Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 269

269 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق إملاء ثنا أبو مسلم و يوسف بن يعقوب قالا : ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن ابن أبي ملكية عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حوسب عذب قالت عائشة يا رسول الله فأين قوله : { فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا } قال ذلكم العرض و لكنه من نوقش الحساب عذب رواه البخاري في الصحيح عن سليمان و رواه مسلم عن أبي الربيع عن حماد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے بطور املا کے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مسلم اور یوسف بن یعقوب ے، ان دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "من حوسب عذب" جو شخص حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلاکیا گیا۔ (اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال کیا) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا پھر کیا مطلب ہو گا: "فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حساب یسیرا (انشقاق 7-8) بہر حال جو شخص اپنا اعمالنامہ اپنے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا ، عنقریب وہ آسان حساب لیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ حساب یسیرے سے مراد ہے صرف حساب پیش کرنا یا صرف بندے کا پیش ہونا ہے۔ لیکن جو شخص مناقشہ کی گیا وہ ہلاک ہو گیا۔ (یعنی جس سے کیوں کہ ساتھ سوال کیا گیا وہ ہلاک ہو جائے گا) اس لئے کہ کیوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس کو بخاری بے اپنی صحیح میں سلیمان سے روایت کیا ہے۔ اور مسلم نے اس کو ابو الربیع سے حماد سے روایت کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← ابن أبي ملكية ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أبو مسلم و يوسف بن يعقوب ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 269

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 270

270 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو زرعة الدمشقي ثنا أحمد بن خالد الوهبي ثنا محمد بن إسحق أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد حدثني أبي ثنا إسماعيل بن إبراهيم ثنا محمد بن إسحاق حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزبير عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في بعض صلاته اللهم حاسبني حسابا يسيرا فلما انصر قلت يا رسول الله ما الحساب اليسير ؟ قال ينظر في كتابه و يتجاوز له عنه و إنه من نوقش الحاسب يومئذ يا عائشة هلك و كل ما يصيب المؤمن يكفر الله عنه حتى الشوكة تشوكه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زرعہ رازی الدمشقی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن خالد وھبی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحٰق نے۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے احمد بن جعفر قطیعی نے کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن احمد نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابراہیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحاق نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالواحد بن حمزہ بن عبداللہ بن زبیر نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ اپنی بعض نماز میں دعا کرتے تھے: "اللھم حاسبنی حساباً یسیرا ً " اے اللہ میرا آسان حساب کیجیو۔ "فلما انصرت قلت یا رسول اللہ ماالحساب الیسیرا؟ "آپ جب نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آسان حساب کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی انسان کے نامہ اعمال کو دیکھ کر اس سے درگذر کر لیا جائے اور جس کے حساب میں کیوں ؟ پوچھ لیا گیا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ ہاں ہر وہ تکلیف جو کسی مؤمن کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس انسان کے لئے کفارہ بنا دیتے ہیں ۔ حتی کہ وہ کانٹا ج اس کو چبھتا ہے وہ بھی کفارہ بنتا ہے۔

في بعض صلاته اللهم حاسبني حسابا يسيرا فلما انصر قلت ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 270

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 271

271 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيل أخبرني الحسن بن سفيان ثنا هدبة بن خالد ثنا همام بن يحيى ثنا قتادة عن صفوان بن محرز قال : كنت آخذا بيد عبد الله بن عمر فأتاه رجل فقال كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في النجوى قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل يدني المؤمن يوم القيامة حتى يضع عليه كنفه يستره من الناس فيقول أي عبدي ! تعرف ذنب كذا و كذا ؟ فيقول : نعم أي رب ! حتى إذا قرره بذنوبه و رأى في نفسه أنه قد هلك قال : إني قد سترتها عليك في الدنيا و قد غفرتها لك اليوم قال ثم أعطي كتاب حسابه و أما الكافر و المنافق فيقول الاشهاد هؤلاء الذين كذبوا على ربهم إلا لعنة الله على الظالمين رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل عن همام و أخرجاه من وجه آخر عن قتادة قال البيهقي رحمه الله قوله يدني المؤمن يريد به : يقربه من كرامته و قوله يضع عليه كنفه يريد ـ و الله أعلم ـ عطفه و رأفته و رعايته

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے کہ خبر دی ہے ابو بکر اسماعیلی نے کہ مجھے خبر دی ہے حسن بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حدبہ بن خالد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حما بن یحییٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتادہ نے صفوان بن محرز سے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھا ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا آپ نے کیا سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ بخوبی اور سرگوشی کے بارے میں کیا فرماتے تھے۔ آپ نے فرمایا یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے کو اپنے قریب کریں گے۔ یہاں تک کہ اس پر اتنا سایہ رکھیں گے اور اس کو دیگر لوگوں سے چھپا دیں گے ۔ پھر فرمایں گے اے میرے بندے ، کیا تم اپنا فلاں فلاں گناہ جانتے ہو؟ بندہ عرض کرے گا جی ہاں اے اللہ یہاں تک کہ جب اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرا لیں گے اور وہ دل ہی دل میں سوچے گا کہ آج وہ نہیں بچے گا ، بس آج تو وہ تباہ ہو ہی گیا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بندے میں میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ دالا تھا اور آج میں ان گناہوں کو معاف کر دیتا ہوں تیرے واسطے۔ اس کے بعد اس کو اپنے حساب کی کتاب دیا جائے گا۔ جہاں تک کافر اور منافق کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں گواہ یہ کہیں گے یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھے تھے۔ خبردار اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے موسیٰ بن اسماعیل سے، انہوں نے ہمام سے اور بخاری و مسلم نے اس کو دوسرے طریقہ سے حضرت قتادہ سے بھی روایت کیا ہے۔ امام بیہقی کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: مومن کو اللہ قریب کرے گا کا مطلب ہے اپنی خاص عنایت سے اور اپنے خاص کرم سے بندے کو مقرب بنا دے گا اور اس پر اپنا سایہ رکھ دے گا ۔ مطلب ہے اپنا میلان اپنی شفقت اور اپنی رعایت مراد ہے۔

فِي النَّجْوَی ← کَيْفَ ← كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر الإسماعيل ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Hadith 271

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 272

272 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا عبد الرحمن بن صالح ثنا جرير عن أشعث ثنا شمر بن عطية في : قوله : { إن ربنا لغفور شكور } قال غفر لهم الذنوب التي عملوها و شكر لهم الخير الذي دلهم عليه فعملوا به فأثابهم عملهم

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید ابن ابی عمرو نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن ابو دنیا نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحمٰن بن صالح نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر نے اشعث سے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شمر بن عطیہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: "ان ربنا لغفور شکور" (فاطر 34) بے شک ہمارا رب البتہ معاف کرنے والا اور قبو ل کرنے والا ہے۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا مقولہ بیان فرمایا ہے کہ وہ جنت میں داخلے کے بعد یہ کہیں گے ، ابن عطیہ نے فرمایا کہ آیت کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ عمل جو انہوں نے گناہ کئے تھے معاف کر دئیے ہیں اور ان کی وہ خیر قبول کر لی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو بتائی تھی اور انہوں نے اس پر عمل کئے تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے ان ان کے عمل کا ثواب دیا ہے۔

شمر بن عطية في قوله إن ربنا لغفور شكور ← أَشْعَثَ، ← جَرِيرٌ ← عبد الرحمن بن صالح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 272

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 273

273 - و أخبرنا أبو سعيد ثنا أبو عبد الله ثنا ابن أبي الدنيا حدثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن طاوس قال سمعت ابن عمر يقول : كل ابن آدم خطاء إلا ما رحم الله

اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی دینار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحاق بن ابراہیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس سے ،وہ کہتے ہیں میں نے سنا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، وہ فرماتے تھے: "کم ابن ادم خطاء الا مارحم اللہ " آد م کی ساری اولا د گناہگار ہے مگر جس پر اللہ نے رحم کیا۔ یعنی اللہ کی رحمت سے کوئی بچ گیا تو بچ گیا ورنہ سب گناہگار ہیں۔ (مترجم)

كل ابن آدم خطاء إلا ما رحم الله ← ابْنِ عُمَرَ ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Hadith 273

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 274

274 - قال و أنا ابن أبي الدنيا ثنا سعدويه عن مبارك بن فضالة عن الحسن يقول : إن الله لا يجازي عبده بذنوبه و الله ما جازى الله عبدا قط بالخير و الشر إلا هلك و لكن الله إذا أراد بعبد خيرا أضعف له الحسنات و ألقى عنه السيئات قال الحليمي رحمه الله و إذا كان من المؤمنين من يكون أدنى إلى رحمة الله فيدخله الجنة بغير حساب فليس ببعيد أن يكون من الكفار من هو أدنى إلى سخط الله فيدخله النار بغير حساب قال البيهقي رحمه الله و قد قال الله عز و جل : { و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون } و قال : { فإذا انشقت السماء فكانت وردة كالدهان } { فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان } { يعرف المجرمون بسيماهم فيؤخذ بالنواصي و الأقدام } و قال : { احشروا الذين ظلموا وأزواجهم وما كانوا يعبدون * من دون الله فاهدوهم إلى صراط الجحيم * وقفوهم إنهم مسؤولون } { فوربك لنسألنهم أجمعين * عما كانوا يعملون } و لا اختلاف بين هذه الآيات و وجه الجمع بينها ما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس أنه قال لا يسألهم عن عملهم كذا و كذا لأنه أعلم بذلك منهم و لكن يقول عملتم كذا و كذا و روينا عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس في قوله : { و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون } يقول لا يسأل كافر عن ذنبه كل كافر معروف بسيماه و في قوله : { فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان } يعني يوم تشقق السماء و تكور لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان و ذلك عند الفراغ من الحساب و كل معروف يعرف المجرمون بسيماهم أما الكافر فبسود وجهه و زرقة عينيه و أما المؤمن فاغر محجل من أثر الوضوء

فرمایا کہ خبر دی ہے ابن ابی دنیا نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے سعدویہ نے ابن مبارک بن فضالہ سے ، انہوں نے حسن سے، وہ کہتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس کے گناہ کی جزا نہیں دیتے، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے ہر گز کسی بندے کو خیر اور شر کی جزا ء اور بدلہ نہیں دیا مگر وہ ہلاک ہو گیا لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی نیکیاں دوگنی کر دیتے ہیں اور اس کی غلطیاں اس سے ساقط کر دیتے ہیں۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد: شیخ حلمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اہل ایمان میں سے جو شخص اللہ کی رحمت سے قریب تر ہو گا اس کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کر دیں گے اور کچھ بعید نہیں ہے کہ کفار میں سے بھی کوئی شخص اللہ کی ناراضگی کے قریب تر ہو لہذا اس کو بھی بغیر حساب کے جہنم میں داخل کر دیں۔ امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون" (القصص 78) کہ مجرم اپنے گناہوں کی بابت نہیں پوچھے جائیں گے۔ (یعنی ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں ہو گا)۔ اور دوسری آیت میں ارشاد ہے: 1۔۔۔ فاذانشقت اسماء فکانت وردۃ کالدھان (الرحمٰن 37) جب آسمان پھٹ پڑے گا اور رنگے ہوئے چمڑی کی طرح سرخ ہو جائے گا۔ 2۔۔۔ فیومئذ لا یسئل عن ذبنہ ان ولا جان" (الرحمٰن 39) اس دن کوئی انسان اور نہ کوئی جن سے اس کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ 3۔۔۔ یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام " (الرحمٰن 41) مجرم اپنی اپنی نشانیوں سے پہچانے جائیں گے، لہذا اپنی پیشانیوں اور قدموں سے پکڑے (اور گھسیٹے جائیں گے)۔ ان مذکورہ تینوں آیات کا ظاہر مفہوم یہی ہے کہ قیامت میں گناہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال و جواب نہیں کیا جائےگا۔ یعنی حساب و کتاب نہیں ہو گا بلکہ ان کی پیشانیوں سے پہچان کر ان کو پیشانیوں اور قدموں سے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جبکہ آنے والی چند آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کا حساب ہو گا، پوچھ گچھ ہو گی۔ (مترجم) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: 1۔۔۔ احشرو الذین ظلمو اوازواجھم وما کانو ا یعبدون من دون اللہ فاھد وھم الیٰ صراط الجحیم وقفو ھم انھم مسئولون (الصافات 22-24) جمع کرو ظالموں (گناہگاروں ) کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور (اللہ کے سوا) جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ان کو جہنم کے راستے پر روانہ کردو۔ اور ہاں روک لو ان کو بے شک ان سےسوال و جواب ہو گا۔ 2۔۔۔فورب لتسئلنھم اجمعین عما کانو ا یعملون (الحجر 92-93) پس قسم ہے تیرے رب کی ، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے اس کے بارے میں جو کچھ وہ عمل کرتے تھے۔ ان آیات میں واضح طور پر موجود ہے کہ گناہگاروں سے ضرور پوچھا جائے گا بلکہ کلام میں زور اور تاکید کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم بھی کھائی ہے کہ ضرور سوال ہو گا۔ سورۃ قصص اور سورۃ رحمٰن کی مذکورہ آیات سے سوال و جواب کی نفی ثابت ہو رہی ہے اور صافات اور حجر کی آیات سے اثبات ہو رہا ہے۔ بظاہر آیات کےمفہوم میں تضاد اور اختلاف ہے، جبکہ قرآن نے واضح طورپر اس بات کومسترد کر دیا ہے سورۃ النساء میں کہ : "لوکان من عند غیر اللہ لوجد و ا فیہ اختلافاً کثیرا" اگر قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا۔ یعنی اس میں کوئی اختلاف و تضاد نہیں ہے۔ لہذا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ آیات نقل کرنے کے بعد ان میں تطبیق یعنی باہم مطابق ہونا بیان فرمایا ہے اور ظاہر تضاد کو رفع فرمایا ہے۔(مترجم) فرماتے ہیں کہ : ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان آیات کے مفہوم میں جمع وتطبیق کی صورت وہ ہے جو ہم نے روایت نقل کی ہے علی بن ابی طلحہ سے۔ انہوں نے ابن عباس سے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ (جن آیات میں سوال نہ کیا جانا مذکور ہے ان سے مراد یہ ہے کہ ) اللہ تعالیٰ ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں یہ نہیں پوچھے گا کہ وہ کیا کیا تھے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی تفصیل ان سے بھی زیادہ جانتا ہےبلکہ ان سے پوچھنے کی بجائے ان سے کہے گا کہ تم نے ایسے ایسے گناہ کئے تھے (لہذا تمہیں پیشانی اور قدموں سے پکڑ کر جہنم میں ڈالا جائے گا)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت: ہم نے کلبی سے ابی صالح سے حضرت ابن عباس کی روایت اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں نقل کی ہے: "ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (قصص 78) کہ مجرم اپنے جرائم کے بارے میں نہیں پوچھےجائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں سے ان کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں ہو گا بلکہ ہر کافر اپنی خاص علامات سے پہچانا ہوا ہو گااور معروف ہو گا کہ یہ کافر ہے۔ اس پہچان کی بناء پر اس کے لئے جہنم میں داخل ہو گا۔ جرم کی تفصیل پوچھنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ (مترجم) یعنی اس روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بقول یہ آیت کافروں پر محمول ہے۔ اور سورۃ الرحمٰن کی آیت: "فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولا جان" (الرحمٰن 39) کہ اپنے گناہ کے بارے میں کسی جن و انس سے سوال نہیں ہو گا۔ یعنی جس دن آسمان پھٹ جائےگا اور لپیٹ دیا جائے گا اس دن کسی جن وانس سےاس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا اور یہ عمل حساب و کتاب سے فارغ ہو جانے کے بعد ہو گا۔ علاوہ ازیں ہر ایک مصروف بھی ہو گا۔ لہذا مجرم اپنی اپنی نشانیوں سے پہچانے جائیں گے ۔ کافر اپنے چہرے کی سیاہی سے اور آنکھوں کے نیل گوں ہونے سے اور مؤمن وضو کے اثر سے ہاتھوں اور چہرے کے روشن ہونے سے۔

الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← سَعْدَوَيْهِ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← و،

Hadith 274

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 275

275 - أخبرنا أبو عبد الرحمن الدهان أنا الحسين بن محمد بن هارون أنا اللباد ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان عن الكلبي : فذكره و قال الحليمي رحمه الله معنى قوله : { و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون } و قوله : { فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان } سؤال التعرف بتمييز المؤمن عن الكافر أي أن الملائكة لا تحتاج أن تسأل أحدا يوم القيامة فتقول ما كان ذنبك ؟ و ما كنت تصنع في الدنيا ؟ حين يتبين له بإخباره عن نفسه إنه كان مؤمنا أو كافرا لكن المؤمنين يكونون ناضري الوجوه مشروحي الصدور و المشركين يكونون سود الوجوه زرقا مكروبين فهم إذا كلفوا سوق المجرمين إلى النار و تمييزهم في الموقف عن المؤمنين كفتهم مناظرهم عن تعرف ذنوبهم و الله أعلم قال البيهقي رحمه الله و هذا الذي ذكره الحليمي رحمه الله أشبه أن يكون مأخوذا مما روينا عن تفسير الكلبي و بمعناه ذكره مقاتل بن سليمان في الآية الأخيرة غير أنه لم يذكر الفراغ من الحساب فقال في قوله تعالى : { و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون } ذلك أن كفار مكة قالوا لو أن عندنا ذكرا يعني خبرا من الأولين بم أهلكوا فأنزل الله عز و جل : { و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون } يقول لا يسأل مجرمو هذه الأمة عن ذنوب الأمم الماضية الذين عذبوا في الدنيا فإن الله تعالى قد أحصى أعمالهم الخبيثة و علمها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبید الرحمٰن دھان نے کہ خبر دی ہے حسین بن محمد ہارون نے کہ خبر دی ہے کہ لباد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن مروان کلبی سے، پھر اس نے مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ مذکورہ آیات کے بارے میں شیخ حلیمی ؒ کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجر اپنے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھے جائیں گے اور اس دن اپنے گناہ کے بارے میں کسی جن اور انسان سے سوال نہیں ہو گا کا مطلب یہ ہے کہ مؤمن اور کافر کی تمیز کرنے کا اور فرق سمجھنے اور واضح کرنے کا سوال نہیں ہو گا۔ یعنی فرشتوں کو اس بات کی ضرور ت اور احتیاج نہیں ہو گی کہ وہ قیامت کے دن کسی کے بارے میں سوال کریں اور کہیں کہ تیرا گناہ کیا تھا؟ اور تو دنیا میں کیا کرتا تھا؟ بلکہ ہر شخص اپنے بارے میں خود یہ خبر دے گا کہ وہ مومن تھا یا کافر تھا۔ علاوہ ازیں مؤمن ترو تازہ چہروں والے شرح صدر والے اور مطمئن ہوں گے جبکہ ان کے مقابلے میں مشرک منہ کالے، آنکھیں گندی اور کبیدہ خاطرہ ہوں گے۔ جب فرشتوں کو حکم ہو گا مجرموں کو آگ کی طرف ہانکنے کا اور موقف پر ان کو اہل ایمان سے علیحدہ کرنے کا توا ن کے مناظر ان کے گناہوں کو سمجھے اور جاننے کے لئے کافی ہوں گے۔ (ان سے سوال کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ مترجم) امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں: یہ ہے وہ تفصیل جو شیخ حلیمی نے ذکر فرمائی ہے عین ممکن ہے کہ یہ اسی روایت سے ماخوذ ہے جو ہم نے تفسیر کلبی سے نقل کی ہے اور اس کے معنی کے ساتھ اس کو ذکر کیا ہے مقاتل بن سلیمان نے آخری آیت کے بارے میں۔ مگر انہوں نے حساب سے فراغت کا ذکر نہیں کیا اور ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون کے بارے میں کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس ذکر ہوتا یعنی پہلے لوگوں کی خبر ہوتی اور اطلاع ہو تی کہ وہ کس وجہ سے ہلاک کئے گئے ہیں تو ہم اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ناز ل فرمائی کہ مجرم ان کے گناہوں کے بارے میں نہین پوچھے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس امت کے مجرم امم سابقہ کے مجرموں کے بارے میں نہیں پوچھے جائیں گے جو دنیا میں عذاب میں مبتلا کئے گئے تھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال خبیثہ کو اور ان کے علم کو خود محفوظ کر لیا ہے۔

الكافر أي ← الحليمي معنى قوله و قوله سؤال التعرف بتمييز المؤمن ← الكلبي فذكره و ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← اللباد ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّهَّانُ

Hadith 275

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 276

276 - أخبرنا الأستاذ أبو إسحاق ثنا عبد الخالق بن الحسن أنا عبد الله بن ثابت أخبرني أبي عن الهذيل عن مقاتل : فذكره

ہمیں خبر دی ہے استاذ ابو اسحٰق نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بتائی ہے عبدالخالق بن حسن نے خبر دی ہے عبداللہ بن ثابت نے کہ خبر دی ہے مجھے میرے والد نے ھذیل سے، اس نے مقاتل سے پھر اس سے مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔

مقاتل فذكره ← الْهُذَيْلِ ← أَبِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عبد الخالق بن الحسن ← الأستاذ أبو إسحاق

Hadith 276

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 277

277 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله : { فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان } قال يقول لا تسأل الملائكة عن المجرم إنسا و لا جانا يقول يعرفون بسيماهم قال البيهقي رحمه الله : من زعم أن الكافرين غير مخاطبين بشرائع الإسلام زعم أنهم لا يسألون عما يعلمون مما كانت مللهم تقتضيه و إن كان في الإسلام ذنبا و يسألون عن الله و عن رسله صلوات الله عليهم و عن الإيمان في الجملة و ما نقلناه عن أهل التفسير أصح و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقاء نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے اس آیت کے بارے میں کہ کوئی جن وانس اپنے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرشتے مجرم کے بارے میں سوال نہیں کریں گے، نہ کسی انسان سے اور نہ ہی کسی جن سے، بلکہ ان کو ان کی علامتوں سے پہچانیں گے۔ یعنی مجاہد کے بقول عدم سوال کا تعلق فرشتوں کےساتھ ہے۔ (مترجم) امام بیہقی ؒ کا قول: امام بیہقی فرماتے ہیں کہ جس نے یہ گمان کیا ہے کہ کفار اسلامی شرائع کے مخاطب نہیں ہیں۔ اس نے یہ بھی گمان کیا ہے کہ وہ ان امور کے بارے میں نہیں پوچھے جائیں گے جو کچھ وہ جانتے ہیں۔ ان کی ملتیں جس امر کو تقاضا کرتی ہیں اگر چہ وہ امور اسلام میں گناہ ہوں، ہاں البتہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اور اس کے رسولوں کے بارے میں اور فی الجملہ ایمان کے بارے میں پوچھے جائیں گے اور ہم نے اہل تفسیر سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ فصل۔۔۔ اعمال کا وزن کرنا: جب حساب و کتاب کا مرحلہ گذر چکے گا تو اس کے بعد اعمال وزن کئے جائیں گے اور یک خاص ترازو میں تولے جائیں گے ۔ یہ وزن اجر اور جزا دینے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ یہ وزن کامعاملہ محاسبہ کے بعد ہو کیونکہ حساب تو اعمال ثابت کرنے کے لئے ہے اور وزن ان کی مقداریں واضع کرنے کے لئے تا کہ اجر و ثواب اسی اندازے اور مقدار کے مطابق دیا جائے۔ وزن اعمال کا اثبات قرآ ن مجید سے: ارشا د باری تعالیٰ ہے: "(1)۔۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ فلا تظلم نفس شیئاً (الانبیاء 47) ہم قیامت کے دن انصار کے ترازو رکھیں گے ، کسی نفس پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اعمال کا وزن کیا جانا حق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " (2)۔۔ والوزن یومئذ الحق (اعراف 8) قیامت کے دن اعمال کا تولنا حق اور سچ ہے۔ جس کے اعمال کا پلہ بھاری ہو ا وہ کامیاب ہو گیا ۔ "(3)۔۔ فمن ثقلت موازینہ فالئک ھم المفلحون (اعراف 8) جن اشخاص کے اعمال کے پلڑے بھاری ہو گئے بس وہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ جن لوگوں کے پلڑے ہلکے پڑ گئے وہ لوگ خسارے میں ہوں گے: "(4)۔۔ومن خفت موازینہ فالئک الذین خسرو ا انفسھم بما کانو ا بایا تنا یظلمون (اعراف 8-9) جن لوگوں کے پلڑے اور ترازو ہلکے ہو گئے بس وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا تھا، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظلم کرتے تھے۔ قیامت کا سائرن بجتے ہی لوگ تمام رشتے ناتے خوف کے مارے ختم کر بیٹھیں گے ارشاد باری تعالیٰ ہے: "(5)۔۔فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسا ء لون" (المومنون 101) جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان رشتے ناتے نہیں رہیں گے اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ جن کے پلڑے اعمال کے بھاری ہو ئے وہ کامیاب ہوں گے: "(6) ۔۔ فمن ثقلت موازینہ فاولئک ھم المفلحون" (المومنون 102) جس کے (نیکیوں) کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ کامیاب ہوں گے۔ جن کے ترازو ہلکے ہوں گے وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے "(7) ۔۔ ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسر وانفسھم فی جھنم خلدون (المومنون 103) جن کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہو گئے وہی لوگ تھے۔ جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں رکھا تھا، وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ہلکے پلڑے والے جہنم میں جھلس جائیں گے: "(8) تلفح وجھھم النار وھم فیھا کالحزن (المومنون 104)۔ ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں بد شکل بنے ہوں گے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: " (9)۔۔ فامان ثقلت موازینہ فھو فی عیشۃ راضیۃ (القارعۃ 6/7) الی آخرہ جس کے اعمال کے وزن بھاری نکلیں گے وہ دلپسند عیش میں ہو گا۔ (10)۔۔۔ واما من خفت موازینہ فامہ ھاویہ" (9) وما ادراک ماھیۃ (10) " اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے اس کا ٹھکانہ ھاویہ ہے ، تم کیا سمجھے کہ ھاویہ کیا چیز ہے۔ (11)۔۔ نار حامیۃ (11) وہ دھکتی ہوئی آگ ہے۔ وزن اعمال کا اثبات حدیث سے میزان کا ذکر حدیث ایمان میں وارد ہوا ہے۔ لہذا اعمال کے وزن کے ساتھ ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے اور لازم ہے جس طرح دوبارہ اٹھائے جانے کے ساتھ اور جنت اور جہنم کے ساتھ ضرور ی اور لازم ہے۔

البيهقي من زعم ← يعرفون بسيماهم ← المجرم إنسا و لا جانا ← لا تسأل الملائكة ← مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 277

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood