدینہ منورہ میں ہمارا گذر ہوا تو ہم نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں سنا رہے تھے۔ مسجد کے ایک ستون سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ جب انہوں نے جہنمیوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ، یہ کیا حدیثیں ہیں جو تم لوگوں کو بیان کرتے ہوئے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: "انک من تدخل النار فقد اخزیتہ "(آل عمران )بیشک اے رب آپ نے جس کو جہنم میں ڈال دیا اس کو تو آپ نے رسوا ہی کر دیا اور "وکلما ارادو ان یخرجو ا منھا عیدو ا فیھا "(السجدہ 20) جب بھی جہنمی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں لوٹا دئیے جائیں گے۔ (یعنی ان آیات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہنمی جہنم ہی میں رہیں گے۔ باہر کسی طرح بھی نہیں نکل پائیں گے۔ اور آپ ہیں کہ شفاعت کی باتیں جہنم سے نکلنے اور مغفرت ، پھر جنت میں داخلے کی باتیں کرتے ہیں اور اس کی حدیثیں سناتے ہیں ؟ مترجم ) یہ کیا ہے جو آپ لوگوں کو کہہ رہے ہو؟ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب : حضرت جابر بن عبداللہ نے فرمایا بیٹے کیا تم قرآن مجید پڑھتے ہو؟ میں نے کہا ، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : کیا آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام محمود کا سنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ آپ کو بھیجیں گے یعنی پہنچائیں گے؟ میں نے جواب دیا ، جی ہاں سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام محمود ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ جہنم سے جس کو نکالنا چاہیں گے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا پھر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پل کو نصب کرنے کا ذکر کیا اور لوگوں کا اس پر گزرنا ذکر کیا۔ مجھے اس بات کا خوف ہونے لگا کہ میں ان باتوں کو یاد بھی نہیں رکھ سکوں گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ کچھ لوگ جہنم سے نکلیں گے جہنم میں رہنے کے بعد اور تلوں کے پودوں کی (کالی) لکڑیوں کی طرح ہوں گے پھر وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں ڈالے جائیں گے وہ اس میں غسل کریں گے۔ انہوں نے فرمایا ، پھر وہ غسل کے بعد نکلیں گے تو ایسے سفید ہوں گے جیسے سفید کاغذ ہوتا ہے۔ یزید الفقیر راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد ہم واپس لوٹ گئے۔ پھر ہم نے آپس میں کہا تمہاری ہلاکت ہو کیا خیال ہے تمہارا کہ یہ شیخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بول رہا ہے؟ ہم واپس لوٹے تو اللہ کی قسم ہم میں سے کوئی شخص خارجی نہ رہا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حجاج بن شاعر سے، انہوں نے فضل بن دکیں سے۔

يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← أبو عاصم محمد بن أبي أيوب الثقفي ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 315

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 316

316 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا محمد بن غالب ثنا موسى بن إسماعيل ثنا وهيب بن خالد عن عمرو بن يحيى عن أبي سعيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة و أهل النار النار يقول الله عز و جل من كان في قلبه مثقال حبة خردل من خير فأخرجوه فيخرجون قد امتحشوا و عادوا حمما قال : فيلقون في نهر يقال له نهر الحياة قال فينبتون فيه كما الحية في حميل السيل فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا ترونها تنبت صفراء ملتوية رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل و أخرجه مسلم من وجه آخر عن وهيب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے احمد بن سلمان فقیہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن غالب نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن اسماعیل نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے وھب بن خالد نے عمرو بن یحییٰ سے، اس نے اپنے باپ سے اس نے ابو سعید سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ جب جنتی جنت میں داخل ہو چکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جس کے دل میں رائی کے دنہ کے برابر خیر ہو اس کو جہنم سے نکال لو۔ لہذ نکالے جائیں گے جبکہ وہ خوب جل چکے ہوں گے اور کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک نہر میں ڈالے جائیں گے جس کو نہر حیات کہا جاتا ہے۔ پھر وہ وہاں سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تم دیکھتے نہیں ہو وہ اگتا ہے تو مڑا ہوا لپیٹا ہوا اور پیلا ہوتا ہے۔ بخاری نے اس کو صحیح میں موسیٰ بن اسماعیل سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو دوسرے طریق سے وھب سے روایت کیا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 316

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 317

317 - أخبرنا الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا موسى يعني ابن إسحاق الأنصاري ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا يونس بن محمد ثنا شيبان قال : قال قتادة سمعت أبا نضرة يحدث عن سمرة بن جندب : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن منهم من تأخذه النار إلى كعبيه و منهم من تأخذه إلى حجزته و منهم من تأخذه إلى ترقوته رواه مسلم عن ابن أبي شيبة و في رواية سعيد عن قتادة و منهم من تأخذه النار إلى ركبتيه قال البيهقي رحمه الله : و روينا في الحديث الثابت عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الرؤية و الصراط و مرور المؤمنين عليه ثم قولهم : أي ربنا أخواننا كانوا يصلون معنا و يصومون معنا و يحجون معنا و يجاهدون معنا قد أخذتهم النار فيقول اذهبوا فمن عرفتم صورته فأخرجوه و تحرم صورهم على النار فيجدون الرجل قد أخذته النار إلى قدميه و إلى أنصاف ساقيه و إلى ركبتيه و إلى حقويه فيخرجون منها بشرا كثيرا ثم يعودون فيتكلمون فيقول اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مثقال قيراط خير فأخرجوه فيخرجون بشرا كثيرا ثم يعودون فيتكلمون فلا يزال يقول ذلك حتى يقول اذهبوا و أخرجوا من وجدتم في قلبه مثقال ذرة فأخرجوه و كان أبو سعيد إذا حدث بهذا الحديث يقول و إن لم تصدقوني فاقرؤوا { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها } فيقولون : ربنا لم نذر فيها خيرا فيقول هو : بقي أرحم الراحمين قال : فيقول قد شفعت الملائكة و شفع النبيون و شفع المؤمنون فهل بقي إلا أرحم الراحمين ؟ فيأخذ قبضة من النار قال : فيخرج قوما قد عادوا حمما لم يعملوا لله عمل خير قط فيطرحون في نهر الجنة يقال له نهر الحياة فينبتون فيه و الذي نفسي بيده كما ينبت الحبة في حميل السيل ألم تروها و ما يليها من الظل أصيفر و ما يليها من الشمس أخيضر ؟ قلنا يا رسول الله كأنك كنت في الماشية ؟ قال : فينبتون كذلك فيخرجون أمثال اللؤلؤ فيحلون في رقابهم الخواتيم ؟ ثم يرسلون في الجنة هؤلاء الجهنميون هؤلاء الذين أخرجهم الله من النار بغير عمل عملوه و لا خير قدموه قال الله عز و جل خذوا فلكم ما أخذتم فيأخذون حتى ينتهوا قال : ثم يقولون : لو يعطينا الله ما أخذنا ! فيقول الله عز و جل : إني أعطيتكم أفضل مما أخذتم قال : فيقولون : أي ربنا و ما أفضل مما أخذنا ؟ فيقول : رضواني فلا أسخط

ہمیں خبر دی ہے اما م ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ نے یعنی ابن اسحٰق انصاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی شیبہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبان نے، اس نے کہا قتادہ نے کہا تھا کہ امیں نے سنا ہے بو نضر سے وہ حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبن نے، اس نے کہا قتادہ نے کہا تھا کہ میں نے سنا ہے ابو نضر سے وہ حدیث بیان کر رہے تھے سمرہ بن جندب سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں آگ نے ٹخنوں تک پکڑ رکھا ہو گا اور بعض کو کمر تک اور بعض کو ہنسلیوں تک پکڑ رکھا ہو گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابن ابی شیبہ سے اور سعید کی ایک روایت میں قتادہ سے ہے کہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جنہیں آگ نے گھٹنوں تک پکڑ لیا ہو گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ہم نے حدیث ثابت بن عطا بن یسار سے ابو سعید خدری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث رؤیت۔ صراط اور اہل ایمان کے اس پر گذرنے کی روایت کیا ہے پھر ان سے یہ کہتا کہ: "اے ہمارے رب ہمارے بھائی تھے جو کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ حج ہمارے ساتھ کرتے تھے، جہاد ہمارے ساتھ کرتے تھے، انہیں آگ لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ جس کی تم شکل صورت پہچانتے ہو اس کو جہنم سے نکال لو اور ان کی صورتیں آگ پر حرام کر دی گئی ہوں گی۔ یہ لوگ دیکھیں گے کہ کسی کو آگ نے سے کے قدموں تک پکڑ رکھا ہو گا اور بعض کو نصف پنڈلیوں تک۔ بعض کو گھٹنوں تک ، بعض کو کمر تک۔ لہذا وہ بہت سے انسانوں کو نکالیں گے پھر لوٹیں گے اور کلا م کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے دیکھو جس شخص کے دل میں ایک قیراط کے برابر خیر ہو اس کو نکال لو۔ لہذا اس طرح بھی وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے۔ پھر لوٹیں گے اور اللہ تعالیٰ سے پھر کلام کریں گے۔ بار بار اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہے گا۔ یہاں تک کہ فرمائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر خیر ہو اس کو بھی نکال لو۔ اور حضرت ابو سعید خدری جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو فرماتے تھے اگر تم مجھے سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھو: "ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا " (النسآء 40) بے شک اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کرے گا ایک ذرے کے برابر اور اگر کوئی نیکی ہو گی تو اسے دگنا کر دے گا۔ (پھر یہ سفارشی) کہیں گے ، اے ہمارے رب ، ہم نے باقی لوگوں کے دل میں کوئی خیر نہیں پائی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بس ارحم الرا حمین باقی رہ گیا ہے۔ ابو سعید نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ فرشتے شفاعت کر چکے۔ نبی شفاعت کر چکے۔ مومن بھی شفاعت کر چکے، باقی کوئی نہیں رہا ۔ سوائے ارحم الراحمین ؟ اللہ تعالیٰ آگ کا قبضہ خود سنبھالیں گے ۔ پھر ایک ایسی قوم کو آگ سے نکالیں گے جو کوئلہ ہو چکے ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے کبھی بھی کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور جنت کی نہر میں ڈالے جائیں گے جس کا نام نہر حیات ۔ پھر وہ اس میں پیدا ہوں گےقسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں جو سایہ میں ہو تا پیلا اور دھوپ میں ہوتا سبز؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ تو ایسے نقشہ کھینچ رہے ہیں جیسے آپ دیہات میں ہیں۔ فرمایا کہ پھر وہ اگیں اسی طرح پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے موتی، پھر وہ اپنے گردنوں میں خاتموں کا زیور پہنائے جائیں گے۔ پھر وہ جنت میں بھیجے جائیں گے۔ یہ جہنمی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے نکالا ہو گا بغیر کسی عمل کے اور بغیر کسی خیر کے جس کو انہوں نے آگے بھیجا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لے لو جنت میں سے جو کچھ لو گے وہ تمہارا ہے۔ پھر وہ جنت سے لیں گے یہاں تک کہ تھک کر رک جائیں گے۔ فرمایا کہ پھرکہیں گے اگر ہمیں اللہ دیتا تو ہم اور لیتے۔ اب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ ہے میری رضا،آج کے بعد میں کبھی ناراض نہیں ہو ں گا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبَا نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← موسى يعني ابن إسحاق الأنصاري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ

Hadith 317

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 318

318 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا هشام بن سعد أنا زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : فذكره رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن جعفر بن عون قال البيهقي رحمه الله : و أخرجنا حديث سعيد بن المسيب و عطاء بن يزيد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة قال في آخرها : فيقول له تمن فيتمنى حتى إذا انقطع به قال الله عز و جل من كذا و كذا فسل يذكره ربه حتى إذا انتهت به الأماني قال الله تعالى لك ذلك و مثله معه قال أبو سعيد الخدري لأبي هريرة : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لك ذلك و عشرة أمثاله و روينا في حديث أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم فيمن يخرج من النار فيمكثون في الجنة حينا فيقال لهم : هل تشتهون شيئا ؟ فيقول : أن ترفع عنا هذا الاسم فيرفع عنهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن اسحٰق نے دونوں نے کہا ہے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالوہاب نے کہ خبر دی ہے جعفر بن عون نے کہ خبر دی ہے ہشام بن سعد نے کہ خبر دی ہے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، ابی سعید خدری سے انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر فرمایا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے جعفر بن عون سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کو قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے سعید بن مسیب اور عطاء بن زید کی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہے۔ اس قصہ کے بارے میں جس کے آخر میں یہ فرمان ہے کہ جنتی سے کہا جائے گا کہ آب کسی بھی شے کی تمنا کرے۔ پھر تمنا کرے گا جب اس کی تمنا ختم ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ جو کچھ آج ملا ہے یہ تیرا ہے اور اس کی مثل مزید اور بھی تیرا ہے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ بھی تیرا ہے اورا س کی مثل یعنی اس سے مزید دس گنا بھی تیرا ہے۔ ہم نے ابو صالح کی حدیث میں ابو سعید سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو جہنم سے نکالے جائیں گے۔ پھر وہ جنت میں ایک وقت خاص تک ٹھہرے رہیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کیا تم کسی شے کی خواہش کرتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم سے یہ نام اٹھا دیا جائے گا پھر وہ بھی اٹھا دیا جائے گا۔

جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← أبي سعيد الخدري فذكره رواه مسلم ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Hadith 318

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood