Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 204

204 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو بشر حاتم بن سالم القزاز ثنا زنفل العرفي يكنى أبا عبد الله ثنا عبد الله بن أبي مليكة عن عائشة عن أبي بكر الصديق رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أراد أمرا قال اللهم خر لي و اختر لي و قد ذكرنا دعاء الاستخارة في غير هذا الموضع

ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن شاذان بغدادی نے اس کے ساتھ انہوں نے کہا خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بشر حاتم بن سالم قزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زنفل عرفی نے جس کی کنیت ابو عبداللہ ہے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کام کرنے کا ارادہ فرماتے تو ہمیشہ یہ دعا کرتے ۔ اللھم خرلی و اخترلی۔ اے اللہ میرے لئے خیر کا فیصلہ فرما۔اور میرے لئے اچھائی کا انتخاب فرما۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← زنفل العرفي يكنى أبا عبد الله ← أبو بشر حاتم بن سالم القزاز ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Hadith 204

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 205

205 - أخبرنا محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار ثنا ابن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن إسماعيل ثنا جرير عن ليث عن أبي وائل قال : قال عبد الله : يستخير أحدكم فيقول اللهم خر لي فيخير الله له فلا يرضى و لكن ليقل اللهم خر لي برحمتك و عافيتك و يقول اللهم اقض لي بالحسنى و من القضاء بالحسنى قطع اليد و الرجل و ذهاب المال و الولد ولكن ليقل اللهم اقض لي بالحسنى في يسر منك و عافية

ہمیں خبر دی ہے محمد بن موسیٰ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی الدنیا نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن اسماعیل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر نے لیث سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے کہا کہ عبداللہ نے کہا ۔ تم لوگوں میں سے کوئی ایک بندہ اللہ سے خیر مانگتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ میرے لئے خیر مقدر فرما لہذا اللہ تعالیٰ اس کے لئے خیر مقدر کرتا ہے مگر بندہ اس سے خوش نہیں ہوتا۔ لیکن یوں دعا کرنا چاہئے ۔ اللھم خرلی برحمتک ۔ اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے ساتھ خیر کافیصلہ فرما اور اپنی عافیت کے ساتھ ۔ اور بندہ یو ں کہتا ہے ۔ اللھم اقض لی بالحسنیٰ ۔ اے اللہ میرے لئے اچھائی کا فیصلہ فرما ۔حالانکہ اچھائی کا فیصلہ تو کبھی ہاتھ پیر کاٹ دینا بھی ہوتا ہے اور مال برباد ہو جانا اور اولاد ہلاک ہو جانا بھی اس لئے بندے کو چاہئے کہ یوں دعا کرے۔ اللھم اقض لی بالحسنیٰ فی یسر منک و عافیۃ ۔ اے اللہ میرے لئے اچھائی کا فیصلہ اپنی طرف سے آسانی اور عافیت فرما۔

عبد الله يستخير أحدكم ← أَبِي وَائِلٍ ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Hadith 205

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 206

206 - أخبرنا محمد بن موسى ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا ابن أبي الدنيا ثنا أبو خيثمة ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن محمد بن إسحاق قال حدثني عيسى بن عبد الله بن مالك عن محمد بن عمر بن عطاء عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا أراد أحدكم أمرا فليقل اللهم إني استخيرك بعلمك و استقدرك بقدرتك و أسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر و لا أقدر و تعلم و لا أعلم و أنت علام الغيوب اللهم إن كان كذا و كذا ـ للأمر الذي يرد ـ خيرا لي في ديني و معيشتي و عاقبة أمري و إلا فاصرفه عني و اصرفني عنه ثم اقدر لي الخير أين كان و لا حول و لا قوة إلى بالله

ہمیں خبر دی ہے محمد بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی الدنیا نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو خثیمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے انہوں نے محمد بن اسحٰق سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے عیسیٰ بن عبداللہ بن مالک نے محمد بن عمر بن عطاء سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے۔ جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا کرے ۔ اللھم انی استخیرک بعلمک و استقدر ک بقدرتک واسلک من فضلک العظیم ۔ فانک تقدر ولا اقدر تعلم ولا اعلم و انت علام الغیوب اللھم ان کا ن کذا و کذا ۔ للا مر الذی یرید۔ خیر اً لی فی دینی و معیشتی وعاقبۃ امری۔ والا فاصرفہ عنی و اصرفنی عنہ ثم اقدر لی الخیر این کان ۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ اے اللہ میں تیرے علم کے ذریعے اپنے لئے خیر مانگتا ہوں اور تیری قدرت کےذریعے اپنے لئے قدرت مانگتا ہوں اور تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں ۔ بے شک توہی قادر ہے میں قادرنہیں ہوں اور توہی جانتا ہے میں نہیں جانتا ہوں اور تو ہی تمام پوشیدہ باتوں کو خوب جانتا ہے ۔ اے اللہ اگر ایسی ایسی بات ہے ؟ ( یعنی اگر اس کا م میں اچھائی اور خیر ہے ) اس کا م کے لئے کہے جس کا ارادہ کیا ہے ۔ یعنی اگر یہ میرے واسطے اس کا م میں میرے دین میں دنیا میں انجام کار میں اچھائی ہے ( تو اس کام کو پورا کردے ) اور اگر اس میں خیر نہیں ہے تو اس کام کو مجھ سے ہٹادے اور مجھ کو بھی اس کام سے ہٹا لے میرے لئے خیر کو مقدر فرمادے وہ جہاں بھی ہو۔ گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← محمد بن عمر بن عطاء ← عِيسَى بن عبد الله بن مَالك ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Hadith 206

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 207

207 - أخبرنا إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الإمام أنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن إسماعيل أنا علي بن روحان العسكري ثنا علي بن محمد بن مروان السدي ثنا أبي حدثنا عمرو بن قيس الملائي و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن يزيد أنا محمد بن خلف وكيع ثنا علي بن شعيب ثنا موسى بن بلا ثنا أبو عبد الرحمن السدي عن عمرو بن قيس الملائي عن عطية العوفي عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من ضعف اليقين أن ترضي الناس بسخط الله و أن تحمدهم على رزق الله و أن تذمهم على ما لم يؤتك الله إن رزق الله لا يجره حرص حريص و لا يرده كره كاره إن الله بحكمه و جلاله جعل الروح و الفرح في الرضا و اليقين و جعل الغم و الحزن في الشك و السخط محمد بن مروان ضعيف و روي ذلك عن ابن مسعود من قوله مرة و مرفوعا أخرى أما المرفوع فما

ہمیں خبر دی ہے اسحٰق بن ابراہیم بن محمد ابراہیم امام نے نہیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن ابراہیم بن اسماعیل نے کہ خبر دی ہے علی بن روحان عسکری نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن محمد بن مروان سدی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے میرے والد نے اور کہا ہے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عمرو بن قیس ملائی نے اور خبر دی ہے ہمیں ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہ خبر دی ہے محمد بن یزید نے کہ خبر دی ہے محمد بن خلف وکیع نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن شعیب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سدی نے عمر و بن قیس حلانی سے انہوں نے عطیہ عوفی سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ یہ بات یقین کی کمزوری می شمارہو تی ہے کہ تو اللہ کو ناراض کرکےلو گوں کو راضی کرے اور تو اللہ کے رزق دینے کے باوجود شکر یہ لوگوں کا اداکرے اور اللہ نے جو چیز تجھے نہیں دی اس پر تو ان سے جا کر برائی کرے۔ بےشک حریص کا حرص اللہ کے رزق کو نہیں کھینچ سکتا اور نا پسند کرنے والے کی ناپسند ی رزق کوواپس نہیں کرسکتی ۔ بے شک اللہ نے اپنےحکم اور جلال کے ساتھ خوشی اور راحت کو رضا اور یقین میں رکھا ہے اور غم اور دکھ کو شک اور ناراضگی میں رکھا ہے ۔ محمد بن مروان ضعیف ہے ۔ اور یہ روایت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ان کے قول سے ایک بار اور دوسری بار مر فو ع مروی ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← أبو عبد الرحمن السدي ← موسى بن بلا ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← عمرو بن قيس الملائي و ← أَبِي ← علي بن محمد بن مروان السدي ← علي بن روحان العسكري ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن إسماعيل، ← إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الإمام

Hadith 207

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 208

208 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا جعفر بن شعيب الشاشي ثنا أبو حمة ثنا أبو قرة عن سفيان بن سعيد عن منصور بن المعتمر عن خيثمة عن ابن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا ترضين أحدا بسخط الله و لا تحمدن أحدا على فضل الله و لا تذمن أحدا على ما لم يرد الله فإن رزق الله لا يسوقه إليه حرص حريص و لا يرده عنك كره كاره و أن الله عز و جل بقسطه و عدله جعل الروح و الراحة و الفرح في الرضا و اليقين و جعل الهم و الحزن في السخط و الشك و أما الموقوف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد صالح بن ہانی کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن شعیب شاشی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو حجر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو قرہ نے سفیان بن سعید سے انہوں نے منصور بن معتبر سے انہوں نے خثیمہ سے انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا۔ کہ اللہ کو ناراض کر کے ہرگز کسی کو راضی نہ کرنا اور اللہ کے فضل پر کسی دوسرے کا شکریہ نہ ادا کرنا ۔جو چیز اللہ کی مرضی سے تجھے نہ ملے اس پر کسی کی برائی نہ کرنا۔کسی حریص کاحرص کرنا اللہ کے رزق کو تیرے پاس کھینچ کر نہیں لائےگا اور کسی بدخواہ کی بد خواہی اس کو تم سے واپس نہیں لوٹادے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل و انصاف کے ساتھ خوشی کو راحت و سرور کو اللہ کی رضا اور یقین میں رکھا ہے اور فکر و غم کو ناراضگی اور شک میں رکھا ہو اہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← خيثمة ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← أَبُو حُمَةَ ← جعفر بن شعيب الشاشي ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 208

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 209

209 - فأخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا الحسن بن الصباح ثنا سفيان عن أبي هارون المدني قال : قال ابن مسعود : الرضا أن لا ترضي الناس بسخط الله و لا تحمد أحدا على رزق الله و لا تلم أحدا على ما لم يؤتك الله فإن الرزق لا يسوقه حرص حريص و لا يرده كراهية كاره و الله بقسطه و علمه جعل الروح و الفرح في اليقين و الرضا و جعل الهم و الحزن في الشك و السخط

پس ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسین بن صفوان نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بن ابی دنیا نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن صباح نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے ابو ہارون مدنی سے وہ کہتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ۔ رضا یہ ہے کہ تو اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوگوں کو راضی نہ کراور اللہ کے رزق دینے پر شکر کسی اور کا ادا نہ کر ۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نہ دے اس پر کسی کو ملامت نہ کر ۔ رزق کو کسی حریص کا حرص نہیں چلا سکتا ۔ نہیں کسی ناپسد کرنے والے کی ناپسند یدگی سے رزق واپس یارد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور اپنے انصاف کے ساتھ خوشی اور راحت کو یقین اور رضا میں کر دیا ہے اور فکر و غم کو شک اور ناراضگی میں کر دیا ہے ۔

أَبِي هَارُونَ الْمَدَنِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 209

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 210

210 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الهمداني بها ثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي أنا محمد بن الحسن بن سماعة ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : إذا طلب أحدكم الحاجة فليطلبها طلبا يسيرا فإنما له ما قدر له و لا يأتي أحدكم صاحبه فيمدحه فيقطع ظهره

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد بن سبانہ ہمدانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے کہ خبر دی ہے محمد بن حسن بن سماعہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نعیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے ابو اسحٰق سے انہوں نے ابو الاحوص سے انہوں نے عبداللہ سے کہ انہوں نے کہا جب تم میں سے کوئی آدمی کوئی حاجت طلب کرے تو ہلکی پھلکی طلب کرے ، اس لئے کہ اس کو وہی کچھ ملے گا جو اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے اور ایسا بھی کرو کہ کس کے پاس جاکر اس کی تعریف کر کے اس کی کمر توڑ دو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَمَاعَةَ، ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الهمداني بها

Hadith 210

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 211

211 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش عن المعرور بن سويد قال : قال عبد الله هو ابن مسعود : إن في طلب الرجل إلى أخيه الحاجة فتنة إن هو أعطاه حمد غيره الذي أعطاه و إن منعه ذم غير الذي منعه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن عفان نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن نمیر نے اعمش سے انہوں نےمصرو بن سوید سے کہتے کہ کہا ہے عبداللہ نے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں انسان کے اپنے مسلمان بھائی سے سوال کرنے میں فتنہ ہے اگر وہ اسے دے دے تو یہ تعریف اور شکریہ کسی اور کا کرتا ہے اگر منع کر دے دوسرے کے آگے برائی کرتا ہے۔

الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 211

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 212

212 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ثنا جدي ثنا أبو الوليد هشام بن إبراهيم المخزومي حدثنا موسى بن جعفر بن أبي كثير عن عمه قال : بلغني في قول الله عز و جل : { و أما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة و كان تحته كنز لهما } أن الكنز الذي كان لوحا من ذهب مكتوب فيه : عجبا لمن أيقن بالموت كيف يفرح عجبا لمن أيقن بالحساب كيف يضحك عجبا لمن أيقن بالقدر كيف يجزن ! عجبا لمن يرى الدنيا و زوالها و تقلبها بأهلها كيف يطمئن إليها ! لا إله لا الله محمد رسول الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن محمد بن فضل شعرانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے میرے دادا نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الولید ہشام بن ابراہیم مخزومی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ موسیٰ بن جعفر بن ابو کثیر نے اپنے چچا سے انہوں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں : واما الجدار فکان لغلا مین یتیمین فی المدینۃ و کان تحتہ کنز لھما ۔ بہر حال دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی شہر میں اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا بے شک وہ خزانہ کیا تھا ؟ سونے کی ایک تختی تھی اس میں یہ لکھا تھا ۔ حیرانی ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے وہ کیسے خوش رہتا ہے۔ حیرانی ہے اس شخص پر جو حساب و کتاب پر یقین رکھتا ہے وہ کیسے ہنستا ہے ۔ حیرانی اس شخص پر جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے وہ کیسے غم کرتا ہے ۔ حیرانی ہے اس شخص پر جو دنیا کو اور اس کے زوال کو دیکھتا ہے پھر اس کو اس کی اہل سمیر قبول کر لیتا ہے وہ کیسے اس پر اطمینان کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

عَمِّہٖ ← مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَخْزُومِيُّ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 212

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 213

213 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عبد الله بن أحمد بن محمد بن المستورد ثنا حكم بن سليمان القرشي حدثني عمرو بن جميع عن جويبر عن الضحاك عن النزال بن سبرة عن علي بن أبي طالب في : قول الله عز و جل : { و كان تحته كنز لهما } قال : كان لوح من ذهب مكتوب فيه لا إله إلا الله محمد رسول الله عجبا لمن يذكر أن الموت حق كيف يفرح ! عجبا لمن يذكر أن النار حق كيف يضحك ! عجبا لمن يذكر أن القدر حق كيف يحزن ! وعجبا لمن يرى الدنيا و تصرفها بأهلها حالا بعد حال كيف يطمئن إليها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہتے ہمیں حدیث بتائی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب سے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن احمد بن محمد بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حکیم بن سلیمان قرشی سے انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے عمر و بن جمیع سے انہوں نے جویر سے انہوں نے ضحاک سے انہوں کہا نزال بن سبرۃ سے انہوں نے علی بن ابی طالب سے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ وکان تحتہ کنزلھما ۔ کہ اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سونے کی تختی تھی اس پر یہ لکھا ہو ا تھا ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ تعجب ہے اس پر جو موت کو یاد کرتا ہے کہ وہ حق ہے آنی ہے وہ خوش کیسے ہوتا ہے اور حیرانی ہے اس پر جو یاد کرتا ہے جہنم حق ہے وہ کیسے ہنستا ہے اور تعجب ہے اس پر جو تقدیر کو یاد کرتا ہے کہ حق ہے وہ کیسے غمگین ہوتا ہے۔ تعجب ہے اس پر جو دنیا کو اور اس کی گرش ایام کو دیکھتا ہے او ر اہل دنیا کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف دیکھتا ہے ۔ وہ کیسے دنیا سے مطئمن ہو تا ہے۔

علي بن أبي طالب في قول الله عز و جل ← النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← الضَّحَّاكُ، ← جُوَيْبِرٍ ← عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ، ← حكم بن سليمان القرشي ← عبد الله بن أحمد بن محمد بن المستورد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Hadith 213

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 214

214 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن و أبو سهيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا أبو الجواب ثنا عمار بن رزيق عن أبي حصين عن يحيى بن وثاب عن مسروق قال : قال عبد الله : لا يؤمن العبد حتى يؤمن بالقدر يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه و ما أخطأه لم يكن ليصيبه و لأن أعض على جمرة حتى تطفئ أحب إلي من أن أقول لأمر قدره الله ليته لم يكن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو لجواب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عمار بن رذیق نے ابو حصین سے انہوں نےیحییٰ بن و ثاب سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے کہا کہ عبداللہ نے فرمایا بندہ مؤمن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تقدیر کےساتھ ایمان لے آئے وہ یہ یقین رکھے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے خطا کرنے والا یا نہ پہنچنے والا نہیں تھا اور جو کچھ اس کو نہ پہنچے وہ اسے نہیں پہنچتا تھا ۔ اگر میں آگ کا انگار ا منہ میں لے لوں یہاں تک کہ وہ منہ میں جا کر بجھ جائےمیرے لئے یہ زیادہ آسان ہے اس بات سے کہ میں کسی ایسے معاملہ میں جسے اللہ نے مقدر کیا ہو یہ کہوں کہ کاش ایسا نہ ہوتا ۔

مَسْرُوقٍ ← يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 214

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 215

215 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى الأدمي ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا الهيثم بن خارجة أنا سليمان بن عتبة عن يونس بن ميسرة عن أبي إدريس الخولاني عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن لكل شيء حقيقة و ما بلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه و ما أخطأه لم يكن ليصيبه

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا ابو اسحٰق نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن عثمان بن یحییٰ اومی نےکہ ہمیں حدیث بیان بتائی ہے عباس نے محمد دوری نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے ھثیم بن خارجہ نے خبر دی ہے سلیمان بن عتبہ نے یونس بن میسرہ سے انہوں نے ابو ادریس خولانی سے انہوں نے ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ان لکل شئ حقیقۃ وما بلغ عبدا حقیقہ الایمان حتی یعلم ان ما اصابہ لم یکن لیخطءہ و ما اخطاء لم یکن لیصیبہ ۔ بے شک ہے شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے او رکوئی انسان ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ یہ نہ جان لے جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے کسی صورت وہ ٹلنے ولانہیں تھا او ر جو نہیں پہنچایا جو کچھ اس سے رہ گیا وہ اسے پہنچنے والا نہیں تھا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← سليمان بن عتبة ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الأَدَمِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 215

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood