Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 153

153 - أخبرنا الأستاذ أبو منصور عبد القاهر بن طاهر من أصله ثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد العمروي إملاء ثنا أبو بكر محمد بن حمويه بن عباد السراج ثنا محمد بن يحيى ثنا عبد الغفار بن عبيد الله ثنا عبيد الله بن تمام السلمي عن خالد الحذاء عن بشر بن شغاف عن أبيه عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من شيء أكرم على الله من ابن آدم قال قيل يا رسول الله ! و لا الملائكة ؟ قال : الملائكة مجبورون بمنزلة الشمس و القمر تفرد به عبيد الله بن تمام قال البخاري : عنده عجائب و رواه غيره عن خالد الحذاء موقوفا على عبد الله بن عمرو و هو الصحيح

ہمیں خبر دی ہے استادذ ابو منصور عبدالقادر بن طاہر نے اپنی اصل ( کتاب یا سند ) سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس احمد بن محمد بن احمد العمروی نے بطور املاء کے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن محمد بن حمویہ بن عباد سراج نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالغفار بن عبداللہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن تمام سلمی نے خالد حذاء سے انہوں نے بشر شغاف سے انہوںنے اپنے باپ سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ما من شئی اکرم علی اللہ من ابن ادم قال قیل یا رسول اللہ ولا الملائکۃ ؟ قال الملائکۃ مجبورون بمنزلۃ الشمس و القمر ) کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابن ادم سے زیادہ عزت والی نہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا ؟ فرشتے بھی نہیں آپ نے فرمایا فرشتے تو مجبور محض میں جاندار سورج کی طرح۔ اس روایت میں عبید اللہ بن تمام متفرد ہیں ۔ امام بخاری نے کہا ابن تمام کے نزدیک کئی عجیب و غریب روایات ہیں اس کے علاوہ خالد حذاء سے جو موقوف میں عبداللہ بن عمرو پر وہی صحیح ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عبيد الله بن تمام السلمي ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر محمد بن حمويه بن عباد السراج ← أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد العمروي إملاء ← الأستاذ أبو منصور عبد القاهر بن طاهر من أصله

Hadith 153

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 154

154 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن أبي قماش ثنا وهب بن بقية عن خالد الحذاء عن بشر بن شغاف عن أبيه ـ قال ـ قال سمعت عبد الله بن عمرو يقول : ليس شيء أكرم على الله عز و جل من ابن آدم قلت الملائكة ؟ قال أولئك بمنزلة الشمس و القمر أولئك مجبورون

ہمیں اسی کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی قماش نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وحب بن بقیہ نے خالد حذاء سے انہوں نے بشر بن شغاف سے اس نے اپنے باپ سے اس نے کہا میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے تھے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابن آدم سے بڑھ کر کوئی شئی زیادہ عزت والی نہیں ہے ۔ میں نے کہا کیا فرشتے بھی نہیں انہوں نے فرمایا وہ چاند و سورج کے بمنزلے میں وہ تو مجبور محض ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 154

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 155

155 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الديبلي ثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا الحارث بن عبيد الأيادي عن أبي عمران الجوني عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بينا أنا قاعد إذ جاء جبريل عليه السلام فوكز بين كتفي فقمت إلى شجرة فيها مثل وكري الطير فقعدت في أحدهما و قعد في الآخر فسميت و ارتفعت حتى إذا سدت الخافقين و أن أقلب طرفي و لو شئت أن أمس السماء مسست فالتفت فإذا جبريل عليه السلام كأنه حلس لاطئ فعرفت فضل علمه بالله عز و جل علي و رواه حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني عن محمد بن عمير بن عطارد عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال : صلى الله عليه و سلم : فوقع جبريل مغشيا عليه كأنه حلس فعرفت فضل خشيته على خشيتي فأوحي إلي : نبيا ملكا أو نبيا عبدا ؟ أو إلى الجنة ؟ فأومأ إلى جبريل وهو مضطجع أن تواضع فقلت : لا بل نبيا عبدا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے کہ خبر دی ہے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد دیبلی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن علی بن زید صائغ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن منصور نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حارث بن عبیدایادی نے ابو عمران جونی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ میں اس کے درمیان بیٹھا ہوا تھا اچانک جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان چوکا مارا ، اور میں اٹھ کر ایک درخت کی طرف چلا گیا اس میں جیسے پرندے کے دو آشیانے کی طرح تھے ایک میں ، میں بیٹھ گیا اور دوسرے میں جبرائیل میں نے بسم اللہ پڑھی اور میں بلند ہو گیا اوپر کو چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب آسمان کے دونوں کنارے بھر گئے اور میں نے اپنا پہلو بدلا ۔ میں اگر چاہتا تو آسمان کو چھو سکتا تھا میں نے توجہ کی تو جبرائیل علیہ السلام لپٹے ہوئے ٹاٹ کی مانند تھے لہذا میں نے اللہ تعالیٰ کے علم کے بارے میں جبرائیل کے علم کی فضیلت کو پہچان لیا۔ حماد بن سلمہ نے اس کو ابو عمران جونی سے انہوں نے محمد بن عمیر بن عمار سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کیا کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل گر کر بے ہوش ہو گیا گویا کہ وہ ٹاٹ ہے لہذا میں نے اپنی خدا خوفی پر اس کی خدا خوفی کی فضیلت و برتری کو جان لیا پھر میری طرف وحی کی گئی بادشاہ نبی یا بندہ و غلام نبی ؟ یا جنت کی طرف ؟ جبرائیل نے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی کرنا ۔ حالانکہ وہ لیٹے ہوئے تھے میں نے جواب میں کہا نہیں بادشاہ نبی نہیں بلکہ عبد و بندہ نبی یعنی میں اللہ کی بندگی میں رہنا پسند کرتا ہوں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← الحارث بن عبيد الإيادي، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الديبلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Hadith 155

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 156

156 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن عبد الله الزاهد الأصبهاني ثنا أبو السري موسى بن الحسن بن عباد ثنا حبيش بن مبشر الفقيه قال كنا عند يزيد بن هارون ـ فذكر قصة ثم قال يزيد ثنا حماد بن سلمة أخبرنا أبو عمران الجوني عن محمد بن عمير بن عطارد بن حاجب التميمي عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما أسري بي كنت أنا في شجرة و جبريل في شجرة فغشينا من أمر الله بعض ما غشينا فخر جبريل عليه السلام مغشيا عليه و ثبت على أمري فعرفت فضل إيمان جبريل على إيماني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ زاہد اصفہانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو السری موسیٰ بن حسن بن عباد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حبیش بن مبشر فقیہ نے انہوں نے کہا ہم یزید بن ہارون کے پاس تھے انہوں نے قصہ ذکر کیا پھر یزید بن ہارون نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن سلمہ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عمران جونی نے محمد بن عمر بن عطارد بن حاجب تممی سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ۔ جب مجھے معراج کرائی گئی ۔ میں ایک درخت میں تھا اور جبرائیل دوسرے درخت میں تھا پھر ہمیں چھپا لیا اللہ کے امر میں سے بعض چیز نے جو کچھ چھپانا تھا ۔ اور جبرائیل اس وقت گر کے بیہوش ہو گئے مگر میں ( الحمد اللہ ) اپنی حالت پر ثابت رہا اور میں نے جبرائیل کے ایمان کی اپنے ایمان پر فضیلت پہچان لی ۔

أَبِيهِ ← محمد بن عمير بن عطارد بن حاجب التميمي ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ: ← كنا عند يزيد بن هارون فذكر قصة ثم ← حبيش بن مبشر الفقيه ← أبو السري موسى بن الحسن بن عباد ← أبو عبد الله بن عبد الله الزاهد الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 156

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 157

157 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو أسامة عبد الله بن أسامة الكلبي ثنا محمد بن عمران بن أبي ليلى ثنا ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم و معه جبريل عليه السلام يناجيه عليه السلام يناجيه إذا انشق أفق السماء فأقبل جبريل يتضاءل و يدخل بعضه في بعض و يدنو من الأرض فإذا ملك قد مثل بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا محمد ! إن ربك يقرئك السلام و بخيرك بين أن تكون نبيا ملكا و بين أن تكون نبيا عبدا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فأشار جبريل إلي بيده أن تواضع فعرفت أنه ناصح فقلت عبدا نبيا فعرج ذلك الملك إلى السماء فقلت يا جبريل ! قد كنت أردت أن أسألك عن هذا فرأيت من حالك ما شغلني عن المسألة فمن هذا يا جبريل ؟ قال هذا إسرافيل خلقه الله يوم خلقه بين يديه صافنا قدميه لا يرفع طرفه بينه و بين الرب سبعون نورا ما منها نور يدنو منه إلا احترق بين يديه اللوح المحفوظ فإذا أذن الله من السماء أو في الأرض ارتفع ذلك اللوح يظرب جبينه فينظر فيه فإن كان من عملي أمرني به و إن كان من عمل ميكائيل أمره به قلت يا جبريل على أي شيء أنت ؟ قال على الرياح و الجنود قلت على أي شيء ميكائيل ؟ قال على النبات قلت على أي شيء ملك الموت ؟ قال على قبض الأنفس و ما ظننت أنه هبط إلا بقيام الساعة و ما ذاك الذي رأيت مني إلا خوفا من قام الساعة قوله بينه و بين الرب سبعون نورا يحتمل أن يريد بينه و بين عرش الرب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو اسامہ عبداللہ بن اسامہ کلبی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عمران ابن ابی لیلیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے انہوں نے مقسم سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ جبرائیل سر گوشی کر رہے تھے ۔ اچانک آسمان کا کنارا پھٹا اور جبرائیل علیہ السلام متوجہ ہوئے کمزور ہوئے سکڑنے لگے اور بعض ان کا بعض میں داخل ہونے لگا اور زمین کے قریب ہو گئے ۔ اتنے میں ایک فرشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا ۔ اے محمد ! بے شک تیرا رب تجھ پر سلام کہتا ہے اور تجھے اختیار دیا ہے کہ آپ بادشاہ نگی بنیں یا عبد ( غلام ) نبی بنے ۔ رسول اللہ نے فرمایا جبرائیل نے ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی کیجیئے میں سمجھ گیا کہ وہ خیر خواہ ہیں میں نے جواب دیا بندہ نبی بننا پسند کروں گا چنانچہ و ہ فرشتہ آسمان کی طرف چڑھ گیا ۔ میں نے کہا اے جبرائیل میں نے تم سے پوچھنے کا ارادہ کیا تھا آپ کے بارے میں مگر میں نے جب تیرا حال دیکھا تو اس نے مجھے مشغول کر دیا سوال کرنے سے ۔ اے جبرائیل بتائیے کہ کون تھے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ اسرافیل علیہ السلام تھے اللہ نے جب اس کو پیدا کیا تھا اپنے سامنے ۔ دونوں قدم برابر رکھنے والا کھڑا تھا اپنی نگاہ نہیں اٹھاتا تھا اس کے درمیان اور اس کے رب کے درمیان نور کے ستر پردے تھے ہر نور ایسا تھا کہ اگر اس کے قریب ہو تو وہ جلا دے ۔ اس کے آگے لوح محفوظ ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے آسمان سے یا زمین میں یہ لوح اٹھ جاتی ہے اپنی جبین کو پوجتا ہے پھر اس میں دیکھتے اگر اس میں میرا کوئی کام ہوتا مجھے اس کا حکم دیتا ہے اگر وہ حکم میکائیل کے کام کے متعلق ہوتا ہے تو اسے اس کا حکم دیتا ہے میں نے کہا اے جبرائیل آپ کس چیز پر مقرر ہیں ۔ فرمایا ہواؤں پر اور لشکروں پر۔ میں نے پوچھا میکائیل کس چیز پر مقرر ہے بتایا کہ نباتات پر یعنی اگانے پر میں نے پوچھا ملک الموت کس چیز پر مقرر ہے جواب دیا کہ جانوں کے قبض کرنے پر نہیں گمان کرتا میں کہ وہ اتریں گے مگر قیامت قائم ہونے کے ساتھ نہیں ہے یہ کیفیت میرے ساتھ جو آپ نے دیکھی مگر بوجہ خوف قائم ہونے قیامت کے ۔ نوٹ : یہ قول کہ اس کے اور رب کے درمیان ستر نور کے پردے تھے ۔ احتمال رکھتا ہے کہ اس سے یہ ارادہ کیا ہو اس کے درمیان اور رب کے عرش کے درمیان ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 157

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 158

158 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو حفص عمر بن محمد الجمحي بمكة ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن سابط قال : يدبر أمر الدنيا أربعة : جبريل و ميكائيل و ملك الموت و إسرافيل فأما جبريل فوكل بالرياح و الجنود و أما ميكائيل فوكل بالقطر و النبات و أما ملك الموت فوكل بقبض الأرواح و أما إسرافيل فهو ينزل بالأمر عليهم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو حفص عمر بن محمد جمخی نے مکہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن عبدالعزیز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نعیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے عبدالرحمن بن سابط سے انہوں نے کہا ۔ دنیا کے امور کا انتظام چار لوگ کرتے ہیں ۔ جبرائیل ، میکائیل اور ملک الموت اور اسرافیل بہر حال جبرائیل ہواؤں اور لشکروں پر مقرر ہے ۔ اور میکائیل بارش اور نباتات پر مقرر ہے ۔ ملک الموت قبض ارواح پر مقرر ہے اور اسرافیل وہ لوگوں پر اللہ کے عذاب کے امر کو نازل کرتے ہیں ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص عمر بن محمد الجمحي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 158

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 159

159 - أخبرنا أبو الحسن أحمد بن الحسن أنا حاجب بن أحمد ثنا محمد بن حماد ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم بن صبيح عن مسروق قال : قال عبد الله : إن من السموات لسماء ما فيها موضع شبر إلا و عليها جبهة ملك أو قدماه ثم قرأ : { وإنا لنحن الصافون * وإنا لنحن المسبحون }

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن حسن نے کہ خبر دی ہے حاجب بن احمد نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن حماد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے مسلم بن صحیح سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے کہا عبداللہ نے کہا : ( ان من السموات لسما ما فیھا موضع شب رالا و علیھا جبھۃ ملک اوقد ماہ ثم قراء و انا لنحن الضافون و انا لنحن المسبحون ) ( صفا سے ۱۶۵-۱۶۶) آسمانوں میں سے ایک آسمان ایسا ہے جس میں ایک بالشت بھر جگہ نہیں ہے مگر اس پر کسی نہ کسی فرشتے کی پیشانی ٹکی ہوئی ہے یا اس کے قدم پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی بے شک ہم البتہ صف باندھنے والے ہیں اور بے شک ہم البتہ تسبیح کرنے والے ہیں ۔

مَسْرُوقٍ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن أحمد بن الحسن

Hadith 159

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 160

160 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا حميد الطويل عن إسحاق بن عبد الله بن الحارث عن أبي : أنه سأل كعبا عن قوله الله : { يسبحون الليل و النهار لا يفترون } { وهم لا يسأمون } فقال : هل يؤذيك طرفك ؟ قال : لا قال : فهل يؤذيك نفسك ؟ قال : لا قال : فإنهم ألهموا التسبيح كما ألهمتهم النفس و الطرف

ہمیں کبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ابی طالب کہ خبر دی ہے عبدالوہاب بن عطا نے کہ خبر دی ہے حمید بن طویل نے اسحٰق بن عبداللہ بن حارث نے میرے باپ سے کہ انہوں نے کعب سے اللہ کے اس قول کے بارے میں پوچھا : ( 1) ( یسبحون اللیل و النھار لا یفترون ) ( الانبیاء ۳۰) فرشتے اللہ کی رات دن تسبیح کرتے ہیں اور سستی نہیں کرتے ۔ ( 2) ولا یسئمون ) ( فصلت ۳۸) وہ نہیں اکتاتے ۔ اس نے کہا کیا تیری آنکھ تجھے ایذا دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا نہیں پھر کہا کیا تیرا نفس تجھے ایذا دیتا ہے کہا کہ نہیں کہا کہ بے شک وہ تسبیح الہام کئے گئے ہیں جیسے تم الہام کئے گئے ہو نفس اور نگاہ۔

فإنهم ألهموا التسبيح كما ألهمتهم النفس و الطرف ← لَا۔ ← فهل يؤذيك نفسك ← لَا۔ ← هل يؤذيك طرفك ← قوله الله يسبحون الليل و النهار لا يفترون وهم لا يسأمون ← أبي أنه سأل كعبا ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 160

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 161

161 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن أبي إسحاق الشيباني عن حسان بن المخارق عن عبد الله بن الحارث بن نوفل قال : قلت لكعب : أرأيت قول الله : { يسبحون الليل و النهار لا يفترون } أما شغلهم رسالة ؟ أما شغلهم عمل ؟ فقال : من هذا ؟ فقال : غلام من بني عبد المطلب فأخذني فضمني و قال : يا ابن أخي ! إنه جعل لهم التسبيح كما جعل لكم النفس ألست تأكل و تشرب و تجي و تذهب و تتكلم و أنت تتنفس ؟ فكذلك جعل لهم التسبيح قال البيهقي : و من قال فالأول زعم أنهم خلقوا بلا شهوة فمن يعبد الله وطينه معجون بالهوى و الشهوة كانت عبادته أفضل ألا ترى من ابتلي من الملائكة بالشهوة كيف وقع في لمعصية ؟ و ذكر قصة هاروت و ماروت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبدالجبار نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے ابو اسحٰق شیبانی سے انہوں نے حسان بن مخارق سے انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اس نے کعب سے کہا کیا اپ نے اللہ کے اس قول کو دیکھا ہے ۔ ( یسبحون اللیل و النھار لا یفترون ) کہ فرشتے رات دن تسبیح کرتے ہیں سستی نہیں کرتے ۔ تو کیا ان کا عمل اور کام ان کو تسبیح سے مشغول نہیں کرتا ۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ سائل کون ہے ؟ کسی نے کہا بنو عبدالمطلب کا لڑکا ہے ۔ چنانچہ کعب نے مجھے پکڑا اور مجھے سینے سے لگایا اور فرمایا بھتیجے ۔ بات یہ ہے کہ تسبیح ان کے لئے ایسے کر دی گئی ہے جیسے تمہارے لئے تمہاری سانس کھاتے پیتے جاتے آتے بات چیت کرتے سانس نہیں لیتے ہو؟ ( یعنی یہ سارے کام بھی کرتے ہو اور سان س بھی لیتے ہو تمہارا کوئی کام تمہارے سانس لینے سے تمہیں مصروف نہیں کرتا ) ان کی تسبیح بھی اسی طرح ان کے لئے کر دی گئی ہے ۔ امام بیہقی نے فرمایا اور جس نے کہا پس اول پیدا کئے گئے ہیں بغیر شہوت کے جو شخص اللہ کی عبادت کرے حالانکہ اس کا خمیر گوندھا ہوا ہو شہوت سے اس کی عبادت افضل ہوتی ہے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ فرشوں میں سے جو شہوت کے ساتھ آزمایا گیا وہ کیسے معصیت میں واقع ہو گیا اور ہاروت ماروت کا قصہ ذکر کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← حَسَّانَ بْنِ الْمُخَارِقِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 161

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 162

162 - أخبرنا الشيخ أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا العباس بن محمد الدوري و إبراهيم بن الحارث البغدادي قالا : ثنا يحيى بن بكير ثنا زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أنه : سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن آدم عليه السلام لما أهبطه الله إلى الأرض قالت الملائكة أي رب أتجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء و نحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال { إني أعلم ما لا تعلمون } قالوا ربنا نحن أطوع لك من بني آدم قال الله تعالى للملائكة : هلموا ملكين من الملائكة حتى نهبطهما إلى الأرض فننظر كيف تعلمون قالوا ربنا هاروت و ماروت فأهبطا إلى الأرض و مثلت لهما الزهرة امرأة من أحسن البشر فجاءتهما فسألاها نفسها فقالت : لا و الله حتى تكلما بهذه الكلمة في الإشراك قالا : لا و الله لا نشرك بالله أبدا فذهبت عنهم ثم رجعت بصبي تحمله فسألاها نفسها فقالت : لا و الله حتى تقتلا هذا الصبي فقالا : لا و الله لا نقتله فذهبت عنهما ثم رجعت بقدح خمر تحمله فسألاها نفسها فقالت : لا و الله حتى تشربا هذا الخمر فشربا فسكرا فوقعا عليها و قتلا الصبي فلما أفاقا قالت المرأة : و الله ما تركتما مما أبيتما علي إلا و قد فعلتماه حتى سكرتما فخيرا عند ذلك بين عذاب الدنيا و عذاب الآخرة فاختارا عذاب الدنيا كذا رواه زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع و رواه سعيد بن سلمة عن موسى بن جبير

ہمیں خبر دی ہے شیخ ابو الحسن محمد بن حسن بن داؤد علوی نے کہ خبر دی ہے احمد بن محمد بن حسن حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن محمد دوری اور ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان دونوں نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن بکیر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زبیر بن محمد نے موسیٰ بن جبیر سے انہوں نے نافع سے جو کہ مولی ہیں عبداللہ بن عمر کے عبداللہ بن عمر سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا اے رب کیا آپ زمین پر اس کو رکھیں گے جو اس پر فساد کرے گا۔ اس پر خون بہائے گا ۔ حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور تیری تقدیس و پاکیزگی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بے شک میں جانتا ہوں جو کچھ کہ تم نہیں جانتے ۔ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ہم تیرے لئے سب سے زیادہ اطاعت گزار ہیں آدم زادوں سے بھی زیادہ ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ فرشتوں میں سے دو فرشتے لاؤ جنہیں ہم زمین پر اتاریں گے ہم دیکھیں گے تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ شکل بنا دی گئی اور انسانوں میں سے خوبصورت ترین بنا کر ۔ وہ ان دونوں کے پاس آئی اور انہوں نے اس عورت سے اس کا نفس مانگا اس عورت نے کہا اللہ کی قسم میں اس وقت تک تمہاری بات نہیں مانوں گی جب تک کہ تم دونوں یہ مشرکانہ کلمہ نہیں بولو گے ان دونوں نے کہا نہیں نہیں اللہ کی قسم ہم اللہ کے ساتھ کبھی بھی شریک نہیں بنائیں گے چنانچہ وہ ان سے چلی گئی ۔ پھر وہ ایک چھوٹے بچے کو لے کر ان کے پاس آئی جسے وہ اٹھائی ہوئی تھی ، ان دونوں نے پھر اس سے اس کے نفس پر قدرت مانگی ، اس نے منع کیا یہاں تک کہ تم دونوں پہلے اس بچے کو قتل کر دو وہ دونوں بولے نہیں اللہ کی قسم ہم اس کو قتل نہیں کریں گے ۔ چنانچہ وہ پھر ان دونوں سے واپس چلی گئی پھر وہ شراب کا پیالہ لے کر آئی ۔ ان دونوں نے پھر اس کے ساتھ برائی کی اجازت چاہی اس عورت نے منع کیا یہاں تک کہ تم دونوں یہ شراب پی لو دونوں نے وہ شراب پی لی اور وہ نشہ میں آ گئے اور اس عورت پر پڑ گئے اور لڑکے کو بھی قتل کر دیا جب وہ ہوش میں آئے تو وہ عورت بولی کہ اللہ کی قسم تم نے وہ کچھ بھی نہیں چھوڑا جس کا تم میرے ساتھ انکا کرتے رہے وہ سب کچھ تم نے نشہ کی حالت میں کر ڈالا ہے ۔ ( لہذا اللہ کی طرف سے ) دنیا اور آخرت کے عذاب کی بابت اختیار دیئے گئے ان دونوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کیا۔ اسی طرح اس کو زہیر بن محمد نے روایت کیا ہے موسیٰ بن جبیر سے انہوں نے نافع سے اور اس کو سعید بن سلمہ نے روایت کیا ہے موسیٰ بن جبیر سے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← العباس بن محمد الدوري و إبراهيم بن الحارث البغدادي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ← الشيخ أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Hadith 162

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 163

163 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب أنا محمد بن يونس بن موسى ثنا عبد الله بن رجاء ثنا سعيد بن سلمة عن موسى بن جبير عن موسى بن عقبة عن سالم عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشرفت الملائكة على الدنيا فرأت بني آدم يعصون فقالوا يا رب ما أجهل هؤلاء ! ما أقل معرفة هؤلاء بعظمتك ! فقال الله تعالى : لو كنتم في مسلاخهم لعصيتموني قالوا : كيف يكون هذا و نحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال : فاختاروا منكم ملكين قالوا : فاختاروا هاروت و ماروت ثم أهبطا إلى الدنيا و ركبت فيهما شهوات بني آدم و مثلت لهما امرأة فما عصما حتى واقعا المعصية فقال الله عز و جل لهما فاختارا عذاب الدنيا أو عذاب الآخرة فنظر أحدهما إلى صاحبه فقال ما تقول ؟ قال : أقول إن عذاب الدنيا ينقطع وإن عذاب الآخرة لا ينقطع فاختارا عذاب الدنيا فهما اللذان ذكرهما الله عز و جل في كتابه { و ما أنزل على الملكين ببابل هاروت و ماروت } و رويناه من وجه آخر عن مجاهد عن ابن عمر موقوفا عليه و هو أصح فإن ابن عمر إنما أخذه عن كعب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحٰق بن ایوب نے کہ خبر دی ہے محمد بن یونس بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن رجاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن سلمہ نے موسیٰ بن جبیر سے انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ابن عمر سے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا ؛ ملائکہ نے دنیا میں جھانک کر دیکھا تو کیا دیکھا کہ اولاد آدم گناہ کر رہے ہیں ۔ تو وہ بولے اے ہمارے رب کتنے بڑے جاہل ہیں یہ لوگ ۔ کتنے کم معرفت ہیں یہ لوگ تیری عظمت کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم بھی ان کی جگہ ہوتے تو میری نافرمانی کرتے ۔ فرشتے بولے یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہم تو تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تم اپنے آپ میں سے دو فرشتوں کو منتخب کرو چنانچہ انہوں نے ہاروت اور ماروت کو منتخب کیا۔ پھر وہ دنیا میں اتار دیئے گئے ۔ اور ان کے ساتھ اولاد آدم کہ شہوتیں جوڑ دی گئیں اور ان کے لئے ایک عورت ایکٹنگ کرتی مقرر کر دی گئی لہذا وہ اپنے آپ کو نہ بچا سکے اور گناہ میں پڑ گئے ۔ اللہ عزوجل نے ان سے فرمایا : اب تو تم اپنے لئے دنیا یا آخرت کا عذاب چن لو۔ چنانچہ انہوں نے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو دوسرے نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ دنیا کا عذاب تو ختم ہو جائے گا اور آخرت کا عذاب ختم نہیں ہوگا۔ لہذا انہوں نے دنیان کے عذاب کو پسند کر لیا۔ چنانچہ وہی دونوں ہی جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ۔ ( و ما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت ) ( بقرہ ۱۰۲) ہم نے اس کو ایک دوسرے طریق سے بھی روایت کیا ہے حضرت مجاہد سے حضرت ابن عمر سے بطور موقوف روایت ابن عمر پر ۔ اور وہ صحیح ہے اور حضرت ابن عمر نے اس کو حضرت کعب سے لیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← سعيد بن سلمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 163

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 164

164 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف قال ذكر سفيان عن موسى بن عقبة عن سالم بن عبد الله عن ابن عمر عن كعب قال : ذكرت الملائكة بني آدم و ما يأتون من الذنوب قال فاختاروا منكم ملكين فاختاروا هاروت و ماروت فقال لهما إني أرسل رسولي إلى الناس و ليس بيني و بينكم رسل انزلا فلا تشركا بي شيئا و لا تسرقا و لا تزنيا قال عبد الله : قال كعب : فما استكملا يومهما الذي نزلا فيه حتى أتيا فيه ما حرم عليهما و هذا أشبه أن يكون محفوظا و روي في ذلك عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه و من قال بالقول الآخر أشبه أن يقول إذا كان التوفيق للطاعة و المعصية من الله عز و جل وجب أن يكون الأفضل من كان توفيقه له و عصمته إياه أكثر و وجدنا الطاعة التي وجودها بتوفيقه و عصمته من الملائكة أكثر فوجب أن يكونوا كذلك و ذكر الحليمي رحمه الله توجيه القولين و لم أنقله و اختار تفضيل الملائكة و أكثر أصحابنا ذهبوا إلى القول الأول و الأمر فيه سهل و ليس فيه من الفائدة إلا معرفة الشيء على ما هو به و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن حسن قطبان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یوسف سلمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف نے انہوں نے کہا ذکر کیا ہے سفیان نے موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عمر سے انہوں نے کعب سے انہوں نے کہا کہ فرشتوں نے بنی آدم کا ور ان کے گناہوں کا جو وہ کرتے میں تذکرہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم لوگ اپنے آپ سے دو فرشتوں کو منتخب کرو ۔ انہوں نے ہاروت ماروت کو منتخب کیا ۔ ان دونوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں لوگوں کے پا س ایسے اپنا رسول بھیجوں گا میرے اور تمہارے درمیان رسول نہیں ہوں گے ۔ تم اتر جاؤ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ چوری نہ کرنا۔ زنا نہ کرنا۔ عبداللہ کہتے ہیں کعب نے کہا جب وہ دن پورا ہوا جس دن وہ اترے تھے اسی دن انہوں نے اس کا ارتکاب کر لیا جو کچھ ان پر حرام کیا گیا تھا۔ یہ زیادہ مناسب ہے یہ کہ محفوظ ہو اور اس بارے میں علی بن ابی طالب سے بھی مروی ہے ۔ اوپر بات یہ جاری تھی کہ فرشتے افضل ہیں یا انسان اس سلسلہ میں مصنف نے دو موقوف بیا ن کئے تھے : 1۔ کہ انسانی رسول ملائکہ رسولوں سے افضل ہیں ۔ 2۔ کہ تمام مومن انسان ملائکہ سے افضل ہیں ( مترجم ) اب مصنف فرماتے ہیں کہ جس نے اخری قول کیا ہے اس کے لئے بہتر تھا کہ یوں کہتا خصوصا اس وقت جب کہ اطاعت کی توفیق اور معصیت سے بچنے کی طاقت اللہ عزوجل کی طرف سے ہوتی ہے تو پھر لازمی بات ہے کہ افضل وہی ہونا چاہیے جس کو توفیق زیادہ حاصل ہو اور جس کی گناہوں سے حفاظت و عصمت زیادہ ہو۔ ( لہذا حقیقت ظاہر ہے کچھ یوں نظر آتی ہے کہ ) ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ اطاعت جس کاوجود محض اللہ کی توفیق عطا کرنے سے ہوتا ہے اور گناہوں سے بچنا اور عصمت بھی دونوں چیزیں فرشتوں میں زیادہ ہیں تو واجب ہے کہ وہی افضل ہوں ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے تو مذکورہ دونوں اقوال کو توجیہ ذکر فرمائی ہے مگر میں اسے نقل نہیں کرتا۔ انہوں نے ملائکہ کی افضیلت کو اختیار کیا ہے ۔ جب کہ ہمارے اکثر اصحاب نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے اور یہ امر آسان بھی ہے ۔ مگر اس میں کوئی فائدہ بھی نہیں ہے ۔ ہاں صرف اسی شئی کی معرفت کہ وہ خود جس نظریہ پر ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 164

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood